یہ زخم کانگریس نے خود تیار کیا ہے

میگھناد دیسائی 
لگتا ہے کہ کانگریس پر کسی بھوت کا سایہ پڑ گیا ہے اور شاید یہ سایہ نریندر مودی کا ہے۔ کانگریس کے تمام سینئر ترجمان اور پارٹی کے دوسرے بڑے لیڈر میڈیا کے ذریعہ بس نریندر مودی کو ہی برا بھلا کہنے میں لگے ہوئے ہیں۔ لیکن اس کے برخلاف کانگریس جتنا ہی نریندر مودی کی مذمت کر رہی ہے، مودی عوام کی نظروں میں کمزور ہونے کے بجائے اتنے ہی بڑے ہوتے جا رہے ہیں۔ اس صورتحال کو لے کر کانگریس پس وپیش میں پڑ گئی ہے کہ کیا وہ مودی کو ایک صوبائی لیڈر مان کر غلط فہمی میں مبتلا رہے، ان کا راہل گاندھی سے موازنہ کرے یا پھر اپنے ترجمانوں سے کہے کہ وہ مودی کو فاشسٹ بتاتے ہوئے ان کے خلاف مزید جارحانہ رخ اختیار کر لیں۔
بھارتیہ جنتا پارٹی نے جب مودی کو ایک اہم قیادت کی ذمہ داری سونپی، تو کانگریس کو خوش ہونا چاہیے تھا، کیونکہ پارٹی کے پاس ایک ٹیلر میڈ ایشو آ گیا تھا، جس میں پارٹی آرام سے بی جے پی کو فرقہ پرستی کو ہوا دینے والی پارٹی کہہ کر خود کی سیکولر شبیہ مضبوط کر لیتی۔ یقینا یہ ایسا میچ ہوتا، جو کانگریس کے لیے فکس تھا۔ لیکن فی الحال جو الیکشن سروے سامنے آ رہے ہیں، ان سے لگ رہا ہے کہ الیکشن کے بعد کانگریس کا ووٹ شیئر اور سیٹیں دونوں ہی بی جے پی کے مقابلے گھٹنے والی ہیں۔ راہل کی مقبولیت مودی کے موازنہ میںکم ہو رہی ہیں۔ آخر ایسا کیوں ہو رہا ہے؟ جو رائے دہندگان اس ایثار کرنے والے خاندان میں اپنا عقیدہ بنائے ہوئے ہیں، ان کا رجحان بدلنے کی وجہ کیا ہے؟
اس سوال کا جواب ہے ملک کی لڑکھڑاتی معیشت۔ ملک کی معیشت تیزی سے بگڑ رہی ہے۔ افراطِ زر کی شرح گزشتہ چار سالوں میں سب سے نچلی سطح پر ہے۔ رواں مالی خسارہ بڑھتا جا رہا ہے اور بجٹ خسارہ تقریباً پانچ فیصد تک پہنچ گیا ہے۔ روپے کی گرتی قیمت بتا رہی ہے کہ ہماری معیشت بیمار معیشت کی طرف بڑھ رہی ہے۔ رگھورامن راجن اور گھووری سبا رائو جیسے ماہرمعاشیات تقریباً مارچ 2012 سے ہی یہ خدشہ ظاہر کر رہے ہیں کہ ہماری معیشت 1991 جیسے اقتصادی بحران کی طرف بڑھ رہی ہے۔ موجودہ حالات میں افراط زر ہی رائے دہندگان کو کانگریس کے خلاف کھڑا کر رہی ہے۔ روپیہ جتنا گرتا جائے گا، افراط میں اتنا ہی اضافہ ہوگا اور صورتحال مزید خراب ہوگی۔
یہ زخم پارٹی نے خود اپنے لیے تیار کیا ہے اور اس کے لیے کانگریس پارٹی کا دوغلہ کردار ہی ذمہ دار ہے۔ پارٹی کے پاس جن اعتدال پسند ماہر معاشیات کی فوج ہے، وہ چاہتی ہے کہ ملک میں ترقی ہو۔ سرکاری خزانہ منظم ہو۔ افراط زر کی شرح کم ہو، جبکہ پارٹی کی سوشلسٹ ونگ چاہتی ہے کہ دوبارہ تقسیم ہو۔ یہ طبقہ مانتا ہے کہ بڑھتی افراط زر کی دوبارہ تقسیم کو سنبھالا جا سکتا ہے، لیکن صورتحال اس کے برعکس ہے۔
اسکیموں کے نفاذ کے نام پر پیسہ خرچ ہو رہا ہے۔ حیران کی بات ہے کہ ملک میں ایک ساتھ اتنے ماہر معاشیات فیصلہ کن عہدوں پر فائز ہیں۔ شوسلٹ ونگ اس غلط فہمی میں مبتلا ہے کہ وہ ملک کو ایک ویلفیئر اسٹیٹ بنائے گی اور وہ اس بات کی جلدی بھی دکھا رہی ہے۔
پارٹی کی یہی ونگ وزیراعظم منموہن سنگھ کو بھی نظر انداز کر رہی ہے، کیونکہ انہیں معلوم ہے کہ منموہن سنگھ کا دور اب ختم ہو رہا ہے اور یوراج، یعنی راہل گاندھی کی تاج پوشی کی تیاری ہو رہی ہے۔ حالانکہ اس حکومت نے جو فیصلے کیے، اس کے خراب نتائج یو پی اے 2 کی شروعات سے ہی نظر آ رہے ہیں۔
اب اُن غلط فیصلوں کے برے نتائج کھل کر سامنے آ رہے ہیں۔ آج ملک اپنی چمک کھو چکا ہے اور اس کی تیزی سے بڑھتی اقتصادیات بھی اب بیک فٹ پر ہے۔ ہماری خوش قسمتی ہی ہے کہ ریٹنگ ایجنسیوں نے ابھی ہمیں بخشا ہوا ہے اور ہم ریٹنگ میں بہت نیچے نہیں پہنچے ہیں۔
لیکن المیہ تو یہ ہے کہ کوئی بھی اپنی غلطی قبول کرنے کو تیار نہیں ہے۔ سماجوادی گروپ اب فوڈ سیکورٹی بل کو لے کر اپنی پیٹھ تھپتھپا رہا ہے اور وہ اسے دنیا کی سب سے بڑی اسکیم بتانے پر تلے ہوئے ہیں، جب کہ ماہرین اقتصادیات کا ماننا ہے کہ یہ اسکیم پہلے سے چلی آ رہی کئی دیگر اسکیموں کی ایک کڑی بھر ہے۔ پھر اس اسکیم پر 45,000 کروڑ روپے خرچ کرنے کا کیا مطلب؟ چھتیس گڑھ، تمل ناڈو اور کیرالہ میں اس اسکیم سے بہتر اسکیمیں پہلے سے ہی چل رہی ہیں۔ اگر سرکار اس اسکیم کو اپنے ووٹ بینک کے طور پر دیکھ رہی ہے، تو اس سے کوئی فائدہ نہیں ملنے والا ہے۔ اقتصادیات منفی دکھائی دے رہی ہے۔ اور ایسے وقت میں کانگریس پارٹی نے اتنی خرچیلی اسکیم شروع کی ہے، جو آنے والے دنوں میں اس کے لیے ہی خطرناک ثابت ہو سکتی ہے۔ یہ مشکلیں جتنی کانگریس پارٹی کے اندر موجود سماجوادی نظریہ فکر رکھنے والوں کے سبب پیدا ہوئی ہیں، اتنی ہی باہر موجود لیفٹسٹوں کے ذریعے بھی۔ سرمایہ پر ہمارا کنٹرول ختم ہو چکا ہے۔ درآمدات مہنگی ہو رہی ہیں اور سونے کے تئیں ہماری لالچ بنی ہوئی ہے۔ کل ملا کر ہم سیکولر سماجوادی عدم استحکام کے دور میں پہنچ چکے ہیں۔

Share Article

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *