انشورینس کیا ہے؟

چوتھی دنیا بیورو 
p-12ہم روز مرہ کی زندگی میں کئی طرح کے حادثوں کا سامنا کرتے ہیں۔ ان میں سے کچھ ایسے ہوتے ہیں، جو مالی نقصان کا سبب بن جاتے ہیں۔ انشورنس کے ذریعہ ہم اس نقصان کی بھرپائی کرسکتے ہیں۔ پریمیم کے بدلے ایک انشورنس کمپنی اس مالی نقصان کے معاوضے کی ذمہ داری لیتی ہے۔
جنرل انشورنس کیا ہے؟
انسانی جان کے علاوہ کسی بھی چیز کے انشورنس کو جنرل انشورنس کہا جاتا ہے۔ مثلاً کسی پراپرٹی کاانشورنس کیا جائے، جیسے مکان اور جلنے اور چوری ہونے سے تعلق رکھنے والی چیز یا گاڑی کے چوری ہونے اور ایکسیڈنٹ ہوجانے کا انشورنس۔ اسی طرح ایکسیڈنٹ میں زخمی ہونے یا بیماری اور سرجری کے لیے اسپتال کے اخراجات کا انشورنس۔
انشورنس کیوں کرائیں؟
اس کی ایک بنیادی وجہ تو یہ ہے کہ انشورنس سے ایک آدمی اپنے متعلقات اور سامان میں ہونے والے مالی خسارے کو محفوظ کر سکتا ہے۔ جب ایک آدمی کچھ کماتا ہے اور پراپرٹی جمع کرتا ہے، تو اس کی حفاظت کرنے میں بھی محتاط رہتا ہے۔ قانون بھی ہم سے اس بات کا تقاضہ کرتا ہے کہ ہم اپنی ذمہ داریوں کے تئیں انشورڈ ہوں۔ وہ اس طرح کہ اگر کبھی ہم کسی دوسرے شخص کے نقصان کا سبب بنتے ہیں، تووہ آدمی معاوضے کا حقدار بنے۔ اس بات کو یقینی بنانے کے لیے کہ ہم اس معاوضے کی ادائیگی کے متحمل ہوسکتے ہیں، قانون ہمیںانشورنس پالیسی خریدنے کا حق دیتا ہے، تاکہ معاوضے کی ادائیگی کی ذمہ داری کو انشورس کمپنی کی طرف منتقل کیا جاسکے۔
کون خرید سکتا ہے جنرل انشورنس؟
ہر وہ آدمی جو اپنا اثاثہ رکھتا ہے، وہ جنرل انشورنس پالیسی خرید سکتا ہے، تاکہ جلنے یا چوری ہونے کی صورت میں یا دیگر صورتوں میں نقصان سے بچ سکے۔ ہم میں سے ہر آدمی خود اپنا اور اپنے اوپر منحصر افراد کا ہیلتھ ہوسپٹلائز یشن اور پرسنل ایکسیڈنٹ پالیسی انشورنس کرا سکتا ہے۔ اس پالیسی کو خریدنے میں حادثہ ہونے کی صورت میں پالیسی خریدار کو جو مالی خسارہ ہوا ہے، اس کو ادا کیا جاتا ہے۔ اس پالیسی کو انشوریبل انٹریسٹ کہا جاتاہے۔
کتنی طرح کی پالیساں ہیں؟
زیادہ تر جنرل پالیسیاں سالانہ ہیں، یعنی وہ ایک سال کے لیے ہوتی ہیں۔ یہ پالیسیاں درج ذیل ہیں :
7کار انشورنس پالیسی
7ہیلتھ پالیسی
7ہوم انشورنس پالیسی
7 ٹریول پالیسی
بلڈنگ، فائر، سیلاب، اسٹاک، کیش اِن ٹرانزٹ،کنٹریکٹ آل رسک پالیسی، پرسنل ایکسیڈنٹ پالیسی، ذمہ داری بیمہ وغیرہ۔
کتنا انشورنس کرنا چاہیے؟
جتنی رقم کا آپ انشورنس کراتے ہیں، اس رقم کو انشورڈ کہا جاتا ہے۔ عام طور پر ایسی پالیسی ہونی چاہیے، جو اثاثے کی قیمت کا احاطہ کر سکے۔ یہ قیمت بازاری قیمت کے مطابق ہو یا اس اثاثہ کو بیچ کر اسی قیمت کا دوسرا اثاثہ خرید لینے کی شکل میں ہو۔ پریمیم منحصر ہے اس بات پر کہ انشورڈرقم کتنی ہے۔
کلیم کی گئی رقم کس بنیاد پر ادا کی جاتی ہے؟
مثال کے طور پر ہیلتھ انشورنس پالیسی میں، جو اسپتال کے اخراجات کو کور کرتا ہے، اس میں بغیر کیش کے کلیم سیٹلمنٹ کی بھی گنجائش ہے۔ وہ یہ ہے کہ آپ اسپتال میں معالجے کے لیے کوئی ادائیگی نہیں کرتے ہیں اور پھر اخراجات کی ادائیگی کے لیے کلیم کرتے ہیں۔ انشورنس کمپنی ایک سروس فراہم کرتی ہے، جس کو تھرڈ پارٹی ایڈمنسٹریٹر (ٹی پی اے) ہیلتھ سروس کہا جاتاہے، جس میں راست اسپتال سے رابطہ کیا جاتاہے اور پالیسی کے ٹرم کے مطابق آپ کے علاج کا خرچ اسپتال کو ادا کیا جاتا ہے۔
ہر کمپنی کے الگ الگ پریمیم کیوں ہوتے ہیں؟
پریمیم کا دار ومدار اس بات پرہوتا ہے کہ آپ پالیسی میں کیا کیا کور کرنا چاہتے ہیں۔ اگر آپ کی پالیسی کا دائرہ بڑا ہے، تو ایسی صورت میں پریمیم کا ریٹ بھی زیادہ ہوگا۔ یہ بڑی عام سی بات ہے کہ آپ کی پالیسی میںجتنی زیادہ رسک شامل ہوگی، اتنا ہی زیادہ پریمیم ہوگا۔ اس کی مثال یہ ہے کہ ایک ہی طرح کی ہیلتھ پالیسی کے لیے ایک بوڑھے آدمی کو زیادہ پریمیم ادا کرنا پڑتا ہے، جبکہ نوجوان کو پریمیم کم ادا کرنا پڑتا ہے۔ کبھی کبھی جگہ کے حساب سے بھی پریمیم میں اضافہ ہوتا ہے۔ مثال کے طور پر موٹر انشورنس ایسی جگہ کرائی جارہی ہے، جہاں پر ایکسیڈنٹ کے امکانات زیادہ ہیں، تو انشورنس کو زیادہ رسک اور خطرہ کور کرنا پڑتا ہے، لہٰذا یہاںپر پریمیم بھی زیادہ ہوگا۔
اگر ایک پالیسی خریدی جاتی ہے اور کلیم نہیں کیا جاسکتا، تو یہ ایک نقصان ہے۔ پھر ایسی صورت میں پالیسی کیوں خریدی جائے؟
جنرل انشورنس کا مطلب بچت کرنا یا انوسٹمنٹ ریٹرن نہیں ہے۔ اس کا مقصد ہے پروٹیکشن۔ آپ جو ادائیگی کرر ہے ہیں، اس کے مقابلے رسک کور کیا جاتا ہے۔ اس کو اس طرح سمجھا جائے کہ اگر ریٹرن کی شکل میں کبھی کچھ رقم ملتی ہے، تو اس کا یہ مطلب نہیں ہے کہ پراپرٹی کو تحفظ فراہم کرنے کی قیمت ادا کی جارہی ہے، یعنی چند سو کے بدلے لاکھوں میں رقم ادا کی جائے۔
اگر کلیم میں پرابلم ہو تو کیا کیا جاسکتا ہے؟
سب سے پہلے تو آپ کمپنی کو شکایت لکھیں اور انہیں اپنا کام کرنے کے لیے مناسب وقت دیں۔ اگر وہ اپنی ذمہ داری ادا نہ کرے یا کمپنی کے کام سے آپ مطمئن نہیں ہوئے، تو ایسی صورت میں آپ جیوڈیشیل چینل سے اپروچ کرسکتے ہیں۔

Share Article

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *