یہ صورتحال ملک کے لئے تکلیف دہ ہے

کمل مرارکا 
بھارتیہ جنتا پارٹی اور راشٹریہ سویم سیوک سنگھ میں نریندر مودی کی حمایت اور ان کی مخالفت کرنے والی کچھ طاقتیں ہیں، جن پر پارٹی کا کوئی کنٹرول نہیں ہے۔ ایک دور تھا، جب بھارتیہ جنتا پارٹی اور اس کی سابقہ تنظیم جن سنگھ اپنی ڈسپلن کے لیے جانی جاتی تھی اور پورے کیڈر کو اس بات کے لیے جانا جاتا تھا کہ سبھی بغیر کسی تکرار کے پارٹی لائن پر ہی چلتے ہیں۔ راشٹریہ سویم سیوک سنگھ بھی ایک معزز تنظیم تھی، جہاں ایک ہی آواز سے سارے مسائل حل ہوجایا کرتے تھے۔ اب اِن دونوں کے اندر ہی یہ ڈسپلن گم سی ہو گئی ہے۔ اب بھارتیہ جنتا پارٹی کے اندر بھی باہمی رسہ کشی کا عالم ہے، جو اس کی شبیہ کو اور خراب کرے گی۔ آر ایس ایس نے بھی جو رول ادا کیا، اس کی بھی امید نہیں تھی۔ موجودہ وقت میں بھارتیہ جنتا پارٹی کے اند بے شک لال کرشن اڈوانی سب سے قد آور لیڈر ہیں اور پورا ملک ان کی عزت بھی کرتا ہے، لیکن ایک بات جس پر ملک کے عوام غور نہیں کر رہے ہیں، وہ یہ کہ دولت اور طاقت نے باقی سب چیزوں پر قبضہ کر لیا ہے۔
نریندر مودی کے پاس دولت اور طاقت دونوں ہی ہے۔ کرشمائی شخصیت کا ہونا اپنی جگہ ہے، لیکن بغیر دولت اور طاقت کے طاقتور بنے رہنا ممکن نہیں ہے۔ نریندر مودی نے اپنی شبیہ کو ابھارنے کے لیے خود کا ایک سسٹم بنایا۔ انہوں نے ایسے نوجوانوں کو اپنے حق میں کیا، جو ہمیشہ انٹرنیٹ پر سرگرم رہتے ہیں۔ ان کے پاس بہار کے سشیل مودی جیسے لیڈر ہیں، جن کا کہ پہلے نتیش کمار نے استعمال کیا اور اب انہیں طاقت اور دولت کی سیاست کے برانڈ بن چکے نریندر مودی کے ذریعے سہارا دیا جا رہا ہے۔ نریندر مودی نے راجناتھ سنگھ کو یقین دلایا ہے کہ انتخاب میں جتنا بھی پیسہ لگے گا، وہ برداشت کریں گے۔ اور یہ سب اتنا بڑھ چکا ہے کہ یقینی طور سے یہ بھارتیہ جنتا پارٹی اور راشٹریہ سویم سیوک سنگھ کی تہذیب کے خلاف ہے۔ حقیقت یہ دکھاتی ہے کہ 1991 کے بعد جب ملک نے نیو لبرل ماڈل کو اختیار کیا، تب ملک کو بڑے پیمانے پر مالی منافع کی لالچ دی گئی تھی۔
موجودہ وقت میں ملک میں 50 سے زیادہ صنعتی گھرانے ہیں۔ اندرا گاندھی کے غریبی ہٹاؤ کے نعرے سے پہلے ملک کا مکمل سرمایہ 10 یا 20 گھرانوں کے ہاتھوں میں مرکوز تھا۔ یہی وجہ تھی کہ بینک ان گھرانوں کے کنٹرول میں تھے۔ اس صورتِ حال کو دیکھتے ہوئے انہوں نے بینکوں کے نیشنلائزیشن کا ہمت بھرا فیصلہ لیا۔ کارپوریٹ سیکٹر نے ان کے اس فیصلہ کا خیر مقدم بھلے ہی نہ کیا ہو، لیکن حقیقت تو یہ ہے کہ اس قدم کے بعد سے ہی ملک میں انٹرپرینیرشپ کو بڑھاوا ملا۔ ملک کے اندر کئی چھوٹے اور بڑے صنعت کار سامنے آنے لگے اور 1991 تک صنعتی دنیا میں یہ سلسلہ چلتا رہا۔ 1991 کے بعد ملک نے امریکی نقش قدم پر چلتے ہوئے ایک نئے نیو لبرل ماڈل کو اپنانا شروع کر دیا، جس کا نتیجہ یہ ہوا کہ ایک بار پھر وہی حالات لوٹ کر آنے لگے۔ تھاپر، مودی اور ساہو جی جیسے گھرانوں کی جگہ نئے گھرانے بھی سامنے آنے لگے۔ ٹاٹا اور بڑلا تو یقینی طور پر تھے ہی۔ اقتصادی طاقتیں پھر سے انہی دس گھرانوں کے بیچ محدود ہونے لگیں۔ اگر سرکار سرمایہ کاری کرنا چاہتی ہے، تو پھر سے وہی صنعتی گھرانے ہوں گے، مثال دی جائے گی۔ اگر کوئی نئی اسکیم شروع ہوتی ہے، تو وہی چنندہ صنعتی گھرانے ہی اسے چلاتے ہیں اور یہ بڑی اقتصادی طاقتیں ملک کی ریاستوں کے وزرائے اعلیٰ کو اپنے ڈھنگ سے کنٹرول کرنے لگے، کیوں کہ وزرائے اعلیٰ کے لیے یہ صنعت کار ایک بڑے مالی وسیلہ بنے رہے تھے۔ اس طرح سے مجموعی حالات بدلنے لگے۔ ایسے میں کسی بھی پارٹی، مثلاً بھارتیہ جنتا پارٹی کا صدر خود کو بے یارو مدد گار محسوس کرنے لگا، کیوں کہ اقتصادی وسائل کے لیے وہ پوری طرح سے کسی ایک وزیر اعلیٰ پر منحصر ہو گیا۔ یہی وجہ ہے کہ سیاست اب صحیح سیاست نہ ہو کر اقتصادی سیاست میں تبدیل ہو چکی ہے۔ یہ صورتِ حال ملک کے لیے تکلیف دہ ہے۔ مجھے نہیں لگتا کہ بی جے پی اقتدار میں آنا چاہتی ہے اور مجھے یہ بھی نہیں لگتا کہ وہ اس طرح اقتصادی لالچ کے راستے پر چل کر اسے حاصل کر سکتی ہے۔
نریندر مودی کی نام نہاد کرشمائی شخصیت دراصل پرچار کی دین ہے۔ حالانکہ پرچار آپ کو اتنی دور تک لے کر نہیں جا سکتا۔ انٹرنیٹ پر نریندر مودی کے مداح کہتے ہیں کہ یہاں پر ان کے مداحوں کی بھاری جماعت ہے۔ لیکن اگر اعداد و شمار پر غور کریں، تو انٹرنیٹ کی پہنچ ملک کی آٹھ فیصد آبادی تک ہی ہے۔ اور گاؤں میں جہاں بجلی ہی نہیں رہتی، وہ بھلا انٹرنیٹ کا استعمال کیسے کریں گے۔ یہی وجہ ہے کہ شہرت کی یہ سبھی دلیلیں یقین کرنے کے لائق نہیں ہیں، بلکہ ان میں بے چینی زیادہ ہے، جب کہ نیشنل میڈیا جو یقینی طور سے بکاؤ ہو چلا ہے، وہ دکھاتا ہے کہ نریندر مودی ملک کے وزیر اعظم بننے کے راستے پر ہیں۔ یقینی طور پر یہ ممکن نہیں ہے۔
اگر بھارتیہ جنتا پارٹی سنجیدہ ہے، تو اسے دولت اور طاقت کو کم اہمیت دینی ہوگی۔ اپنے کیڈر کے لیے کام کرنا ہوگا۔ ایسی سرکار کے بارے میں سوچنا ہوگا، جیسی اٹل بہاری واجپئی کے وقت میں تھی۔ ایک لبرل سرکار کے بارے میں سوچنا ہوگا، نہ کہ ہندو قومیت کو بڑھاوا دینے والی سرکار کے بارے میں۔ ایسا سوچنے پر ملک تقسیم ہوگا اور تشدد کے راستے پر بڑھے گا، جیسا کہ انہوں نے مظفر نگر میں کیا۔
دوسرا اہم ایشو اقتصادیات اور بازار ہے۔ رگھو رام راجن آر بی آئی کے نئے گورنر بنے۔ روپے میں کچھ مضبوطی دکھائی دی۔ بازار بھی سنبھلتا دکھائی دیا۔ لیکن یہ سب کچھ صرف چند دنوں کے لیے ہے، یہ تب تک نہیں سنبھلے گی، جب تک کہ ہمارا رواں مالی خسارہ ٹھیک نہیں ہوتا۔ جب تک ہم سونے کی درآمدات پر روک نہیں لگاتے، تب تک ہم اپنے ایکسپورٹ – اِمپورٹ کے اعداد و شمار کو مینج نہیں کر پائیں گے۔ ہمیں اپنے ایکسپورٹ اور اِمپورٹ کے اعداد و شمار کو کنٹرول کرنا ہوگا۔ اور یہ حسابیات کی طرح آسان ہے۔ جب تک رگھو رام راجن وزیر خزانہ کا اعتماد نہیں حاصل کر لیتے، تب تک دونوں کو مل کر حالات کو قابو میں کرنے کے لیے کام کرنا ہوگا۔ سرکار کو پالیسی بنانی ہوگی اور ریزرو بینک کو اس پر کام کرنا ہوگا۔ اگر سرکار اِمپورٹ پر روک لگاتی ہے، عدم توازن کو درست کرتی ہے، تو ریزرو بینک کو چاہیے کہ وہ قیمتوں کو کم کرے اور پرائیویٹ سیکٹر کو مینوفیکچرنگ کے شعبہ میں آنے کے لیے آمادہ کرے۔ جب تک یہ ہوگا کافی وقت گزر چکا ہوگا اور ہم دوسرے ملکوں کے مقابلے اپنا اثر و رسوخ کھو دیں گے، سرکار اپنا اثر کھو دے گی۔

Share Article

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *