کوئلے کی دلالی میں ہاتھ کالا

سنتوش بھارتیہ
کہاوتیں اکثر سچ ثابت ہوتی ہیں۔ کیونکہ کہاوت ہزاروں سال کے تجربے کے بعد دو یا تین لائنوں میں نظریے کی شکل میں نکل کر آتی ہیں۔ ایسی ہی ایک کہاو ت پھر صحیح ثابت ہونے جا رہی ہے ۔کہاوت ہے ’’ کوئلے کی دلالی میں ہاتھ کالا‘‘ جو کوئلہ بیچتا ہے اس کے بارے میں کہاوت کہیں نہیں بنی۔ کہاوت ہے جو کوئلے کی دلالی کرتا ہے۔
اب تک سپریم کورٹ جانچ کی بات کرتا رہا اور جانچ کا رخ کہیں نہ کہیں وزیر اعظم منموہن سنگھ کے گھر کی طرف جاتا دکھائی دے رہا تھا،لیکن صاف طور پر یہ نہیں پتہ تھا کہ یہ رخ ان کے گھر تک جائے گا ہی۔حالانکہ وزارت کوئلہ کی فائلیں غائب ہوئیں۔ جن پر وزیر اعظم کا پہلا بیان آیا کہ وہ فائلوں کے محافظ نہیں ہیں ۔یہ بیان ذمہ دار کسی آدمی کا بیان نہیں ہے۔
وزیر اعظم ملک کے کسٹوڈین ہیں اور وہ فائلیں جب غائب ہوں جن فائلوں کا رشتہ سپریم کورٹ کی جانچ سے ہے، سی بی آئی کی جانچ سے ہے اور سپریم کورٹ کی تشویش سے ہے تو وزیر اعظم کو کہنا چاہئے تھا کہ انہیں بھی تشویش ہو رہی ہے کہ فائلیں کیسے وزارت سے غائب ہو گئیں۔ لیکن انہوں نے کہا اس کے ٹھیک الٹا کہ وہ فائلوں کے محافظ نہیں ہیں۔ فائلیں غائب ہوتیں ہیں یا نہیں غائب ہوتیں،اس کیذمہ داری ان کی نہیں ہے۔ وزیر اعظم کا یہ بیان کھٹکا اور بہت سارے لوگوں کو شاید ایسا لگا کہ چور کی داڑھی میں کہیں تنکا ہے۔لیکن ملک کے 120 کروڑ عوام کا وزیر اعظم لگاتار بیان پر بیان بدلتا ہوا چلا جائے، یہ اصول کے خلاف ہے۔لیکن ہندوستان میں ایسا ہوتا دکھائی دے رہا ہے۔ سپریم کورٹ کی تشویش اور سپریم کورٹ کا سی بی آئی کو جانچ کی ہدایت ایک ایسی چیز ہے جس کو نظر انداز نہیں کیا جا سکتا اور ان تشویشوں کو محسوس کیا جاسکتاہے۔
اب ایک نیا بیان آیا ہے اور یہ بیان ہے اس وقت کے کوئلہ سیکریٹری پی سی پاریکھ کا۔ انہوں نے کہا کہ اگر میرے خلاف ایف آئی آر درج ہوئی ہے تو وزیر اعظم کے خلاف بھی ایف آئی آر درج ہونی چاہئے۔کیونکہ میں نے کوئی فیصلہ اپنے آپ نہیں کیا۔ میں نے یہ فیصلہ وزیر اعظم کی ہدایت پر کیا ہے۔ سابق کوئلہ سکریٹری کا یہ بیان سیدھے سیدھے یہ بتا رہا ہے کہ کوئلہ کا سودہ جان بوجھ کر کیا گیا اور اس وقت کے وزیر ِ کوئلہ جناب منموہن سنگھ کی جانکاری میں ہوا۔ سابق کوئلہ سکریٹری جناب پارکھ نے یہ بھی کہا کہ شیبو سورین اس طرح کی کارروائی کے خلاف تھے اور وہ نہیں چاہتے تھے کہ اس طرح کول بلاک کا الاٹمنٹ ہو۔ شیبو سورین کے بارے میں عام طور پر یہ معروف ہے کہ وہ بد عنوانی کے دلدل میں کافی حد تک دھنسے ہوئے ہیں۔ انہیں کئی طرح کی جانچ کا سامنا کرنا پڑا۔ پیسہ لے کر سرکار بچانے کا الزام بھی ان پر لگا۔ کئی طرح کے مقدمے ان پر چلے اور ابھی بھی چل رہے ہیں ۔ یہ مانا جا سکتا ہے کہ شاید ان سب کی جڑ میں کہیں شیبو سورین ہو سکتے ہیں ۔لیکن جناب پاریکھ نے حتمی طور سے یہ کہا کہ شیبو سورین اس مسئلے میں بالکل پاک صاف ہیں اور وزیر اعظم نے کئی طرح کے اعتراضات کو درکنار کر کے کوئل بلاک الاٹمنٹ کی موجودہ پالیسی پر چلنے کی اجازت دی۔یہ پالیسی نہ تو پارلیمنٹ میں پاس ہوئی اور نہ ہی یہ پالیسی کابینہ میں پاس ہوئی ۔ حکومت ہند کی طرف سے سپریم کورٹ میں جھوٹ بولا کہ اس کے اوپر کابینہ میں فیصلہ ہوا، جس پر سپریم کورٹ نے کہا کہ کابینہ کی اس میٹنگ کی کارروائی ریکارڈ کے ساتھ سپریم کورٹ کے سامنے پیش کی جائے۔ حکومت ہند یہ کیوں نہیں سمجھتی ہے کہ اگر کچھ غلط ہو گیا ہے ، تو اسے قبول کرکے اس کی ذمہ داری لے کر ، اس غلطی کو سدھارنے کی کوشش کرے۔ بجائے اس کے کہ ہر چیز کے اوپر ایک ایسا بیان دے جو کہ اگلے کچھ دنوں میں ہی غلط ثابت ہو جاتا ہے اور سرکار کی تضحیک ہوتی ہے۔یہی ہورہا ہے۔اٹارنی جنرل جی ای واہنوتی کو سپریم کورٹ کے جسٹس جس جھنجھلاٹ اور ڈانٹ کی زبان کے ساتھ مخاطب کر رہے ہیں، وہ بتاتا ہے کہ سپریم کورٹ کو واہنوتی کے بیانوں پر بہت بھروسہ نہیں ہے۔

جناب پاریکھ جو کوئلہ الاٹمنٹ کے وقت وزارت کوئلہ میں سکریٹری تھے اور جنہوں نے موجودہ پالیسی کی مخالفت کی تھی ،انہیں وزیر اعظم نے کہا تھا کہ آپ اسی پالیسی پر چلئے۔ ان کا یہ بیان کہ اگر میں قصوروار ہوں تو وزیر اعظم بھی قصوروار ہیں ،حقیقت میں ایک بہت بڑی مشکل کی طرف اشارہ کر رہا ہے۔ اس کا مطلب ہے کہ وزیر اعظم نے جان بوجھ کر اس  گھوٹالے  کو کیا، جس کی جانچ سپریم کورٹ کر رہا ہے اور اگر یہ  گھوٹالہ  صحیح ثابت ہوتا ہے تو طے ہے کہ اس کی اجازت وزیر اعطم نے خود دیا ہے اور یہ اتفاق نہیں ہے کہ جب آج کے وزیر اعظم  1992سے 1996 تک  نرسمہا رائو سرکار میں وزیر  خزانہ  تھے تب پہلا بڑا غیر ملکی بینکوں کا گھوٹالہ ہوا جس میں غیر ملکی بینکوں نے 5000 کروڑ روپے سائفن کرکے لئے تھے۔ ا

دراصل واہنوتی لگاتار جھوٹ بول رہے ہیں۔ سب سے پہلے انہوں نے سپریم کورٹ میں کہا کہ سی بی آئی کی رپورٹ کسی نے نہیں دیکھی۔ بعد میں سی بی آئی نے حلف نامہ دائر کرتے ہوئے کہا کہ سی بی آئی کی رپورٹ چار لوگوں نے دیکھی ہے اور ان چار لوگوں میں ایک واہنوتی خود ہیں۔ واہنوتی نے سپریم کورٹ میں دیے گئے اپنے بیان میں اب تک معافی نہیں مانگی ہے اور شاید یہ سپریم کورٹ کو ناگوار بھی گزر رہا ہے۔
جناب پاریکھ جو کوئلہ الاٹمنٹ کے وقت وزارت کوئلہ میں سکریٹری تھے اور جنہوں نے موجودہ پالیسی کی مخالفت کی تھی ،انہیں وزیر اعظم نے کہا تھا کہ آپ اسی پالیسی پر چلئے۔ ان کا یہ بیان کہ اگر میں قصوروار ہوں تو وزیر اعظم بھی قصوروار ہیں ،حقیقت میں ایک بہت بڑی مشکل کی طرف اشارہ کر رہا ہے۔ اس کا مطلب ہے کہ وزیر اعظم نے جان بوجھ کر اس گھوٹالے کو کیا، جس کی جانچ سپریم کورٹ کر رہا ہے اور اگر یہ گھوٹالہ صحیح ثابت ہوتا ہے تو طے ہے کہ اس کی اجازت وزیر اعطم نے خود دیا ہے اور یہ اتفاق نہیں ہے کہ جب آج کے وزیر اعظم 1992سے 1996 تک نرسمہا رائو سرکار میں وزیر خزانہ تھے تب پہلا بڑا غیر ملکی بینکوں کا گھوٹالہ ہوا جس میں غیر ملکی بینکوں نے 5000 کروڑ روپے سائفن کرکے لئے تھے۔ اس وقت کے وزیر خزانہ نے اس گھوٹالے کی توثیق کی تھی۔ لیکن ان روپیوں کو واپس لانے کے لئے کوئی قدم نہیں اٹھایا،بلکہ ان پیسوں کی بھرپائی حکومت ہند نے اپنی طرف سے کی اور عوام کا پیسہ ایک گھوٹالے کو چھپانے میں لگا دیا۔ اس کے بعد تو گھوٹالوں کی بھرمار آگئی اور 10 ہزار، 20 ہزار، 40 ہزار سے آگے بڑھتے ہوئے ایک لاکھ کروڑ روپے تک کے گھوٹالے سامنے آئے۔ جس بات کی طرف جناب پاریکھ اشارہ کر رہے ہیں کہ اگر میں قصوروار ہوں ، تو وزیر اعظم بھی قصور وار ہیں۔ یہ گھوٹالہ 26 لاکھ کروڑ روپے کا گھوٹالہ ہے۔ 26 کروڑ روپے یعنی آزادی کے بعد اب تک کا سب سے بڑا گھوٹالہ اور اس میں سیدھے جو شخص شامل ہے ،ان کا نام منموہن سنگھ ہے۔
منموہن سنگھ کا بچائو کرنے والے لوگ کہتے ہیں کہ منموہن سنگھ نے تو صرف دستخط کیے ، پیسہ تو کہیں اور چلا گیا۔ کیا اس بات سے ملک کو یا سپریم کورٹ کو کوئی تسلی ملے گی کہ دستخط منموہن سنگھ نے کیے اور پیسے کہیں اور چلا گیا۔ کیا ان پیسوں کو 2009 کے انتخاب میں خرچ کیا گیا؟ کیا یہ پیسہ غیر ملکی بینکوں میں گیا؟ کیا اس پیسے کا پتہ کبھی چل پائے گا؟ گھوٹالہ ہوا بھی ہے یا نہیں ہوا ہے؟ اس کے بارے میں بھی وزیر اعظم کا بچائو کرنے والے لوگ سوال اٹھاتے ہیں۔ بڑے افسوس کی بات ہے کہ ہر ایسے ایشو جن پر عوام کے توقعات اور امیدیں ٹکی ہوتی ہیں، ان پر سرکار کبھی کوئی قدم نہیں اٹھاتی ۔سپریم کورٹ کو قدم اٹھانا پڑتا ہے۔ چاہئے’ رائٹ ٹو رجیکٹ‘ جیسا چھوٹا سا مسئلہ ہو جس پر ہمارا الیکشن کمیشن چاہتا تو آسانی سے فیصلہ لے سکتا تھا۔ ہمارا الیکشن کمیشن پاکستان کے الیکشن کمیشن کے بالمقابل زیادہ ذمہ دار ہے لیکن رائٹ ٹو رجیکٹ کا فیصلہ پاکستان کے الیکشن کمیشن نے لیا وہ بھی بغیر کسی عدالتی ہدایت کے،بغیر کسی سرکاری دبائو کے ، ہمارے یہاں سپریم کورٹ کو مداخلت کرنی پڑی۔ اب سپریم کورٹ کوئلہ الاٹمنٹ کی گہرائی سے جانچ کر رہا ہے اور اس نے کہا ہے کہ دسمبر تک جانچ پوری ہو جانی چاہئے۔ یہ سپریم کورٹ کا سی بی آئی کو ہدایت ہے ۔ اگر یہ جانچ دسمبر تک پوری ہوتی ہے تو اس کا ایک سیدھا مطلب یہ بھی ہے کہ جنوری میں کوئی فیصلہ آسکتا ہے۔
یہ سب لکھتے ہوئے ہمیں قطعی خوشی محسوس نہیں ہورہی ہے، بالکل اچھا نہیں لگ رہا ہے کیونکہ سوال صرف کوئلہ الاٹمنٹ کا نہیں ہے ۔سوال اس سے بھی بڑا ہے اور وہ بڑا سوال یہ ہے کہ ان خطوں کا کیا ہوا جن خطوں کو سابق فوجی سربراہ نے وزیر اعظم کو لکھا تھا اور جن میں سے کچھ خط خود وزیر دفاع نے یا وزیر اعظم دفتر نے لیک کیے تھے اور جس کی وجہ سے سابق فوجی سربراہ کے اوپر کانگریسی لیڈروں کی توپیں چل پڑی تھیں۔ کس نے لیک کیا، اہم یہ نہیں ہے۔اس میں جو کہا گیا وہ اہم ہے اور کیا سرکار نے ان خطوں کے اوپر ہندوستان کی فوج کا طریقہ سدھارنے کے لئے کوئی قدم اٹھایا ؟ یہ سوال ملک کے لوگوں کے دل میں ہے اور ہمیں یہ کہتے ہوئے ڈر لگ رہا ہے کہ اگر کہیں جنگ کی صورت حال آئی تو ہم اپنے سے بہت کمزور دشمن سے صرف اپنی بیوقوفی کی وجہ سے نہ ہار جائیں،بیوقوفی ! وقت کے ساتھ چلتے ہوئے قدم نہ اٹھانا ،بیوقوفی !صحیح ہتھیار نہ خریدنا ، بیوقوفی! ہتھیاروں کے سودوں میں بیباکی سے دلالوں کا دخل اندازی کرنا اور اسے متاثر کرنا۔
یہ سوالات ہیں جن کے اوپر دھیان تو دیا جائے گا،لیکن شاید تب جب سپریم کورٹ ان سوالوں کو سرکار کے سامنے ڈانت کی شکل میں پیش کرے گی۔ کوئلہ الاٹمنٹ معاملے کی جانچ دسمبر میں پوری ہو جائے گی، لیکن ملک کی سیکورٹی کو لے کر جو سوال سابق فوجی سربراہ نے کھڑے کیے تھے، ان سوالوں کو سپریم کورٹ اپنے سوال کب بنائے گا؟ یہ سوالات کوئلہ گھوٹالے سے بڑے گھوٹالے کی طرف اشارہ کرتے ہیں۔ کیا ہم امید کریں کہ سپریم کورٹ اپنی آنکھ اور کان تھوڑے اور کھولے تاکہ اس ملک کو اس ممکنہ خطرے سے نجات مل سکے جو جنگ کے طور پر چین اور پاکستان کی شکل میں کھڑا دکھائی دے رہا ہے۔

سنتوش بھارتیہ

سنتوش بھارتیہ

Editor-in-cheif at Chauthi Duniya
سنتوش بھارتی’چوتھی دنیا‘ کے مدیر اعلی ہیں۔ہندی صحافت میں ان کا نام کسی تعارف کا محتاج نہیں ان کا شمار ہندوستان کے 10معروف صحافیوں میں کیا جاتا ہے۔ وہ ایسے مدبر اور مفکر ہیں جوتبدیلی میں یقین رکھتے ہیں۔1986میں جب انھوں نے چوتھی دنیا کا آغاز کیا تھا، تب انھوں نے صحافت کو مکمل طور پر نئے معنی دیئے تھے۔
سنتوش بھارتیہ
Share Article

سنتوش بھارتیہ

سنتوش بھارتی’چوتھی دنیا‘ کے مدیر اعلی ہیں۔ہندی صحافت میں ان کا نام کسی تعارف کا محتاج نہیں ان کا شمار ہندوستان کے 10معروف صحافیوں میں کیا جاتا ہے۔ وہ ایسے مدبر اور مفکر ہیں جوتبدیلی میں یقین رکھتے ہیں۔1986میں جب انھوں نے چوتھی دنیا کا آغاز کیا تھا، تب انھوں نے صحافت کو مکمل طور پر نئے معنی دیئے تھے۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *