میزورم اسمبلی انتخاب: بدعنوانی اور میزو قومیت اہم ایشو

ایس بجین سنگھ 

میزورم میں اسمبلی الیکشن آئندہ 4 دسمبر کو ہونے والا ہے۔ تاریخ کا اعلان ہوتے ہی ریاست میں انتخابی ہلچل شروع ہو چکی ہے۔ سبھی پارٹیاں اپنی اپنی تیاریوں میں لگ چکی ہیں۔ 4 دسمبر کو ہونے والے انتخاب میں ریاست کے 6 لاکھ 86 ہزار 305 ووٹرس اپنے حق رائے دہی کا استعمال کریں گے۔ ریاست میں اس وقت کانگریس کی حکومت ہے، لیکن کیا وہ اگلی بار بھی حکومت بنانے میں کامیاب ہو گی؟ یہ سوال آج ریاست میں بحث کا موضوع بنا ہوا ہے۔

p-9bہندوستان کی شمال مشرقی سات ریاستوں میں سے زیادہ تر میں کانگریس پارٹی کا دبدبہ ہے۔ ان میں سے دو ریاستوں، ناگالینڈ اور تریپورہ میں غیر کانگریسی سرکار ہے۔ تریپورہ میں جہاں سی پی آئی (ایم) برسر اقتدار ہے، وہیں ناگالینڈ میں ناگا پیپلز فرنٹ (این پی ایف) کی حکومت ہے۔ ناگالینڈ کو یہ امتیاز بھی حاصل رہا ہے کہ اپنے یہاں کے سیاسی معاملوں پر جب اسے بات کرنی ہوتی ہے، تو حکومت کا کوئی لیڈر دہلی نہیں جاتا، بلکہ مرکز کے لیڈروں کو خود ریاست میں آکر بات کرنی پڑتی ہے۔ اس کی واحد وجہ یہ ہے کہ ناگالینڈ میں علاقائی پارٹیاں بہت مضبوط ہیں، اسی لیے کانگریس کو ابھی تک وہاں اپنے پیروں کو جمانے کا موقع نہیں مل پایا ہے۔
بہرحال، 40 اسمبلی سیٹوں والی ریاست میزورم میں میزو نیشنل فرنٹ، میزورم پیپلز کانفرنس (ایم پی سی)، جے این پی اور دیگر اہم اپوزیشن پارٹیوں نے کانگریس پر حملہ کرنے کے لیے اپنی کمر کسنی شروع کر دی ہے۔ ان پارٹیوں کا کہنا ہے کہ لل تھن ہاولا کی قیادت والی کانگریس پارٹی اپنے پائلٹ پروجیکٹس اور نیو لینڈ یوٹیلائزیشن پالیسی (این ایل یو پی) کے سہارے اقتدار میں واپس آنے میں کامیاب نہیں ہو پائے گی۔ میزورم پیپلز کانفرنس کے کارگزار جنرل سکریٹری ڈاکٹر کینتھ چیانگ لیانا نے کہا کہ آنے والے اسمبلی الیکشن میں پائلٹ پروجیکٹ، این ایل یو پی ایک خاص مقصد سے برسر اقتدار کانگریس پارٹی کے ذریعے ریاست میں نافذ کیا گیا ہے۔ اسے انتخابی فائدے کے لیے ہی ریاست میں لایا گیا ہے، لیکن اس سے اقتدار کو برقرار رکھنے میں مدد نہیں ملے گی۔ عوام کو اچھی طرح معلوم ہے کہ کانگریس حکومت انہیں بیوقوف بنا رہی ہے۔ اپوزیشن پارٹیاں کانگریس سرکار پر بدعنوانی کا الزام لگا رہی ہیں۔
میزو نیشنل فرنٹ (ایم این ایف) اور میزورم پیپلز کانفرنس (ایم پی سی) کا انتخابی مدعا بدعنوانی سے پاک سرکار بنانا ہے۔ وہ بدعنوانی سے لبریز کانگریس سرکار کو ریاست سے اکھاڑ پھینکنا چاہتی ہیں۔ ان پارٹیوں کا ماننا ہے کہ ریاست میں زبردست اقتصادی پس ماندگی ہے۔ عوام کو سماجی گراوٹ کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے۔ میزورم کے لوگوں کو سیاست میں اخلاقیات اور انتظامیہ میں مالی شفافیت چاہیے۔ ایم این ایف – ایم پی سی نے لوگوں سے اپیل کی ہے کہ ایک صاف و شفاف شبیہ والی سرکار دینے کے لیے وہ کمربستہ ہے۔ میزو نیشنل فرنٹ، میزو قومیت کو زیادہ توجہ دیتا ہے۔ ایم این ایف نے گریٹر میزورم کی تشکیل کی مانگ کو انتخابی ایشو بناکر لوگوں سے اپیل کی ہے کہ وہ متحد ہو کر اس کا ساتھ دیں۔ اس کا یہ بھی دعویٰ ہے کہ 30 جون، 1986 کو مرکزی حکومت اور لال ڈینگا کے درمیان ہونے والے معاہدہ کے مطابق میزو عوام کی سماجی، تہذیبی اور مذہبی مفادات کے تحفظ کے لیے پابند عہد ہے۔ دوسری جانب میزورم پیپلز کنونشن نے دس نکاتی انتخابی ایشو بنا یا ہے، جو ریاست کی ترقی پر مبنی ہے۔ پارٹی کے صدر لالہمانگا ایہا سائیلو نے کہا ہے کہ ریاست کی ترقی کو لے کر گزشتہ 27 برسوں میں کوئی بھی صحیح پالیسی نہیں بنائی گئی ہے۔
جہاں تک میزورم میں بھارتیہ جنتا پارٹی کا سوال ہے، تو اس کی حالت ریاست میں کافی کمزور ہے۔ گزشتہ انتخابات میں بی جے پی کے ایک بھی امیدوار کو کامیابی نہیں مل پائی تھی، لیکن اب مودی کے ہاتھوں میں کمان آنے کے بعد ہوسکتا ہے کہ بی جے پی کو کچھ سیٹ مل جائے۔ 1998 کے انتخابات میں ایم این ایف – ایم پی سی اتحاد کو تاریخی جیت حاصل ہوئی تھی۔ لوگوں کو اس پر کافی حیرانی ہوئی تھی، تاہم کانگریس نے اپنی پکڑ مضبوط کرنے میں دیر نہیں کی۔ گزشتہ 10 برسوں کے دوران ریاست میں کانگریس کی حالت مضبوط ہوئی ہے۔ لیکن اس دفعہ کانگریس کو مشکلوں کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔ ایک طرف ریاست میں اپوزیشن پارٹیاں متحد ہو کر کانگریس پر حملہ بولنے کی تیاریوں میں لگی ہیں، تو دوسری طرف مرکز میں کانگریس کے لیڈروں پر لگے بدعنوانی کے الزامات کی وجہ سے لوگوں کا بھروسہ ٹوٹ رہا ہے۔
اس کے علاوہ نریندر مودی کو بی جے پی کی طرف سے وزیر اعظم کے عہدہ کا امیدوار بنائے جانے سے شمال مشرقی ریاستوں میں بھی ایک خاص قسم کا جوش و خروش دیکھا جا رہا ہے۔ سوشل نیٹ ورکنگ سائٹس پر وہاں کے لوگ لکھ رہے ہیں کہ ہم تبدیلی چاہتے ہیں، جس کے لیے بھگوان نے مودی کو بھیجا ہے۔ مودی کون ہے، کیسا ہے، اس سے انہیں کوئی مطلب نہیں ہے۔ انہیں تو بس تبدیلی چاہیے۔ ویسے یہ تو آنے والے دنوں میں ہی معلوم ہو سکے گا کہ میزورم مودی لہر سے کتنا متاثر ہوتا ہے۔
میزورم پردیش کانگریس کمیٹی کے صدر اور ریاست کے وزیر اعلیٰ لل تھن ہاولا کا کہنا ہے کہ کانگریس پارٹی ریاست کے ترقیاتی کاموں میں لگی ہوئی ہے۔ تنظیم کی سطح پر پارٹی لوگوں کو متحد کر رہی ہے۔ پارٹی میں نئے نئے کارکن جڑ رہے ہیں۔ انہوں نے دعویٰ کیا کہ ریاست کے عوام خوش حال ہیں، کیوں کہ ان کی سرکار نے ریاست میں امن و ترقی کو یقینی بنایا ہے اور لوگ اچھے ماحول میں رہ رہے ہیں۔
ویسے ریاست میں سرگرم ’مار‘ اور ’ریانگ‘ دہشت گرد تنظیموں کے درمیان الیکشن کر پانا اپنے آپ میں ایک بڑا سوال ہے۔ یہ ریاست کے مغربی اور شمال مشرقی حصے میں زیادہ سرگرم ہیں۔ اس لیے ہر بار کی طرح اس بار بھی انتخابات کے دوران وہاں سیکورٹی دستوں کی زیادہ ضرورت ہوگی۔ ریاست کی مذہبی تنظیموں نے بھی سیاسی پارٹیوں کو فضول خرچی اور باغی و دہشت گرد تنظیموں کا سہارا لینے سے منع کیا ہے۔ اس کے علاوہ آزاد اور غیر جانبدارانہ انتخاب کرانے کے لیے ایم پی ایف اور ریاست کی دیگر سیاسی پارٹیوں بشمول میزورم پردیش کانگریس کمیٹی، میزو پیپلز کنونشن، میزورم نیشنل پارٹی، میزو نیشنل فرنٹ اور بی جے پی کے درمیان ایک مفاہمت نامہ پر دستخط ہوا ہے۔
ہندوستان کی مختلف ریاستوں میں گزشتہ اسمبلی انتخابات کے دوران ماحولیاتی تبدیلی کو بھلے ہی ترجیحی طور پر انتخابی ایشو نہ بنایا گیا ہو، لیکن میزورم میں اسے انتخابی ایشو ضرور بنایا گیا تھا۔ بانس میں آئے پھول ریاست کا سب سے بڑا اقتصادی اور ماحولیاتی مسئلہ بنے ہوئے تھے، جس سے نمٹنے کے لیے وہاں کی سرکار نے کئی پروگراموں کا اعلان کیا۔ چوہے مارنے والوں کو انعام بھی دیے جا رہے تھے۔ ہریالی سے ڈھکے میزورم کے لوگ ماحولیاتی توازن کو لے کر سنجیدہ رہے ہیں، اس لیے سیاسی پارٹیاں بھی اسے اپنے انتخابی مدعوں میں شامل کرنا نہیں بھولتیں۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ میزورم کا 80 فیصد حصہ جنگلات پر مبنی ہے۔ لیکن اس بار کے انتخاب میں بدعنوانی اور میزو قومیت کو اہم ایشو بنایا گیا ہے۔

ریاستی الیکشن کمیشن کی تیاریاں زوروں پر
ریاست کے چیف الیکشن آفیسر اشونی کمار نے 1,126 پولنگ بوتھوں میں سے 94 کو حساس قرار دیا ہے۔ ریاست میں انتخابی ضابطہ اخلاق نافذ ہو چکا ہے۔ میزورم میں امن و سلامتی کے مد نظر سنٹرل ملٹری فورس کی 31 کمپنیاں اور اسٹیٹ آرمڈ پولس کی 8 بٹالینوں کو تعینات کیا گیا ہے۔ ضلع الیکٹورل آفیسرس نے بھی اپنا کام شروع کر دیا ہے۔ 4 دسمبر تک کے لیے ریاست کے میانمار سے لگنے والی سرحد کو بند کر دیا گیا ہے۔ اشونی کمار نے بتایا کہ چیف الیکشن کمشنر وی ایس سمپت اکتوبر میں میزورم کا دورہ کریں گے۔ پولنگ 4 دسمبر کو ہوگی، جب کہ نتائج کا اعلان 8 دسمبر کو کیا جائے گا۔

 

Share Article

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *