عرب اسرائیل کی بڑھتی قربتیں

وسیم احمد 

عرب سربراہ دنیا کے سامنے اسرائیل کو اپناسب سے بڑا دشمن قرار دیتے ہیں مگر پسِ پردہ ایک دسترخوان پر بیٹھ کر ڈنر کرتے ہیں اورباہمی ایثار و ہمدردی کا جذبہ پیش کرتے ہیں۔ اس دو رخی پالیسی کا مطلب کیا نکالا جائے؟ سوال یہ ہے کہ یہ سب کچھ عربوں کی خارجہ پالیسی میں بڑی تبدیلی ہے یا کچھ اور؟ ذیل کے تبصرہ میں انہی باتوں کو اجاگر کیا گیا ہے۔

p-8اگر خلیجی ممالک کی سیاسی صورت حال پر غور کیا جائے تو عربوں کی پالیسی میںجو بدلائو آرہا ہے ، وہ بدلائو اسرائیل سے لگائو کی بنیاد پر نہیں، بلکہ خطے میں ایران و امریکہ کی بڑھتی قربتوں کی وجہ سے آرہا ہے۔خطے میں ایران ایک طاقتور ملک ہے جبکہ عرب ممالک نہتھے ہیں اور جنگی ہنر سے عاری بھی۔ایسے میں ایران کے بڑھتے اثر و رسوخ کو وہ اپنے لئے خطرہ محسوس کرتے ہیں۔ لہٰذا اس کے اثرات سے بچنے کے لئے اسرائیل سے قربتیں بڑھا رہے ہیں تاکہ ایران و امریکہ قربت کے نتیجے میں اگر ایرانی جوہری پلانٹ کو جاری رکھنے کی اجازت مل جاتی ہے تو خلیجی ممالک خطے میں ایرانی اثرات کو کم کرنے میں اسرائیل سے مدد حاصل کرسکیں۔
ایران و امریکہ میں بڑھتی قربتوں کا احساس ایرانی صدر حسن روحانی کی امریکی صدرباراک اوباما کے ساتھ ایک ٹیلیفونک کال سے پیدا ہوا ہے اور اسی کال نے خلیجی ممالک میں بے چینی پیدا کردی ہے۔اس ایک کال نے عربوں میں اتنا خوف پیدا کردیا ہے کہ وہ اپنے دائمی دشمن اسرائیل کے ساتھ متحد ہورہے ہیں۔دراصل گزشتہ ہفتہ صدر حسن روحانی اور صدر باراک اوبامہ میں ایرانی جوہری پلانٹ کو لے کر ٹیلیفون پر بات چیت ہوئی۔
1979 کے بعد کسی بھی ایرانی صدر نے امریکی صدر سے ٹیلیفون پر بات نہیں کی تھی لیکن نئے ایرانی صدر سابقہ 34 سالہ روایتوں سے ہٹ کر ایک نئی پالیسی کے ساتھ ابھرے ہیں جو ’’ ہر ایک کے ساتھ دوستی ،دشمنی کسی سے بھی نہیں‘‘ کی پالیسی کو ایران کی پالیسی بنا نا چاہتے ہیں اور اسی پالیسی کے ایک حصہ کے طور پرحسن روحانی نے 2005 سے ایران میں ہر سال ہونے والی اسرائیل مخالف کانفرنس ’’ نئے افق‘‘کو امسال منسوخ کردیا ہے۔اس کانفرنس میں اسرائیلی جارحیت پر روشنی ڈالی جاتی تھی اور اسرائیلی ریاست کے ناجائز ہونے کے ساتھ ساتھ اس کے مظالم کو بیان کیا جاتا تھا۔اس کانفرنس میں دنیا بھر کے مختلف ملکوں سے نمائندے شریک ہوتے تھے اور متعلقہ موضوع پر اظہار خیال کرتے تھے۔ اس کانفرنس کی وجہ سے اسرائیل سخت ناراض تھا مگر حسن روحانی کے اس اقدام سے اسرائیل کی ناراضگی دور ہونے کے امکانات پیدا ہوگئے ہیں ۔
حسن روحانی کی اسی پالیسی کی وجہ سے امریکہ جو خطے میں اس کا سب سے بڑا دشمن سمجھا جا تا تھا ،اب دونوں کے بیچ دشمنی کی تپش کم ہونے لگی ہے اور دوستی کی طرف قدم بڑھنے لگا ہے۔حسن روحانی کی اس نئی خارجہ پالیسی نے عربوں میں خوف پیدا کردیا ہے ۔ انہیں لگتا ہے کہ اگر ایران امریکہ کو اپنے جوہری پلانٹ کو سمجھانے میں کامیاب ہوجاتا ہے تو پورے خلیجی ممالک پر ایران کا تسلط قائم ہوسکتا ہے۔اپنے اسی سوچ کی وجہ سے اب عرب ملکو ں کی خارجہ پالیسی میں تیزی سے تبدیلی آنے لگی ہے اور اسرائیل جو عربوں کا دائمی دشمن سمجھا جاتا تھا اور عرب اسرائیل کے وجود کو قبول کرنے کے لئے کسی بھی قیمت پر تیار نہیں ہوتے تھے ۔یہاں تک کہ اگر کسی عرب ملک نے اس کے ساتھ سفارتی تعلقات بحال کرلئے تو عربوں نے اسے نفرت کی نظر سے دیکھا ۔مگر آج وہی عرب اسرائیل کے ساتھ متحد ہوکر شام اور ایران کے خلاف محاذبنائے ہوئے ہیں اور اس پر اربوں ڈالر خرچ کرر ہے ہیں اور ان عربوں نے ہی اسرائیلی خواہش کے مطابق مصر میں ایک جمہوری حکومت کا تختہ پلٹنے میں اہم کردار ادا کیا اور بے شمار دولت خرچ کی۔
اسرائیل سے دوستی بڑھانے کے مقصد سے خلیجی ممالک کے سفراء اور اسرائیلی سفراء کے درمیان ملاقاتوں کاکئی دور چل چکا ہے اور ان ملاقاتوں میں عرب سفراء ،روحانی و اوباما کے ٹیلیفونک رابطے پر اپنی تشویش کا اظہار کرچکے ہیں۔اسرائیل سے شائع ہونے والا ایک عبری روزنامہ ’’ھارٹس‘‘ نے لکھا ہے کہ گزشتہ ہفتہ اقوام متحدہ کانفرنس کے موقع پر نیویارک میں متحدہ عرب امارات، اردن اور دیگر کئی سفراء نے اسرائیلی سفارتکار سے ملاقات کی اور ایران وامریکہ کی بڑھتے قربت سے پیدا ہونے والی صورت حال کا جائزہ لیا۔اس سلسلے میں اقوام متحدہ میں متعین سعودی سفیر عادل الجبیر امریکی سینئر ایڈمنسٹریٹیو سے کئی ملاقاتوں میں اپنی اس تشویش کا اظہار کرچکے ہیں۔یہی نہیں گزشتہ کچھ دنوں میں امریکی وزیر خارجہ جان کیری اور ان کے متعدد خلیجی ممالک میں ہم منصبوں کے ساتھ بات چیت کا اہم موضوع یہی رہا۔ان سب کو یہ خوف ستا رہا ہے کہ کہیں ایرانی جوہری پلانٹ کا منصوبہ سفارتی بنیاد پر حل نہ ہوجائے۔آگے اخبار نے مزید لکھا ہے کہ نیویارک میں ایرانی وزیر خارجہ ظریف اور امریکی وزیر خارجہ کیری ملاقات سے قبل نیویارک کے آئی پی آئی (International Peace Institute)میں ڈینر کا انتظام تھا جس میں مختلف ملکوں کے 40 سے زیادہ نمائندے شریک تھے۔اس ڈینر میں اسرائیلی نمائندوں کے علاوہ ترکی، قطر ، مراکش، کویت ، اردن، ،مصر، عراق کے وزرائے خارجہ کے علاوہ عرب لیگ کے جنرل سکریٹری نبیل العربی بھی شامل تھے ۔اس موقع پر جب بری گیٹس نے اپنی تقریر ختم کی تو اس کے بعد تبصروں کا دور شروع ہوا تو فلسطین کی طرف سے عبد ربہ نے اپنی بات پیش کی اور اسرائیل کی طرف سے خاتون وزیر برائے قانون تسیبی لیفنی نے اپنا نظریہ پیش کیا اور امریکہ کی طرف سے مارٹن انڈیک نے ۔
قابل غور بات یہ ہے کہ اب تک کسی بھی کانفرنس میں اسرائیلی نمائندے اپنی باتیں کہنے کے لئے کھڑے ہوتے تھے تو عرب نمائندے کانفرنس کا بائیکاٹ کرکے باہر نکل جاتے تھے لیکن حیرت کی بات یہ ہے کہ لیفینی اسرائیل کی طرف سے تقریر پوری کرلی گئی مگر کسی عرب نمائندے نے نہ تو ان کی تقریرکی مخالفت کی اور نہ ہی واک آئوٹ کیا۔بلکہ مذکورہ اخبار نے تو لکھا ہے کہ جب لیفنی تقریر کررہی تھیں تو تمام عرب وزراء پوری توجہ کے ساتھ ان کی تقریرکو سن رہے تھے۔حالانکہ لیفنی نے اپنی تقریر کے دوران کئی ایسی باتیں کیں جو فلسطینی پالیسی کے خلاف تھیں ،مگر وہ تمام باتوں کو توجہ سے سنتے رہے اور ان کی کسی بات پر اعتراض نہیں جتایا۔
سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ عرب نمائندوں نے لیفنی کے خطاب پر اعتراض کیوںنہیں کیا؟کیوں ان کے فلسطین مخالف ریمارکس کو سنتے رہے ؟جبکہ عرب اسرائیل کے درمیان تنازع اور اختلاف کی اہم وجہ یہی ہے۔اس کو سمجھنے کے لئے ہمیں اسرائیل اور خلیجی ممالک کے درمیان سرد و گرم رشتوں پر ایک نظر ڈالنی ہوگی۔1948 میں اسرائیل وجود میں آیا تو عربوں نے اس کی سخت مخالفت کی تھی ۔1952 سے کئی مغربی ملکوں نے اسرائیل کے ساتھ سفارتی تعلقات قائمکرنا شروع کیا تو اس وقت مسلم ملکوں میں ترکی نے سب سے پہلے اسرائیل کے ساتھ سفارتی تعلقات قائم کیا۔اس کے بعد 79 میں مصرو اسرائیل معاہدہ ہوا۔1991 میں اسرائیل و عرب کے درمیان مدرید کانفرنس ہوئی ۔ اس کانفرنس کے بعد کئی ایسے ممالک جو اب تک اسرائیل کے ساتھ تعلقات قائم کرنے میں ہچکچاہٹ محسوس کر رہے تھے ،ان ملکوں نے بھی تعلقات قائم کرلئے ۔چنانچہ سویت یونین، ہندوستان، چین وغیرہ نے اس کے بعد ہی اسرائیل سے سفارتی تعلقات بنائے۔
جب 93 میں اوسلو معاہدہ ہوا۔اس معاہدے کے بعد تقریباً 22 ملکوں نے اسرائیل کے ساتھ تعلقات قائم کیے۔اسی معاہدے نے اسرائیل اور عرب کے درمیان تعلقات وسیع کرنے کے دروازے کھول دیے۔اور اسی کا نتیجہ ہے کہ 94 میں اردن نے اسرائیل کے ساتھ تعلق قائم کیا ۔اسی طرح مراکش نے مخصوص شعبے میں مشترکہ کام کیا۔اس کے بعد قطر اور عمان نے تجارتی سطح پر تعلق قائم کیا۔موریتانیا نے 1999 میں اسرائیل کے ساتھ مکمل سفارتی تعلق بحال کیا۔ لیکن 2000 میں مسجد اقصیٰ پر حملے کے بعد کچھ ملکوں سے اسرائیل کے رشتے میں تلخی پیدا ہوئی اور سفارتی تعلقات ختم ہوگئے ۔ان ملکوں میں تیونس ، عمان اور مراکش کے علاوہ قطر نے تجارتی تعلقات منقطع کیا اور اسی طرح 2009 میں موریتانیا نے یہ تعلق ختمکر لیا۔
اس طرح دیکھا جائے تو مسلم ملکوں کے ساتھ اسرائیل کے تعلقات میں زیادہ تر تلخیاں ہی رہی ہیں،مگر اب ایران سمیت عرب ملک ان تلخیوں کو بھلا کر اسرائیل کی قربت کے خواہش مند ہیں۔مگر یہاں پر ایک بڑا فرق عرب ممالک اور ایران کی خواہشوں میں صاف نظر آرہا ہے۔ایران کا امریکہ یا اسرائیل سے دشمنی بھلا کر دوستی کی طرف ہاتھ بڑھانے کے پیچھے ایک مقصد نظر آرہا ہے اور وہ مقصد بہت حد تک جائز بھی ہے کہ وہ امریکہ اور اسرائیل کا اعتماد حاصل کرکے اپنے جوہری پلانٹ کو جاری رکھنا چاہتا ہے اوراپنے اوپر عائد معاشی پابندیوں کو ختم کروانا چاہتا ہے مگر عربوں کی خواہش کا کوئی جواز نہیں مل رہا ہے سوائے اس کے کہ وہ ایران کے خطرے کا خوف پال کر اپنے ایک دائمی دشمن کے ساتھ متحد ہورہے ہیں۔
حالانکہ ماہرین کا کہنا ہے کہ ایران عربوں کے لئے نہ تو کبھی خطرہ تھا اور نہ ہی جوہری پلانٹ جاری رکھ کر خلیجی ممالک کے لئے خطرہ بن سکتا ہے کیونکہ اسرائیل کبھی بھی فلسطین کی زمین کو خالی نہیں کرے گا اور جب تک یہ ایشو زندہ ہے اس وقت تک ایران اسرائیل کا دوست نہیں بن سکتا ہے اس بات کو اسرائیل بھی سمجھ رہا ہے ۔یہی وجہ ہے کہ حسن روحانی کی طرف سے مثبت پالیسی اپنائے جانے کے باوجود اسرائیل کی طرف سے بار بار ایرانی جوہری پلانٹ کو بند کیے جانے اور معاشی پابندی کو جاری رکھنے پر اصرار کیا جارہا ہے ۔لہٰذا عربوں کو ایران سے مطمئن رہنا چاہئے اور اپنے دیرینہ دشمن اسرائیل سے متحد ہونے کے بجائے مسلم ملک ایران پر اعتماد بحال کرنا چاہئے۔کیونکہ عربوں کی یہ نئی خارجہ پالیسی کہیں خلیج میں کسی بڑے سیاسی خطرے کا پیش خیمہ نہ بن جائے۔

Share Article

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *