وزارت اقلیت امور کو بند کر دینا چاہئے

ڈاکٹر قمر تبریز 
p-3آج کی دنیا میں مذہبی و لسانی اقلیتوں کو خصوصی اہمیت و حیثیت حاصل ہے۔ یہی وجہ ہے کہ اقوامِ متحدہ بھی ان اقلیتوں کو تحفظ فراہم کرانے پر ہر طرح سے زور دیتا ہے اور مختلف ممالک کے آئین میں بھی اس کا لحاظ رکھا گیا ہے۔ بعض ممالک میں مذہبی امور سے متعلق مخصوص وزارت بھی قائم ہے، جو کہ مختلف مذہبی کمیونٹیوں کے معاملات کو الگ الگ شعبوں کے تحت دیکھتے ہیں۔ اس تعلق سے سری لنکا کی مثال ہمارے سامنے ہے، جہاں وزارتِ مذہبی امور کے تحت بدھسٹ اور مسلم امور کے الگ الگ شعبے قائم ہیں۔ جہاں تک ہمارے ملک کا معاملہ ہے، کانگریس نے اس ملک کے آئین میں مذہبی اقلیتوں کو تمام حقوق، تحفظات اور یقین دہانیوں کے باوجود آزادی کے 30 برس بعد تک کوئی سنجیدہ و عملی پیش رفت نہیں کی۔ یہ کریڈٹ تو مارچ 1977 میں ایمرجنسی ختم ہونے کے بعد مرارجی دیسائی کی سرپرستی میں بنی جنتا پارٹی حکومت کو جاتا ہے کہ اس نے قومی کمیشن برائے اقلیتی امور کا اعلان کیا۔ پھر یہ سلسلہ چلتا رہا۔ بعد ازاں پی وی نرسمہا راؤ کی سرپرستی میں 30 ستمبر، 1994 کو کانگریس کی اقلیتی سرکار نے قومی اقلیتی ترقیاتی و مالیاتی کارپوریشن قائم کیا، پھر 2004 کے عام انتخابات میں کامیابی کے بعد کانگریس نے نیشنل کامن منیمم پروگرام میں درج اقلیتوں کی فلاح کے نام پر قومی کمیشن برائے اقلیتی تعلیمی ادارہ جات بنایا اور ایک برس بعد ملک میں مسلمانوں کی مجموعی صورتِ حال کو جاننے کے لیے سچر کمیٹی کی تشکیل کی اور 29 جنوری، 2006 کو مخصوص وزارت برائے اقلیتی امور کا اعلان بھی کر دیا۔
ان تمام تفصیلات سے بات کھل کر سامنے آتی ہے کہ کانگریس نے آزادی کے 30 برس تک اقتدار میں رہتے ہوئے کبھی بھی اقلیتوں بشمول مسلمانوں کی فلاح و بہبود کے لیے کوئی پیش رفت نہیں کی اور 1977 میں اقلیتوں کے لیے قومی کمیشن کے بعد اسے محض سیاسی ہتھکنڈے کے طور پر استعمال کیا۔ یہی وجہ ہے کہ اس نے اقلیتوں کے تعلق سے جو بھی اقدامات کیے، ان میں سے کسی کو بھی با اختیار نہیں بنایا اور انہیں آئینی حیثیت نہیں دی۔ اس کا مظاہرہ قومی کمیشن برائے اقلیتی امور، قومی اقلیتی ترقیاتی و مالیاتی کارپوریشن، قومی کمیشن برائے اقلیتی تعلیمی ادارہ جات، وزارتِ اقلیتی امور اور سچر کمیٹی رپورٹ کے نفاذ میں ہوتا ہے۔

وزارتِ اقلیتی امور کی اس نااہلی کو دیکھتے ہوئے، سوشل جسٹس اور امپاورمنٹ کی پارلیمانی اسٹینڈنگ کمیٹی نے اپنی طرف سے سخت ناراضگی کا اظہار کیا تھا۔ یہی نہیں، اقلیتوں کی اکثریت والے ملک کے کل 90 اضلاع میں ملٹی سیکٹورل ڈیولپمنٹ پروگرام کے تحت مختلف اسکیموں پر خرچ کرنے کے لیے مرکز کی طرف سے اس وزارت کو جو 462.26 کروڑ روپے دیے گئے تھے، وہ بھی اس نے مرکز کو لوٹا دیے۔ اسی طرح پوسٹ میٹرک اسکالرشپ کی 24 کروڑ روپے کی رقم، میٹرک اسکالرشپ کی 33 کروڑ، میرٹ کم مینس اسکالرشپ کی 26 کروڑ اور وقف بورڈ کے کمپیوٹرائزیشن کی 9.3 کروڑ روپے کی رقم کو وزارتِ اقلیتی امور خرچ کرنے میں ناکام رہی اور نتیجہ یہ ساری رقم اسے مرکزی حکومت کو لوٹانی پڑی۔

کانگریس کی یہ غیر سنجیدگی وزارتِ اقلیتی امور میں تو بدرجہ اتم دیکھنے کو ملتی ہے۔ جائزہ لینے پر اندازہ ہوتا ہے کہ سات سال پہلے وزارتِ سوشل جسٹس اور امپاورمنٹ سے کاٹ کر بنائی گئی وزارتِ اقلیتی امور نے اب تک بجٹ مختص کرنے اور اسکالرشپ بانٹنے کے علاوہ کوئی نیا کام نہیں کیا ہے۔ ایسے میں سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ یہ کام تو سوشل جسٹس اور امپاورمنٹ کی وزارت بھی کر سکتی تھی، تو پھر ایسے میں وزارتِ اقلیتی امور کو الگ سے قائم کرنے کا کیا جواز تھا؟ دوسرے یہ کہ وزیر برائے اقلیتی امور کو بھلے ہی مرکزی وزیر کابینہ کا درجہ حاصل ہے، لیکن وہ اپنے زیادہ تر پروگراموں کو نافذ کرنے کے لیے یا تو ریاستی حکومتوں پر انحصار کرتے ہیں یا پھر رضاکارانہ تنظیموں پر۔ اس کے علاوہ ان کے پاس ایسا کوئی میکانزم نہیں ہے، جس سے یہ معلوم ہو سکے کہ انہوں نے اقلیتوں کی فلاح و بہبود سے متعلق جن ترقیاتی کاموں کو نافذ کرنے کے لیے مرکزی حکومت کی طرف سے بجٹ پاس کروائے ہیں، انہیں ٹھیک ڈھنگ سے نافذ کیا بھی جا رہا ہے یا نہیں۔ ظاہر ہے کہ اگر وزارت یہ سارے کام نہیں کر سکتی، تو پھر اس کے وجود کا مطلب ہی کیا رہ جاتا ہے؟
ملک کی اپوزیشن پارٹیاں بھی اب سیدھے طور پر یہ کہنے لگی ہیں کہ اقلیتی امور کی وزارت صرف مسلمانوں کو خوش کرنے کے لیے بنائی گئی ہے۔ قابل ذکر ہے کہ 2001 کی مردم شماری کے مطابق ملک میں اقلیتوں کی کل آبادی تقریباً 18.4 فیصد ہے، جن میں سے مسلمانوں کی آبادی 13.4 فیصد، عیسائیوں کی 2.3 فیصد، سکھوں کی 1.9 فیصد، بدھسٹوں کی 0.8 فیصد اور پارسیوں کی آبادی 0.007 فیصد ہے۔
سچائی یہ ہے کہ ملک کی کسی بھی سیاسی پارٹی کو مسلمانوں سے ہمدردی نہیں ہے۔ کانگریس اقلیتوں کے نام پر اگر صرف مسلمانوں کا ہی نام لیتی ہے، تو اس کا واحد مقصد انتخابات میں مسلمانوں کا ووٹ حاصل کرنا ہے، چاہے یہ ووٹ انہیں جھوٹ بول کر حاصل کیا جائے یاپھر انہیں بیوقوف بناکر۔ اعداد و شمار پر اگر غور کریں، تو پتہ چلتا ہے کہ ملک میں لوک سبھا کی ایسی 35 سیٹیں ہیں، جہاں پر مسلمانوں کی آبادی 30 فیصد سے زیادہ ہے؛ 38 سیٹوں پر مسلمانوں کی آبادی 21 سے 30 فیصد کے درمیان ہے، جب کہ 145 سیٹوں پر مسلمانوں کی آبادی 11 سے 20 فیصد کے درمیان ہے۔ یہی وجہ ہے کہ ملک میں جب بھی عام انتخابات کے دن قریب آتے ہیں، کانگریس مسلمانوں کا ووٹ حاصل کرنے کے لیے ہر قسم کے ہتھکنڈے اپنانے شروع کردیتی ہے۔
2014 کے لوک سبھا الیکشن میں بھی اب زیادہ دن نہیں رہ گئے ہیں۔ کانگریس نے اپنی انتخابی تیاریاں زور و شور سے شروع کردی ہیں۔ مسلمانوں سے جھوٹ بولنے کا سلسلہ بھی اتنی ہی تیزی سے شروع ہو چکا ہے۔ مرکزی وزیر کے رحمن خان یہ کہہ رہے ہیں کہ ان کی وزارت نے سچر کمیٹی کی 76 سفارشات میں سے 73 کو نافذ کر دیا ہے۔ چوتھی دنیا نے جب سچر کمیٹی کی ان سفارشات کے نفاذ کی سچائی کا پتہ لگانا شروع کیا، تو معلوم ہوا کہ ابتدائی 22 سفارشات میں سے 12 سفارشوں کو یو پی اے سرکار نے ابھی تک نافذ نہیں کیا ہے اور بے شرمی کی حد یہ ہے کہ یو پی اے سرکار کے وزیر لگاتار جھوٹ بولنے میں لگے ہوئے ہیں۔ وزارتِ اقلیتی امور کی اسی بے اختیاری اور نا اہلی کو دیکھتے ہوئے، اب ملک کا دانشور طبقہ بھی یہ آواز اٹھانے لگا ہے کہ اقلیتی امور کی وزارت کو بند کردینا چاہیے۔
اس سلسلے میں کانگریس کی قیادت والی یو پی اے سرکار کا ایک اور جھوٹ سامنے آیا ہے۔ سرکار نے اپنے گیارہویں پنچ سالہ منصوبہ (2007-2012) میں وزارتِ اقلیتی امور کو 7 ہزار کروڑ روپے مختص کیے تھے، جن میں سے وزارت کا دعویٰ ہے کہ اس نے 6,824 کروڑ روپے خرچ کر دیے ہیں۔ سچائی یہ ہے کہ وزارتِ اقلیتی امور نے مختلف ریاستوں میں اقلیتوں کی فلاحی اسکیموں کو نافذ کرنے کے لیے جو پیسے جاری کیے تھے، ان میں سے زیادہ تر رقم خرچ ہی نہیں کی گئی۔ حال ہی میں جاری کی گئی ’سوشل ڈیولپمنٹ رپورٹ 2012‘ بتاتی ہے کہ 2007-2012 کے دوران ریاستی حکومتوں نے اقلیتوں سے متعلق مرکز کی طرف سے جاری کی گئی رقم میں سے آدھا پیسہ بھی خرچ نہیں کیا۔ رپورٹ سے اس بات کا بھی انکشاف ہوتا ہے کہ ملک کی 12 ریاستوں نے اقلیتوں سے متعلق پچاس فیصد سے بھی کم رقم کو خرچ کیا، جن میں بہار، اتر پردیش، مہاراشٹر اور آسام جیسی ریاستیں سر فہرست ہیں۔ بعض ریاستیں ایسی بھی ہیں جہاں پر اس میں سے صرف 20 فیصد رقم ہی خرچ کی گئی۔
المیہ تو یہ ہے کہ مرکزی حکومت اور اس کی وزارتِ اقلیتی امور کے پاس ایسا کوئی میکانزم ہی نہیں، جس سے وہ یہ پتہ لگا سکے کہ اقلیتوں کی فلاح سے متعلق یہ پیسے خرچ کیوں نہیں ہو پا رہے ہیں یا اگر جو پیسے خرچ ہوئے ہیں، ان کا فائدہ اقلیتوں کو پہنچ بھی رہا ہے یا نہیں۔ زمینی صورتِ حال یہ ہے کہ وزارتِ اقلیتی امور نے سال 2008-09 میں مرکزی حکومت کو 33.63 کروڑ، 2009-10 میں 31.50 کروڑ اور 2010-11 میں 587 کروڑ روپے اس لیے واپس لوٹا دیے، کیوں ان پیسوں کو خرچ ہی نہیں کیا جا سکا۔
وزارتِ اقلیتی امور کی اس نااہلی کو دیکھتے ہوئے، سوشل جسٹس اور امپاورمنٹ کی پارلیمانی اسٹینڈنگ کمیٹی نے اپنی طرف سے سخت ناراضگی کا اظہار کیا تھا۔ یہی نہیں، اقلیتوں کی اکثریت والے ملک کے کل 90 اضلاع میں ملٹی سیکٹورل ڈیولپمنٹ پروگرام کے تحت مختلف اسکیموں پر خرچ کرنے کے لیے مرکز کی طرف سے اس وزارت کو جو 462.26 کروڑ روپے دیے گئے تھے، وہ بھی اس نے مرکز کو لوٹا دیے۔ اسی طرح پوسٹ میٹرک اسکالرشپ کی 24 کروڑ روپے کی رقم، میٹرک اسکالرشپ کی 33 کروڑ، میرٹ کم مینس اسکالرشپ کی 26 کروڑ اور وقف بورڈ کے کمپیوٹرائزیشن کی 9.3 کروڑ روپے کی رقم کو وزارتِ اقلیتی امور خرچ کرنے میں ناکام رہی اور نتیجہ یہ ساری رقم اسے مرکزی حکومت کو لوٹانی پڑی۔ ایسے میں اقلیتوں اور خاص کر مسلمانوں کی ترقی کے بارے میں کانگریس کی قیادت والی مرکز کی یو پی اے سرکار کے تمام دعوے کھوکھلے ہی ثابت ہو رہے ہیں۔
سچر کمیٹی کی سفارشات پر اگر غور کیا جائے، تو اس نے سب سے زیادہ زور مسلمانوں کی تعلیمی پس ماندگی کو دور کرنے پر دیا تھا، لیکن سات سال کا عرصہ گزر جانے کے بعد بھی نہ تو ملک میں کہیں پر اردو میڈیم کے پرائمری اسکول کھولے گئے ہیں اور نہ ہی اردو ٹیچروں کی تقرری کا باقاعدہ کوئی انتظام کیا گیا ہے، مسلم لڑکیوں کے لیے نہ تو کہیں پر ہوسٹل بنائے گئے ہیں اور نہ ہی اعلیٰ تعلیم میں ان کی نمائندگی میں اضافہ کرنے کا کوئی انتظام کیا گیا ہے۔ مدرسے کی ڈگریوں کو ابھی تک مقابلہ جاتی امتحانوں کے لیے کوئی منظوری نہیں دی گئی ہے۔ مسلمانوں کی اکثریت والے علاقوں میں غریب بچوں کو یکسوئی کے ساتھ پڑھانے کا موقع فراہم کرنے کے لیے نہ تو کوئی پبلک لائبریری بنائی گئی ہے اور نہ ہی ایسا کوئی پارک بنایا گیا ہے، جہاں پر ہر فرقہ کے بچے ایک ساتھ کھیل کود سکیں اور اس طرح کثریت میں وحدت کے تصور کو عام کر سکیں۔ سرکاری نوکریوں میں مسلمانوں کے لیے الگ سے کسی قسم کے ریزرویشن کا انتظام بھی اب تک نہیں کیا جا سکا ہے۔
یہ اور نہ جانے اس قسم کے کتنے وعدے ہیں، جو کانگریس کی قیادت والی یو پی اے سرکار نے مسلمانوں سے کیے تھے، لیکن ان میں سے ایک بھی وعدہ سرکار کے لگاتار دو دور مکمل ہونے کے بعد بھی اب تک پورے نہیں ہو سکے ہیں۔ اب جب کہ عام انتخابات کے دن قریب آ رہے ہیں، کانگریس کی سمجھ میں نہیں آ رہا ہے کہ وہ مسلمانوں کے پاس ووٹ مانگنے کے لیے جائے، تو کس منھ سے جائے۔

وزارت اقلیتی امور کا ڈھانچہ
کانگریس کی قیادت والی یو پی اے حکومت نے ہندوستان کی اقلیتی برادری کی فلاح و بہبود اور ان سے متعلق ترقیاتی پروگراموں کو بہتر طریقے سے نافذ کرنے کے لیے 29 جنوری، 2006 کو ایک نئی وزارت بنائی اور اس کا نام رکھا وازارتِ اقلیتی امور ۔ اسے وزارتِ سوشل جسٹس اور امپاورمنٹ میں سے الگ کرکے ایک نئی وزارت بنایا گیا۔ مہاراشٹر کے سابق وزیر اعلیٰ عبدالرحمن انتولے کو اس کا پہلا وزیر بنایا گیا، جو 2009 تک اس عہدے پر فائز رہے۔ اس کے بعد سلمان خورشید کو وزارتِ اقلیتی امور بنایا گیا، جو 2012 تک اس عہدے پر فائز رہے۔ اس کے موجودہ وزیر کے رحمن خان ہیں، جنہوں نے 28 اکتوبر، 2012 کو اقلیتی امور کی وزارت کا عہدہ سنبھالا تھا۔ نینونگ ایرنگ اس وزارت کے موجودہ وزیر مملکت ہیں۔ وزارتِ اقلیتی امور کے کل عہدیداروں کی موجودہ تعداد 93 ہے، جن میں سے ایک سکریٹری، تین جوائنٹ سکریٹری اور ایک جوائنٹ سکریٹری و مالیاتی صلاح کار (ایڈیشنل چارج) شامل ہیں۔ حیرانی کی بات یہ ہے کہ 2006 میں جس وقت یہ وزارت بنائی گئی تھی اور عبدالرحمن انتولے کو جب اس وزارت کا مرکزی وزیر بنایا گیا تھا، اس وقت اس کی الگ سے نہ تو کوئی عمارت تھی اور نہ ہی کوئی مستقل دفتر، بلکہ اے آر انتولے جنتر منتر روڈ پر واقع اپنی سرکاری رہائش گاہ سے اس کا دفتر چلاتے تھے۔ لیکن آج، جب اس وزارت کے پاس اپنا دفتر بھی ہے اور اس کے اسٹاف میں کل 93 سرکاری اہل کار بھی موجود ہیں، پھر بھی کے رحمن خان اپنی وزارت کو ٹھیک ڈھنگ سے نہیں چلا پا رہے ہیں۔

وزارت اقلیتی امور کے کاموں کی فہرست
اقلیتی برادریوں سے متعلق مکمل پالیسی، پلاننگ، کو آر ڈی نیشن، جانچ اور ریگولیٹری و ترقیاتی پروگراموں کا تجزیہ
قانون اور نظم و نسق سے متعلق امور کو چھوڑ کر اقلیتی برادریوں سے متعلق تمام امور
مرکزی حکومت کی دیگر وزارتوں اور ریاستی حکومتوں سے صلاح و مشورہ کے بعد اقلیتوں کے تحفظ اور ان کی سیکورٹی کے لیے اقدام
لسانی اقلیتوں اور لسانی اقلیتوں کے لیے مقرر کیے کمشنر کے دفتر سے متعلق امور
قومی کمیشن برائے مائنارٹیز ایکٹ سے متعلق امور
متروکہ پراپرٹی ایکٹ، 1950 کی انتظامیہ کے تحت متروکہ وقف پراپرٹیز سے متعلق کام
اینگلو – انڈین کمیونٹی کی نمائندگی
وزارتِ امورِ خارجہ سے صلاح و مشورہ کے بعد 1955 کے پنت – مرزا معاہدہ کے تحت پاکستان میں واقع غیر مسلم عبادت گاہوں اور ہندوستان میں واقع مسلمانوں کی عبادت گاہوں کا تحفظ اور ان کی نگرانی
وزارتِ امورِ خارجہ سے صلاح و مشورہ کے بعد پڑوسی ممالک میں رہنے والی اقلیتی برادریوں سے متعلق سوالات
اس محکمہ کے تحت آنے والے عطیہ جاتی اور مذہبی اداروں کو چندہ اور عطیہ
اقلیتوں کی سماجی و اقتصادی، ثقافتی و تعلیمی صورتِ حال اور مولانا آزاد ایجوکیشن فاؤنڈیشن سمیت اقلیتی اداروں سے متعلق امور
وقف ایکٹ، 1995 اور سنٹرل وقف کونسل
درگاہ خواجہ صاحب ایکٹ، 1955
قومی اقلیتی ترقیاتی اور مالیاتی کارپوریشن سمیت اقلیتوں کی فلاح کے لیے بنائے گئے پروگراموں اور پروجیکٹوں کی فنڈنگ
اقلیتوں کے لیے مرکزی اور ریاستی سطح پر سرکاری اور پرائیویٹ شعبوں میں اقلیتوں کے لیے روزگار کے مواقع
مرکزی حکومت کی دیگر متعلقہ وزارتوں اور ریاستی حکومتوں کے ساتھ صلاح و مشورہ کے بعد اقلیتوں کے تحفظ اور ان کی سیکورٹی سے متعلق اقدام
مذہبی اور لسانی اقلیتوں کے درمیان موجود سماجی و اقتصادی اعتبار سے پس ماندہ طبقوں کے لیے قومی کمیشن
اقلیتوں کے لیے وزیر اعظم کا نیا پندرہ نکاتی پروگرام
اقلیتی برادریوں سے متعلق کوئی دوسرا ایشو

Share Article

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *