ایران: حسن روحانی کے آتے ہی ایران کی خارجہ پالیسی میں نرمی

وسیم احمد
p-8ایران اپنی خارجہ پالیسی کی وجہ سے ہمیشہ چرچے میں رہا ہے ۔چرچہ کا یہ سلسلہ1979 میں وہاں آئے اسلامی انقلاب کے بعد سے شروع ہوا اور گزشتہ ایک دہائی میں ایران کی سخت خارجہ پالیسی نے اسے مزید چرچہ کا موضوع بنا دیا اور اسی سخت خارجہ پالیسی نے اسے مغربی و عرب ملکوں سے الگ تھلگ کرکے رکھ دیا ہے۔
سابق صدر احمدی نژاد کے دور میں ایک طرف جوہری پلانٹ کو لے کر مغربی ملکوں سے تعلقات کشیدہ رہے تو دوسری طرف عربوں سے خاص طورپر سعودی عرب سے ان کے تعلقات اچھے نہیں تھے۔ سعودی عرب سے تعلقات کشیدہ ہونے کی وجہ یہ تھی کہ دونوں ممالک علاقائی مسائل ،لبنان ،شام اور مصر میں جاری تنازع کے حوالے سے الگ الگ اور ایک دوسرے سے مخالف نظریہ رکھتے تھے۔علاوہ ازیںایران پر سعودی عرب میں شیعائوں کو حکومت کے خلاف اکسانے کا بھی الزام لگتا رہا ہے۔سعودی عرب کا ماننا تھا کہ ایران سعودی عرب کے عوام کو مسلکی بنیاد پر تقسیم کرنے کی سازش رچتا ہے ۔اس اختلاف میں مزید شدت اس وقت آگئی تھی جب اکتوبر 2011 میں امریکہ میں تعین سعودی سفیر عادل الجبیر کے قتل میں ایرانی شمولیت کے ثبوت مل گئے تھے۔
جہاں تک ایران کے مغربی ملکوں سے تعلقات کشیدہ ہونے کی بات ہے تو اس کی ایک وجہ تو یہ تھی کہ انقلابِ ایران کے بعد یہاں اسلامی قوانین کے نفاذ میں سختی برتی گئی جس نے یورپین ملکوںمیں بے چینی پیدا کردی اور دونوں کے درمیان دوریاں بڑھیں ۔اس میں مزید شدت اس وقت پیدا ہوئی جب ایران نے جوہری پلانٹ قائم کرنے کا فیصلہ کیا۔اس فیصلے نے گویا آگ پر تیل کا کام کیا۔اختلاف اتنا بڑھ گیا کہ ایران کو جنگ تک کی دھمکی دی جانے لگی۔حالانکہ ایران اپنے اس پلانٹ کو پر امن مقاصد کے لئے قائم کرنے کی گہار لگاتا رہا مگرمغربی ملکوں نے ایران کی باتوں کو سنجیدگی سے سننے کی کوشش نہیں کی ۔یہ اور بات ہے کہ احمدی نژاد کی طرف سے بھی ایرانی موقف کو خوشگوار ماحول میں سامنے لانے کی کوشش نہیںہوئی۔ جب بھی امریکہ کی طرف سے جوہری پلانٹ کے تعلق سے ایران پر الزام لگایا گیا تو ایران نے سخت تیور میں جواب دیا ۔اس کا نتیجہ یہ ہوا کہ تعلقات میں تلخیاں بڑھتی گئیں اور انجام معاشی پابندی تک جا پہنچا۔جس میں وقت بہ وقت اضافہ ہوتا رہا اور اس کا خمیازہ ایران کے غریب عوام کو بھگتنا پڑرہا ہے۔اگر احمدی نژاد مصلحت اور نرم تیور اختیار کرتے تو شاید معاشی پابندی کی شدت کم کی جاسکتی تھی جس سے ایران کو معاشی بحران سے باہر نکالنے میں مدد ملتی ۔جیسا کہ امریکی وزارت خارجہ کے روبرٹ جارڈن کہتے ہیں کہ روحانی کا رویہ احترام پر مبنی ہوتا ہے ۔اگر یہ رویہ پہلے اپنایا جاتا تو مسئلے کا حل نکل سکتا تھا۔
موجودہ صدر حسن روحانی اس بات کو محسوس کررہے ہیں کہ گلوبلائزیشن کے دور میں دنیا ایک گائوں کی طرح ہوگئی ہے ۔ہر ملک کی ضرورتیں دوسرے سے جڑی ہوئی ہیں۔لہٰذاکسی بھی ملک کے لئے یہ ممکن نہیں رہ گیا ہے کہ وہ بین الاقوامی رشتوں سے کٹ کر رہے ۔ لہٰذا انہوں نے ایران کی خارجہ پالیسی میں نرم رویہ اختیار کرنا شروع کردیا ہے۔ ایرانی صدرسعودی عرب کے علاوہ یوروپین سربراہوں کے ساتھ بیٹھ کر متنازع مسائل پر بات چیت کرنا چاہتے ہیں ۔ان کا ماننا ہے کہ آپسی رنجشوں کو مٹانے کی کوشش اسلامی دنیا کے مفادمیں ہوگی۔چنانچہ ابھی حال ہی میں ایرانی صدرحسن روحانی نے خارجہ پالیسی پر بات کرتے ہوئے کہا ہے کہ وہ سعودی عرب سمیت تمام پڑوسی ملک کے ساتھ چھوٹی موٹی رنجشوں کے خاتمے اور مغربی ملکوں کے ساتھ جاری تنازع پر کھلے پن کی حکمت عملی اختیار کرنے کو تیار ہیں۔
لیکن سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ حسن روحانی سعودی عرب اور دیگر عرب ممالک جن کے ساتھ اس کے نظریاتی یا علاقائی سطح کے اختلاف ہیں ان کو تو دور کرلیں گے لیکن کیا امریکہ جس کے ساتھ جوہری پلانٹ کو لے کر ایران کا تنازع ہے ،اس کو حل کرنے میں وہ کامیاب ہوں پائیں گے؟ ۔اس سلسلے میں یہ بات بھی کہی جارہی ہے کہ جوہری مسئلے پر ایرانی دستور کے مطابق صرف ایرانی سپریم لیڈر آیت اللہ خامنہ ای کو ہی حتمی فیصلہ کرنے کا اختیار حاصل ہے، ایسے میں حسن روحانی امریکہ کو کس طرح سے مطمئن کرپائیں گے اور کیا جس طرح سے وہ خارجی امور میں نرم پالیسی اپناکر جوہری پلانٹ پر امریکہ کے ساتھ تنازع کا حل تلاش کرنے کی کوشش کر رہے ہیں،کیا اس میں انہیں سپریم لیڈر کی حمایت حاصل ہوگی؟۔
اس سلسلے میں اگر گہرائی سے سوچا جائے تو حسن روحانی کے لئے اس مسئلے کا حل تلاش کرنا مشکل نہیں ہے، بس ضرورت اس بات کی ہے کہ وہ سخت اور جارحانہ تیور کے بجائے حقیقت کو سامنے لانے میں منظم منصوبہ بندی کریں اور دنیا کو یہ یقین دلا دیں کہ ایران کا جوہری پلانٹ صرف پر امن مقاصد کے لئے ہی ہے۔حالانکہ ایران اس سے پہلے اس بات کو بار ہا دہرا چکا ہے کہ اس کا یہ جوہری پلانٹ کیمائی اسلحہ بنانے کے لئے نہیں بلکہ قومی ضروریات کے پیش نظر بجلی کی پیداوار بڑھانے کے لئے ہے مگر اب تک اس موضوع پر باضابطہ مذاکرات نہیں ہوئے ہیں۔اب اگر ایران کی طرف سے امریکہ اور یورپین ممالک کو مکمل ثبو ت و شواہد کے ساتھ اس بات کا یقین دلا دیا جائے اور سعودی عرب جو امریکہ کا بڑا حلیف ہے کو اعتماد میں لے لیا جائے تو امریکہ اور ایران کی قربتیں بڑھ سکتی ہیں۔
جہاں تک یہ سوال ہے کہ جوہری معاملے میں حتمی فیصلہ کرنے کا حق صرف سپریم لیڈر آیت اللہ علی خامنہ ای کے پاس ہے تو ماہرین کا خیال ہے کہ علی خامنہ ای کی طرف سے بھی جوہری پلانٹ کے تعلق سے لچک کا مظاہر ہ کیا جارہاہے اور انہوں نے امریکہ کے ساتھ مذاکرات کا گرین سگنل دے دیا ہے۔اس سے بخوبی سمجھا جاسکتا ہے کہ حسن روحانی کے سامنے تمام راستے کھلے ہوئے ہیں۔وہ حکمت اور اعتدال پسندی کی پالیسی پر عمل کرکے کامیابی حاصل کرسکتے ہیں۔
مذاکرات میں ایرانی صدر کو کامیابی ملنے کے نظریے کو اس لئے بھی تقویت مل رہی ہے کہ جب انہوں نے اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے سالانہ اجلاس میں صلح و امن کی باتیں کی اور جنگی ماحول سے زمین کو پاک کرنے پر زور دیا تو اوبامہ نے ان کے خطاب کو مثبت نقطہ نظر سے لیا اور اپنا رد عمل ظاہر کرتے ہوئے کہا کہ ایران کے مصالحانہ پیش کش کو قبول کیا جانا چاہئے اور اس کا حل سفارتی طریقہ کار سے تلاش کرنے کی کوشش ہونی چاہئے۔امریکی صدر نے اپنے رد عمل میں یہ بھی کہا کہ ایرانی صدر کے اعتدال پسندانہ رویے سے حوصلہ ملا ہے۔ان کے اس اعتدال پسندانہ رویے کی وجہ سے وہ ایران کے ساتھ احترام پر مبنی تعلقات کے آغاز کے خواہش مند ہیں۔مگر اس کے ساتھ ہی امریکی صدر نے اس بات پر بھی زور دیا کہ ایران کو یقین دلانا ہوگا کہ اس کا جوہری پلانٹ پرامن مقاصد کے لئے ہے۔
امریکی صدر کے مثبت رد عمل سے اندازہ لگایا جاسکتا ہے کہ حسن روحانی کی اعتدال پسندی ایران کو ایک مرتبہ پھر یورپ اور عرب ممالک سے قریب کرسکتا ہے اور ایران دنیا کو یہ یقین دلانے میں کامیاب ہوسکتا ہے کہ اس کا جوہری پلانٹ صرف پر امن مقاصد کے لئے ہے۔ یہی نہیں حسن روحانی کے بارے میں کہا جاتا ہے کہ وہ ایک منجھے ہوئے لیڈر ہیں اور کسی بھی طرح کے متنازع بیان سے گریز کرتے ہیں ۔یہی وجہ ہے کہ ایک اجلاس میں جب ان سے کسی صحافی نے سوال کیا کہ وہ ہولوکاسٹ میں یہودیوں کی تباہی کے بارے میں کیا رائے رکھتے ہیں تو انہوں نے فورا جواب دیا کہ وہ کوئی تاریخ داں نہیں بلکہ ایک سیاست داں ہیں۔اس طرح وہ ایک اختلافی بیان دینے سے بچ گئے ۔حالانکہ وہ اسرائیل سے سخت نفرت کرتے ہیں اور بارہا یہ بیان دے چکے ہیں کہ خطے میں افراتفری کی بنیادی وجہ ہے اسرائیل کی بالادستی۔اگر اسرائیل کی بالا دستی کا خاتمہ ہوجائے تو خطے میں امن قائم ہوجائے گا ۔مگر جب ہولوکاسٹ میں یہودیوں (اسرائیلی) کے قتل عام کے تعلق سے پوچھا گیا تو متنازع بیان کو نظر انداز کردیا۔
دراصل ایران میں اعتدال پسندی کا رویہ اپنا کر مذاکرات کا راستہ بہت پہلے اپنا یا جانا چاہئے تھا ،لیکن اینٹ کا جواب پتھر سے دینے والی احمدی نژاد کی پالیسی نے ایران کو معاشی اعتبار سے بہت نقصان پہنچایا ہے ،جس کا احساس موجودہ صدر اور سپریم لیڈر دونوں کو ہے اور یہی وجہ ہے کہ انہوں نے اپنی پالیسی میں لچک پیداکی ہے اور اسی لچک کا نتیجہ ہے کہ امریکی اور ایرانی سفارت کاروں کے درمیان ایک نئے دور کا آغاز ہونے کے امکانات پیدا ہوئے ہیں۔یہی نہیں ان کی کوششوں کی وجہ سے ہی ایرانی وزیر خارجہ کی سلامتی کونسل کے پانچ مستقل رکن ممالک امریکہ ،برطانیہ،فرانس ،روس اور چین کے نمائندوں کے ساتھ ایرانی وزیر خارجہ جواد ظریف کی جوہری پلانٹ پر مذاکرات شروع کرنے کی باتیں ہورہی ہیں۔
حسن روحانی کے صدر بننے کے بعد ایران کی نہ صرف خارجہ پالیسی میں لچک پیدا ہوئی ہے بلکہ داخلی معاملوں میں بھی بہت سی ایسی تبدیلیاں لائی گئیں ہیں جن سے اندازہ ہوتا ہے کہ حسن روحانی مذہبی رجحان تو رکھتے ہیں مگر اعتدال کے ساتھ۔چنانچہ ایران کی تاریخ میں اب تک کسی بھی خاتون کو وزارت خارجہ سے منسلک کرنے کو معیوب سمجھا جاتا تھا۔اس سوچ کو بدلنے میں حسن روحانی نے اہم کام کیا ہے اور ایک خاتون صحافی مرضیہ افخم کو وزارت خارجہ کی ترجمان مقرر کردیا ہے۔ حالانکہ انہیں اس سلسلے میں کچھ مذہبی خیال ممبروں کی طرف سے مخالفت کا سامنا بھی کرنا پڑا لیکن حسن روحانی جانتے ہیں کہ جب تک وہ مذہبی شدت پسندی کی خول سے باہر نہیں آئیں گے اس وقت تک ایران کے لئے دنیا کے ساتھ مل کر چلنا ممکن نہیں ہوگا لہٰذا وہ ان مخالفتوں کی پرواہ نہ کرتے ہوئے نئی سوچ نئے عزم اور نئی پالیسی کے ساتھ آگے بڑھ رہے ہیں اور حیرت کی بات یہ ہے کہ ان اقدام سے تبدیلی کی علامتیں ظاہر ہونا بھی شروع ہوگئی ہیں۔ چنانچہ جو لوگ ایران کو شرارت کا محور قرار دے رہے تھے اور امریکی بیڑوں کو ایران پر حملے کے لئے خلیج فارس میں روانہ کررہے تھے اب وہی ایران کی کامیاب سفارتکاری اور اسلامی جمہوری نظام کے مخالف گروہ کے لئے بھاری شکست اور علاقے کی سطح پر بعض حکومتوں کی کوتاہ فکری کی بات کررہے ہیں۔ صہیونی حکومت جس نے گزشتہ چند برسوں میں ایران کے لئے ریڈ لائن کھینچی ، آج اسی کو تشویش لاحق ہے کہ ایران نئے صدر کی سرپرستی میں خطے سے اس کے اثر و رسوخ کو ختم کرسکتا ہے کیوںکہ حسن روحانی جہاں ایک طرف اعتدال پسندی کا رویہ اپنا کر امریکہ اور بین الاقوامی ملکوں کو قائل کررہے ہیں، وہیں سلامتی کونسل کے خطاب میں کھلے عام اسرائیل کی من مانیوں کو چیلنج کررہے ہیں۔ اسرائیل ایران کو کمزور کرنے کے لئے بھرپور کوشش کررہا تھا مگر حسن روحانی کے بعد اس کی کوششیں رائیگاں ہوتی ہوئی نظر آرہی ہیں۔
حسن روحانی کے آنے کے بعد ایران کی خارجہ پالیسی میں لچک ضرور آئی ہے لیکن اس کا یہ مطلب نہیں ہے کہ وہ یورپ کے دبائو میں اپنے بنیادی حقوق سے دستبردار ہوجائیں ۔ چنانچہ سلامتی کونسل میں انہوں نے جو بیان دیا ہے ۔یہ ان کے عزم اور بلند حوصلہ ہونے کی علامت ہے ۔انہوں نے اپنی تقریر میں جہاں عالمی برادری کے ساتھ مل کر چلنے اور یورپین ممالک سمیت عربوں کو اعتماد میں لینے کی بات کہی وہیں انہوں نے صاف لفظوں میں کہہ دیا کہ جوہری پلانٹ کے جو مقاصد ہیں ہم ان کا سمجھوتہ کسی بھی قیمت پر نہیں کرسکتے ہیں۔ یہ پلانٹ پُر امن مقاصد کے لئے ہے اور ایران پر جو پابندی لگائی گئی ہے، وہ غلط ہے۔بہر کیف ایران نئے صدر کی سرپرستی میں ایک نئے رنگ میں دنیا کے سامنے ابھر رہا ہے۔

Share Article

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *