عرب بہاریہ کی الٹی سیدھی گنتی : تیونس میں النہضہ کے بجائے قومی عبوری حکومت

وسیم احمد
p-8عام طور پر حکومت کے خلاف مظاہروں میں انسانی جانیں جاتی ہیں۔ملک میں بحران اور افرا تفری کا ماحول پیدا ہوتا ہے مگر تیونس میںحکمراں پارٹی النھضہ نے ایک دانشمندانہ قدم اٹھا کر ملک کو ایک بڑے بحران سے بچا لیا اور برسر اقتدار اور اپوزیشن کے درمیان ایک بڑا تنازع کسی حد تک ایک مثبت نتیجے پر پہنچا ۔ اسلامی تحریک النھضہ اور سیکولر اپوزیشن کے درمیان بات چیت کا سلسلہ جاری ہے جس میں کچھ اہم فیصلے ہونے ہیں۔خاص طور پر قومی عبوری حکومت پر اتفاق رائے اور آئندہ سال ہونے والے الیکشن کے خط و خال کا تعین۔
سال 2011 میں بہاریہ عرب کا سلسلہ تیونس سے شروع ہوا ور اس انقلابی طوفان نے پورے عرب ممالک کو اپنی لپیٹ میں لے لیا۔کہیں حکومت کاتختہ پلٹا تو کہیں ایوان حکومت میں خوف پیدا ہوا ۔اس انقلاب نے کئی آمر حکومتوں کے ادوار کا خاتمہ کیا اور اس کی جگہ جمہوریت آئی تو کہیں تختہ پلٹنے کے لئے خونریز خانہ جنگی وجود میں آئی۔ عرب بہاریہ کے نتیجے میںہی تیونس میں 23 برسوں سے نام نہاد جمہوریت پر مبنی زین العابدین کی حکومت کا تختہ پلٹ دیا گیا۔ عوامی انقلاب نے انہیں اقتدار چھوڑنے پر مجبور کیا اور عام نتخابات کے ذریعہ اسلام پسند سیاسی پارٹی النھضہ کی حکومت بنی۔ دو دہائی تک جمہوریت سے محروم قوم کے لئے یہ حکومت ایک نعمت سے کم نہیں تھی۔ انہیں اس جمہوری حکومت میں اپنا مستقبل نظر آنے لگا۔لیکن شاید ابھی تیونس کے مقدر میں امن نہیں تھا لہٰذا جو لوگ آمر حکمراں سے نجات حاصل کرنے کے لئے انقلاب لائے تھے، اب انہی میں سے کچھ لوگ النھضہ کے زیر اقتدار جمہوری نظام سے بھی اکتارہے ہیںاور النھضہ کے خلاف مظاہرے کر رہے ہیں۔حالات کی نزاکت کو دیکھتے ہوئے حکومت نے مظاہرین کے مطالبے قبول کر لیا اور اپوزیشن کے ساتھ مذاکرات کے لئے تیار ہوگئی ہے ۔
ان تمام صورت حال کو دیکھنے کے بعد ایسا محسوس ہورہا ہے کہ جس بہاریہ عرب نے پورے عرب ملکوں میں ہلچل پیدا کردی تھی، اب اس کی الٹی گنتی شروع ہوچکی ہے اور ایک مرتبہ پھر آمر حکومتوں کے لوٹنے کے امکانات پیدا ہوگئے ہیں۔ مصر میں حسنی مبارک کے آمرانہ نظام کے خاتمہ کے بعد محمد مرسی کی حکومت قائم ہوئی ،لیکن کچھ مہینوں بعد ہی انہیں معزول کرکے حسنی مبارک کی حمایت یافتہ فوجی سربراہ عبد الفتاح السیسی نے حکومت پر قبضہ کرلیا۔

اس سے بڑا فائدہ یہ ہوا کہ ایک طرف ملک میں افراتفری کا ماحول ختم ہوگیا وہیں اس النھضہ کے تعلق سے عوام میں ایک اچھا پیغام بھی گیا ہے ،جس کا فائدہ اسے آنے والے عام انتخاب میں مل سکتا ہے اور یہی وجہ ہے کہ تیونس کی 3 سیاسی پارٹیاں جن کو اندازہ تھا کہ اس معاہدے کا فائدہ النھضہ کو مل سکتا ہے ، نے اس معاہدے پر دستخط نہیں کیے ہیں۔ان میں کانگریس پارٹی،ریفارم اینڈ ڈیولپمنٹ پارٹی اور اسٹریم آف لو پارٹی شامل ہیں ۔ ان کا کہنا ہے کہ اس طرح کا مذاکرہ آئینی رو سے غلط ہے۔ان کا کہنا ہے کہ النھضہ کو لمبے دنوں تک مذاکرات جاری رکھنے کے بجائے فوری طور پر حکومت سے دستبردار ہوجانا چاہئے۔البتہ چھوٹی بڑی 18 پارٹیوں نے اس معاہدے پر دستخط کیے ہیں۔لیکن سوال یہ ہے کہ آخر وہ کیا اسباب ہیں کہ وہاں کے نوجوانوں کوسڑک پر اترنے کی ضرورت پیش آئی اور یہ سوال بھی بہت اہم ہے کہ کیا واقعی ان مظاہروں کے پیچھے عرب ممالک کا ہاتھ ہے؟

شام میں بھی بہاریہ انقلاب نے زور پکڑا اور وہاں بشار اسد کا تختہ پلٹنے کے لئے انتھک کوششیں ہوئیں۔تقریبا ایک لاکھ انسانوں نے اپنی جانیں دیں ،حالات ایسے بن چکے تھے کہ بشار کو اقتدار چھوڑنا پڑتا، لیکن اب صورت حال بدل چکی ہے اور حالات بشار کے حق میں ہیں۔ اسی طرح تیونس میں انقلاب کے نتیجے میں جو حکومت قائم ہوئی تھی اسی کے خلاف مظاہروں کا سلسلہ شروع ہوچکا ہے ۔ظاہر ہے یہ تمام صورتیں اس بات کا اشارہ دے رہی ہیں کہ بہاریہ عرب کی الٹی گنتی شروع ہوچکی ہے۔
البتہ تیونس میں النھضہ کی قیادت نے وہ غلطی نہیں کی جو مصرمیں محمد مرسی کرچکے ہیں اور اس طرح تیونس ایک نئی بغاوت ، ایک نئے بحران سے بچ گیا۔محمد مرسی کے سامنے ان کی معزولی سے پہلے یہ تجویز رکھی گئی تھی کہ وہ دیگر پارٹیوں کے اشتراک سے حکومت بنائیں، تاکہ حکومت میں ہر ایک کی نمائندگی ہو ۔اگرچہ قانونی طور پر اس تجویز کو ماننے کے لئے انہیں مجبور نہیں کیا جاسکتا تھاکیونکہ ان کی پارٹی انتخاب جیت کر اقتدار میں اکثریت کے ساتھ آئی تھی مگر مصلحت اور حکمت انسان کو سمجھوتے پر مجبور کرتی ہے لیکن انہوں نے اس مصلحت کی اندیکھی کردی، جس کا انجام ہم سب کے سامنے ہے کہ کچھ دنوں بعد ہی وہ فوج کے ذریعہ حکومت سے معزول کردیے گئے۔
لیکن تیونس میں جب حکمراں پارٹی کے خلاف عوامی مظاہرہ شروع ہوا اور خطرہ اس بات کا پیدا ہونے لگا کہ حالات مزید خراب ہونے کی صورت میں زین العابدین کے آمرانہ دور کی واپسی ہوسکتی ہے تو فوری طور پر اپوزیشن اور تمام سیاسی پارٹیوں کے ساتھ مل کر ایک معاہدے پر اتفاق رائے کیا گیا ۔ اس مذاکرات پر حکمراں اور اپوزیشن کو راضی کرنے کے لئے لیبر یونین ’’تیونس جنرل لیبر یونین‘‘ نے ثالثی کا کام کیا ۔اس کی کوششوں سے یہ مذاکرات ممکن ہوسکے۔ معاہدے کی رو سے حکومت اور اپوزیشن اور دیگر سیاسی پارٹیوں کے بیچ تین ہفتے کے اندر چار نشستوں میں مذاکرات ہوںگے اور مذاکرات کے شروع ہونے کے بعد النھضہ اقتدار سے استعفیٰ دے گی اور آزاد امیدوارکو وزیر اعظم نامزد کرے گی۔وزیر اعظم دو ہفتوں کے اندر اپنی کابینہ تشکیل دیں گے اور اسی غیر سیاسی کابینہ کے زیر نگرانی آئندہ عام انتخابات ہوںگے۔ساتھ ہی النھضہ اپنے تئیں اسلام پسند نظریے میں تبدیلی لائے گی۔دراصل اپوزیشن اور آزاد خیال شہریوں کو النھضہ سے یہ شکایت رہی ہے کہ 2011 میں اقتدار میں آنے کے بعد یہ پارٹی ملک کو سخت اسلام پسند سمت میں لے جارہی ہے جس کی وجہ سے جمہوریت کمزور ہورہی ہے۔
بظاہر تیونس میں حکمراں سیاسی پارٹی النھضہ کے خلاف مظاہرے کا سلسلہ اپوزیشن کے دو لیڈروں کے قتل کے بعد شروع ہوا ۔اپوزیشن کی طرف سے النھضہ پر یہ الزام لگا کہ ان دونوں لیڈروں کے قتل میں اسی کا ہاتھ ہے جبکہ النھضہ اس سے انکار کرتی رہی ہے۔اس میں سچائی کیا ہے یہ تو وہاں کی جانچ ایجنسی ہی بتا سکتی ہے؟
مگراس ہنگامے کے پیچھے ایک پہلو یہ بھی ہے کہ جب سے تیونس کے صدر منصف المرزوقی نے اپنے ایک انٹرویو میں مصر کے اندر محمد مرسی کو معزول کیے جانے کو غلط کہا ہے اور ان کو بحال کیے جانے کا مطالبہ کیا،تب سے عرب کے کئی ملکوں کے حکمراں خفیہ طور پر ان کی حکومت کی مخالفت کررہے ہیں۔ ان کے اس بیان کے بعد متحدہ عرب امارات نے تو تیونس سے اپنے سفیر بھی واپس بلا لیا تھا۔ مصر نے بھی تیونس سے اپنے سفیر واپس بلالیا۔جہاں تک سعودی عرب کی بات ہے تو اسے بھی مصر میں فوجی حکومت کا حامی بتایا جاتا ہے۔بلکہ یہ تو وہ ممالک ہیں جو کھل کر محمد مرسی کے خلاف عبد الفتاح السیسی کی حمایت کرتے رہے ہیںاور فوجی حکومت قائم ہونے کے بعد انہوں نے مصر کی بھرپور مدد بھی کی تھی اور جن ملکوں نے السیسی حکومت کی مخالفت کی تھی ،ان ملکوں سے ان کے تعلقات میں کرواہٹ بھی آگئی تھی۔دراصل یہ وہ ممالک ہیں جو خطے میں شدت کے ساتھ جمہوری ملک کی مخالفت کرتے رہے ہیں۔ وہ نہیں چاہتے ہیں کہ شاہی حکومت کا خاتمہ ہو اور جمہوریت کے نام پر ان کا اقتدار عوامی مظاہروں کے نذر ہوجائے۔چونکہ تیونس میں النھضہ بھی جمہوری طریقے پر منتخب ہوکر آئی تھی لہٰذا عرب کے کئی ملک چاہتے تھے کہ مصر کی طرح تیونس میں بھی منتخب حکومت کا خاتمہ ہو اور ایسا سمجھا جارہا ہے کہ ان ملکوں نے ہی اپوزیشن لیڈر کے قتل کو ایشو بنا کرحالات کو مشتعل کرنے میں مدد کی ہو، لیکن النھضہ نے انتہائی ہوشیاری کے ساتھ معاملے کو ایشو نہیں بننے دیا اور اپوزیشن کے ساتھ مل کر ایک درمیانی راستہ نکال کر عوامی مظاہرے کو روک دیا۔
اس سے بڑا فائدہ یہ ہوا کہ ایک طرف ملک میں افراتفری کا ماحول ختم ہوگیا وہیں اس النھضہ کے تعلق سے عوام میں ایک اچھا پیغام بھی گیا ہے ،جس کا فائدہ اسے آنے والے عام انتخاب میں مل سکتا ہے اور یہی وجہ ہے کہ تیونس کی 3 سیاسی پارٹیاں جن کو اندازہ تھا کہ اس معاہدے کا فائدہ النھضہ کو مل سکتا ہے ، نے اس معاہدے پر دستخط نہیں کیے ہیں۔ان میں کانگریس پارٹی،ریفارم اینڈ ڈیولپمنٹ پارٹی اور اسٹریم آف لو پارٹی شامل ہیں ۔ ان کا کہنا ہے کہ اس طرح کا مذاکرہ آئینی رو سے غلط ہے۔ان کا کہنا ہے کہ النھضہ کو لمبے دنوں تک مذاکرات جاری رکھنے کے بجائے فوری طور پر حکومت سے دستبردار ہوجانا چاہئے۔البتہ چھوٹی بڑی 18 پارٹیوں نے اس معاہدے پر دستخط کیے ہیں۔لیکن سوال یہ ہے کہ آخر وہ کیا اسباب ہیں کہ وہاں کے نوجوانوں کوسڑک پر اترنے کی ضرورت پیش آئی اور یہ سوال بھی بہت اہم ہے کہ کیا واقعی ان مظاہروں کے پیچھے عرب ممالک کا ہاتھ ہے؟
جہاں تک ان کے سڑکوں پر اترنے کی بات ہے تو اس کے پیچھے وہی اسباب کارفرما ہیں جو بہاریہ عرب کے مظاہروں میں تھے۔فرق یہ ہے کہ تب ان اسباب کو جنم دینے والی ایک آمر حکومت تھی اور اب اسے ایک منتخب حکومت جنم دے رہی ہے۔ وہ اسباب تھے بے روزگاری، مہنگائی اور نوجوانوں کو سیاست سے دور رکھنے کی کوشش۔زین العابدین نے اپنے 23 سالہ اقتدار میں نوجوانوں کو سیاست سے الگ تھلگ رکھا۔ زین العابدین کو یہ خوف تھا کہ اگر نوجوان سیاست میں آگئے تو ان کے آمرانہ حکومت کا خاتمہ ہوجائے گا۔ تیونس میں آمریت اور سیاسی پسماندگی کے 23 برسوں نے ایسی صورت حال بنا دی کہ اکثر نوجوانوں کے پاس سیاسی شرکت کے لئے درکار تجربے، علم اور مہارت معدوم ہوگئی۔ اس وجہ سے نوجوان خود بخود اپنے آپ کو اس میدان میں پیچھے ہوگئے۔مگر بہاریہ عرب کے بعد جب منتخب حکومت قائم ہوئی تو ان نوجوانوں میں امید کی کرن پیدا ہوئی اور انہیں اپنی منتخب حکومت میں مستقبل نظر آنے لگا،مگر اس نئی حکومت نے بھی وہی غلطی کی جو زین العابدین نے کیا تھا۔ النھضہ نے معاشی ترقی کا کوئی ٹھوس منصوبہ پیش نہیں کیا،بے روزگاری دور کرنے کے لئے کوئی اسکیم نہیں بنائی اوران نوجوانوں کو حکومت میں نمائندگی نہیں دی گئی۔اس کا انجام یہ ہوا کہ جو غصہ زین ا لعابدین کے خلاف بھڑکا تھا وہی ایک مرتبہ پھر النھضہ کے خلاف سامنے آیا اور وہ سڑکوں پر اتر آئے۔
جہاں تک ان مظاہروں کے پیچھے بیرونی عرب ملکوں کے ہاتھ ہونے کی بات ہے تو اس کو بھی خارج نہیں کیا جاسکتا ہے۔کیونکہ النھضہ کے خلاف نوجوانوں میں غصہ تو تھا مگر ان کے غصے میں وہ اشتعال نہیں تھا جو بہاریہ عرب کے موقع پر دیکھا جارہا تھا۔ وہ حکومت سے اپنے مطالبات پورے تو کروانا چاہتے تھے مگر حکومت کا خاتمہ نہیں چاہتے تھے،یہی وجہ تھی کہ ان کے ابتدائی مظاہرے پُر امن اور محض مطالبات پر مبنی تھے لیکن بعد کے دنوں میں اس مظاہرے میں شدت پیدا کردی گئی اور انجام یہاں تک پہنچا کہ النھضہ کو اقتدار سے دست بردار ہو ہونے کا فیصلہ کرنا پڑا۔
مگر النھضہ کے اقتدار سے الگ ہوجانے کا یہ مطلب نہیں ہے کہ عوام میں اس کی شبیہ خراب ہوئی ہے۔بلکہ ماہرین اس بات کا اشا رہ دے رہے ہیں کہ آنے والے انتخاب میں النھضہ دوبارہ اقتدار میں آسکتی ہے ۔اس بات کا احساس اپوزیشن کو بھی ہے اور اسی احساس کی وجہ سے اپوزیشن نے معاہدے میں جو باتیں رکھی ہیں ،اس میں یہ حصہ خاص طور پر شامل کیا گیا ہے کہ النھضہ اپنے سخت اسلامی نظریے میں ترمیم کرے اور نرم رویہ اختیار کرے،جس کے لئے النھضہ تیار ہے۔
اگر ماہرین کا اندازہ درست ہے اور آنے والے الیکشن میں النھضہ ایک مرتبہ پھر اقتدار پر قابض ہونے والی ہے تو اسے عوامی اعتماد حاصل کرنے کے لئے نوجوانوں کو نمائندگی دینے کے ساتھ ساتھ اقتصادی ترقی کے لئے بھی منصوبہ بنانا چاہئے۔

Share Article

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *