!حکومتِ ہند کی پالیسی تو دیکھئے جناب

وسیم راشد 
p-4لندن دلی سرکار نے اور ظاہر ہے شیلا دکشت نے اردو کے نام پر مسلمانوں کو خوب بے وقوف بنایا ہے۔ سالوں سے دلی میں اردو کو دوسری سرکاری زبان کا خواب دکھا یا جاتا ہے۔ بظاہر اردو کے ادارے بھی خوب کام کر رہے ہیں بلکہ یوں کہئے خوب کما کھا رہے ہیں۔ دہلی جیسی مرکزی ریاست میں اردو کے نام پر سرکاری ا ور غیر سرکاری کئی ادارے چل رہے ہیں، جو دکھاتے تو یہ ہیں کہ بہت کام کر رہے ہیں مگر سچ جانئے تو اس سے اردو کا کوئی فائدہ نہیں ہو رہا ہے۔ہم نے پہلے بھی ایک بات کہی تھی کہ اردو کو اگر آگے بڑھانا ہے اور زبان کو عروج دینا ہے تو پہلے اسکول کی سطح پر کام کرنا ہوگا ۔ اردو میڈیم کی تو جو حالت ہے وہ کسی سے چھپی ہوئی نہیں ہے۔ نہ تو نصاب کی کتابیں نہ ہی اساتذہ ہیں۔ این سی ای آر ٹی اردو کی کتابوں کا کام کر رہی تھی مگر کافی عرصے سے این سی ای آر ٹی میں اردو کی پوسٹ خالی ہیں ، وہاں کسی کا تقرر ہی نہیں ہوا ہے اور اس کے علاوہ کئی شعبے ایسے بھی ہیں جہاں ایک ہی آدمی کئی کئی اداروں میں کام کر رہا ہے۔ سربراہ بنا ہوا ہے جبکہ وہاں دوسرے افراد کا تقرر ہو سکتا ہے۔ حکومت کی پالیسی پر ہنسنے کو جی چاہتا ہے ۔
چلئے شروعات کرتے ہیں این سی ای آر ٹی سے ہی جہاں اس وقت ایڈیٹر اردو کی پوسٹ 2006سے خالی ہے۔ یہ پوسٹ جبکہ 2006مارچ میں ریوائیو ہو کر آئی تھی مگر 2005میں اسسٹنٹ ایڈیٹر کو جب ایڈیٹر بنا دیا گیا تو امید یہ کی جا رہی تھی کہ اردو کا ایڈیٹر بنایا جائے گا مگر ان کو جنرل کیٹگری میں ڈال دیا گیا اور اردو ایڈیٹر کی پوسٹ خالی ہی رہی اور جس کو ترقی دے کر ایڈیٹر بنا دیا گیا تھا۔ اس کے بعد جب اسسٹنٹ ایڈیٹر کی پوسٹ خالی ہوئی تو اس پر آج تک کوئی تقرری نہیں ہوئی۔اسی طرح این سی ای آر ٹی میں پروف ریڈر کی پوسٹ جو 2008میں خالی ہوئی تھ،ا س پر بھی ابھی تک کوئی تقرری نہیں ہوئی۔ اس کے علاوہ کاپی ہولڈر کی پوسٹ بھی خالی ہے۔ دیکھا جائے تو ایڈیٹر 12ہونے چاہئیں کیونکہ اس وقت 4ایڈیٹر انگریزی میں، 3ہندی میں اور ایک اردو میں کام کر رہا ہے۔یعنی اردو کے لئے مزید 3ایڈیٹر کی اور ضرورت ہے۱ور 4آدمیوں کا کام ایک آدمی کر رہا ہے۔اس طرح اسسٹنٹ ایڈیٹر بھی 15ہونے چاہئیں کیونکہ اس وقت 10اسسٹنٹ ایڈیٹر اکیلے ہندی اور انگریزی میں کام کر رہے ہیں جبکہ اردو کے لئے فی الحال کوئی نہیں ہے۔ جب بھی این سی ای آر ٹی کے ڈائریکٹر سے یہ سوال کیا جاتا ہے کہ اردو کی پوسٹ کیوں نہیں بھری گئیں ، تو ان کا جواب ہوتا ہے کہ آر ٹی آئی لگا کر پوچھنا چاہئے۔سمجھ میں نہیں آتا کہ یہ کس کا کام ہے کہ جہاں جہاں اردو افسروں اور اردو سے وابستہ پوسٹوں پر تقرری ہونی ہے وہ کیسے ہوں گی۔
اب آ جایئے حکومت ہند کی بڑی ہی زبردست پالیسی پر۔ جی ہاں شاید ایک ہی شخص سے کئی کئی کام لینے کی ایچ آر ڈی منسٹری نے بھی ٹھان لی ہے۔ بات کرتے ہیں قومی اردو کو نسل کی جی ہاں این سی پی یو ایل یعنی نیشنل کونسل فار پروموشن آف اردو لینگویج کو اس ادارے کا قیام اردو زبان و ادب کی ترقی کے لئے کیا گیا تھا ، لیکن ستم ظریفی دیکھئے کہ جو اہر لعل نہرو یونیورسٹی میں پڑھانے والے ایک پروفیسر کو ہی کونسل کا ڈائریکٹر بنا دیا گیا ہے۔ اب اس بات کا جواب کون دے گا کہ ایک ہی آدمی 2جگہ کیسے انصاف کر سکتا ہے۔ ہمیں ذاتی طور پر کسی سے دشمنی نہیں ہے۔ ہم صرف اداروں میں جو حکومت کی غلط پالیسی ہے، اس پر بات کر رہے ہیں۔ ہم صرف اداروں میں ہی دھاندلیوں کی بات کر رہے ہیں۔ بھلا پروفیسر اگر ایمانداری سے اپنے طالب علموں کو پڑھائے گا تو کونسل کی ذمہ داریوں سے کیسے انصاف کر پائے گا اور اگر کونسل کی ذمہ داریوں میں پوری طرح لگ جائے گا تو طالب علموں کا نقصان ہوگا ۔
جواہر لعل نہرو یونیورسٹی کا شعبۂ اردو بہت ہی اعلیٰ معیار کا مانا جاتا ہے اور وہاں جتنے بھی طالب علم آتے ہیں وہ سنجیدہ ہوتے ہیں۔ کتنا نقصان ہوتا ہوگا ان طالب علموں کا۔ کیونکہ کونسل کے بے شمار پروگراموں میں ہر وقت مصروف رہنا پڑتا ہے۔ ایسی میں کوئی ادارہ کوئی اردو کا خیر خواہ ایچ آر ڈی منسٹری سے یہ سوال نہیں کرتا کہ ہر پوسٹ کے لئے قابل اردو داں چاروں طرف بکھرے ہوئے ہیں پھر یہ کیسی نا انصافی ہے کہ ایک ہی شخص سے کئی اہم کام ایک ساتھ لئے جائیں ۔ ہم نے پہلے بھی کہا ہے کہ ہمیں کسی شخص سے ذاتی کوئی پرخاش نہیں ہے۔ ہم صرف حکومت کے اور خاص طور پر دہلی حکومت کے تحت آنے والے اردو کے اداروں کی قلعی کھولنا چاہتے ہیں کہ یہ ہو رہا ہے اردو اداروں کے ساتھ۔ ایسے ہو رہی ہے زبان کی ترقی جھوٹے وعدے اور جھوٹیے دعووں کے ساتھ ۔ دہلی اردو اکادمی میں بھی یہی حال ہے کہ وائس چیئر مین بھی ایک طرف ایک شعبہ کے ڈین ہیں اور دوسری طرف دہلی اردو اکادمی کا اضافی چارج بھی سنبھال رہے ہیں اور دوسری بار بھی ان ہی کی تقرری عمل میں آئی ہے۔ قومی اردو کونسل میں بھی ایگزیکیوٹو بورڈ کے ممبر ہیں۔سوال یہ ہے کہ کب یہ سارے عہدے بھر دئے جاتے ہیں، کب یہ تقرریاں عمل میں آتی ہیں، کوئی نہیں جانتا۔ بس ایک دن اخبار میں خبر پڑھنے کو مل جاتی ہے کہ فلاں شخص کا تقرر ہوگیا۔
دہلی اردو اکادمی کے ہی بے حد فعال اور نوجوان سکریٹری جو پروگرام آفیسر ہیں، ان ہی کو سکریٹری کا اضافی چارج دیا گیا ہے اور وہ بھی دوسری بار پھر سے کارگزار سکریٹری کے عہدے پر فائز ہیں۔ وہ جب پروگرام آفیسر تھے، تب بھی بہت کام کرتے تھے، آج بھی کرتے ہیں، مگر سوال یہ ہے کہ جب اس عہدے پر مستقل کارگزار سکریٹری ہی لانا ہے تو پھر شیلا دکشت اردو کی ہمدردی اور ترقی کا رونا کیوں روتی ہیں۔ اس عہدے پر بھی اگر دیکھا جائے تو ایک اردو سے تعلیم یافتہ شخص کی روزی چھینی جا رہی ہے۔ دہلی اردو اکادمی بلاء شبہ بے شمار اردو کی ترقی کے کام کرتی ہے۔ اردو سرٹیفکٹ کورس بھی چلاتی ہے۔ اردو کے تعلیم بالغان ادارے بھی ہیں ۔ اردو کے طالب علموں کو انعامات بھی دیتی ہے۔ سیمنار، مشاعرے ، دہلی کی روایت کو قائم رکھنا ، سبھی دہلی اردو اکادمی بخوبی انجام دیتی ہے اور سکریٹری اور وائس چیئر مین اور دوسرے افسران بھی رات دن لگے رہتے ہیں۔ لیکن سوال پھر وہی آ جاتا ہے کہ آخر وہی لوگ کیوں ؟جو دوسرے اداروں میں بھی کام کر رہے ہیں، باقی اردو کے لوگوں کو چانس کیوں نہیں؟کیا پروفیشنل لوگوں کی کمی ہے۔ ڈی ڈی اردو کی بات کریں تو وہاں بھی اردو جاننے والے بہت ہی کم ہیں ، وہاں بھی ہندی کے PEXیعنی پروگرام ایگزیکیوٹیو ہیں۔ جتنے ڈی ڈی اردو کے پروگرام بنائے جا رہے ہیں، سب کے پروگرام ایگزیکیو ٹیو یا تو ہندی جاننے والے ہیں یا پھر ریجنل زبانوں سے ہیں۔
دوردرشن بزم پروگرام ہمارے بچپن کا پروگرام ہے۔ شعور کی منزلیں طے کرتے ہوئے اس پروگرام کو لگاتار ہر ہفتے دیکھا ہے۔ انجمن عثمانی صاحب اس کے پروگرام انچارج تھے، وہ اردو اچھی طرح جانتے تھے اور بے شمار پروگرام انھوں نے کئے مگر آج اس پروگرام کے انچارج بھی غیر اردو داں ہی ہیں۔ اردو مجلس پروگرام جب سے ہمارے کانوں میں رس گھولتا ہے، جب صرف ریڈیو ہی تفریح طبع اور شوق کا ذریعہ ہوا کرتا تھا ۔ برسوں اس پروگرام کا انچارج غیر اردو داں رہا۔ اب کچھ دنوں سے اس کو اردو جاننے والا ایک شخص نصیب ہوا ہے۔
آل انڈیا ریڈیو کی اردو سروس ہو یا ریڈیو کے دوسرے اور پروگرام سبھی کے انائونسر ز غیر اردو داں ہیں۔ آدھے سے زیادہ کشمیری ہیں اور آل انڈیا ریڈیو کے پروگرام تو پوری دنیا میں سنے جاتے ہیں۔ سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ کیا اردو زبان جاننے والے ،لکھنے پڑھنے اور بولنے والے ختم ہو گئے ہیں۔ ہر سال ایک بڑی تعداد طالب علموں کی دہلی کے مختلف کالجوں سے اردو پڑھ کر اور بی اے ، ایم اے، ایم فل کر کے نکلتی ہے اور یہ سب بے روزگار گھومتے رہتے ہیں۔ لیکن ہوتا یہ ہے کہ سب اپنوں اپنوں کو رکھ لیتے ہیں۔ سبھی جگہ کب تقرر ہو جاتا ہے، پتہ ہی نہیں چلتا۔ آل انڈیا ریڈیو میں تو جو آدمی رٹائر ہو جائے یا اس کی موت ہو جائے تو اس کی پوسٹ خالی ہی رہتی ہے۔ایک اور بہت اہم مسئلہ جو بار بار سامنے آ رہا ہے، وہ یہ ہے کہ اردو کی کچھ پوسٹیں شیڈول کاسٹ اور شیڈول ٹرائبس کے لئے مخصوص کر دی گئی ہیں۔ پہلی بات تو یہ کہ اردو زیادہ تر مسلمان ہی پڑھتے ہیں ، یہ وہ تلخ حقیقت ہے ، جس کو کہتے ہوئے سب جھجھک محسوس کرتے ہیں اور ہر کوئی یہی کہتا ہے کہ اردو سب کی زبان ہے۔ ہاں ایک وقت تھا جب اردو پڑھنے لکھنے والے ہندو مسلمان نہیں ہوتے تھے، بس زبان کے عاشق ہوتے تھے مگر اب اس حقیقت کو ہمیں تسلیم کر لینا چاہئے کہ اردو پڑھنے والے 80فیصد مسلمان ہی ہوتے ہیں اور مسلمانوں میں شیڈول کاسٹ اور شیڈول ٹرائبس نہیں ہوتے اور جو اردو پڑھتے بھی ہیں، وہ اتنے ہائی لیول تک نہیں پڑھ پاتے ۔ اس لئے یہ پوسٹ خالی پڑی ہوئی ہیں۔ ان پوسٹوں کے لئے بار بار انٹرویو ہوتے ہیں، لیکن یہ پوسٹ بھر ہی نہیں پاتیں۔
اردو کا کام شوق اور جذبے سے ہوتا ہے تعریف کرنی ہوگی NIOSیعنی نیشنل انسٹی ٹیوٹ آف اوپن اسکول کی کہ وہاں اس وقت اردو کا کام بہت تیزی سے ہو رہا ہے۔ صرف ایک ہی اردو کا آدمی وہاں پروگرام آفیسر ہے لیکن وہ اپنے آپ میں ایک ادارہ ہے کہ اس نے بے شمار اردو کے لوگوں کو جوڑ رکھا ہے۔بے حد معیاری نصاب کے ساتھ طلباء کو اردو پڑھائی جا رہی ہے اور جس میں میڈیا بھی ان کے نصاب میں شامل کیا گیا ہے۔ اس طرح اگر حکومت اداروں میں ایسے افراد کا تقرر کرے جو صرف اردو کے نام پر بڑی بڑی کانفرنسیں نہ کریں بلکہ اسکول کی سطح پر کام کریں جیسے اوپن اسکول کر رہا ہے تو یقینا اردو کو فروغ ہوگا ۔اردو کی بقا اسی میں ہے کہ اس کو اسکولوں سے جوڑا جائے ، اردو سے فارغ طلبا و طالبات کو مختلف ٹریننگ کے ذریعہ اداروں سے وابستہ کیا جائے۔ صحافت کے کورس شروع کئے جائیں، ٹیکنیکل تعلیم دی جائے، ٹیچرز ٹریننگ کورس ہوں، یو پی ایس سی امتحانات کی تیاری کے لئے کوچنگ شروع ہوں اور یہ کام قومی اردو کونسل، اردو اکادمی اور انجمن ترقی اردو ہند کو کرنے چاہئیں۔پرائیویٹ اردو کے اداروں میں بھی اب نوجوانوں کی نمائندگی ہو رہی ہے ۔ یہ بے حد خوش آئند ہے۔ ورنہ پہلے تو ان اداروں میںOne Men Showہی ہوتا تھا۔ آج انجمن ترقی اردو ہند ہو یا غالب انسٹی ٹیوٹ، دونوں جگہ نوجوان ڈائریکٹر ہیں اور دونوں ہی اردو کی ترقی کے لئے سنجیدہ ہیں۔ حکومت کو بھی چاہئے کہ وہ باقی اداروں میں بھی جو اسامیاں خالی ہیں ان کو بھریمگر نئے لوگوں سے۔ ایک ایک پوسٹ پر کئی کئی تقرر نہ ہوں سبھی کو مواقع ملیں تو ہی حکومت کی اردو کے لئے نیک نیتی ثابت ہو سکتی ہے، ورنہ تو پھر بس قورمہ بریانی کھایئے اور اردو کے گن گایئے۔

Share Article

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *