صحافت کا سیاہ چہرہ

سنتوش بھارتیہ 

Mast

بیرونی ممالک میں ہندوستان کے مفادات کو لے کر جاسوسی کرنا جس طرح ہندوستان کا حق ہے، اسی طرح سے دوسرے ملکوں کا اپنے ملک کے لیے جاسوسی کرنا ان کا حق ہے۔ ان کے جاسوس ہمارے ملک سمیت کئی ملکوں میں بکھرے پڑے ہیں اور ہمارے جاسوس بھی پڑوسی ملکوں سمیت کئی ملکوں میں بکھرے پڑے ہیں۔ جاسوس پکڑے بھی جاتے ہیں، جاسوس خبریں بھی بھیجتے ہیں، اُن خبروں میں جو ملک کی سیکورٹی سے جڑی خبریں ہوتی ہیں، ان خبروں کے اوپر عمل ہوتا ہے اور باقی خبریں ردّی کی ٹوکری میں ڈال دی جاتی ہیں۔ جنرل وی کے سنگھ نے ٹی ایس ڈی کو اسی طرز پر بنایا۔

یہ ہندوستانی صحافت کے اُس کالے چہرے کی کہانی ہے، جس چہرے کو آنجہانی رام ناتھ گوینکا شاید سورگ (جنت) میں بیٹھ کر کبھی پڑھنا نہیں چاہیں گے یا کبھی جاننا نہیں چاہیں گے۔ ملک کے ایک سینئر صحافی نے مجھ سے کہا کہ اگر آج شری رام ناتھ گوینکا زندہ ہوتے، تو یا تو ایڈیٹر کو برخاست کر دیتے اور اگر نہیں کر پاتے، تو ممبئی کے ایکسپریس ٹاور کے پینٹ ہاؤس سے نیچے چھلانگ لگاکر اپنی جان دے دیتے۔ آنجہانی شری رام ناتھ گوینکا نے جس اصول کو اپنایا تھا، وہ اصول عوام حامی حمایت کی انوکھی مثال تھا۔ رام ناتھ گوینکا نے اپنے اخبار کے ذریعے ہندوستانی صحافت کی ایسی بلندیاں حاصل کی تھیں، جن کی لوگ ہمیشہ مثال دیتے تھے۔ انہوں نے کبھی ہتھیاروں کے دلالوں، صنعت کاروں، صاحب اقتدار کے حق کی صحافت نہیں ہونے دی۔ اسی لیے ان کے زمانے کے ایڈیٹروں کے نام ہندوستانی صحافت کے دور کے جگمگاتے ہوئے صفحات ہیں۔
لیکن آج کیا ہو رہا ہے۔ وویک گوینکا رام ناتھ گوینکا کے جانشین ہیں۔ وویک گوینکا اپنے انگریزی اخبار میں صحافت کا اصولوں کی دھجیاں اڑتے ہوئے دیکھ کر اگر خاموش ہیں، تو اس کا مطلب ہے کہ وویک گوینکا میں رام ناتھ گوینکا کی تھوڑی سی بھی بات، عزت کے لیے لڑنے کی طاقت کا تھوڑا سا حصہ بھی نہیں بچا ہے۔ یہ صحافت ’جرنلزم آف کریج‘ نہیں ہے، ’جرنلزم آف کرپشن‘ ہے، جرنلزم آف دلالی ہے، جرنلزم آف اینٹی نیشنلزم ہے۔
یہ سخت الفاظ ہمیں اس لیے کہنے پڑ رہے ہیں، کیو ںکہ اگر ایک زمانے میں صحافت کے ہیرو کے عہدہ پر بیٹھا ہوا شخص اگر جرائم کا ہیرو بننے کی طرف بڑھنے لگے اور اقتدار میں بیٹھے اپنے دوستوں کے ذریعے پیسے کمانے لگے اور اخبار کا استعمال ملک مخالف طاقتوں کو مدد پہنچانے کے لیے کرنے لگے، تو لکھنا ضروری ہو جاتا ہے۔ یہ کہانی ہندوستانی صحافت کے دوسرے اخباروں کے تذبذب کی کہانی بھی ہے، کم ہمت کی کہانی بھی ہے اور ہمارے آج کے سیاسی دور میں کس طرح ملک سے محبت، دیش بھکتی ایک طرف رکھ دی جاتی ہے اور کس طرح ملک سے بغاوت کو رہنما اصول مان لیا جاتا ہے، اس کی کہانی بھی ہے۔
یہ کہانی شروع ہوتی ہے، جب جنرل وی کے سنگھ ہندوستانی فوج کے آرمی چیف بنے۔ اس وقت ہندوستانی فوج میں خریدے جانے والے ہر ہتھیار کے پیچھے ہتھیاروں کے سوداگروں کا رول تھا۔ اسلحوں سے وابستہ لابی ساؤتھ بلاک میں ٹہلتی رہتی تھی۔ ملک کے کچھ بڑے نام ملک کی فوج کو سپلائی ہونے والے ہر ہتھیار کے اوپر اثر ڈالتے تھے۔ ان کے پاس وزارتِ دفاع سے، ہندوستان کی فوج سے جانکاریاں پہنچ جاتی تھیں کہ دفاع کے بجٹ میں اسلحوں کی خرید کا کتنا فیصد حصہ ہے اور اس کے حساب سے وہ منصوبہ بنانے لگتے تھے۔ وہ جانتے تھے کہ جنگ نہیں ہونے والی ہے، اس لیے ہندوستان کی فوج کو انہوں نے گھٹیا ہتھیاروں کی سپلائی کی۔ ہندوستانی فوج ہتھیاروں کے دلالوں کے جال میں اس قدر جکڑی ہوئی تھی کہ چاہے وہ ٹاٹرا ٹرک ہوں، چاہے وہ رائفلیں ہوں، چاہے وہ توپیں ہوں یا چاہے گولہ بارود ہو، ہر جگہ سب اسینڈرڈ سامان ہندوستان کی فوج میں آ رہا تھا۔ جنرل وی کے سنگھ نے اس کے خلاف کمر کسی اور انہوں نے ایسے ضابطے بنانے شروع کیے، جن کی وجہ سے ہتھیاروں کے دلالوں کو اپنا کام کرنا مشکل لگنے لگا۔ جنرل وی کے سنگھ کے ذریعے اٹھائے گئے قدموں نے اُن لوگوں کو بے بس کر دیا، جو لوگ ہندوستان کی فوج کو بیچے جانے والے ہتھیاروں سے فائدہ اٹھاتے تھے۔
یہ رپورٹ، جو ہم آپ کے سامنے رکھ رہے ہیں، نہ تو جنرل وی کے سنگھ نے ہمیں بتائی اور نہ ہی یہ رپورٹ فوج کے دیش بھکت افسروں کے ذریعے لیک کی گئی۔ یہ رپورٹ ہماری چھان بین کا نتیجہ ہے، جو ہم ہندوستان کے قارئین کے سامنے اس امید سے رکھ رہے ہیں کہ اگر ہندوستان کے عوام اس بات کو جان جائیں گے، تو کم از کم ہم اپنے اس فریضہ کو پورا کر پائیں گے، جو ایک صحافی کو کرنا چاہیے۔ جنرل وی کے سنگھ سے پہلے جتنے جنرل ہوئے، انہوں نے فوج کے جوانوں میں یا ہندوستان کی پوری فوج میں حوصلہ بھرنے کا کام پورے طور پر نہیں کیا۔ ایک بار تو فوج میں یہ حالت پیدا ہو گئی تھی کہ نفسیاتی طور پر سپاہی اور افسر آپس میں ہی لڑنے لگے تھے۔ آٹھ مہینے سے زیادہ چینی سرحد کے اوپر ہندوستان کی فوج بغیر کسی مقصد کے بیٹھا دی گئی تھی۔
ہماری جانکاری کے حساب سے جب جنرل وی کے سنگھ ہندوستان کے آرمی چیف بنے، تو ان کے سامنے ہتھیاروں کے دلالوں کو وزارتِ دفاع میں گھسنے سے روکنا ایک کام تھا، وہیں دوسرا کام ہندوستان کی سرحدوں کو ہندوستان کے پڑوسیوں سے محفوظ رکھنا تھا۔ ہندوستان میں تین طرف کی سرحدوں سے داخل ہونے کے راستے بنے ہوئے تھے۔ دہشت گرد پاکستان کی طرف سے، نیپال کی طرف سے اور بنگلہ دیش کی طرف سے ہندوستان میں داخل ہوتے تھے۔ کبھی کچھ پکڑے جاتے تھے، کچھ مارے جاتے تھے، لیکن زیادہ تر گھُس آتے تھے۔ جنرل وی کے سنگھ کے سامنے شاید یہ بڑا سوال تھا کہ ہماری فوج کے اوپر حملے نہ ہوں اور ہماری سرحدیں چاق و چوبند سپاہیوں کی نگرانی میں ہوں۔ اور اس کے لیے جنرل وی کے سنگھ نے ایک نئی حکمت عملی بنائی۔ انہوں نے ہندوستانی فوج میں ایک جانباز ڈیورَل بنایا، جس کا نام ٹیکنیکل سروسز ڈویژن رکھا۔ ٹی ایس ڈی اس ڈویژن کا شارٹ نام ہے، جس طرح ریسرچ اینڈ اینا لیسس وِنگ کا شارٹ نام ’رائ‘ ہے۔ ریسرچ اینڈ اینا لیسس وِنگ ہمارے ملک کی ایسی خفیہ ایجنسی ہے، جو بیرونی ممالک میں کام کرتی ہے اور غیر ملکی جانکاری ہندوستانی سرکار کو دیتی ہے۔ بیرونی ممالک میں ہندوستان کے مفادات کو لے کر جاسوسی کرنا جس طرح ہندوستان کا حق ہے، اسی طرح سے دوسرے ملکوں کا اپنے ملک کے لیے جاسوسی کرنا ان کا حق ہے۔ ان کے جاسوس ہمارے ملک سمیت کئی ملکوں میں بکھرے پڑے ہیں اور ہمارے جاسوس بھی پڑوسی ملکوں سمیت کئی ملکوں میں بکھرے پڑے ہیں۔ جاسوس پکڑے بھی جاتے ہیں، جاسوس خبریں بھی بھیجتے ہیں، اُن خبروں میں جو ملک کی سیکورٹی سے جڑی خبریں ہوتی ہیں، ان خبروں کے اوپر عمل ہوتا ہے اور باقی خبریں ردّی کی ٹوکری میں ڈال دی جاتی ہیں۔
جنرل وی کے سنگھ نے ٹی ایس ڈی کو اسی طرز پر بنایا۔ فوج کی مجبوری ہوتی ہے کہ وہ تبھی آگے بڑھ پاتی ہے، جب اسے آرڈر ملتا ہے۔ لیکن ٹی ایس ڈی اس طرز پر بنائی گئی کہ ہماری سرحدیں بھی محفوظ رہیں اور ہماری افواج بھی محفوظ رہیں۔ ٹی ایس ڈی کا ٹاسک، پاکستان کی سرحد، نیپال کی سرحد، بنگلہ دیش کی سرحد اور ان سرحدوں پر ہمارے جوان، نہ پڑوسی ملکوں کی فوج کے سیدھے نشانے پر آئیں اور نہ اِن ملکوں سے ہوکر ہمارے ملک میں داخل ہونے والے دہشت گردوں کے نشانے پر آئیں، یہ اس ڈویژن کا ٹاسک تھا۔ اس ڈویژن کو یہ آرڈر نہیں تھا کہ وہ دوسرے ملک میں داخل ہو کر کوئی ایکشن لے۔ اس ڈویژن کی ذمہ داری تھی کہ وہ ہمارے سرحدی حصے کے آس پاس اگر کسی قسم کی سرگرمی چل رہی ہے، تو ان سرگرمیوں کو روکنے میں اپنی جان کی بازی لگا دے، تاکہ فوج تب تک چاق و چوبند ہو کر، اگر اسے آرڈر ملتا ہے تو اپنے ٹاسک کو پورا کرے۔
ٹی ایس ڈی کی سرگرمیوں کی وجہ سے پاکستان اور چین پریشان ہونے لگے، تو انہوں نے ہندوستان میں اپنے ایجنٹوں سے ٹی ایس ڈی کے بارے میں جانکاری حاصل کی۔ جنرل وی کے سنگھ نے ٹی ایس ڈی کو اِس انداز میں بنایا تھا کہ اس کے بارے میں کوئی جانکاری پاکستان اور چین کو نہیں مل پا رہی تھی۔ ٹی ایس ڈی ہے، یہ تو پتہ چل رہا تھا، لیکن ٹی ایس ڈی کے کام کرنے کے طریقے، ٹی ایس ڈی میں کون افسر اور جوان ہیں، ان کے ٹارگیٹ کیا کیا ہیں، ان کو آرڈر کون دیتا ہے، ان کے پاس ہتھیار کیا کیا ہیں، اسے لے کر پاکستان اور چین میں بہت بڑا بھرم تھا۔ چونکہ انہیں کوئی جانکاری نہیں مل پا رہی تھی، اس لیے ان کے مقامی ایجنٹ اُن دونوں سرکاروں کو ڈرا رہے تھے۔ انہوں نے ٹی ایس ڈی کو ایک ہوّا بناکر اپنی سرکاروں کو اس لیے بتایا کہ ان کے پاس واقعی میں کوئی خبر تھی ہی نہیں۔ لیکن انہیں کوئی نہ کوئی خبر تو بھیجنی ہی تھی۔
ٹی ایس ڈی پاکستان اور چین کے لیے ایک خوفناک ہوّا بن گیا اور دونوں سرکاروں کو اور دونوں افواج کو جب کچھ پتہ نہیں چلا، تو اس بیچ ہتھیاروں کے دلالوں نے جنرل وجے کمار سنگھ کی تصویر برباد کرنے کی ساری کوششیں شروع کر دیں۔ اِن کوششوں میں جنرل وی کے سنگھ کی عمر کا تنازع ملک میں اچھالا گیا۔ جنرل وی کے سنگھ کی عمر کے تنازع کا بھی یہ المیہ ہے کہ ہندوستان کا سپریم کورٹ جنرل وی کے سنگھ کے ہائی اسکول کے سرٹیفکٹ میں لکھی ہوئی عمر کو سند نہیں مانتا، لیکن ریپ کیس میں سب سے زیادہ رول نبھانے والے ایک مجرم کے بالغ یا نابالغ ہونے کے بارے میں ہائی اسکول کے ڈیف آف برتھ سرٹیفکٹ کو صحیح مانتا ہے۔ شاید ہندوستان کے سپریم کورٹ کو ہی ایسا تضاد زیب دیتا ہے۔ عوام میں اس فیصلے کی تھو – تھو بھی ہوئی، لیکن اسلحوں کے سوداگروں نے، ان میں فوج کے کچھ بڑے افسر بھی شامل تھے، اس موضوع کو لے کر ایک اخبار کے ذریعے انہوں نے جنرل وی کے سنگھ کے خلاف کچھ سیاسی لیڈروں کا ساتھ لے کر ایک مہم چلا دی۔
اس درمیان جنرل وی کے سنگھ ریٹائر ہو گئے، لیکن انہوں نے جو قدم اٹھائے تھے، ان کی وجہ سے فوج کے اندر ہتھیاروں کے دلالوں کا کام جہاں ایک طرف مشکل ہوا، وہیں ابھی بھی ٹی ایس ڈی کو لے کر پاکستان اور چین کے من میں زبردست ڈر بیٹھا ہوا تھا۔ وہ کسی بھی طرح سے ٹی ایس ڈی کی جانکاری چاہتے تھے اور ٹی ایس ڈی کو ڈیفنکٹ کرنا چاہتے تھے۔ رام ناتھ گوینکا کے اخبار نے اس کام میں ہتھیاروں کے دلالوں کی اور پاکستان اور چین کی زبردست مدد کی۔ ہندوستان میں اس طرح کی خبر اپنے پہلے صفحہ پر پہلی سرخی کے ساتھ شائع کی کہ جنرل وی کے سنگھ اس ملک میں جمہوریت کو ختم کرکے فوج کی حکومت قائم کرنا چاہتے تھے، جس کے لیے انہوں نے فوج کی دو ٹکڑیوں کو دہلی کی طرف کوچ کرنے کا حکم دے دیا تھا۔
جنرل وی کے سنگھ اس خبر کے شائع ہونے کے وقت آرمی چیف تھے۔ اور یہ وار بہت خطرناک وار تھا۔ اس وار کی اصلی کہانی یہ ہے کہ رام ناتھ گوینکا جی کے اخبار کے ایڈیٹر ڈھائی گھنٹے سے زیادہ جنرل وجے کمار سنگھ کی سرکاری رہائش گاہ آرمی ہاؤس میں رہے، ان کے ساتھ انہوں نے دوپہر کا کھانا کھایا۔ ایک ایک سوال انہوں نے پوچھا اور سوال پوچھنے کے لیے انہوں نے ایک نفسیاتی ماحول تیار کیا۔ انہوں نے کہا کہ ان کا ہندوستانی فوج سے کافی پرانا رشتہ ہے، اگر میں بھول نہیں رہا ہوں، تو یہ کہا کہ ان کے بھائی بھی فوج میں ہیں۔ اپنے رشتہ داروں کے نام گنائے۔ کس کور، کس ڈویژن میں ہیں، اس کے نام گنائے۔ کچھ کہانیاں بتائیں کہ کس طریقے سے ان کے ساتھ فوج کی یادگاریں جڑی ہوئی ہیں۔ اور اس کے بعد انہوں نے اِن ٹروپس کے دہلی کوچ کرنے کی حقیقت پوچھی۔
جنرل وی کے سنگھ نے انہیں ایک ایک چیز بتائی کہ کس طرح کی یہ روٹین ایکسر سائز ہے اور دہلی کے آس پاس کچھ ٹکڑیاں اس لیے رہتی ہیں، تاکہ اگر دہلی میں کہیں کچھ ہو جائے، جیسے ممبئی میں 26/11 کو ہوا تھا، تو فوج کی ٹکڑیاں اتنی دوری پر رہیں کہ وہ دو گھنٹے کے اندر دہلی پہنچ سکیں۔ اور ٹائم ٹو ٹائم یہ ایکسر سائز ہوتی رہتی ہے کہ اگر دہلی میں کچھ ہوتا ہے، تو راجدھانی کو بچانے کے لیے فوج کتنی تیزی سے اسٹرائک کر سکتی ہے۔ اور یہ ہر موسم میں ہوتا ہے۔ چاہے گرمی ہو، برسات ہو، کہرا ہو۔ اُس بار کی ایکسرسائز کہرے میں ہوئی تھی۔ لیکن دوسرے دن، ایک دن چھوڑ کر اس کے اگلے دن ’انڈین ایکسپریس‘ کے گریٹ ایڈیٹر شیکھر گپتا نے اپنے ایک رپورٹر کے نام سے اسٹوری چھاپی کہ ہندوستان کی فوج جنرل وی کے سنگھ کے حکم پر اقتدار پر قبضہ کرنا چاہتی ہے۔ رام ناتھ گوینکا کے وارث وویک گوینکا کے اخبار میں تختہ پلٹ کی کوشش کے بارے میں جب رپورٹ شائع ہوئی…
تو اس کا سب سے سیاہ باب یہ تھا کہ اس کے ایڈیٹر نے یہ نہیں بتایا کہ وہ کچھ گھنٹے پہلے ہندوستان کے آرمی چیف کے ساتھ دوپہر کا کھانا کھاکر آیا ہے اور اس نے یہ سارے سوال ہندوستان کے آرمی چیف سے پوچھے اور آرمی چیف نے نہ صرف ان کی مذمت کی، بلکہ تفصیل سے بتایا کہ یہ ساری چیزیں کیوں ہوتی ہیں۔ اگر ایڈیٹر، جسے یہ ساری جانکاری متعلقہ شخص سے ملی تھی، تو اس رپورٹ میں یہ لکھ سکتا تھا کہ ہمارا یہ ماننا ہے کہ تختہ پلٹ کی کوشش ہوئی، لیکن ہندوستان کے آرمی چیف نے اس سے سرے سے انکار کیا اور آرمی کی کمپنیوں کے موومنٹ کے بھی اسباب بتائے۔ یہ نہ لکھنا اس اخبار کے صحافتی اصولوں کا قتل کرنا ہے اور یہ جرنلزم آف کاورڈی نیس، جرنلزم آف جھوٹ، جرنلزم آف کرپشن، جرنلزم آف اینٹی نیشنلزم کہلاتا ہے یا کہا جا سکتا ہے۔
اس رپورٹ کو سرکار نے مزاحیہ قرار دیا۔ اپوزیشن نے مزاحیہ قرار دیا۔ فوج کے ریٹائرڈ جنرلوں نے مزاحیہ قرار دیا۔ لیکن یہ اخبار اتنا بے شرم ہو گیا کہ اس نے اس رپورٹ پر معافی تک نہیں مانگی۔ ایک ثبوت اخبار کے پاس نہیں اور اخبار نے ہندوستان کی جمہوریت کو ختم کرنے کی فوج کی سازش کی خبر ہندوستان میں پھیلا دی۔ ہر طرف اس رپورٹ کو لے کر تھو- تھو ہوئی، لیکن یہ اخبار اپنی اس رپورٹ پر قائم رہا۔ مزے کی چیز یہ ہے کہ اس اخبار نے ہندوستان کی سیاسی مشینری کے ان لوگوں کے نام نہیں شائع کیے، جنہوں نے اس کی اتنی بڑی رپورٹ شائع ہونے کے بعد کیوں فوج کے اُن افسروں کے اوپر اور جنرل وی کے سنگھ کے اوپر کارروائی نہیں کی، جنہوں نے اخبار کے مطابق دہلی کے اقتدار پر قبضہ کرنے کی کوشش کی تھی؟ کیا اس تختہ پلٹ کے منصوبہ میں خود وزیر اعظم اور وزیر داخلہ شامل تھے؟ اپنے ہی خلاف وہ کچھ کرنا چاہتے تھے؟ یا وہ اتنے غیر ذمہ دار وزیر اعظم اور وزیر داخلہ تھے، جنہوں نے اتنی بڑی رپورٹ کے شائع ہونے کے بعد کچھ نہیں کیا؟
دراصل، آزاد ہندوستان کی یہ سب سے گھٹیا اور سنسنی خیز رپورٹ ہے۔ سنسنی خیز اس معاملے میں، کیوں کہ یہ پوری طرح ہتھیاروں کے دلالوں اور اس اخبار کے غیر ملکی رابطوں کے اشارے پر لکھی ہوئی ہندوستانی فوج کو بے عزت کرنے والی رپورٹ تھی۔
اس کے بعد، اس اخبار نے ٹی ایس ڈی کا سوال اٹھایا۔ بیوقوفی بھری رپورٹ وویک گوینکا کا ہی اخبار چھاپ سکتا ہے، جس نے لکھا کہ جموں و کشمیر کی ریاستی حکومت کو اکھاڑنے کے لیے ایک کروڑ 19 لاکھ کی رشوت جموں و کشمیر کے ایک وزیر کو دی گئی۔ ہندوستان کے ایک وزیر غلام نبی آزاد نے ہمت بھرا کام کیا اور انہوں نے کہا، ایسا کوئی کام نہیں ہوا ہے، نہ کوئی ریاستی حکومت کو اکھاڑنے کی کوشش ہوئی ہے اور یہ رپورٹ ٹھیک ویسی ہی مزاحیہ اور بیس لیس ہے، جیسی ہندوستان کے اقتدار پر فوج کے قبضہ کرنے کی رپورٹ تھی اور یہ دونوں رپورٹ ایک ہی اخبار نے چھاپی ہے۔
آخر یہ رپورٹ رام ناتھ گوینکا کے وارث وویک گوینکا کے اخبار میں ہی کیوں شائع ہو رہی ہیں؟ اس لیے شائع ہو رہی ہیں، کیوں کہ اس اخبار کے ایڈیٹر اور اس اخبار کے نامہ نگاروں کے رشتے ہتھیاروں کے دلالوں سے ہیں۔ ان کے رشتے چین اور پاکستان کی اُن طاقتوں سے ہیں، جو ٹی ایس ڈی سے خوفزدہ تھے۔ انہوں نے دباؤ ڈال کر ٹی ایس ڈی کو بند کرنے کا فیصلہ کروایا۔ ٹی ایس ڈی کے بند ہونے کے فیصلے نے ہی انہیں سکون نہیں بخشا۔ یہ ٹی ایس ڈی میں کون کون افسر اور جوان شامل تھے، ان کے نام جاننا چاہتے تھے اور یہ اخبار ملک مخالف سرگرمیوں کا ایسا حصہ بن گیا کہ وہ ہمارے جوان اور افسروں کی جان کا دشمن بن گیا۔ وہ ان ساری چیزوں کے خلاصے کی مانگ کرنے لگا، تاکہ افسروں کے اور ٹی ایس ڈی میں شامل سبھی لوگوں کے کام کرنے کے طریقے بھی سامنے آئیں، ان کے نام بھی سامنے آئیں، تاکہ آسانی کے ساتھ پاکستان اور چین کے جاسوس ان کا قتل کر سکیں۔
وویک گوینکا کے اس اخبار نے ملک مخالف صحافت کی یہ اعلیٰ مثال قائم کی۔ حکومت ہند کے وزیروں میں بھی، ہتھیاروں کے دلالوں سے اور ان دلالوں کے ذریعے چین اور پاکستان سے رشتہ رکھنے والے کچھ وزیروں کا ایک گروپ ہے، جو گروپ ٹی ایس ڈی کو لے کر اور جنرل وی کے سنگھ کے ذریعے بنائے گئے ضابطوں کو ختم کرانا چاہتا ہے۔ یہ اخبار، اخبار کے ایڈیٹر اس گروہ کی کور کمیٹی کا حصہ دکھائی دے رہے ہیں۔
کچھ اعداد و شمار غور کرنے لائق ہیں۔ جنرل وی کے سنگھ کی مدتِ کار کے دوران ہی ممبئی کا مشہور 26/11 واقعہ ہوا، جس میں تاج ہوٹل میں دہشت گردوں نے ایک بڑی دہشت گردانہ واردات کو انجام دیا تھا۔ اس وقت کا ایک اور واقعہ بتاتے ہیں۔ کولکاتا سے کچھ سم کارڈ خریدے گئے۔ کولکاتا کے ملٹری انٹیلی جنس کو پتہ چلا کہ کچھ لوگوں نے سم کارڈ خریدے ہیں اور ہندوستان میں کہیں پر کوئی واردات ہونے والی ہے، جن میں ان سم کارڈس کا استعمال ہونے والا ہے۔ وہ جانکاری اعلیٰ سطح پر ہندوستان کے اس وقت کے انٹیلی جنس بیورو کے ڈائریکٹر اور قومی سلامتی کے صلاح کار کو دی گئی۔ ان دونوں نے اس جانکاری کا استعمال نہیں کیا، جب کہ ان سم کارڈوں کے نمبر تک فوج نے مہیا کرا دیے تھے۔
جب 26/11 کا واقعہ ہو گیا اور فون کے اوپر بات چیت انٹرسیپٹ ہوئی، تو یہ وہی نمبر تھے، جو فوج نے ڈائریکٹر آف انٹیلی جنس بیورو اور قومی سلامتی کے صلاح کار کو فوج نے مہیا کرائے تھے۔ اور جو اس وقت سب سے بڑی چوک ہوئی، جس کے اوپر ہندوستانی فوج کو آج تک افسوس ہے کہ ہندوستان کے پاس اتنے جیمر ہیں، لیکن ان 24 گھنٹوں کے دوران جب تاج ہوٹل میں دہشت گردانہ کارروائی کو انجام دے رہے تھے، تب کمیونی کیشن کو جام نہیں کیا گیا۔ اگر کمیونی کیشن جام ہو جاتا، تو پاکستان سے دہشت گردوں کو ہدایتیں نہیں مل پاتیں، کیوں کہ وہ سیٹلا ئٹ فون نہیں تھے۔ سیٹلا ئٹ فون بھی جام کیے جا سکتے ہیں، لیکن اسے جام کرنے میں تھوڑا وقت لگتا ہے۔ لیکن اپنے ہندوستان کے ٹاور سے جانے والے انڈین سم کارڈ سے بات چیت فوراً جام کی جاسکتی ہے۔ یہ جام کیوں نہیں کیا گیا، ابھی تک یہ راز بنا ہوا ہے۔ اگر جام کر دیا گیا ہوتا، تو مڈبھیڑ اتنی دیر تک چلتی ہی نہیں۔
جنرل وی کے سنگھ جب تک ہندوستانی فوج کے آرمی چیف رہے ملک میں آئی ایس آئی کی سرگرمیاں کنٹرول میں رہیں، کیوں کہ آئی ایس آئی کو ہندوستان کی فوج کے ٹی ایس ڈی ڈویژن سے خوف تھا۔ جنرل وی کے سنگھ کے وقت ہماری سرحدوں پر امن رہا۔ چاہے پاکستان کے فوجی ہوں یا چین کے، انہوں نے کوئی حرکت کرنے کی کوشش نہیں کی، کیوں کہ انہیں جنرل وی کے سنگھ سے بھی ڈر تھا اور جنرل وی کے سنگھ کے ذریعے بنائے گئے دوستوں سے بھی۔ اسی لیے جیسے ہی وی کے سنگھ ہٹے، ہماری سرحد پر جنگ بندی توڑنے کی کوشش ہوئی۔ دہشت گرد بھیجے جانے لگے اور ہمارے جوانوں کی سر کٹی لاشیں ملک میں آنے لگیں۔ چین کی سرحد پر چین ٹہلتا ہوا لداخ اور اروناچل میں گھومنے لگا۔ ہماری فوج کی طرف سے کارروائی نہیں ہوئی۔ کارروائی ہو بھی نہیں سکتی، جب تک سیاسی فیصلہ نہ لیا جائے۔ لیکن چین کو کوئی ڈر نہیں تھا اور انہیں یہ بھی معلوم ہے کہ اب ہندوستانی فوج اسٹرائک نہیں کرے گی، کیوں کہ ٹی ایس ڈی ڈویژن جو فوج کے آفیشیل اسٹرائک کرنے سے پہلے اپنی فوج کی طرف بڑھنے والے قدموں کو روکنے کے لیے ڈھال کا کام کرتی تھی، وہ اب ہے ہی نہیں۔
جو کام چین اور پاکستان خود نہیں کروا سکے، انہوں نے ہندوستان کی صحافت کے معیار رہے رام ناتھ گوینکا کے وارث وویک گوینکا کے اس اخبار کے ذریعے کروا دیا۔ کہا تو یہ بھی جا رہا ہے کہ اس اخبار کے ایڈیٹر سمیت دیگر لوگوں کا اٹھنا بیٹھنا اس وقت کے وزیر داخلہ کے ساتھ کافی زیادہ تھا اور ان ساری چیزوں کے پیچھے اس وقت کے وزیر داخلہ کے اشارے پر ہتھیاروں کے دلالوں کی سیدھی مداخلت اور پاکستان اور چین کے مفادات میں کام کرنے والے ہندوستان کے لوگوں کا ہاتھ تھا۔
جھوٹ کس طریقے سے پھیلایا جاسکتا ہے۔ ٹی ایس ڈی کے اوپر الزام لگا دیا کہ وہ ہندوستان کے وزیر دفاع تک کی باتیں بھی سن رہی ہے۔ اس نے انٹرسپٹ کرنے والے انسٹرومنٹ خریدے ہیں۔ اس نے جموں و کشمیر کی حکومت کو گرانے کے لیے پیسہ دیا ہے۔ پہلے ہندوستانی حکومت کو گرانے کے لیے فوج کی ٹکڑیوں کا موومنٹ اور اب گپ کہ جموں و کشمیر کی سرکار کو گرانے کے لیے ایک کروڑ 19 لاکھ۔ نہ ایڈیٹر کو کوئی شرم، نہ رپورٹر کو شرم کہ جسے پڑھتے ہی قاری اخبار کے اوپر تھوک دے اور دیکھنے سے ہی جو رپورٹ سپر فیشیل لگے، وہ ہندوستانی صحافت کو شرم ناک کرنے والا واقعہ ہے۔ اور ٹی ایس ڈی پر شائع ہونے والی اس اخبار کی رپورٹ کی حمایت میں فوراً حکومت ہند کے کچھ وزیر کھڑے ہوگئے۔ انہیں یہ شرم نہیں آئی کہ وہ اپنی ہی فوج کے اس ڈیژن کی مخالفت کر رہے ہیں، جو ملک کی حفاظت کے لیے کام کرتی ہے۔ انہیں یہ بھی شرم نہیں آئی کہ وہ اپنے جانباز افسروں کے جذبے کی بے عزتی کر رہے ہیں، جو ملک میں کہیں بھی کچھ بھی کرنے کا حلف لیے جان دینے کا جذبہ لیے فوج میں شامل ہوتے ہیں۔
ہتھیاروں کے دلالوں، چین اور پاکستان کی خفیہ ایجنسیوں اور ہندوستان کے کسی زمانے میں صحافت کی آبرو رہے اخبار کی یہ ناپاک کہانی ہے، جس نے ہندوستانی صحافت کو شرمسار کر دیا ہے۔ تقریباً سبھی صحافی اس رپورٹ کو غلط مانتے ہیں، لیکن وہ اپنے میں یہ ہمت نہیں جٹا پا رہے ہیں کہ اس اخبار کی غلط رپورٹنگ کی وہ کھل کر مخالفت کریں۔ لگ بھگ ہر بڑے صحافی نے مجھ سے یہ کہا کہ یہ ہمیں شرمسار کر دینے والی صورت لگتی ہے، لیکن وہ اس لیے نہیں بولتے، کیوں کہ آخر وہ بھی ایک صحافی ہیں۔ یہ ہندوستانی صحافت کی بزدلی کا دوسرا چہرہ ہے۔
افسوس کی بات تو یہ ہے کہ یہ رپورٹ فوج کی بدعنوانی کو لے کر نہیں ہے۔ اس اخبار نے یہ رپورٹ فوج کی انسائٹنگ کو لے کر نہیں شائع کی ہے، یہ شخصیات کے ٹکراؤ کی کہانی نہیں ہے۔ یہ رپورٹ ہے ہندوستانی فوج کے جانباز افسروں اور سپاہیوں کی ہندوستانی فوج کی حفاظت کے لیے، ہندوستان کی سیکورٹی کے مفادات کے لیے کی جانے والی کارروائیوں کے خلاصے کے لیے۔ یہ رپورٹ ہندوستانی فوج کے افسروں اور جوانوں کو مارنے کی سازش کا حصہ ہے۔ اس لیے شری رام ناتھ گوینکا کے وارث وویک گوینکا کے اخبار کی اس رپورٹ کی جم کر مخالفت کرتے ہیں اور اس رپورٹ کو ہندوستانی صحافت کی سب سے سیاہ رپورٹ کے روپ میں دیکھتے ہیں۔
صحافت کا عظیم ہیرو بنتا ہوا ایک شخص کیسے جرائم کے سپر ہیرو میں بدل جاتا ہے اور کیسے اس کی پوری شخصیت بدعنوانی کی حمایت میں کھڑے بے شرم انسان کے روپ میں تبدیل ہو جاتی ہے، اسے دیکھنا ہو تو رام ناتھ گوینکا کے وارث وویک گوینکا کی قیادت میں چلنے والے انگریزی اخبار کو پڑھ کر دیکھا جا سکتا ہے۔ یہ اخبار بدعنوانی کے خلاف رپورٹنگ نہیں کرتا، بلکہ بدعنوانوں کی حمایت میں رپورٹنگ کرتا ہے۔ بدعنوانی کے خلاف لڑنے والے کو یہ اخبار کنفیوزڈ آدمی بتاتا ہے اور بدعنوانی کرنے والے لوگوں کو ہیرو بناتا ہے۔ اس اخبار میں بدعنوانی کے خلاف رپورٹ تلاش کرنی ہو، تو آپ کو بہت محنت کرنی پڑے گی، لیکن جو لوگ بدعنوانی کے خلاف لڑ رہے ہیں یا آواز اٹھا رہے ہیں، ان کے خلاف یہ اخبار پہلوانی کرتا دکھائی دے رہا ہے۔ یہ ہندوستان کی صحافت کا سب سے گندا چہرہ ہے۔

جنرل وی کے سنگھ کے ذریعہ کیا گیا ٹویٹ
شیکھر گپتا کی کمپنی کا ڈاٹا: وہ اور ان کی بیوی نیلم جالی نے 2002 میں گرین پائن ایگرو پرائیویٹ لمیٹڈ نام سے ایک کمپنی شروع کی۔ گرین پائن شوہر اور بیوی کے ذریعے چلائی جا رہی کمپنی ہے۔ ان کی کمپنی کامن ویلتھ کھیلوں میں بھی حصہ داری کر رہی تھی۔ (گھوٹالے کے بارے میں پڑھیں۔)
برسوں تک اس کا کوئی ریکارڈ درج نہیں ہوا۔ 2003 سے 2009 تک سارے ریکارڈ ریٹرن آن کیپٹل کے ساتھ 2010 میں درج کیے گئے اور رواں سال مئی 2010 میں درج کیا گیا۔
شیکھر گپتا نے ای ای ایس (انٹر پرائز امپلائے سینرجی) جمع کرکے اگست 2010 میں کمپنی بند کر دی۔ اس کے بعد سبھی اکاؤنٹ میں ہیر پھیر کر دیا گیا۔ 2002 میں انہوں نے ایک لون لیا۔ یہ صرف 12 لاکھ روپے کا تھا، جب کہ اس دوران انہوں نے دو ایکڑ کے تین فارم خریدے۔ اگست 2010 میں انہوں نے کمپنی بند کر دی۔ بیلنس شیٹ دکھاتی ہے کہ 2004 میں انہوں نے 45 لاکھ کا اَن سکیور لون لیا، لیکن بعد میں فارم ہاؤس کے معاملے میں بیلنس شیٹ کو صاف کر دیا گیا۔
تمام تفتیشی رپورٹ چھاپنے والے ایڈیٹر نے آٹھ سال بعد 18 جنوری، 2010 کو ایک بیلنس شیٹ فائل کی۔
دہلی میں مالچا روڈ پر 55 کروڑ کا مکان (یہ زیادہ کا بھی ہو سکتا ہے) ہوسکتا ہے انہیں یو پی اے سرکار کے لیے کام کرنے کے عوض ملا ہو۔ اس میں کوئی شک نہیں ہے کہ جو لوگ کانگریس کی بے شرمی بھری بدعنوانی سے لڑ رہے ہیں، ان پر جھوٹے الزام لگانے کے لیے شیکھر گپتا انڈین ایکسپریس کا ایک ذریعہ کے طور پر استعمال کر تے ہیں۔

سنتوش بھارتیہ

سنتوش بھارتیہ

Editor-in-cheif at Chauthi Duniya
سنتوش بھارتی’چوتھی دنیا‘ کے مدیر اعلی ہیں۔ہندی صحافت میں ان کا نام کسی تعارف کا محتاج نہیں ان کا شمار ہندوستان کے 10معروف صحافیوں میں کیا جاتا ہے۔ وہ ایسے مدبر اور مفکر ہیں جوتبدیلی میں یقین رکھتے ہیں۔1986میں جب انھوں نے چوتھی دنیا کا آغاز کیا تھا، تب انھوں نے صحافت کو مکمل طور پر نئے معنی دیئے تھے۔
سنتوش بھارتیہ
Share Article

سنتوش بھارتیہ

سنتوش بھارتی’چوتھی دنیا‘ کے مدیر اعلی ہیں۔ہندی صحافت میں ان کا نام کسی تعارف کا محتاج نہیں ان کا شمار ہندوستان کے 10معروف صحافیوں میں کیا جاتا ہے۔ وہ ایسے مدبر اور مفکر ہیں جوتبدیلی میں یقین رکھتے ہیں۔1986میں جب انھوں نے چوتھی دنیا کا آغاز کیا تھا، تب انھوں نے صحافت کو مکمل طور پر نئے معنی دیئے تھے۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *