امت شاہ دوبارہ جیل جا سکتے ہیں

روبی ارون 
p-5سی بی آئی اس بات پر سنجیدگی سے غور کر رہی ہے کہ سہراب الدین، کوثر بی اور تلسی پرجاپتی کی اموات کے ملزم امت شاہ کی ضمانت خارج کرنے کی عرضی سپریم کورٹ میں لگا دی جائے۔ اس کا نتیجہ یہ ہوگا کہ امت شاہ ایک بار پھر سلاخوں کے پیچھے چلے جائیں گے۔ امت شاہ نریندر مودی کی طرف سے اتر پردیش میں پوری طرح کمان سنبھالے ہوئے ہیں۔ ان کے جیل جانے کی صورت میں اتر پردیش نریندر مودی کے ہاتھ سے پھسلتا ہوا نظر آئے گا، کیوں کہ پھر مودی کے پاس امت شاہ جیسا کوئی دوسرا بھروسے مند شخص نہیں رہے گا، جو وہاں نریندر مودی کی جیت کی مہم کو چلا سکے۔ کانگریس اب سیدھے سیدھے نریندر مودی پر وار نہ کرکے ان کے بھروسے کے لوگوں پر حملہ کرنے کا منصوبہ بنا رہی ہے، تاکہ مودی کمزور ہو جائیں اور ان کا ہندوستان پر حکومت کرنے کا خواب پورا نہ ہو سکے۔
دراصل، امت شاہ اپنے ہی بنائے قانونی بھنور میں پھنس گئے ہیں۔ امت شاہ کی گرفتاری سہراب الدین اور کوثر بی کے معاملے میں ہوئی تھی۔ تلسی پرجاپتی کا کیس اس کے بعد سامنے آیا، لیکن تب تک امت شاہ کو کورٹ سے ضمانت مل چکی تھی۔ جب امت شاہ کو اس بات کا احساس ہوا کہ تلسی پرجاپتی کے معاملے میں انہیں ایک بار پھر جیل جانا پڑ سکتا ہے، تب انہوں نے آناً فاناً سپریم کورٹ میں اپنی عرضی یہ کہتے ہوئے داخل کر دی کہ جب یہ تینوں مقدمات آپس میں جڑے ہوئے ہیں، تو اس میں الگ سے ایف آئی آر درج کرنے کی کوئی ضرورت ہی نہیں ہے۔ سپریم کورٹ نے امت شاہ کی بات مان لی۔ لیکن اس میں ایک زبردست قانونی پیچ آ گی۔ ان تینوں مقدمات کے کلب ہوتے ہی اس میں زیادہ سے زیادہ سزا کے طور پر پھانسی کی سزا کا پروویژن شامل ہوگیا۔ سی بی آئی جب امت شاہ کی ضمانت کو خارج کرنے کی عرضی سپریم کورٹ میں داخل کرے گی، تو وہ کورٹ میں اسی قانونی پروویژن کا حوالہ دے گی۔ ایسے میں اس بات کی گنجائش بہت زیادہ ہے کہ سپریم کورٹ امت شاہ کی ضمانت ردّ کر دے۔ اور اگر ایسا ہوا، تو عین انتخابات سے قبل مودی کے لیے یقینا بہت بڑی مصیبت کھڑی ہو سکتی ہے۔
ویسے بھی سی بی آئی نے تلسی پرجاپتی فرضی انکاؤنٹر معاملے کو ایک ’پرفیکٹ مرڈر‘ قرار دیا ہوا ہے۔ دانتا کورٹ میں سی بی آئی نے اپنی جو چارج شیٹ پیش کی تھی، اس میں یہ خلاصہ کیا تھا کہ گجرات کے اس وقت کے وزیر داخلہ امت شاہ نے اپنی طاقت کا بیجا استعمال کرتے ہوئے ریاستی پولس کے افسروں پر یہ دباؤ ڈالا کہ تلسی پرجاپتی کا قتل کر دیا جائے۔

سی بی آئی نے جو چارج شیٹ پیش کی ہے، اس میں گجرات پولس کے کچھ افسروں کے بیان بھی درج ہیں۔ ان بیانوں میں صاف طور پر یہ کہا گیا ہے کہ سہراب الدین کو مارنے کے بعد کوثر بی کو لے کر اے ٹی ایس کے ڈی آئی جی ڈی جی ونجارا مطمئن تھے، لیکن اچانک ان کے پاس ایک فون آیا، جو امت شاہ کا تھا۔ وزیر داخلہ امت شاہ نے ڈی جی ونجارا کو سخت ہدایت دیتے ہوئے کہا کہ کوثر بی کا زندہ رہنا خطرناک ہے، اس لیے اسے مار دیا جائے۔ تب 28 نومبر کی آدھی رات کو کوثر بی کو زہر کا انجکشن دے کر مار دیا گیا۔ سی بی آئی کے پاس اس دوا دکاندار کا بھی بیان ہے، جہاں سے زہر کا انجکشن خریدا گیا۔ کوثر کو مار کر اس کی لاش کو ٹھکانے لگانے کی ذمہ داری ڈپٹی ایس پی این کے امین کو دی گئی تھی۔ سی بی آئی کی دستاویزوں کے مطابق، جب کوثر بی مر گئی، تب اس کی لاش ارہام فارم ہاؤس سے اٹھا کر ایلور گاؤں لے جائی گئی۔ وہاں ڈی جی ونجارا پہلے سے ہی موجود تھے۔

یہاں آپ کے لیے یہ جاننا ضروری ہوگا کہ تلسی پرجاپتی کون تھا اور اسے فرضی انکاؤنٹر میں کیوں مار دیا گیا؟ تلسی پرجاپتی سہراب الدین کا دایاں ہاتھ تھا۔ سہراب الدین پر یہ الزام تھا کہ وہ گجرات کے وزیر اعلیٰ نریندر مودی کا قتل کرنے کی نیت سے گجرات آیا تھا۔
سہراب الدین ڈی کمپنی کا ممبر تھا۔ ٹاڈا میں مجرم اور راجستھان کی ماربل لابی سے رنگ داری وصول کرنے کا ملزم۔ راجستھان میں ایک گینگسٹر ہوا کرتا تھا حامد لالہ، جس کا قتل تلسی پرجاپتی اور سہراب الدین نے مل کر کیا تھا۔ تلسی اور سہراب الدین جہاں ایک طرف راجستھان کے ماربل تاجروں سے پھروتی وصول کرنے کا کام کیا کرتے تھے، وہیں حامد لالہ تاجروں کو سیکورٹی فراہم کرنے کا کام کیا کرتا تھا۔ تلسی پر احمد آباد کے ایک پراپرٹی ڈیلر کے قتل کا بھی الزام تھا۔ تلسی پرجاپتی کو پہلے ہی یہ شک تھا کہ گجرات پولس اسے فرضی انکاؤنٹر میں مار سکتی ہے۔ اس لیے جب پولس نے اسے راجستھان سے گرفتار کیا تھا، تو اس نے تبھی حقوقِ انسانی کمیشن اور عدالت کو یہ عرضی دی تھی کہ پولس اس کا قتل کر سکتی ہے۔ جب گجرات پولس نے سہراب الدین کو فرضی انکاؤنٹر میں مارا اور اس کے بعد سہراب الدین کی بیوی کوثر بی کا قتل کر دیا، تب تلسی پرجاپتی ان سبھی واقعات کے درمیان موقع واردات پر پولس کے ساتھ حاضر تھا۔ تلسی پولس کی کارگزاریوں کا واحد گواہ تھا۔ سہراب الدین اور تلسی کی ملاقات جیل میں ہوئی تھی اور اس کے بعد سے ہی دونوں مل کر ایک ساتھ جرم کو انجام دیتے تھے۔ تلسی سہراب الدین کے پھروتی نیٹ ورک کو بھی سنبھالتا تھا۔
بہرحال، سی بی آئی کے مطابق سہراب اور کوثر بی کو جب سانگلی سے گجرات پولس نے اغوا کیا، اس وقت تیسرا شخص تلسی ہی تھا، جو پوری واردات کے درمیان موجود تھا۔ مطلب، تلسی واحد چشم دید گواہ تھا، اس لیے اس کا زندہ رہنا کئی لوگوں کے لیے مشکلیں پیدا کر دیتا۔ یہی وجہ تھی کہ تلسی کو بھی مار دیا گیا۔
سی بی آئی کی چارج شیٹ کے مطابق نریندر مودی کے چہیتے اور گجرات پولس کے افسر ڈی جی ونجارا کے کہنے پر ہی تلسی سہراب اور کوثر کو اپنے ساتھ لے کر آ رہا تھا اور اسی درمیان سازشاً گجرات پولس نے تینوں کو راستے سے ہی اٹھا لیا۔ سی بی آئی کی چارج شیٹ کے صفحہ نمبر 6 پر امت شاہ اور پولس افسروں کے درمیان 26 نومبر، 2005 سے لے کر 30 نومبر، 2005 تک کی کال ڈٹیلس کو رکھا ہے، جس کے مطابق آئی پی ایس راج کمار، ڈی جی ونجارا اور گجرات کے سابق وزیر داخلہ امت شاہ کے درمیان لمبی بات چیت کا بیورا ہے۔ یہ وہی وقت تھا، جب تلسی کو اُدے پور سے احمد آباد کورٹ میں پیشی کے لیے بار بار لے آیا جا رہا تھا۔ چارج شیٹ کے صفحہ نمبر 18 پر درج ہے کہ 11 اور 22 دسمبر، 2006 کو امت شاہ نے اپنے دفتر میں ایک خاص میٹنگ بلائی تھی۔ اس پوشیدہ میٹنگ میں ڈی جی پی پانڈے، ایڈیشنل ڈی جی پی جی سی رائیگر، آئی جی گیتا جوہری شامل تھیں۔ اس دوران امت شاہ نے پولس افسر سولنکی کی جانچ رپورٹ پر ناراضگی جتائی اور گیتا جوہری کو جانچ کے تمام پیپر برباد کرنے کے حکم دیے۔ ایڈیشنل ڈی جی پی سی رائیگر نے امت شاہ کی اس سازش میں شامل ہونے سے منع کر دیا، تب امت شاہ نے ناراض ہو کر ان کا ٹرانسفر کر دیا۔ سی بی آئی نے اپنی چارج شیٹ کے صفحہ نمبر 10 اور 11 میں دعویٰ کیا کہ تلسی کو مارنے کی تیاری لمبے وقت سے چل رہی تھی۔
جیل میں بند نریندر مودی کے بے حد خاص رہ چکے گجرات کے پولس افسر ڈی جی ونجارا کے جس لیٹر پر مودی کے خلاف سیاسی ہنگامہ برپا ہوا تھا، اس لیٹر میں بھی ونجارا نے ان سبھی باتوں کا واضح طور پر ذکر کیا ہے۔ ونجارا نے لکھا ہے کہ ’’ہم سرکار کے وفادار سپاہی رہے اور اسی کے بتائے کام کرنے پر گرفتار ہونے کے بعد کسی نے ہماری خبر نہیں لی۔‘‘ چھ سال سے جیل میں بند ونجارانے مزید لکھا ہے کہ ’’وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ مجھے احساس ہوا کہ اس سرکار کی ہمیں بچانے میں کوئی دلچسپی نہیں ہے، بلکہ یہ تو پوشیدہ طریقے سے ہمیں اندر رکھنے کی کوششیں کر رہی ہے، تاکہ سی بی آئی سے اپنی چمڑی بچا سکے اور سیاسی فائدے اٹھا سکے۔‘‘
اگر ہم سی بی آئی کے ذریعے داخل کی گئی چارج شیٹ پر بھی نظر ڈالیں، تو اس کے مطابق 22 نومبر، 2005 کو کوثر بی، اس کے شوہر سہراب الدین اور سہراب الدین کے دوست تلسی آندھرا پردیش کی ایس آر ٹی سی کی بس میں بیٹھے تھے۔ جب ان کی بس سانگلی کے پاس پہنچی، تب اچانک ان کی بس کے آگے پولس کی ایک گاڑی آ گئی۔ سہراب الدین، کوثر بی اور تلسی کچھ سمجھ پاتے، اس سے پہلے ہی بس کے اندر گجرات اے ٹی ایس اور راجستھان پولس کی ٹیم داخل ہو چکی تھی۔ پولس نے آناً فاناً میں کوثر، اس کے شوہر سہراب الدین اور تلسی پرجاپتی کو اپنے شکنجے میں لے لیا اور جبراً انہیں ایک ٹویوٹا کوالس کار میں بیٹھا لیا۔ انہیں گاندھی نگر کے باہری علاقے جمعیت پورہ کے ایک فارم ہاؤس کی طرف لے جایا گیا۔ 26 نومبر، 2005 کو پولس والے سہراب الدین کو، اس کی بیوی کوثر بی سے الگ کرکے لے گئے اور اسی دن سہراب الدین کے قبل کی خبر کوثر بی کے پاس پہنچ گئی۔
سی بی آئی نے جو چارج شیٹ پیش کی ہے، اس میں گجرات پولس کے کچھ افسروں کے بیان بھی درج ہیں۔ ان بیانوں میں صاف طور پر یہ کہا گیا ہے کہ سہراب الدین کو مارنے کے بعد کوثر بی کو لے کر اے ٹی ایس کے ڈی آئی جی ڈی جی ونجارا مطمئن تھے، لیکن اچانک ان کے پاس ایک فون آیا، جو امت شاہ کا تھا۔ وزیر داخلہ امت شاہ نے ڈی جی ونجارا کو سخت ہدایت دیتے ہوئے کہا کہ کوثر بی کا زندہ رہنا خطرناک ہے، اس لیے اسے مار دیا جائے۔ تب 28 نومبر کی آدھی رات کو کوثر بی کو زہر کا انجکشن دے کر مار دیا گیا۔ سی بی آئی کے پاس اس دوا دکاندار کا بھی بیان ہے، جہاں سے زہر کا انجکشن خریدا گیا۔ کوثر کو مار کر اس کی لاش کو ٹھکانے لگانے کی ذمہ داری ڈپٹی ایس پی این کے امین کو دی گئی تھی۔ سی بی آئی کی دستاویزوں کے مطابق، جب کوثر بی مر گئی، تب اس کی لاش ارہام فارم ہاؤس سے اٹھا کر ایلور گاؤں لے جائی گئی۔ وہاں ڈی جی ونجارا پہلے سے ہی موجود تھے۔ ایک ٹاٹا 407 بھی تھا، جس میں چار سو کلو لکڑی لدی تھی، جو موٹیرا روڈ کے بھگوتی فارم ہاؤس سے منگائی گئی تھی۔ یہیں پر، اسی گاؤں میں کوثر بی کی لاش جلا دی گئی۔ اس کی ہڈیوں کو نرمدا میں بہا دیا گیا، جب کہ راکھ کو ایلور گاؤں کے کھیتوں میں بکھیر دیا گیا۔
حالانکہ سی بی آئی نے ستمبر 2012 میں بھی امت شاہ کی ضمانت ردّ کرنے کی عرضی لگائی تھی، لیکن کورٹ نے ضمانت کو برقرار رکھا۔ اس بار سی بی آئی ایک بار پھر تمام ثبوتوں اور گواہوں کو سمیٹ کر سپریم کورٹ جانے کی تیاری میں ہے۔ سی بی آئی کو لگتا ہے کہ امت شاہ کے خلاف تین کیسوں کے کلب ہو جانے اور سزا کی پروویژن بدل جانے کی وجہ سے کورٹ ان کی دلیل مانے گا اور امت شاہ کی ضمانت خارج کر دے گا۔
ظاہر ہے، اگر ایسا ہوتا ہے، تو نریندر مودی کے لیے اتر پردیش اور مرکز کی راہ کافی مشکل ہو سکتی ہے۔

روبی ارون

روبی ارون سیاسی ، جرائم اور سماجی سروکاروں کی خبروں کو اپنی قلم کے ذریعہ گزشتہ 18سال سے اٹھاتی آ رہی ہیں۔ عام عوام کے مفاد اور صحافت کے لئے ہمیشہ جدو جہد کرنے والی روبی ارون ”چوتھی دنیا“ میں ایڈیٹر( انویسٹی گیشن)کا عہدہ سنبھال رہی ہیں۔
Share Article

روبی ارون

روبی ارون سیاسی ، جرائم اور سماجی سروکاروں کی خبروں کو اپنی قلم کے ذریعہ گزشتہ 18سال سے اٹھاتی آ رہی ہیں۔ عام عوام کے مفاد اور صحافت کے لئے ہمیشہ جدو جہد کرنے والی روبی ارون ”چوتھی دنیا“ میں ایڈیٹر( انویسٹی گیشن)کا عہدہ سنبھال رہی ہیں۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *