پنچایت کی زمین ا ور پٹے کی جانکاری

ہندوستان کی تقریباً 67 فیصد آبادی گائوں میں ہی رہتی اور زمین کی اہمیت گائوں کے لوگوں کے لئے بہت اہمیت رکھتی ہے۔ایسے میں گرام پنچایت کی زمین کی اہمیت کافی بڑھ جاتی ہے۔گرام پنچایت کی زمین اکثر کئی کاموں کے لئے پٹے پر دی جاتی ہے۔ جیسے رہائش،کانکنی و شجر کاری کے لئے پٹہ۔ایسے میں یہ جاننا ضروری ہے کہ حقیقت میں کتنی زمین کسے اور کب تک کے لئے پٹے پر دی گئی ہے۔حقیقت میں پنچایت کے پاس کتنی زمین ہے۔ کہیں اس کی تقسیم (پٹے دینے) میں کوئی گڑ بڑی تو نہیں ہوئی ہے۔ ان سوالوں کے جواب جاننے کے لئے آپ کے پاس حق اطلاعات قانون ہے،جس کے تحت آپ ایک درخواست دے کر مذکورہ ساری جانکاریاں حاصل کر سکتے ہیں۔ اپنی درخواست میں آپ یہ پوچھ سکتے ہیں کہ پنچایت کے پاس الگ الگ طرح کی کتنی زمینیں ہیں۔مثلاً کاشتکاری کے قابل زمین، بنجر زمین، چراگاہ کی زمین،گرام سبھا کی زمین وغیرہ۔ اس کے علاوہ آپ یہ معلومات بھی مانگ سکتے ہیں کہ پچھلے کچھ سالوں میں کن کن بے زمین خاندانوں کو کس کام کے لئے اور کتنی زمین پٹے پر دی گئی۔ کتنی زمین ایسی ہے ،جس کا اب تک کوئی استعمال نہیں ہو سکا ۔ اس شمارہ میں ہم ایک ایسا ہی نمونہ شائع کر رہے ہیں،جس کا استعمال کرکے آپ مذکورہ اطلاعات مانگ سکتے ہیں۔

زمین اور پٹے سے متعلق جانکاری
بخدمت شریف، بتاریخ
پبلک انفارمیشن آفیسر ڈسٹرکٹ فوڈ پروسیسنگ آفیسر
پتہ —————————————————————————————————————————
موضوع: حق اطلاعات قانون 2005 کے تحت درخواست
جناب عالی،
————گائوں کی زمین کے تعلق سے مندرجہ ذیل اطلاعات فراہم کرائیں۔مذکورہ گرام پنچایت کی زمین کے تعلق سے مندرجہ ذیل تفصیلات فوٹو کاپی کے ساتھ فراہم کرائیں
الف:کتنی زمین قابل زراعت ہے؟ ب:کتنی زمین بنجر ہے؟ج: چراگاہ کی زمین کتنی ہے؟د:گرام سماج کی زمین کتنی ہے؟ھ:مرگھٹ کی زمین کتنی ہے؟و:تالا ب کی زمین کتنی ہے ؟ز:ان سب کا رقبہ نمبر اور علاقے کا خاکہ فراہم کرائیں۔
2۔ گزشتہ 25 برسوں میں مذکورہ گرام پنچایت کے کتنے بے زمین خاندانوں کو زمین پٹے پردی گئی؟اس کی تفصیلات فوٹو کاپی کے ساتھ دیں۔الف:قابل زراعت زمین؟ب:قابل رہائش زمین؟ج:کانکنی کی زمین؟د:شجر کاری کے لئے پٹے؟
ان تمام کی تفصیل رقبہ نمبر اور حلقے کے خاکہ کے ساتھ دیں
3۔سال————سے ————کے دوران مذکورہ گرام پنچایت کے کتنے بے زمین لوگوں کو پٹے پر زمین دی گئی؟ اس کی اطلاع مندرجہ ذیل تفصیل کے ساتھ فراہم کرائیں، جس میں رقبہ نمبر اور حلقہ کا خاکہ شامل ہو۔
الف:پٹے پر لینے والے کا نام ب:پٹہ پر لینے والے کے والد کا نام ج:پٹہ پر لینے والے کا پتہ د:پٹہ پر دیے جانے کی تاریخ
4۔ سال ———–سے ———کے دوران مذکورہ گرام پنچایت کے کتنے خاندانوں کو قابل زراعت زمین پٹے پردیے گئے؟اس کی لسٹ مندرجہ ذیل تفصیلات کے ساتھ فراہم کرائیں۔ جس میں رقبہ نمبر اور حلقے کا خاکہ شامل ہو
الف:پٹہ پر لینے والے کا نام ب:پٹہ پر لینے والے کے والد کا نام ج:پٹہ پر لینے والے کا پتہ د: پٹہ پر دیے جانے پ تاریخ
5۔ سال ————سے————کے دوران مذکورہ گرام پنچایت کے کتنے خاندانوں کو رہائش کے لئے پٹے پر زمین دی گئی؟ اس کی لسٹ مندرجہ ذیل تفصیلات کے ساتھ بمعہ رقبہ اور حلقے کا خاکہ بھی دیں
الف:پٹہ پر لینے والے کا نام (ب)پٹہ پر لینے والے کے والد کا نام (ج)پٹہ پر لینے والے کا پتہ(د)پٹہ پر دیے جانے کی تاریخ
6۔سال ————سے————کے دوران مذکورہ گرام پنچایت کے کتنے خاندانوں کو کانکنی کے قابل زمین پٹے پر دی گئی؟ اس کی لسٹ مندرجہ ذیل تفصیل اور رقبہ نمبر اور حلقے کا خاکہ کے ساتھ دیں۔
الف:پٹہ پر لینے والے کا نام( ب)ہپر لینے والے کے والد کا نام ( ج)پٹہ پر لینے والے کا پتہ (د)پٹہ پر دیے جانے کی تاریخ
7۔ سال———–سے ———-کے دوران مذکورہ گرام پنچایت کے کتنے خاندانوں کو شجر کاری کے لئے زمین دی گئی؟ اس کی پوری معلومات مندرجہ ذیل تفصیل کے ساتھ دیں ،اس کے علاوہ رقبہ نمبر اور حلقے کا خاکہ بھی دیں۔
الف:پٹہ پر لینے والے کا نام ( ب)پٹہ پرلینے والے کے والد کا نام ( ج)پٹہ پر لینے والے کا پتہ( د)پٹہ پر دیے جانے کی تاریخ
8۔اس وقت گرام پنچایت میں گرام سماج کی ایسی کتنی زمینمخصوص ہے، جس کا ابھی تک کسی پٹے کے لئے استعمال نہیں کیا گیا ہے؟ رقبہ نمبر اور حلقہ کے خاکہ کے ساتھ جانکاری دیں۔
9۔ گرام پنچایت میں بے زمین خاندانوں کو پٹے دینے کے تئیں کب کوشش کی گئی؟ اس کے لئے ذمہ دار افسروں کے نام ،عہدہ اور پتہ بتائیں۔ اس سے متعلق سبھی ہدایتوں اور حکموں کی کاپی فراہم کرائیں۔
میں درخواست فیس کے طور پر ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔روپے الگ سے جمع کر رہا ؍رہی ہوں یا میں بی پی ایل کارڈ ہولڈر ہوں، اس لئے سبھی طرح کی فیسوں سے آزاد ہوں۔ میرا بی پی ایل کارڈ نمبر ۔۔۔۔۔۔۔۔۔ہے۔
اگر مانگی گئی اطلاع آپ کے محکمے؍دفتر سے متعلق نہ ہو تو حق اطلاعات قانون2005 کی دفعہ 6(3) کا نوٹس لیتے ہوئے میری درخواست متعلقہ پبلک انفارمیشن آفیسر کو پانچ دنوں کے اندر منتقل کردیں۔ساتھ ہی اطلاع فراہم کراتے وقت فرسٹ اپیلیٹ آفسیر کا نام اور پتہ ضرور بتائیں۔ منسلک: (اگر کچھ ہو)
شکرگزار
نام ———————————- دستخط ———————————پتہ ———————————

Share Article

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *