بالی ووڈ نے بھی ٹورازم کو فروغ دیا ہے

p-12بالی ووڈ ہمیشہ سے ہی اپنے پر کشش مناظر کی شوٹنگ کے لئے مشہور رہا ہے۔گزشتہ دو دہائیوں میں بالی ووڈ نے آئوٹ ڈور شوٹنگ کے ذریعہ سیاحت کے شعبہ کو نئی بلندیاں بخشی ہیں۔یوں تو گزرے زمانے میں فلموں کی آدھی سے زیادہ شوٹنگ اسٹوڈیوں میں ہوا کرتی تھی، لیکن دور حاضر کی فلموں میں آئوٹ ڈور لوکیشن اور Visual Effectsکا چلن بہت تیزی سے بڑھا ہے اور اس نے سیاحت کے لحاظ سے دنیا کے بہترین سیاحی مقامات سے ناظرین کو روبرو کرایا ہے۔آنجہانی فلم ہدایت کار یشراج نے بھی اپنی فلموں میں سویٹزر لینڈ کی برفیلی پہاڑیوں پر عشق کو پروان چڑھتے دکھایا ۔ یشراج چوپڑا ہمیشہ سے ہی اپنی فلموں کی شوٹنگ سویٹزر لینڈ کی حسین برفیلی وادیوں میں کرنے کے لئے جانے جاتے تھے اور وہ سویٹزر لینڈ کی وادیوں کو جنت تصور کرتے تھے۔یہی وجہ ہے کہ حال ہی میں آئیں بالی ووڈ کی کئی فلموں میں دنیا کی بہترین آئوٹ ڈور لوکیشن کو فلمایا گیا ہے ، جن میں آسٹریلیا، کیوبا، اسپین، آئرلینڈ ، ترکی اور پیرو شامل ہیں، وہیں دوسری طرف ہندوستان میں، گجرات، کشمیر، لداخ، گوا کی حسین خوبصورت لوکیشن کو فلمسازوں نے کیمرے میں قید کرا کر سیاحوں کو ان مقامات کی جانب راغب کیا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ ان دنوں ٹریول ایجنسیز کا کاروبار عروج پر ہے۔
فلموں میں جب سے آئوٹ ڈور لوکیشن یا غیر ملکی مقامات پر شوٹنگ کا چلن بڑھا ہے، تب سے لوگ ان مقامات میں مزید دلچسپی لینے لگے ہیں۔ابھی حال ہی میں آئی فلم ’’لوٹیرا‘‘ کی شروعاتی شوٹنگ کولکاتہ کی شاندار اور عالیشان حویلیوں میں ہوئی ہے، جبکہ فلم ختم دارجلنگ کی برفیلی اور حسین وادیوں میں جا کر ہوتی ہے۔اس کے علاوہ شاہ رخ خان کی فلم’’جب تک ہے جان‘‘ نے لداخ سے لے کر لندن تک کا سفر کیا ہے۔اس کے علاوہ رنبیر کپور اور دیپیکا پادوکون کی اداکاری میں بنی فلم ’’یہ جوانی ہے دیوانی‘‘ منالی سے لے کر کئی غیر ملکی مقامات میں شوٹ ہوئی۔علاوہ ازیں سیاحت کے شوقین لوگوں میں لیھ ، کشمیر، راجستھان، کیرالہ اور ادے پور کو لے کر دلچسپی بڑھی ہے اور لوگ تیزی سے یہاں تفریح کے لئے پہنچ رہے ہیں۔
فلم تھری ایڈیٹ میں دکھائے گئے لیھ کے مناظر نے ناظرین کو بے حد محظوظ کیا اور تب ہی سے یہ مقام سیاحوں کی توجہ کا مرکز بنا ہوا ہے۔فلم ’’کائی پو چے‘‘ نے گجرات کو زمینی سطح سے کیمرے میں قید کیا ہے اور وہاں کی ثقافت اور وراثت کو تفصیل سے دکھایا ۔فلم’’ زندگی نہ ملے گی دوبارہ ‘‘ کے ریلیز ہونے کے بعد اسپین ٹورازم کے اعداد و شمار بتاتے ہیں کہ وہاں آنے والے سیاحوں میں 32فیصد بھارتی شامل تھے۔اسی طرح جب سے فلمسازوں نے لداخ کو شوٹنگ کے لحاظ سے پسندیدہ مقام بنایا ہے، تب سے وہاں سیاحوں کی آمد میں زبردست اضافہ ہوا ہے اور اس بات کا اندازہ اس سے باآسانی لگایا جا سکتا ہے کہ فلموں میں آنے سے پہلے وہاں محض دن بھر میں1فلائٹ پرواز کیا کرتی تھی ،لیکن آج وہاں ہر دن 14فلائٹ لینڈ کرتی ہیں۔اعداد و شمار بتاتے ہیں کہ مئی اور ستمبر کے مہینے میں وہاں 8000سیاح آتے تھے، لیکن اس سال وہاں سیاحوں کی تعداد 5لاکھ ریکارڈ کی گئی۔
یہی نہیں ٹریول ایجنسی میک مئی مائی ٹریپ فلم یہ جوانی ہے دیوانی کی آفیشیل ٹریول پارٹنر تھی ۔ میک مائی ٹرپ کے سی ای او راجیش ماگو بتاتے ہیں کہ فلم کے ریلیز ہونے کے بعد سے ہماری یہاں منالی کی انکوائری میں 150فیصد کا اضافہ ہوا ہے ۔آج فلمساز ملکی سیاحی مقامات کے علاوہ غیر ملکی سیاحی مقامات میں اسپین ، ترکی، آئرلینڈ، آئرلینڈ، گریس ، ماریشش، عمان ، ملیشیا، کناڈا ، امریکہ، برطانیہ جیسے جگہوں میں سیاحوں کی تعدا دمیں ہر سال 20فیصد کا اضافہ ہو رہا ہے۔

سیاست داں کبھی نہیں بنوں گی : ودیا بالن 

p-12bودیا بالن کو سوشل ورک کرنا اچھا لگتا ہے، لیکن اس کے لئے وہ فلمی دنیا سے علیحدہ بھی نہیں ہونا چاہتیں۔ ان کا کہنا ہے کہ میں اداکاری کے لئے جیتی ہوں۔ودیا بالن کا ماننا ہے کہ اس وقت سیاست اور سیاستدانوں سے ملک کے عوام کا اعتماد اٹھ چکا ہے۔ ودیا نے کہا کہ میں اداکارہ بن کر بے حد خوش ہوں۔ اگر کوئی معروف شخصیات ، فلم اداکار یا مشہور ہستی کسی سماجی خدمت میں شریک ہوتا ہے ، تو لوگ اس کے بارے میں جاننے میں دلچسپی لیتے ہیں ۔ میں خوش ہوں، لیکن اداکاری وہ چیز ہے، جس کے لئے میں جیتی ہوں اور میں خود کو کبھی سیاست میں جاتے ہوئے نہیں دیکھ سکتی۔ودیا بالن نے ستمبر 2012میں چائلڈ رائٹس اینڈ یو این جی او کے ساتھ ’’چھوٹے قدم پرگتی کی اور‘‘ مہم کی شروعات کی تھی۔ اس مہم کا مقصد ہندوستان میں بچوں کو تعلیمی مدد فراہم کرنے کے لئے خواتین کو بااختیار بنانا تھا۔ سیاست کے گھیرے سے باہر اس مہم کو چلانے میں ودیا کافی راحت محسوس کرتی ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ سیاست اور لیڈروں سے ہم سبھی کا اعتماد اٹھ گیا ہے، اس لئے میں سیاست میں نہیں جاناچاہتی۔اس وقت میں جو بھی کر رہی ہوںِ اس کے لئے پر عزم ہوں ۔ودیا بالن کو اداکاری اتنی پسند ہے کہ وہ کبھی کیمرے کے پیچھے نہیں جانا چاہتیں اور نہ ہی اپنے شوہر سدھارتھ رائے کپور کے پروڈکشن کے کام کو اپنے ہاتھوں میں لینا چاہتی ہیں۔ وہ کہتی ہیں کہ میں ہر دن اپنی ڈائری لکھتی ہوں۔ میں نے کیمرے کے سامنے بہت کام کیا ہے، پھر بھی کیمرے کے پیچھے جانے سے پریشان ہو جاتی ہوں۔ اگر میں کسی فلم کی ڈائریکشن یا رائٹنگ پر کام کرتی ہوں تو اس کے تمام کردار میں خود ہی کرنا چاہوں گی۔ میں تمام اداکاروں کو ہٹا دوں گی اور خود ہی اداکاری کروں گی۔فی الحال ودیا کی خواہش ہے کہ وہ فلموں میں منفی کردار یا پھرولن کا رول بھی ادا کریں ۔ ودیا بالن 2014میں آنے والی فلم ’’شادی کے سائڈ افیکٹس ‘‘ میں فرحان اختر کے ساتھ نظر آئیں گی اور حال ہی میں انھوں نے دیا مرزا پروڈکشن کی ایک فلم بھی سائن کی ہے۔

Share Article

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *