سعودی عرب میں بدعنوانی: توسیع حرم بھی اس کی لپیٹ میں

وسیم احمد 

اسے ستم ظریفی نہیں تو اور کیا کہا جائے کہ ایک ایسی سرزمین جہاں تقریباً ڈیڑھ ہزار سال قبل بد عنوانی کا راج تھا جس کا محمدؐ کی آمد کے بعدخاتمہ ہوگیا تھا ،آج پھر وہاں سے بدعنوانی کی واپسی کی خبریں سننے کو ملنے لگی ہیں۔عجیب بات تو یہ ہے کہ توسیع حرم بھی اس کی لپیٹ میں ہے۔ چوتھی دنیا کی اس چونکانے والی انکشافاتی رپورٹ میں انہی حقائق کو سامنے لایا گیا ہے۔توقع ہے کہ اس سے وہاں ہورہی بد عنوانی کو دور کرنے میں فرمانروائے اسلام میں بیداری پیدا ہوگی اور اس بات کا احساس ہوگا کہ دنیا کو اس بدعنوانی کا علم ہے اور اہل اسلام بلکہ پوری دنیا اس کے لیے فکر مند ہے۔

Mast
لیکن گزشتہ چند برسوں سے سعودی عرب جن خصوصیات کی بدولت ہردلعزیز تھا،اب ان پر گہن لگتا جارہا ہے اور جن باتوں کو لے کر پوری دنیا کے مسلمان اس ملک پرفخر کرتے تھے ، اس میں تیزی سے کمی آنی شروع ہوگئی ہے۔بلکہ یہ سن کر تو بہت ہی افسوس ہوتا ہے کہ ملک کے فرمانروا جن کو خادم الحرمین کے خطاب سے یاد کیا جاتا ہے اور جس حرمین کا خادم بننے میں فرمانروا بھی فخر محسوس کرتے ہیں ،آج اسی حرم کیلئے مختص بجٹ میں ان کے رشتہ دار بد عنوانی کرر ہے ہیں اور خادم حرمین رشتہ داری کے لحاظ میں خاموشی اختیار کیے ہوئے ہیں۔
کچھ دنوں پہلے ایک انکشاف ہوا ہے کہ حرم شریف کی توسیع اوراس کے قریب تعمیر شدہ کلاک ٹاور میں 400 ملین ڈالر کا گھپلہ ہوا ہے اور یہ گھپلہ کرنے والے کوئی اور نہیں بلکہ ان کے خاندان کے شہزادے ہیں۔یہ خبر ایک سعودی شہزادی بسمہ بنت سعود کے حوالے سے منظر عام پر آئی ہے کہ’’ خانہ کعبہ کے آس پاس توسیع اور خانہ کعبہ میں دنیا کی سب سے بڑی گھڑی لگانے کے پراجیکٹ میں 400 ملین ڈالر سے زیادہ کا خرد برد کیا گیا تاہم اس خبر کو سینسر کردیا گیا اور سعودی عرب کے فرمانروا شاہ عبد اللہ نے بھی اس بارے میں ایک لفظ تک منہ سے نہیں نکالا‘‘۔
حرم شریف کی توسیع ایک خوش آئند بات ہے اور پوردی دنیا کے مسلمان اس بات سے خوش بھی ہیں۔ کیونکہ اس توسیع کے بعد حرم میں مزید پندرہ لاکھ حاجیوں کی گنجائش بڑھ جائے گی۔جس پر حکومت کے تقریباً10.6 ارب ریال خرچ ہوں گے۔اس نئی توسیع سے 8لاکھ مربع میٹر کے علاقے کو حرم کا حصہ بنا دیا جائے گا۔اس پراجکیٹ کی تکمیل کے لئے حرم کے قرب و جوار میں تقریبا 1000 عمارتوں کو گراکران کی زمین کو حرم میں شامل کرنے کا منصوبہ ہے ۔اس کے ساتھ ہی مسجد حرم سے ملحقہ ایک کمپلکس جو سات بلند ٹاور پر بنے ہوئے ہیں ان میں سب سے بلند ترین ٹاور 577 میٹر ہے۔اس بلند ترین ٹاور پر ایک گھڑیال لگائی گئی ہے۔جو 45 میٹر لمبی اور 43 میٹر چوڑی ہے۔اس گھڑیال کی خاص بات یہ ہے کہ یہ ہر طرح کے موسمی اثرات سے محفوظ ہے اور اسے مکہ کے وقت کے مطابق استعمال کرنے کے لیے لگایا گیا ہے، اس کے چاروں طرف “اللہ جل جلالہ ” کنندہ ہے۔ اس گھڑیال پر تین بلین ڈالر خرچ ہوئے ہیں۔
توسیع حرم کے تعلق سے تعمیری یا انہدامی کارروائیوں پر تمام اخراجات سرکاری خزانے سے ہونے ہیں کیونکہ ان تمام کاروائیوں کا مقصد ہے حاجیوں کو زیادہ سے زیادہ سہولت فراہم کرنا،مگر افسوس کی بات یہ ہے کہ نیک کام کے لئے مختص ان سرکاری پیسوں میں شاہی خاندان کے کچھ شہزادوں نے ہیرا پھیری کرکے پراجیکٹ کے پیسوں کو اپنے ذاتی مفاد کے لئے استعمال کرلیا۔اب سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ ان شہزادوں نے توسیع حرم شریف کے لئے مختص رقم میں ہیرا پھیری کیوں کی؟ جیسا کہ شہزادی بسمہ نے دعویٰ کیا ہے جبکہ شاہی خاندان میں اس وقت تقریبا 200 شہزادے ہیں اور ان میں سے ہر ایک کسی نہ کسی سرکاری عہدے پر فائز ہیں اور ان کے تمام اخراجات حکومت کی طرف سے ادا کیے جاتے ہیں یہاں تک کہ ان کے موبائل فون کے بل کی ادائیگی بھی سرکاری کھاتے سے ہوتی ہے۔جب ان کے تمام اخراجات سرکاری کھاتے سے ہورہے ہیں تو پھر اتنی بڑی رقم کی ہیرا پھیری کا مقصد کیا ہے اور اس پر فرمانرواں خاموش کیوںہیں۔
یہ دونوں یقینا اہم سوال ہیں۔ جہاں تک شاہ عبد اللہ کی خاموشی کا سوال ہے تو یہ بات سمجھ میں آتی ہے کہ وہ شاہی خاندان میں پائے جانے والے آپسی اختلاف کی وجہ سے پریشان ہیں۔ کچھ دنوں پہلے خالد بن سلطان کو ان کے عہدے سے معزول کرنے اور انہیں گھر میں نظر بند کرنے سے شاہی خاندان میں پنپ رہی بے چینیوں کو محسوس کیا جاسکتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ شاہ عبد اللہ شاہزادوں کے معاملے میں خاموشی اختیار کرنے میں ہی راحت محسوس کرتے ہیں تاکہ خاندانی اختلاف کی بات باہر نہ جانے پائے۔ان کی خاموشی کا فائدہ خاندان کے شہزادے اٹھا رہے ہیں اور سرکاری پراجیکٹوں میں ہیرا پھیری کرکے اپنے لئے کلب اور ہوٹل پر مالکانہ حق حاصل کررہے ہیں ۔شہزادوں کی ہیرا پھیری کا اعتراف سابق بادشاہ سعود بن عبد العزیز کی بیٹی بسمہ اپنے بیان میں کرچکی ہیں۔ان کا کہنا ہے کہ ’’ ایسے وقت میں، جب مکہ مکرمہ کے بہت سے باشندے غربت و افلاس کی زندگی بسر کررہے ہیں، آل سعود اپنے لئے بڑے بڑے محل اور کلب بنوانے میں لگا ہوا ہے‘‘۔

غور کرنے سے یہ بات سمجھ میں آتی ہے کہ جمہوری ملک میں ہر فرد کو اپنا حق وصول کرنے کے لئے آواز اٹھانے کا اختیار حاصل ہوتا ہے اور اگریہ اختیار سعودی عرب کے شہریوں کو دے دیا گیا تو شہزادوں کی بد عنوانی اور ملک کی دو تہائی آمدنی کا حساب عوام کے سامنے رکھنا ہوگا جس کا ریکارڈ شاید حکومت کے پاس نہیں ہے اور حکومت کو اس بات کا بھی جواب دینا پڑے گا کہ ملٹی بلین ڈالر آمدنی والے ملک میں غربت کیوں ہے؟وہاں غربت کا عالم یہ ہے کہ اس وقت ملک میں 3 ملین سے زیادہ ایسے لوگ ہیں جن کا گزر بسر سوشل اینڈ لیبر منسٹری سے ملنے والی امدادپر ہوتا ہے۔انفارمیشن اور جنرل سروے آف سعودی عرب کی ایک رپورٹ کے مطابق ملک میں ملازمت کی شرح صرف 13 فیصد ہے جبکہ پڑھے لکھے60 ہزار سے زیادہ نوجوان اعلیٰ ڈگری لے کر ملازمت کے انتظار میں ہیں۔کچھ سروے میں تو بے روزگاروں کی تعداد اس سے کہیں بہت زیادہ بتائی گئی ہے۔یہ تو مردوں کی بات ہے جہاں تک خواتین کی بات ہے تو ان کے لئے یہاں نوکری پانا جوئے شیر لانے کے مترادف ہے۔ لڑکیوں کے لئے یونیورسٹیاں ہیں ،انہیں تعلیم دینے کی طرف قدم بڑھا ہے مگر ان پڑھی لکھی خواتین میں سے 80 فیصد سے زیادہ بے روزگار ہیں۔

جہاں تک ان شہزادوں کے سرکاری مال میں ہیرا پھیری کرنے کا سوال ہے تو اس کی وجہ یہ ہوسکتی ہے کہ انہیں سعودی عرب میں اپنے بچوں کا مستقبل محفوظ نظر نہیں آرہا ہے۔ آل سعود کی اولاد وں اور پوتوں کی کل تعداد تقریباً 7 ہزار ہے۔ ظاہر ہے ان سب کو سرکاری اہم عہدے پر مقرر کرنا حکومت کے لئے ممکن نہیں ہے ۔ایسے میں جو شہزادے کسی عہدے پر فائز ہیں اور انہیں اپنی اولادوں کے لئے حکومت میں بڑا عہدہ پانے کا امکان نظر نہیں آتا ہے وہ کوشش کرتے ہیں کہ زیادہ سے زیادہ ذاتی ملکیت بنالی جائے تاکہ یہ جائداد ان کی اولادوں کے کام آئے ۔جائداد بنانے کے لئے وہ بڑی بڑی تجارتوں میں حصہ لیتے ہیں۔مال اور ہوٹل خریدتے ہیں اور صنعت کی طرف قدم بڑھا تے ہیں۔خود ولی عہد سلمان بن عبد العزیز کے بیٹے طلال ایک بڑے تاجر ہیں اور دنیا کے امیر ترین لوگوں کی فہرست میں ان کا نام ہے ۔جب ان شہزادوں کو جائداد بنانے کی راہ میں قانونی طریقے پر رقم فراہم نہیں ہو پاتی ہے تو وہ سرکاری اسکیموں میں بد عنوانی کا سہارا لیتے ہیں۔
شہزادوں میں اس نئی سوچ کی وجہ سے ملک میں بد عنوانی کا گراف تیزی سے بڑھتا جارہا ہے ۔ چنانچہ کویت سے شائع ہونے والا ایک اخبار ’’ القبس‘‘ کے مطابق 2011 کی بہ نسبت2012 میں سعودی عرب کے اندر 9 فیصد بد عنوانی میں اضافہ ہوا ہے ۔سعودی عرب میں بڑھتی بد عنوانی کا اعتراف حکمراں خاندان کے شہزادہ خالد بن فرحان آل سعود نے ’رشیا ٹو ڈے ‘کو ایک انٹرویو کے دوران بھی کیا ہے کہ ’’ سعودی عرب میں سیاسی، اقتصادی اور انتظامی بد عنوانی عروج پر ہے ‘‘۔
شہزادوں کی اس بد عنوانی اور جائداد بنانے میں دلچسپی کی وجہ سے ملک اقتصادی اعتبار سے تیزی سے پچھڑتا جارہا ہے ۔ اسلام ٹائمز نے کونسل آف سعودی چیمبر کے حوالے سے لکھا ہے کہ ملک کی کل آمدنی کا دو تہائی حصہ غیر فلاحی کاموں کے نذر ہوجاتا ہے۔ظاہر ہے کہ یہ صورت حال شاہی خاندان کے شہزادے یا افسران ہی پیدا کر رہے ہیں اور بد عنوانی کی وجہ سے ملک میں غربت و افلاس کی جڑیں پھیلتی جارہی ہیں۔10 ملین سے زیادہ ایسے شہری ہیں جن کو یومیہ ضرورتوں کی چیزیں میسر نہیں ہوتی ہیں۔اگر یہ صورت حال کسی مالی اعتبار سے کمزور ملک کی ہوتی تو سمجھنے میں آنے والی بات تھی لیکن سعودی عرب جس کو ترقی یافتہ ملکوں میں شمار کیا جاتا ہے ۔اس کی سالانہ آمدنی ملٹی بلین ڈالر ہیں پھر بھی اتنی بڑی تعداد میں فاقہ کشی کی نوبت ہے افسوسناک پہلو ہے اور اس کی وجہ یہ ہے کہ قومی آمدنی کا تقریباً ایک تہائی حصہ ہی عوامی فلاح کے لئے استعمال ہوتا ہے ۔ بقیہ پیسے کہاں جارہے ہیں ،اس کے بارے میں کوئی نہیں جانتا۔مہنگائی کا یہ حال ہے کہ اخبار ’’ ایکونومی‘‘ نے جولائی کی ایک رپورٹ میں لکھا کہ گزشتہ پانچ مہینوں میں سعودی عرب کے اندر 3.79 فیصد مہنگائی میں اضافہ ہوا ہے۔ظاہر ہے اس کا منفی اثر معاشی اعتبار سے کمزور لوگوں پر پڑ را ہے اور فاقہ کشی کا اوسط بڑھتا جارہا ہے ۔ لوگ بھیک مانگنے پر مجبور ہیں۔ g
مذکورہ سائٹ پر گزشتہ دنوں کچھ ایسی تصاویر شائع کی گئیں جن میں ایک سعودی خواتین کو کوڑے دان سے بچے کھچے کھانے چن کر کھاتے ہوئے دکھایا گیا ہے۔حکومت کے اس رویے کی وجہ سے لوگوں میں بے چینی ہے اور وہ چاہتے ہیں کہ شاہی نظام کی جگہ جمہوریت کی بحالی ہو تاکہ انہیں قومی آمدنی کا حساب لینے اور غربت و فاقہ کشی سے نجات کی راہ ملے۔چنانچہ 2011 میں سعودی عرب کے مشرقی علاقے العوامیہ میں حکومت کے خلاف مظاہرے ہوئے،2012 میں قطیف اور اس کے اطراف میں آزادی اظہار رائے اور ووٹنگ کا حق دیے جانے پر احتجاج ہوا،جس کو حکومت نے طاقت کا استعمال کرکے دبا تو دیا لیکن ساتھ ہی حکومت کو یہ بھی احساس ہوا کہ عوام میں شاہی نظام کے خلاف غصہ بھڑک رہا ہے اور اسی غصہ کا نتیجہ ہے کہ گاہے بگاہے کبھی خواتین کی آزادی کا مسئلہ اٹھتا ہے توکبھی مسجدوں میں ائمہ کو خطاب میں آزادی اظہار بیان کا مطالبہ سامنے آتا ہے۔ مگر حکومت ان سب کو بڑی خاموشی سے دبا دیتی ہے۔ ابھی حال ہی میں ملک کے 18 ائمہ پر جمعہ کا خطبہ دینے پر پابندی لگائی گئی اور خواتین جن کو ڈارئیونگ کرتے ہوئے وہاں کے مطوعین(محکمہ امر بالمعروف کے ملازم) پکڑلیا کرتے تھے،حکومت نے ان مطوعین کو خواتین کی ڈرائیونگ کا معاملہ محکمہ امر بالمعروف اور نھی عن المنکر کے ماتحت لانے کے بجائے سول پولیس کو ڈیل کرنے کا حکم دیا ہے تاکہ اس معاملے کو مذہبی رخ دینے کے بجائے انتظامی زمرے میں شامل کیا جائے۔ایک برس پہلے ڈرائیونگ پر لگنے والی پابندی کے خلاف سعودی خواتین نے ملک میں 20 سال سے زائد عرصے میں سب سے بڑا مظاہرہ کیا تھا۔ ان میں سے کئی خواتین کو گرفتار کیا گیا تھا اور کئی ایک کو سزائے قید دی گئی تھی۔سعودی عرب میں ایک تنظیم ’’ویمن ٹو ڈرائیور‘‘ اس مہم کو تیزی سے چلا رہی ہے۔خاتون پر آمرانہ قانون سے بغاوٹ کرتے ہوئے مئی 2011 میں نجلہ حریری نام کی ایک خاتون جدہ کی سڑکوں پر ڈرائیونگ کرتی ہوئی نکل پڑی۔ان کا کہنا تھا کہ مشرق وسطیٰ میں ہونے والی تحریکوں سے انہیں یہ حوصلہ ملا اور وہ چاہتی ہیں کہ ملک میں جمہوری نظام قائم ہو، تاکہ عورتوں کو بھی ہر طرح کی آزادی ملے ۔خلاصہ یہ کہ کہیں نہ کہیں عوام میں اپنی حکومت کے تئیں بے چینی پائی جاتی ہے اور ملک میں بڑھتی بے روزگاری سے وہ ناراض ہیں۔
اگر عوام کا غصہ یونہی بھڑکتا رہا تو شاہی نظام کا خاتمہ ہوسکتا ہے۔اسی لئے سعودی شاہی خاندان نے سب سے پہلے یہ کوشش کی کہ پورے خطہ عرب میں جمہوری نظام کے خلاف محاذ قائم ہو اور اسی کوشش کا نتیجہ تھا کہ جب مصر میں محمد مرسی جمہوری طریقے سے سربراہ مقرر کیے گئے تو سعودی حکومت نے اس منتخب حکومت کو اپنے لئے خطرہ محسوس کیا اور مرسی حکومت کی مخالفت کی۔ جب مصر میں جمہوری حکومت کا تختہ پلٹ دیا گیا اور وہاں فوجی حکومت قائم ہوئی تو سعودی عرب نے فوجی حکومت کی بھرپور مالی مدد کی۔
یہاں پر یہ سمجھنا ضروری ہے کہ آخر سعودی عرب کا شاہی خاندان جمہوریت کا مخالف کیوں ہے؟ اور دوسری طرفکہ امریکہ اور یورپین ممالک جو پوری دنیا میں شہنشائیت کے خلاف جمہوریت کی ترجمانی کرتے ہیں وہ خلیجی ملکوں میں شہنشائیت کی پشت پناہی کیوں کر رہے ہیں۔اگر صورت حال پر گہرائی سے غور کیا جائے تو بات خود بخود سمجھ میں آجاتی ہے کہ خلیجی حکمراں سمیت امریکہ وہاں شہنشائیت کی پشت پناہی کیوں کررہے ہیں؟
غور کرنے سے یہ بات سمجھ میں آتی ہے کہ جمہوری ملک میں ہر فرد کو اپنا حق وصول کرنے کے لئے آواز اٹھانے کا اختیار حاصل ہوتا ہے اور اگریہ اختیار سعودی عرب کے شہریوں کو دے دیا گیا تو شہزادوں کی بد عنوانی اور ملک کی دو تہائی آمدنی کا حساب عوام کے سامنے رکھنا ہوگا جس کا ریکارڈ شاید حکومت کے پاس نہیں ہے اور حکومت کو اس بات کا بھی جواب دینا پڑے گا کہ ملٹی بلین ڈالر آمدنی والے ملک میں غربت کیوں ہے؟وہاں غربت کا عالم یہ ہے کہ اس وقت ملک میں 3 ملین سے زیادہ ایسے لوگ ہیں جن کا گزر بسر سوشل اینڈ لیبر منسٹری سے ملنے والی امدادپر ہوتا ہے۔انفارمیشن اور جنرل سروے آف سعودی عرب کی ایک رپورٹ کے مطابق ملک میں ملازمت کی شرح صرف 13 فیصد ہے جبکہ پڑھے لکھے60 ہزار سے زیادہ نوجوان اعلیٰ ڈگری لے کر ملازمت کے انتظار میں ہیں۔کچھ سروے میں تو بے روزگاروں کی تعداد اس سے کہیں بہت زیادہ بتائی گئی ہے۔یہ تو مردوں کی بات ہے جہاں تک خواتین کی بات ہے تو ان کے لئے یہاں نوکری پانا جوئے شیر لانے کے مترادف ہے۔ لڑکیوں کے لئے یونیورسٹیاں ہیں ،انہیں تعلیم دینے کی طرف قدم بڑھا ہے مگر ان پڑھی لکھی خواتین میں سے 80 فیصد سے زیادہ بے روزگار ہیں۔
چونکہ قومی آمدنی کا بیشتر حصہ شہزادی بسمہ کے مطابق آل سعود کے شاہی شہزادوں کے کلب اور ہوٹلوں کی خریداری میں صرف ہوجاتا ہے لہٰذا صنعت کی طرف توجہ نہیں دی جارہی ہے اور اس کا نتیجہ یہ ہورہا ہے کہ ملک میں ہر سال لگ بھگ 166 ہزار بے روزگار نوجوانوں کا اضافہ ہورہا ہے۔حالانکہ اس کی ایک وجہ یہ بھی بتائی جاتی ہے کہ حکومت صنعت کاروں کی منہ بھرائی کے لئے لیبر قانون میں سعودی آئزیشن کا اعلان تو کرتی ہے مگر عملی طور پر کوئی قدم نہیں اٹھایا جاتا ہے مگر جو سب سے بڑی دشواری ہے، وہ یہ ہے کہ ملک میں صنعت پر خاطر خواہ توجہ نہیں دی جارہی ہے ۔بہر کیف اگر سعودی عرب میں جمہوری حکومت قائم ہوجاتی ہے تو حکومت کو ان تمام باتوں کا جوابدہ ہونا ہوگا ،جس کی جوابدہی ایک شاہی حکومت میں نہیں ہوتی ہے۔
جہاں تک امریکہ کی شاہی حکومت کی پشت پناہی کی بات ہے تو اس کی وجہ یہ ہوسکتی ہے کہ اگر یہاں جمہوری حکومت قائم ہوگئی تو جمہوری نظام میں امریکی مخالف طاقت ابھر کر سامنے آسکتی ہے اور امریکہ کا اثر رسوخ عرب ریاستوں سے ختم ہوسکتا ہے۔اس کا امکان اس لئے بھی غالب ہے کہ عرب کے بیشترعرب نوجوان اپنے ملک میں امریکی دخل اندازی کو ناپسند کرتے ہیں جیسا کہ بہاریہ عرب کے دوران عرب نوجوانوں میں دیکھنے کو ملا۔ان نوجوانوں کی آواز کو دبائے رکھنے کے لئے ضروری ہے کہ سعودی عرب سمیت دیگر خلیجی ملکوں میں امریکہ عرب آمروں کی حمایت کرتا رہے۔
سعودی کی حالیہ صورت حال نے دنیا کے ہر مسلمان کو بے چین بنا دیا ہے اور جیسا کہ اوپر ذکر آیا کہ سعودی عرب کے ساتھ دنیا کے ہر مسلمان کا لگائو جذباتی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ جب وہاں اس طرح کی باتیں ہوتی ہیں تو ہر فرد اپنے اندر درد محسوس کرتا ہے۔خاص طور پر جب بد عنوانی کا معاملہ توسیع حرم سے جڑا ہوا ہو تو اس وقت اور بھی تکلیف ہوتی ہے ۔ان بد عنوانیوں پر قابو پانے کے لئے حکومت کو چاہئے کہ وہ قومی آمدنی کو عوامی فلا ح و بہبود پر زیادہ سے زیادہ لگائے اور شہزادوں کی غلطیوں کو نظر انداز کرنے کے بجائے ان کی گوش مالی کرے۔

Share Article

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *