عام آدمی پارٹی کو انا ہزارے کی حمایت حاصل نہیں ہے

ڈاکٹر منیش  کمار 

آندھرا پردیش میں2009میں اسمبلی کے انتخابات ہوئے۔ یہاں دو پارٹیوں کانگریس اور تیلگو دیشم پارٹی یعنی ٹی ڈی پی کے درمیان لڑائی ہوتی آئی ہے۔ اس ریاست میں 2008میں ایک ’پرجاراجیم‘ پارٹی بنی۔ اس کے رہنما فلم اسٹار چرنجیوی تھے۔ ان کی پہلی ہی ریلی میں 10لاکھ لوگ آگئے۔ ایک سال تک یہ پارٹی آندھرا پردیش میں دھواں دھار ریلیاں کرتی رہی۔ یہ ریلیاں کافی بڑی ہوتی تھیں، اس سے سیاسی جماعتوں کے ہاتھ پاؤں پھولنے لگے۔ ایسا لگنے لگا تھا کہ سچ مچ ’پرجا راجیم‘ کی سرکار بننے والی ہے۔ پارٹی نے سبھی سیٹوں پر امیدوار کھڑے کیے۔ تیلگو دیشم پارٹی اور کانگریس پارٹی کو بدعنوان بتا کر چرنجیوی نے سرکار بنانے کا دعویٰ کیا۔ جب نتیجے آئے تو اس پارٹی کو294میں سے محض 18سیٹیں ملیں اور کانگریس پھر سے انتخاب جیت گئی۔ کچھ دنوں بعد چرنجیوی کی پارٹی ’پرجاراجیم‘ کا کانگریس میں انضمام ہوگیا۔ آج چرنجیوی مرکزی حکومت میں وزیر ہیں۔ سوال یہ ہے کہ کیا ’عام آدمی پارٹی‘ کہیں دہلی کی ’پرجاراجیم‘ پارٹی تونہیں ہے؟

Mastدہلی کے اسمبلی انتخابات میں عام آدمی پارٹی کی سب سے بڑی پریشانی انّا ہزارے بنے ہوئے ہیں۔ یہ پارٹی انّا ہزارے کی تحریک سے الگ ہو کر بنی ہے۔ اس پارٹی کی بنیاد انّا ہزارے کی معتبریت،مقبولیت، ان کے اصول اورقربانی ہے۔ لیکن انّا ہزارے کا صاف صاف حکم یہ ہے کہ عام آدمی پارٹی ان کے نام، ان کی تصویر، ان کی ٹوپی اور ان کی کسی بھی چیز کو استعمال نہیں کر سکتی ہے۔ انّا کے بغیر پارٹی کی معتبریت پر سوال اٹھتا ہے اور انّا کا نام لینے سے انّا ناراض ہو جاتے ہیںجب کہ حقیقت یہ ہے کہ عام آدمی پارٹی کے امیدوار انّا کا نام دھڑلے سے استعمال کر رہے ہیں۔ آج بھی سوشل میڈیا کے کئی ایسے اکاؤنٹ ہیں، جن میں عام آدمی پارٹی کو انّا کی پارٹی بتایا جاتا ہے۔ دہلی میں کئی مقامات پر ایسے پرچے تقسیم کیے جا رہے ہیں جن میں یہ بتایا جارہا ہے کہ عام آدمی پارٹی انّا جی کی پارٹی ہے۔ ویسے اس مدعے پر عام آدمی پارٹی کے رہنما صاف صاف جواب بھی نہیں دیتے۔ انّا کیوں الگ ہوئے یا عام آدمی پارٹی کے ساتھ انّا کیوں نہیں ہیں؟ ایسے سوالوں کے جواب میں اروند کجریوال یہی کہتے ہیں کہ انّا اور عام آدمی پارٹی کا مقصد ایک ہے، لیکن راستے الگ الگ ہیں۔ یہ بیان غلط کیوں ہے؟ یہ آگے بتائیں گے، لیکن انّا ہزارے کو اپنے ساتھ بتانے پر الیکشن کمیشن نے اعتراض جتا دیا ہے، اس کے ساتھ ہی ایک نوٹس بھیج کر کمیشن نے عام آدمی پارٹی سے اس کا ثبوت مانگا ہے کہ انّاہزارے ان کے ساتھ ہیں۔ کمیشن کا کہنا ہے کہ یہ ثابت کرنے کے لیے پارٹی کو انّا ہزارے کاقبولیت نامہ جمع کرنا ہوگا۔ اس مدعے کو لے کر پرشانت بھوشن نے دہلی کے چیف الیکشن آفیسر (سی ای او) سے ملاقات بھی کی، لیکن انّا ہزارے کاقبولیت نامہ نہیں دے سکے۔ در اصل عام آدمی پارٹی پرچار کے دوران ایک مختصر فلم دکھا رہی ہے۔

دہلی کے انتخابات کے بعد پارلیمانی انتخابات میں بھی عام آدمی پارٹی حصہ لے گی، اس سے انکار نہیں کیا جاسکتا ہے۔ عام آدمی پارٹی دہلی میں انتخاب لڑ رہی ہے، اس نے ملک بھر میں تنظیم بھی تیار کی ہے۔ غیر ممالک سے پیسہ آرہا ہے۔ این آر آئی چندہ دے رہے ہیں۔ اس لیے وسائل کی بھی کمی نہیں ہے۔ لیکن الیکشن دہلی کا ہو یا ملک کا، اگر کوئی سیاسی پارٹی انتخاب میں حصہ لے رہی ہے، تو یہ بھی پوچھنا لازمی ہے کہ پارٹی کی آئیڈیالوجی کیا ہے؟ ہندوستان ایک غیر معمولی ملک ہے۔ اس لیے سیاسی جماعتوںکے لیے آئیڈیا لوجی ضروری ہے۔ اس کے بغیر ہندوستان میں سیاست نہیں کی جا سکتی۔ آئیڈیا لوجی سے ہی پتہ چلتا ہے کہ کوئی لیڈر یا اس کی پارٹی ملک کے اہم مدعوں پر کہاں کھڑی ہے۔اگر کوئی سیاسی جماعت ملک کے سلگتے مدعوں پر جواب نہ دے، متنازع سوالوں پر اس کی کوئی رائے نہ ہو ، عوام کی زندگی سے متعلق مسائل پر کوئی رائے نہ ہو۔ مستقبل کا کوئی منصوبہ نہ ہو۔ اقتصادی و سماجی مدعوں کو پیٹھ دکھائے۔ قومی مدعوں پر جواب نہ دے تو ایسا مان لینا چاہیے کہ کچھ نہ کچھ گڑبڑ ہے۔

اس میں جن لوک پال سے متعلق تحریک کی تصاویر بھی شامل ہیں۔ اس میں انّا ہزارے، اروند کجریوال کے ساتھ نظر آرہے ہیں۔ انتخابی ضابطہ اخلاق نافذ ہونے کے بعد پارٹی کو فلم دکھانے کے لیے الیکشن کمیشن کی میڈیا سرٹیفیکیشن اینڈ مانیٹرنگ کمیٹی (ایم سی ایم سی) سے منظوری لینی ہوتی ہے۔ اس لیے عام آدمی پارٹی نے بھی اپنی منظوری کے لیے ڈسٹرکٹ ا لیکشن آفس میں عرضی دی تھی۔ جب الیکشن کمیشن کی کمیٹی نے اس مختصر فلم کو دیکھا تو اس کا ماتھا ٹھنکا کہ جب انّا ساتھ نہیں ہیںتو اس فلم میں انّا کی تصویریں کیوں ہیں؟ خرچنگراں کمیٹی کے انکور گرگ کے مطابق، انھیں کسی کا نام استعمال کرنے پر اعتراض نہیں ہے، مگر اس کے بارے میں غلط یا گمراہ کن اطلاع دینے پر اعتراض ہے۔ انتخابی افسروں نے فوراً عام آدمی پارٹی کو طلب کیا اور اس نکتہ پر اعتراض کرتے ہوئے جواب مانگا۔ کمیشن کے ایک سینئر افسر کے مطابق، یہ نوٹس الیکشن کمیشن کی ہدایت کے مطابق مانگا گیا تھا۔ جواب دینے کے بعد اگروہ مناسب پایا جاتا ہے، تو فلم دکھانے کی اجازت مل جائے گی۔ عام آدمی پارٹی کے لیے مسئلہ یہ ہے کہ انّا کاقبولیت نامہ کہاں سے لایا جائے، وہ تو ساتھ ہیں ہی نہیں۔
اس کا جواب دینے عام آدمی پارٹی کے رہنما و ملک کے نامور وکیل پرشانت بھوشن نے الیکشن آفیسروں سے ملاقات کی۔ انّا کا قبولیت نامہ نہ دے پانے کی حالت میں انھوں نے الیکشن کمیشن کے اس فیصلہ پر ہی حملہ کر دیا۔ پرشانت بھوشن نے کہا کہ انتخابی ضابطہ اخلاق کی کچھ ہدایتیں بنیادی حقوق کی خلاف ورزی کرتی ہیں۔ انھوں نے کہا کہ انّا کے اعتراض جتائے بغیر کمیشن کوکیا اعتراض ہو سکتا ہے؟ یہ بھی عجیب دلیل ہے۔ اب تک اسی ضابطہ اخلاق کے تحت انتخابات ہوتے آئے ہیںاور اب تک کسی کے بنیادی حقوق کی خلاف ورزی نہیں ہوئی، لیکن آپ کو ایک ذراسا نوٹس گیا اور آپ بنیادی حقوق کی خلاف ورزی کی دہائی دینے لگے۔ شاید پرشانت بھوشن یہ بھول گئے کہ انّا اپنے نام یا تصویر کا استعمال کرنے پر اپنا اعتراض کئی بار سرعام کرچکے ہیں۔ دوسری بات یہ کہ پرشانت بھوشن و عام آدمی پارٹی کے لیڈروں کو انّا ہزارے کی تحریک اور ان کی سرگرمیوں کے بارے میں اب کوئی علم نہیں رہتا ہے۔ اروند کجریوال انتخابی سیاست میں اتنے مصروف ہیں کہ انھیں شاید اس بات کو جاننے کی بھی فرصت نہیں ہے کہ انّا اپنی ملک گیر جن یاترا او راپنے جلسوں میں آج کل کیا کہہ رہے ہیں۔ اس لیے وہ سمجھ نہیں پائے کہ الیکشن کمیشن نے آخر یہ نوٹس کیوں دیا ہے۔
دراصل، انّا پورے ملک میں گھوم کر سیاسی جماعتوں کی آئینیت پر سوال اٹھا رہے ہیں۔ ان کا ماننا ہے کہ آئین ہند میں جب سیاسی جماعت کا لفظ نہیں ہے، تو اس ملک کے سیاسی اقتدار پر سیاسی جماعتوں کا قبضہ کیسے ہو گیا؟ انّا کہتے ہیں کہ سیاسی جماعتوں نے ملک کی سیاست کو پیسے سے اقتدار اوراقتدار سے پیسہ بنانے کا ذریعہ بنا لیا ہے۔ انھوں نے عام آدمی پارٹی کو کوئی رعایت نہیں دی ہے۔ اس کے ساتھ ہی، جب سپریم کورٹ نے ’رائٹ ٹو رجیکٹ‘ پر فیصلہ سنایا اور الیکشن کمیشن نے ناپسندی کا بٹن ای وی ایم میں ڈالنے کو کہا توانّا نے یہ فیصلہ کیا کہ وہ ریاستوں میں ہو رہے اسمبلی انتخابات کے دوران لوگوں کو بیدار کرنے اور ناپسندی پرووٹ ڈالنے کی اپیل کریں گے۔ اس کے لیے انھوں نے الیکشن کمیشن کو ایک خط بھی لکھا۔ اس خط میں انھوں نے لکھا کہ ان کی یہ مہم سبھی سیاسی جماعتوں کے خلاف ہو گی۔ الیکشن کمیشن نے خط ملنے پر انّا کو 25اکتوبر کو ملنے کا وقت بھی دیا۔ اس بیچ عام آدمی پارٹی کی مختصر فلم میں انّا کی تصویر دکھائی دی تو کمیشن نے اعتراض جتادیا۔
سمجھنا یہ ہے کہ انّا کی تحریک اب صرف جن لوک پال کے لیے نہیں ہے۔ انّا اب صرف بدعنوانی کے خلاف تحریک نہیںچلا رہے ہیں۔ انّا نظام میں تبدیلی چاہتے ہیں۔ ان کا ماننا ہے کہ ملک کی پارلیمنٹ اور سرکار نے اپنے فرض اور آئینیقدروں کو طاق پر رکھ دیا ہے۔ انّا کی تحریک ’جن تنتر مورچہ‘ کے پچیس نکات او راس کی پالیسی کے مسودے پر منحصر ہے۔ انّا اب کسی بدعنوانی مخالف تحریک کی قیادت نہیں کر رہے ہیں۔ انّاملک میں ایک سیاسی و نظریاتی انقلاب کی قیادت کر رہے ہیں اور انھیں ہر جگہ سیبھر پور حمایت مل رہی ہے جبکہ عام آدمی پارٹی کا ہدف فی الحال دہلی کے اقتدار پر قبضہ کرنا ہے۔ حالانکہ سوشل میڈیا پر عام آدمی پارٹی نے اروند کجریوال کو ملک کے وزیر اعظم کے طور پر پیش کرنے کی شروعات کر دی ہے۔ ویسے انّا ہزارے اور اروند کجریوال میں مقابلہ کرنا بے معنی ہے، لیکن دونوں کے ہدف میں فرق صاف نظر آرہا ہے۔ انّا کی تحریک ایک ملک گیر تبدیلی اور نظریاتی تحریک ہے۔ انّا نیو لبرل ازم کے سب سے طاقتور مخالف کے طور پر ابھرے ہیں۔ وہ ہندوستان میں عوامی مفاد والی ریاست کی بحالی کے لیے تحریک چلا رہے ہیں۔ انّا کی تحریک جدوجہد، ایثار وقربانی کی راہ پر چل رہی ہے، جس میں اقتدار کی خواہش اورخود پرستی کو کوئی مقام حاصل نہیں ہے۔
دہلی کے انتخابات کے بعد پارلیمانی انتخابات میں بھی عام آدمی پارٹی حصہ لے گی، اس سے انکار نہیں کیا جاسکتا ہے۔ عام آدمی پارٹی دہلی میں انتخاب لڑ رہی ہے، اس نے ملک بھر میں تنظیم بھی تیار کی ہے۔ غیر ممالک سے پیسہ آرہا ہے۔ این آر آئی چندہ دے رہے ہیں۔ اس لیے وسائل کی بھی کمی نہیں ہے۔ لیکن الیکشن دہلی کا ہو یا ملک کا، اگر کوئی سیاسی پارٹی انتخاب میں حصہ لے رہی ہے، تو یہ بھی پوچھنا لازمی ہے کہ پارٹی کی آئیڈیالوجی کیا ہے؟ ہندوستان ایک غیر معمولی ملک ہے۔ اس لیے سیاسی جماعتوںکے لیے آئیڈیا لوجی ضروری ہے۔ اس کے بغیر ہندوستان میں سیاست نہیں کی جا سکتی۔ آئیڈیا لوجی سے ہی پتہ چلتا ہے کہ کوئی لیڈر یا اس کی پارٹی ملک کے اہم مدعوں پر کہاں کھڑی ہے۔اگر کوئی سیاسی جماعت ملک کے سلگتے مدعوں پر جواب نہ دے، متنازع سوالوں پر اس کی کوئی رائے نہ ہو ، عوام کی زندگی سے متعلق مسائل پر کوئی رائے نہ ہو۔ مستقبل کا کوئی منصوبہ نہ ہو۔ اقتصادی و سماجی مدعوں کو پیٹھ دکھائے۔ قومی مدعوں پر جواب نہ دے تو ایسا مان لینا چاہیے کہ کچھ نہ کچھ گڑبڑ ہے۔
حال میں ہی اروند کجریوال ایک ٹی وی انٹر ویو سے اچانک بھاگ کھڑے ہوئے۔ سوال صرف یہ تھا کہ پاکستانی دہشت گردوں پر آپ کی کیا رائے ہے؟ کجریوال کا جواب تھا کہ یہ سوال ملک کے ہوم منسٹر سے پوچھئے۔ اینکر نے پھر پوچھا کہ دہلی دہشت گردوں کے نشانے پر رہی ہے، تو ان کا جواب آیا کہ اس کا جواب بعد میں دیں گے۔ وہ کرسی سے اٹھ کر چلنے لگے، لیکن اٹھتے اٹھتے اینکر نے یہ بھی پوچھا کہ ہوم منسٹر کا وہ خط، جس میں مسلمانوں کو بے قصور گرفتار کرنے پر روک لگانے کو کہا گیا ہے، اس پر ان کی کیا رائے ہے؟ تو کجریوال کا جواب تھا کہ ان سوالوں کا جواب وہ دسمبر کے بعد دیں گے۔ یہ ایک مسئلہ ہے۔ دہلی میں بھی کئی مسلم نو جوانوں کوپولیس پکڑ کر لے گئی۔ سیلم پور علاقے میں ایسے معاملوں سے لوگ پریشان ہیں۔ اگر دہلی کا مستقبل کا ہونے والا وزیر اعلیٰ ان سوالوں کا جواب نہ دے، تو اس کا کیا مطلب ہے؟ ایسے جواب کا مطلب تو یہی نکلتا ہے کہ چند ووٹوں کے لیے آپ اپنا اسٹینڈ بدلتے رہیں گے۔
ایک اور مدعا جس پر عام آدمی پارٹی کی رائے اب تک واضح نہیں ہے، جب کہ یہ بالکل صاف ہونا چاہئے۔ یہ مدعا کشمیر کا ہے۔ عام آدمی پارٹی کے لیڈر پرشانت بھوشن نے ایک متنازع بیان دیاکہ کشمیر میں ریفرنڈم ہونا چاہئے اور اگر کشمیر کے لوگ ہندوستان سے الگ ہونا چاہتے ہیں ، تو انھیں الگ ہونے کا حق دیدینا چاہئے۔ ویسے ایسا کہنا غداری سے کم نہیں ہے، لیکن اصل بات یہ ہے کہ ایسے بیان وہی دے سکتا ہے…
جسے یہ پتہ نہیں ہے کہ ہندوستان کے لیے کشمیر کا مطلب کیا ہے؟ ہندوستان کے لیے کشمیر صرف ایک ٹیریٹری نہیں ہے، بلکہ سیکولرازم کی گارنٹی ہے۔ مذہب کے نام پر اگر کشمیر کوا لگ کرنے کی حمایت کرتے ہیں، تو پرشانت بھوشن جی کو یہ بھی بتانا پڑے گا کہ باقی ملک کے مسلمانوں کا کیا ہوگا۔ اس بیان پر عام آدمی پارٹی کی صفائی ابھی تک باقی ہے۔ پرشانت بھوشن نے اس بیان کے لیے معافی مانگی۔ اب عام آدمی پارٹی کو یہ بتانا ہی پڑے گا کہ وہ کشمیر و پاکستان کے مقبوضہ کشمیر کو ہندوستان کا اٹوٹ حصہ مانتی ہے یا نہیں؟ ہندوستان کے سیکولر ازم پربھروسہ ہے یا نہیں؟
جب مائنارٹی کی ہی بات چلی ہے تو عام آدمی پارٹی کو یہ بھی بتانا ہوگا کہ کانسٹی ٹیوشن کلب میں اروند کجریوال نے چند مسلمانوں کو پارٹی میں شامل کر کے نمائش تو کی، لیکن مسلمانوں کے اصل مدعے پر خاموش رہے۔ سچر کمیٹی نے مسلمانوں کی حالت دلتوں سے بھی خراب بتائی ہے۔ جس طرح سے سرکاریں خاص طور سے سیکولر پارٹیوں نے مسلمانوں کے ساتھ مذاق کیا ہے، اس کی وجہ سے مسلمان آج ملک کا سب سے پسماندہ طبقہ بن چکا ہے۔ رنگناتھ مشرا کمیشن کی رپورٹ نے کئی ضروری قدم سجھائے ہیں، جن میں سرکاری ملازمتوں میں ریزرویشن بھی شامل ہے۔ کیا عام آدمی پارٹی مسلمانوں کی ترقی کے لیے رنگناتھ مشرا کمیشن کی رپورٹ میں دی گئی سفارشات کو نافذ کرنے کے حق میں ہے یا نہیں؟ یہ عام آدمی پارٹی کو انتخابات سے پہلے بتانا ہوگا۔ اگر اس مدعے پر کوئی پارٹی کوئی اسٹینڈ نہیں لیتی ہے، تو اس کا مطلب ہے کہ وہ ملک کے عوام کو دھوکہ دے رہی ہے۔
ایک اور اہم سوال ہے جس کا کوئی ذکر نہیں کر رہا ہے۔ یہ سوال ہے خردہ بازار میں غیر ملکی سرمایہ کاری کا۔ دہلی اس سے سب سے زیادہ متاثر ہونے والی ہے۔ اگر خردہ بازار میں غیر ملکی سرمایہ کاری کی اجازت ملی ، تو دہلی میں سارے تھوک اور خردہ بازار پرمنحصر لوگوں کی روزی روٹی پراثرپڑے گا۔ اروند کجریوال کو انتخاب سے پہلے یہ بتانا چاہئے کہ وہ خردہ بازار میں غیر ملکی سرمایہ کاری کے حق میں ہیں یا نہیں۔ صرف بدعنوانی ختم کرنے کی بات کہنے سے مستقبل کے سوالوں کا حل نہیں مل سکتا ہے۔ ویسے بھی جن لوک پال سے ملک میں بدعنوانی ختم نہیں ہونے والی ہے، کیونکہ یہ قانون بدعنوانی ہو جانے کے بعد میں عمل میں آئے گا۔ اس سے بدعنوان لوگوں کو سزا دلانے میں آسانی ہوگی۔ سمجھنے والی بات یہ ہے کہ ملک کے سامنے بدعنوانی کے علاوہ بھی کئی مدعے ہیں، جو ضروری ہیں۔ ان مدعوں پر عام آدمی پارٹی کی کیا رائے ہے؟ عام آدمی پارٹی ملک میں ماؤ نوازوں کی دہشت گردی کی مخالفت کرتی ہے یا نہیں؟ عام آدمی پارٹی غیر ممالک سے دولت پانے والے این جی اوز کو جن لوک پال کے دائرے میں لانے کے حق میں ہے یا نہیں؟ عام آدمی پارٹی کی رام جنم بھومی ۔بابری مسجد تنازع پر رائے کیا ہے؟ دہلی و پورے ملک میں بنگلہ دیشی در اندازی کے مسئلہ پر عام آدمی پارٹی کی رائے کیا ہے؟ ہندو دہشت گردی یعنی سیفرن ٹیرر پر عام آدمی پارٹی کی رائے کیا ہے؟ اس کے علاوہ بھی کئی سوال ہیں جیسے کہ عام آدمی پارٹی کی ترقی کا ماڈل کیا ہے؟ اس کی اقتصادی پالیسی کیا ہے؟ نجکاری پر پارٹی کا رخ کیا ہے؟
اس طرح کے بے شمار سوال ہیں۔ ہر سوال کا جواب جن لوک پال، شفافیت و لامرکزیت نہیں ہو سکتا ہے۔ ان مدعوںپر پارٹی کی رائے اب تک سامنے نہیں آئی ہے، اس لیے الجھن کی صورتحال بنی ہوئی ہے۔ اگر عام آدمی پارٹی کے وزیر اعلیٰ کے امیدواریہ کہیں کہ ان سوالوں کا جواب دسمبر بعد دیں گے، تب دہلی کے عوام بھی کہہ سکتے ہیں کہ جب جواب آجائے گا، تب ہمارے ووٹ لے کر جانا۔ اس طرح کے سوال اٹھانا کوئی تعصب نہیں ،بلکہ نظریاتی شفافیت کا مطالبہ ہے۔ عام آدمی پارٹی شفافیت کی طرفدار ہونے دعویٰ کرتی ہے، اگر ملک کے اہم مدعوں پر پارٹی کے خیالات لوگوں کو معلوم نہیں ہوں، یا یوں کہیں کہ بتایا ہی نہ جائے ، تو یہ کیسے بھروسہ پیدا ہوگاکہ عام آدمی پارٹی کی سرکار بننے کے بعد لوگوں کے مسائل دور ہو جائیں گے۔
انتخاب ایک نشہ ہے۔ اس کے سامنے افیم بھی پھیکی ہے۔ یہ ایسا نشہ ہے جس میں ہر امیدوار کو لگتا ہے کہ وہ بھاری اکثریت سے جیت رہا ہے۔ راہ میں ملنے والے، تالیاں بجاکر استقبال کرنے والے، ہاتھ ہلانے والے اور کبھی کبھی صرف سامنے سے مسکرانے والے حامی نظر آنے لگتے ہیں ۔ ہر امید وار کو لگتا ہے کہ سارے لوگ اسی کو ووٹ دے رہے ہیں۔ امیدوار اکثر ہوائی قلعے بنانے لگتے ہیں۔ جن لیڈروں کا دماغی توازن نہیں بگڑتا اور جو زمینی حقیقت کوسامنے رکھتے ہیں ، وہی فتحیاب ہوتے ہیں۔ اگر ایسا نشہ سونیا گاندھی پرچڑھ جائے، تو وہ احمد آباد میں مودی سے دو دو ہاتھ کرنے پہنچ جائیںگی اور اگر ایسے ہی نشے میں نریندر مودی چور ہو جائیں، تو وہ سونیا گاندھی کو ہرانے رائے بریلی سے امیدوار بن جائیں گے۔ عام آدمی پارٹی کے وزیر اعلیٰ کے امیدوار اروند کجریوال نے وزیر اعلیٰ شیلا دیکشت کے خلاف لڑنے کا اعلان کیا ہے۔ اروند کجریوال کہتے ہیں کہ دہلی میں عام آدمی پارٹی کی سرکار بننے والی ہے، 32فیصد ووٹ مل رہے ہیں۔ کجریوال نے خود وزیر اعلیٰ شیلا دیکشت کے خلاف انتخاب لڑنے کے اعلان کے ساتھ یہ بھی اعلان کر دیا کہ انتخاب جیتتے ہی وہ رام لیلا میدان میں اسمبلی کا اسپیشل سیشن بلائیں گے اور جن لوک پال بل پاس کریں گے۔ انتخاب میں ابھی ایک مہینے سے زیادہ کا وقت باقی ہے۔ کانگریس پارٹی اور بھارتیہ جنتا پارٹی کی مہم نے ابھی رنگ نہیں پکڑا ہے۔ اب یہ سمجھ میں نہیں آرہا ہے کہ کجریوال کے حوصلہ کی داد دینی چاہئے یاپھر اسے ایک انتخابی نشہ مان کر بھلا دینا چاہئے۔

ڈاکٹر منیش کمار

ڈاکٹر منیش کمار کے پاس الیٹرانک میڈیا کا طویل تجربہ ہے۔ وہ ایک بیباک اور تیکھے سیاسی تنقید کار ہیں۔ ان کو سیاست میں بنتے بگڑتے حالات اور ”چوتھی دنیا“ سے سروکار رکھنے والے مدعوں کی باریک سمجھ ہے۔ ”چوتھی دنیا“کے کوآرڈینیشن ایڈیٹر کی اہم ذمہ داری ان کے کندھوں پر ہے۔

Latest posts by ڈاکٹر منیش کمار (see all)

Share Article

ڈاکٹر منیش کمار

ڈاکٹر منیش کمار کے پاس الیٹرانک میڈیا کا طویل تجربہ ہے۔ وہ ایک بیباک اور تیکھے سیاسی تنقید کار ہیں۔ ان کو سیاست میں بنتے بگڑتے حالات اور ”چوتھی دنیا“ سے سروکار رکھنے والے مدعوں کی باریک سمجھ ہے۔ ”چوتھی دنیا“کے کوآرڈینیشن ایڈیٹر کی اہم ذمہ داری ان کے کندھوں پر ہے۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *