یہ مہنگائی مار ڈالے گی

وسیم راشد 
الیکشن کے ہنگامے، روپے کی گرتی قیمت، لگاتار ہوتے عصمت دری کے واقعات ،آسام رام جیسے سنتوں کی شیطانی کرتوت، مہنگائی سے بدحال عوام، سہولیات کو ترستے غریب جھگی جھونپڑی میں بسنے والے لوگ ۔ یہ اس وقت ہمارے ملک کا حال ہے۔ روپے کی گرتی قیمت نے اس وقت غریب عوام کو بوکھلا دیا ہے۔ ایسے حالات تو شاید 1991میں بھی نہیں تھے جبکہ وہ مالی بحران کا سب سے برا دور مانا جاتا ہے۔حال ہی میں اقوام متحدہ کی رپورٹ آئی ، جس میں بتایا گیا کہ دنیا بھر کے فاقہ کشوں میں25فیصد ہندوستانی شہری ہیں۔ امریکی اخبار ’’وال اسٹریٹ جرنل‘‘ کے مطابق ہندوستان میں انتخابات کے نتائج پر غذائی اشیاء گہرا اثر ڈالتی ہیں اور کروڑوں ہندوستان روز بھوکے سوتے ہیں۔ اقوام متحدہ کی اس رپورٹ نے ایک بار پھر سے ہماری آنکھیں کھول دی ہیں۔ ایک ارب 20کروڑ کی آبادی والے ہمارے ملک میں یقینا بھوکے سونے والے ایک کروڑ سے بھی زیادہ ہی ہو نگے۔ عالمی بینک نے بھی ہندوستان کی ایک تہائی آبادی کو غریب بتایا ہے۔ ایسے میں وزیر اعظم صرف بیان بازی کرتے ہیں کہ ملک کی معیشت نازک دور سے گزر رہی ہے۔ وزیر اعظم سے یہ سوال کیا جائے کہ آپ کی ڈگریاں آپ کے وزیر مالیات پی چدمبرم کی ڈگریاں اور آپ کے پلاننگ کمیشن کے ڈپٹی چیئر پرسن مونٹیک سنگھ آہلوالیہ کی ڈگریاں آخر کس کام کی ہیں۔کیا گاندھی جی کے تینوں اصول ’برا نہ دیکھو، برانہ سنو، برا نہ کہو ‘پر عمل درآمد صرف آپ ہی کو کرنا ہے کہ آپ تینوں کو ہی ملک کی اقتصادی حالت سے کوئی سروکار نہیں ہے۔ امریکی ڈالر کے مقابلہ روپے میں گزشتہ 18سال کی سب سے بدترین گراوٹ ہے۔ وزیر اعظم سے یہ سوال کیا جائے کہ آخر اربوں کھربوں کے گھوٹالوں کے بعد ملک کا غریب ہونا کس کے سر جاتا ہے۔ اپنی راجیہ سبھا میں تقریر کے دوران انھوں نے بہت سے جواز پیش کئے، لیکن غریب عوام کو ان جواز سے کیا لینا دینا۔ ان کو اتنا معلوم ہے کہ روپے کی گراوٹ سے تیل کی قیمتوں میں اضافہ ہوگا اورڈیزل اور تیل کی قیمتوں میں اضافہ ہونے سے گھر سے لے کر بچوں کے اسکول اور ٹرانسپورٹ سبھی ضروریات زندگی پر اثر پڑے گا۔ اناج ، دالیں ، آٹا، گیہوں سبھی مہنگا ہوگا۔ سبزیوں کے دام تو ابھی بھی آسمان کو چھو رہے ہیں۔ پیاز کا دام تو ہمیشہ ہی انتخاب کا موضوع بن جاتا ہے۔ مگر پیاز سے زیادہ سبزیوں کے دام بھی ہیں۔ سبھی کچھ اتنا مہنگا ہو چکا ہے کہ اب حقیقت میں غریب عوام بری طرح بوکھلا رہے ہیں۔

ہندوستان کی معیشت پر اثر انداز ہونے والے جتنے بھی عوامل ہیں ان میں ہندوستان کا تیزی سے بڑھتا ہوا کرنٹ اکائونٹ کا خسارہ بہت اہم ہے اور یہ نقصان یا خسارہ تبھی ہوتا ہے جب کسی بھی ملک کی درآمد ات اس کی آمدنی سے زیادہ ہوتی ہیں اور یہ نقصان سیدھا ملک کی معیشت پر ملک کی کرنسی پر اثر انداز ہوتا ہے۔ اسی نقصان سے ملک کو قرضہ لینے کی نوبت آ جاتی ہے۔ حیرت ہے منموہن سنگھ نے اقتصادی پالیسی کا یہ اصول کیسے نہیں پڑھا کہ اگر ملک کو قرضہ لینے کی نوبت آ جائے اور اس کا اثر زر مبادلہ پر پڑے تو اس نقصان کی بھرپائی مشکل ہو جاتی ہے۔ روپے کی قیمت گرنے سے غیر ملکی سرمایہ کار ہندوستان سے اپنا سرمایہ نکال رہے ہیں اور ہندوستان کے درآمد کاروں کی طرف سے ڈالر کی مانگ زیادہ ہے۔ روپے کی قیمت میں اور گراوٹ آسکتی ہے ۔

آخر یہ خسارہ کیوں ہوتا ہے۔ ہندوستان کی معیشت پر اثر انداز ہونے والے جتنے بھی عوامل ہیں ان میں ہندوستان کا تیزی سے بڑھتا ہوا کرنٹ اکائونٹ کا خسارہ بہت اہم ہے اور یہ نقصان یا خسارہ تبھی ہوتا ہے جب کسی بھی ملک کی درآمد ات اس کی آمدنی سے زیادہ ہوتی ہیں اور یہ نقصان سیدھا ملک کی معیشت پر ملک کی کرنسی پر اثر انداز ہوتا ہے۔ اسی نقصان سے ملک کو قرضہ لینے کی نوبت آ جاتی ہے۔ حیرت ہے منموہن سنگھ نے اقتصادی پالیسی کا یہ اصول کیسے نہیں پڑھا کہ اگر ملک کو قرضہ لینے کی نوبت آ جائے اور اس کا اثر زر مبادلہ پر پڑے تو اس نقصان کی بھرپائی مشکل ہو جاتی ہے۔ روپے کی قیمت گرنے سے غیر ملکی سرمایہ کار ہندوستان سے اپنا سرمایہ نکال رہے ہیں اور ہندوستان کے درآمد کاروں کی طرف سے ڈالر کی مانگ زیادہ ہے۔ روپے کی قیمت میں اور گراوٹ آسکتی ہے ۔ یہی سوچ کر ہندوستانی برآمد کار غیر ممالک میں پیسہ روکے ہوئے ہیں تاکہ روپے میں جیسے جیسے گراوٹ آتی جائے انہیں فائدہ ملتا جائے۔ ایک اور بھی وجہ ہے روپے کی گراوٹ کی کہ غیر ملکی سرمایہ کار اپنے پیسے ہندوستان سے نکالنے لگے ہیں ، جس سے روپے کی قیمت میں گراوٹ بھی آئی ہے اور ہندوستان کی معیشت پر بھی گہرا اثر پڑا ہے۔پر ان سب باتوں پر کیوں جائیں ۔ معاشی پالیسی، اقتصادی پالیسی، مالی خسارہ یہ سب تو عوام کے لئے مشکل ٹرم ہیں۔ عوام کو صرف اور صرف ایک ہی زبان سمجھ میں آتی ہے اور وہ ہے ضروریات زندگی کا مہنگا ہو جانا اور زندگی کا مشکل ہو جانا۔ داخلی وجوہات کے ساتھ ساتھ خارجی وجوہات بھی بہت اہم ہیں جن میں امریکہ کا مالی رخ اور شام کے حالات بھی اہم سبب ہیں۔ شام کے موجودہ تنائو کی وجہ سے پیٹرول کے مہنگا ہونے کی وجہ سے اشیائے خوردنی مہنگی ہوتی جا رہی ہیں اور اس کے ساتھ ساتھ روپے کی گراوٹ سے اور بھی کئی اشیاء مہنگی ہوتی جائیں گی۔ جیسے موبائل فون، ٹی وی سیٹ، لیپ ٹاپ ، پرنٹرس وغیرہ ۔ کیونکہ الیکٹرانک اشیاء کی قیمتیں بڑھنے کا تعلق بیرونی زر مبادلہ سے ہوتا ہے۔
اب ان سب حالات کا اثر مسلمانوں پر کتنا پڑے گا اور پڑ رہا ہے۔ اس کے بارے میں بات کریں تو مجھے پروفیسر اے ایم خسرو جو علی گڑھ مسلم یونیورسٹی کے وائس چانسلر و فائنانس کمیشن کے چیئر مین بھی تھے اور ماہر اقتصادیات بھی۔ ان کی بات یاد آ رہی ہے ۔ انھوں نے انڈین ایکسپریس میں 25سال قبل اپنے ہفت وار کالم میں غربت کے تعلق سے اظہار خیال کرتے ہوئے کہا تھا کہ ہندوستان کا مسلمان گوپال سنگھ مائنارٹی پینل کی رپورٹ (اس وقت یہی رپورٹ تھی)کے مطابق سب سے زیادہ پسماند ہ ہے اور تمام حقوق سے محروم ہے ۔ لہٰذا ملک میں غربت کا سب سے زیادہ شکار وہی ہے اور جب بھی مہنگائی بڑھتی ہے تو اس کی مار سب سے زیادہ اسی پر پڑتی ہے ۔ پروفیسر خسرو کا یہ اظہار خیال آج کی صورتحال پر بھی صادق آتا ہے۔
مہنگائی کی مار یقینا مسلمانوں پر زیادہ پڑے گی کیونکہ حالیہ حکومت کے سروے میں یہ بات صاف ہو گئی ہے کہ مسلمانوں کی مالی حالت تمام اقلیتوں سے زیادہ خراب ہے۔ سکھوں، کرسچین وغیرہ کے مقابلہ میں مسلمان بہت ہی پسماندہ ہیں اور صرف ماہانہ اخراجات 833پر ہی گزر کر رہ ہیں۔ مہنگائی یا روپے کی گراوٹ مسلمانوں کو بری طرح سے توڑ دے گی یہ یقینی بات ہے۔

A.U. Asif

تقریباً40برسوں سے لسانی صحافت سے جڑے 63سالہ اے یو آصف ’چوتھی دنیا‘ کی اردو ٹیم کے ذمہ دار ہیں۔ چوتھی دنیا اردو میں ادارتی صفحات پر ان کا ’لمحہ فکریہ‘ پابندی سے شائع ہوتا ہے۔ انہوں نے متعدد انگریزی، ہندی اور اردو اخبارات و رسائل سے وابستگی کے دوران کئی ہزار زائد انٹرویوز،انویسٹی گیٹیو اور کوراسٹوریز، کتابوں کے تبصرے اور شخصیات کے پروفائل کیے ہیں۔ عمومی ایشوز کو کور کرنے کےساتھ ان کی حاشیہ پر رہ رہے افراد اورطبقات بشمول مسلمانوں پر مہارت ہے خواہ وہ کسی بھی ملک ہوں۔یہ 2003میں امریکی حکومت کی دعوت پر امریکہ کا دورہ کرکے 9/11کے بعد کی صورتحال کا جائزہ لینے والے5سائوتھ ایشیا کے سینئر صحافیوں کے وفد میں شامل تھے۔ 1986میںمیانمار (برما) سے ہندوستان آنے والے اولین مہاجر خاندان سے کٹیہار جیل میں انٹرویو لینے کا نہیں کریڈیٹ حاصل ہے۔ 1987میں بھی ہاشم پورا سانحہ کی جائے وقوع مراد نگر جاکر رپورٹنگ کرنے والے یہ پہلے صحافی ہیں۔ علاوہ ازیں متعدد صدور، وزیراعظم و دیگر اہم شخصیات سے انہوں نے انٹرویو لیے ہیں۔ انہوںنے کئی کتابیں تصنیف کی ہیں جن میں انگریزی میں میڈیاسے متعلق دوکتابیں شامل ہیں جو کہ جرمن زبان میں ترجمہ ہوکر جرمنی کی متعدد یونیورسٹیوں کے نصاب میں پڑھائی جاتی ہیں۔ یہ نئی دہلی میں پریس کلب آف انڈیا کے رکن بھی ہیں۔
Share Article

A.U. Asif

تقریباً40برسوں سے لسانی صحافت سے جڑے 63سالہ اے یو آصف ’چوتھی دنیا‘ کی اردو ٹیم کے ذمہ دار ہیں۔ چوتھی دنیا اردو میں ادارتی صفحات پر ان کا ’لمحہ فکریہ‘ پابندی سے شائع ہوتا ہے۔ انہوں نے متعدد انگریزی، ہندی اور اردو اخبارات و رسائل سے وابستگی کے دوران کئی ہزار زائد انٹرویوز،انویسٹی گیٹیو اور کوراسٹوریز، کتابوں کے تبصرے اور شخصیات کے پروفائل کیے ہیں۔ عمومی ایشوز کو کور کرنے کےساتھ ان کی حاشیہ پر رہ رہے افراد اورطبقات بشمول مسلمانوں پر مہارت ہے خواہ وہ کسی بھی ملک ہوں۔یہ 2003میں امریکی حکومت کی دعوت پر امریکہ کا دورہ کرکے 9/11کے بعد کی صورتحال کا جائزہ لینے والے5سائوتھ ایشیا کے سینئر صحافیوں کے وفد میں شامل تھے۔ 1986میںمیانمار (برما) سے ہندوستان آنے والے اولین مہاجر خاندان سے کٹیہار جیل میں انٹرویو لینے کا نہیں کریڈیٹ حاصل ہے۔ 1987میں بھی ہاشم پورا سانحہ کی جائے وقوع مراد نگر جاکر رپورٹنگ کرنے والے یہ پہلے صحافی ہیں۔ علاوہ ازیں متعدد صدور، وزیراعظم و دیگر اہم شخصیات سے انہوں نے انٹرویو لیے ہیں۔ انہوںنے کئی کتابیں تصنیف کی ہیں جن میں انگریزی میں میڈیاسے متعلق دوکتابیں شامل ہیں جو کہ جرمن زبان میں ترجمہ ہوکر جرمنی کی متعدد یونیورسٹیوں کے نصاب میں پڑھائی جاتی ہیں۔ یہ نئی دہلی میں پریس کلب آف انڈیا کے رکن بھی ہیں۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *