چھتیس گڑھ اسمبلی انتخابات: کانگریس میں اختلافات ہی رمن سنگھ کی طاقت ہے

چھتیس گڑھ میں اسمبلی الیکشن دونوں قومی پارٹیوں کانگریس اور بی جے پی کے درمیان لڑا جانا ہے۔ بی جے پی قیادت بروقت دہلی سے رائے پور پہنچ گئی ہے۔ پارٹی نے ٹکٹ بھی تقسیم کر دیے ہیں اور منظم طریقے سے ریاست میں انتخابی تشہیر میں جُٹ گئی ہے، جبکہ کانگریس کے ساتھ اس کے برعکس ہوا ہے۔ چھتیس گڑھ کی کانگریسی قیادت انتخابی تیاریاں کرنے کی بجائے ا ٓپسی اختلاف میں الجھ گئی ہے۔ اجیت جوگی اور چرن داس مہنت کئی دنوں تک دہلی میں موجود رہے۔ دربھا میں اعلیٰ سطح کے کانگریسیوں کی ہلاکت سے جو ہمدردی انھیں مل سکتی تھی، وہ انھوں نے گنوادی ہے۔ اب کانگریس کو فائدہ تبھی ملے گا، جب بی جے پی عوام کی نگاہوں میں ناکام ثابت ہو۔ ریاستی کانگریس عوام کو یہ یقین دلانے میں ناکام ہے کہ وہ برسر اقتدار بی جے پی کی متبادل بن سکتی ہے۔

 سشما گپتا 

p-9ریاستوں میں سب سے پہلے چھتیس گڑھ میں الیکشن ہونا ہے۔ اگست میں ہی چھتیس گڑھ کانگریس کے ریاستی صدر چرن داس مہنت نے دعویٰ کیا تھا کہ دو مہینے پہلے ہی ٹکٹ فائنل ہو جائیں گے، لیکن اب الیکشن کااعلان بھی ہو گیا ہے، مگر کانگریس ابھی تک ٹکٹوں کا اعلان نہیں کر پائی ہے۔ ٹکٹوں کے لیے نہ جانے کتنے دور کی میٹنگیں ہو چکیں، لیکن مہنت کے سارے دعوے ٹائیں ٹائیں فش ہو گئے۔ اب کانگریسی قیادت اس کشمکش میں مبتلا ہے کہ اتنے کم وقت میں وہ کس طرح ٹکٹ فائنل کرے اور کیسے میدان میں اترے۔
کانگریس کی سیاست پوری طرح دہلی شفٹ ہو گئی تھی۔ پہلے آپسی اختلاف اور پھر ٹکٹ کی وجہ سے مارا ماری میں کانگریسی دہلی میں ڈیرا ڈالے ہوئے تھے۔ عالم یہ ہے کہ چھتیس گڑھ کانگریس کے رہنما اب دہلی کے زیادہ اور چھتیس گڑھ کے کم لگنے لگے ہیں۔ ریاست کے اولین وزیر اعلیٰ اور پارٹی کے سب سے مقبول رہنما اجیت جوگی 25 ستمبر سے کئی دنوں تک دہلی میںرہے، وہ دو بار رائے پور آئے۔ پہلی بار وزیر اعظم کے پروگرام میں شرکت کرنے اور دوسری بار راہل گاندھی کے جلسے میں۔ یہی حالت ریاستی صدر کی بھی رہی ہے۔ ریاستی صدر کا عہدہ سنبھالنے کے بعد وہ رائے پور میں ڈٹے رہے، لیکن وہ میٹنگوں میں ہی مصروف رہے۔ رائے پور میں میٹنگوں کا سلسلہ ختم ہوا، تو ٹکٹوں کے لیے دہلی میں میٹنگیں شروع ہوگئیں۔ یہی حال اسمبلی میں پارٹی لیڈر رویندر چوبے، بھوپیش بگھیل، ستیہ نارائن شرما اور دھنندر ساہو کا رہا۔ وہ بھی لگاتار دہلی کے دوروں میں مصروف رہے۔ لیڈروں کے دہلی کے دورے اور آپسی کھینچتان کا اثر کانگریسی کارکنوں کے جوش اور حوصلے پرپڑا۔ کارکن مایوس ہو گئے۔ الجھنیں بڑھ گئیں۔ یہی وجہ ہے کہ اقتدار کی تبدیلی کے تعلق سے کارکنوں کا جوش ٹھنڈا پڑگیا۔
دراصل، چھتیس گڑھ کا انتخابی مقابلہ اس بار بیحد مشکل ہے، اس لیے میدان میں ڈٹے رہنا کانگریس اور بی جے پی دونوں کے لیے بے حد ضروری تھا۔ اس بات کو سمجھتے ہوئے چھتیس گڑھ سے جڑے بی جے پی کے انچارج جے پی نڈا اور نیشنل کو آرگنائزیشن سکریٹری سودان سنگھ رائے پور میں ڈٹے رہے۔ ٹکٹ کو لے کر یہیں پر غور و خوض چل رہا ہے۔ کارکن بوتھ سطح پر ڈٹ گئے ہیں اور وزیر اعلیٰ سمیت تمام رہنما عوام کے درمیان موجود ہیں۔ گویا بی جے پی میں الیکشن کے مد نظر سب کچھ دہلی سے رائے پور شفٹ ہو گیا۔ دوسری طرف کانگریس میں اس کے بر عکس ہوا۔ اعلیٰ رہنماؤں کے دہلی دوروں، ٹکٹ کے سبب مارا ماری اور گروپ بندی کی وجہ سے پارٹی قیادت کو دربھا کے بعد تھمی ہوئی ’پریورتن یاترا‘ کو منسوخ کر نا پڑا۔ دربھا کے بعد پیدا ہوئی ہمدردی کو کیش کرانے کے لیے یاترا شروع کی گئی، لیکن یہ مقامی تشدد بن کر ہی رہ گئی۔
ٹکٹ کے معاملے میں بی جے پی کا حال بھی وہی ہے، لیکن بی جے پی کے ساتھ اچھی بات یہ ہے کہ رمن سنگھ نے انتخابی اعلان سے پہلے ہی کم سے کم ڈیڑھ بار ریاست کو ناپ لیا۔ ’وکاس یاترا ‘ کے ذریعے دوسرے لیڈر بھی اپنے اپنے حلقوں میں ڈٹے رہے۔ دوسری طرف چرن داس مہنت صدر بننے کے بعد صرف میٹنگوں اور گروپ بندی سے نمٹنے میں الجھے رہے۔ کل ملاکر جو مقابلہ کانٹے کا نظر آرہا تھا، وہ زمینی سطح پر بی جے پی کے حق میں نظر آرہا ہے۔ کانگریس کی امید کا دار و مدار اب پوری طرح اس کے امیدواروں کے اثر اور اینٹی انکم بینسی پر ہے۔ لیڈروں کی ذاتی خواہشات پارٹی کے مفاد پر اس قدر حاوی ہوئیں کہ کچھ مہینے پہلے تک رمن سنگھ کے سرکار پر بھاری نظر آرہی کانگریس، اقتدار کی ریس میں پچھڑتی نظر آرہی ہے۔ حالانکہ بی جے پی کے ارکان اسمبلی کے خلاف بے چینی بھی کانگریس کے لیے فائدہ مند ثابت ہو سکتی ہے۔ دراصل چھتیس گڑھ میں گزشتہ چھ مہینے میں سیاست نے تیزی سے کئی بار کروٹ بدلی۔ چھتیس گڑھ کی سیاست میں 25 مئی کو بستر کے دربھا میں کانگریسی لیڈروں پر ہوا حملہ ٹرننگ پوائنٹ ثابت ہوا۔ 25 مئی تک مقابلہ برابری کا نظر آرہا تھا۔ ایک طرف رمن سنگھ کا کام تھا، تو دوسری طرف ان کی سرکار پر لگے بدعنوانی کے الزام کے ساتھ کانگریس میدان میں ڈٹی ہوئی تھی۔ کانگریس کے پاس مدعوں کی بھر مار تھی۔ بچوں کو زمین دینے کا معاملہ ہو یا وزیر اعلیٰ رمن سنگھ کی مہر بانی سے لوگوں کو ریاستی کانیں دینے کا معاملہ یا وزراء پر بدعنوانی کے الزمات، سبھی مدعوں پر کانگریس نے سرکار کے خلاف بیحد جارحانہ رویہ اختیار کیا تھا۔ ڈسپلن شکنی اور گروپ بندی کے لیے بدنام کانگریس کو صرف دو سال میں آنجہانی نند کمار پٹیل نے ڈسپلن میں کر دیا تھا۔ گروپ بندی کو ختم کر کے انھوں نے لیڈروں کو یہ بتا دیا تھا کہ پارٹی میں اسی کی جگہ ہو گی، جو کام کرے گا۔ جوگی کو چھوڑ کر پارٹی میں ساری گروپ بندی ختم ہو گئی تھی۔ عوام میں یہ پیغام جا رہا تھا کہ جوگی کے بغیر بھی کانگریس پارٹی اثردار اور حملہ آور انداز میں آگے بڑھ سکتی ہے۔ راہل گاندھی، سونیا گاندھی اور ریاستی انچارج بی کے ہری پرساد تک یہ مان چکے تھے کہ چھتیس گڑھ میں الیکشن جیتنے کی گنجائش سب سے زیادہ ہے۔ عالم یہ تھا کہ بی کے ہری پرساد دہلی میں کم اور چھتیس گڑھ میں زیادہ نظر آرہے تھے۔ بستر کے جھلیاماری میں آدیواسی ہاسٹل میں نابالغوں کے ساتھ ریپ کے معاملے پر کانگریس نے سرکار کو ایسا گھیرا کہ رمن سنگھ خود مجبور نظر آنے لگے۔
جب انتخاب قریب آئے، تو رمن سنگھ نے ایک طرف ’وکاس یاترا‘ شروع کی، تو دوسری طرف نندکمار پٹیل نے ’پریورتن یاترا‘ کا آغاز کیا۔ دونوں اپنی اپنی یاتراؤں کے ذریعے عوام کے درمیان جارہے تھے، لیکن اچانک 25 مئی کو ماؤنوازوں نے دربھا میں کانگریس کے قافلے پر حملہ کر دیا۔ نند کمار پٹیل، وی سی شکلا، مہیندر کرما کو ہلاک کردیا گیا۔ کانگریس کی پہلی قطار کی پوری لیڈر شپ ختم ہو گئی۔ اس واقعہ کے خلاف جس طرح ریاست میں ابال آیا، اس سے لگا کہ ہمدردی کی لہر پر سوار ہو کر کانگریس رمن سنگھ سرکار کو اکھاڑ پھینکے گی۔ دربھا کے بعد چرن داس مہنت کو کانگریس کا ریاستی صدر بنایا گیا۔ پہلا مہینہ غمگین ماحول اور پارٹی کو سنبھالنے میں لگ گیا۔ دربھا کیس کے مد نظر مہنت نے کانگریس کے شہید رہنماؤں کے علاقے سے ’کلش یاترا‘ نکالنے کا فیصلہ کیا۔ دربھا سے ہی ’پریورتن یاترا‘ پھر سے یاترا شروع کرنے کا اعلان کیا گیا۔ یہاں تک ماحول پوری طرح کانگریس کی ساتھ تھا، لیکن ہوا اس کے بر عکس۔ دربھا کے واقعے کے بعد کانگریس کے پاس ایک مدعا ہاتھ میں آگیا، لیکن اس کے بعد گروپ بندی اور ٹکٹ کے لیے مارا ماری نے ان مدعوں کی دھار کند کردی۔ جوگی، چرن داس مہنت کو صدر بنائے جانے سے خفا تھے، اس لیے وہ کھل کر مہنت کے خلاف آگئے۔ اس کی ابتداتو تعزیتی میٹنگ میں ہی ہو گئی تھی، جب جوگی نے پہلے مہنت کا ہاتھ سب کے سامنے جھٹک دیا، پھر کانگریس کے جنرل سکریٹری دگ وجے سنگھ کو باہری بتا کر ان کے شاگرد مہنت پر دوہرا وار کیا، لیکن یہ صرف ابتدا تھی۔
اس کے بعد جوگی پہلے دہلی گئے۔ آدیواسی قیادت کی مانگ کو لے کردہلی میں ڈیرا ڈالا۔ ارکان اسمبلی کو متحد کرنے کی کوشش کی، لیکن جوگی کی کوششوں کے بعد بھی ایم ایل ایز اکٹھے نہیں ہوئے۔ اعلیٰ کمان جوگی کے دباؤ میں نہیں آئی، تو جوگی رائے پور آگئے۔ اس کے بعد جوگی نے افطار پارٹی اور بھجیا پارٹی کا اہتمام کیا۔ گویا طاقت کا مظاہرہ کیا، لیکن پھر بھی بات نہیںبنی، تو بغاوتی تیور کے ساتھ پارٹی کے لیڈروں کے خلاف میدان میں اتر گئے۔ چھتیس گڑھ میں ستنامی فرقہ کے لیے پوجنیہ منی ماتا کی جینتی پر جوگی نے اپنے تمام مخالفین کے علاقے میں جا کر ان کے خلاف جلسے کیے۔ چنانچہ بھو پیش بگھیل، دھنندر ساہو، سوربھ سنگھ، نوبل ورما، رودر گرو، راج کمل سنگھانیا، سب نے جوگی کی شکایت کی اور یہ قیاس لگایا جانے لگا کہ اب جوگی کی پارٹی سے وداعی طے ہے۔ اپنے حامیوں کے ساتھ دہلی پہنچ کر جوگی نے تیسرے مورچے کے لیڈروں کے ساتھ ملاقات بھی شرو ع کر دی، لیکن ان تمام قواعد کے بیچ اچانک اجیت جوگی نے دہلی میں کانگریسی رہنماؤں سے ملاقات کے بعد اپنا ارادہ بدل دیا۔ ڈرامائی انداز میں رائے پور میںبی کے ہری پرساد، جوگی سے ملنے پہنچ گئے۔ اس کے بعد جوگی اور مہنت کے بیچ ڈنر ڈپلومیسی ہوئی اور جوگی کے تذکروں پر لگام لگ گئی، لیکن جوگی اور تنظیم کے تنازع میں کانگریس نے انتخاب سے پہلے کے اہم تین مہینے گنوا دیے۔ لیڈر ایک دوسرے کی شکایت لے کر دہلی آتے جاتے رہے اور جوگی اپنی بے اعتنائی کی شکایت اور زور آزمائش کر تے رہے۔ اس تنازع کا اثر کانگریس کی زمینی تیاریوں پر پڑا۔ پہلے ’پریورتن یاترا‘ منسوخ کرنی پڑی۔ ’کلش یاترا‘کب چلی اور ختم کب ہوئی، اس کا گروپ بندی کی وجہ سے پتہ ہی نہیں چلا۔ کل ملاکر کانگریس اس دوران میدان سے پوری طرح باہر رہی۔ پارٹی نے اس دوران دربھا سے پیدا ہوئی ہمدردی کو بھی گنوادیا، جو جوش اور غصہ کارکنوں میں تھا، وہ بھی ٹھنڈا ہو گیا۔ جوگی خیمے کے کارکن اس بات کو لے کر الجھن میں رہے کہ نئی پارٹی میں کام کرنا ہے یا کانگریس میں ہی رہنا ہے۔ اس کے ساتھ ہی تنظیمی خیمہ اس انتظار میں ہے کہ جوگی جائیں، تو وہ کھل کر میدان میں آئے۔ دوسری طرف رمن سنگھ نے اپنی ’وکاس یاترا‘ مکمل کرلی۔ اس درمیان کانگریسی لیڈروں نے پریورتن یاتراؤں کے بعد الگ الگ جلسے ضرور منعقد کیے، لیکن یہ انعقاد ’ویکینڈ‘ پر ہونے والی پکنک کی طرح لگے۔ جو ماحول ایک جلسے سے پیدا ہوا وہ اگلے دن کے خالی پن سے ختم ہو گیا۔ اس کے علاوہ اس کا اثر بھی مخصوص علاقے تک ہی محدود رہا۔
حالانکہ راہل گاندھی کی جگدل پور کی شاندار ریلی ضرور کانگریسیوں میں جوش پیدا کرنے والی تھی، لیکن کرما کی ہلاکت اور اروند نیتام کے پارٹی چھوڑنے کے بعد یہاں کانگریس، قیادت سے جوجھ رہی ہے۔ دقت یہ بھی ہے کہ دربھا کے بعد کانگریسی لیڈر بستر جانے سے بچنے لگے ہیں۔ مہنت ، جوگی اور رویندر چوبے جیسے لیڈر حملے کے بعد کبھی سڑک کے راستے بستر نہیں گئے۔ یہ کانگریس کے لیے بڑا مسئلہ ہے، کیونکہ بستر کی ہار نے ہی کانگریس کو دو بار اقتدار سے دور رکھاہے۔ کانگریسی لیڈر اگر بستر جانے سے بچتے رہیں گے، تو یہ بی جے پی کے لیے ’واک اوور‘ دینے جیسا ہوگا۔ چرن داس مہنت کا طریقہ کار بھی اس کے لیے کم ذمہ دار نہیں ہے۔ نند کمار پٹیل کی وراثت ضرور مہنت نے سنبھالی ہے، لیکن وہ اسے آگے نہیں بڑھا پائے ہیں۔ ان کی قیادت میں جارحیت کی کمی کارکنوں کو بہت کھل رہی ہے۔ انھوں نے آنسو تو بخوبی پونچھے، لیکن کارکنوںکے جوش کو وہ نہیں گرم رکھ پائے۔ ہمیشہ چنگو منگو سے گھرے رہنے والے مہنت نے سب سے بڑی غلطی میدان میں نہ اتر کر کی ہے۔ ایک عام کارکن کی ان تک رسائی نہ ہونا بھی ان کے خلاف ماحول پیدا کرتی ہے۔
مہنت صدر بننے کے بعد میٹنگوںمیں اس قدر مصروف رہے کہ سڑک پر کوئی بڑی تحریک ہی نہیں چلا پائے۔ حالانکہ انھوں نے نازک حالات میں عہدہ سنبھالا اور جوگی سے دو بارنمٹنے کا تلخ تجربہ بھی ان کے پاس ہے۔ اسی لیے وہ پھونک پھونک کر قدم اٹھا رہے ہیں، لیکن جس طرح کرکٹ کے آخری اوور میں ہر گیند پر رن بنانے والے بلے باز کی ضرورت ہوتی ہے، مہنت اس میں فٹ نظر نہیں آئے۔ حالانکہ جوگی کو اس بار جس چالاکی سے انھوں نے کنارے لگا یا ہے، وہ ان کی مہارت مانی جائے گی، لیکن چرن داس مہنت کا اصلی امتحان انتخاب میں ہوگا۔ اگر وہ انتخاب میںناکام ہوئے، تو جوگی یہ ثابت کریں گے کہ چھتیس گڑھ کانگریس میں ان کا متبادل کوئی نہیں۔ g

Share Article

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *