نریندر مودی خوش فہمی میں ہیں

سنتوش بھارتیہ

Mastاس وقت ملک، نریندر مودی کے ساتھ کون ہے اور نریندر مودی کی مخالفت میں کون ہے، اس پر بنٹا ہوا ہے۔ مودی کے ساتھ جو لوگ بھی ہیں، وہ دیش بھکت ہیں اور جو ساتھ نہیں ہیں، وہ دیش بھکت نہیں ہیں، ایسا ماحول بنایا جا رہا ہے۔ اس ماحول پر پنچ تنتر کی ایک کہانی یاد آتی ہے، جس میں ایک رنگا ہوا بھیڑیا خود کو جنگل کا راجا ہونے کا اعلان کر دیتا ہے اور اس کے رنگے ہونے کی وجہ سے شیر سمیت سارے جانور اسے پہچان نہیں پاتے۔ بھیڑیا کافی دنوں تک جنگل پر اپنے بہروپیے پن یا رنگے ہونے کی وجہ سے حکومت کرتا ہے، لیکن جب بھیڑیوں کا ایک مجمع ہواں ہواں کرنے لگتا ہے، تو رنگا ہوا بھیڑیا بھی خود کو روک نہیں پاتا اور ہواں ہواں کرنے لگتا ہے۔ اس پر شیر چونک جاتا ہے اور بھیڑیے کو مارکر کھا جاتا ہے۔ اس کہانی کو آج کے تناظر میں ڈھال کر دیکھیں، تو پیغام ملتا ہے کہ جو لوگ چیخ چیخ کر خود کو بڑا دیش بھکت بتاتے ہیں، ان میں ملک سے غداری کرنے والے زیادہ بھرے ہوئے ملتے ہیں۔ ان کے بارے میں بعد میں بات کریں گے، سب سے پہلے ہم نوجوان نریندر مودی کے بارے میں بات کریں۔ ہمارے ملک میں بھیڑ چال بہت مزے سے چلتی ہے۔

2014 کے الیکشن میں کچھ لوگ فسادات کو پیمانہ بنانا چاہتے ہیں، لیکن خود مودی ترقی کو پیمانہ بنانا چاہتے ہیں۔ اس لیے مودی کے اس دعویٰ کو جانچنے پرکھنے کی ضرورت ہے۔ پچاس کی دہائی سے ہی صنعت کاری کی سمت میں گجرات ملک میں سب سے آگے تھا۔ ہندوستان کی سب سے بڑی کمپنی ریلائنس گجرات میں ہے۔ ہندوستان کی ساری بڑی ریفائنری گجرات میں ہے۔ سارے بڑے پاور پروجیکٹ گجرات میں ہیں۔ گجرات ملک کا واحد ایسا ساحل سمندر ہے، جہاں سے دورِ قدیم سے ہی تجارت ہوتی رہی ہے۔ اس لیے فطری ہے کہ گجرات میں سب سے زیادہ صنعت کاری ہوگی ہی۔ یہ نریندر مودی کی وجہ سے نہیں ہے۔ یہ گجرات کی روایتی اقتصادی مضبوطی کی وجہ سے ہے۔ اگر دہلی میں ڈیڑھ کروڑ لوگ آکر بس رہے ہیں، تو اس میں شیلا دیکشت کا کوئی کمال نہیں ہے، کیوں کہ اس کی وجہ ہے کہ دہلی میں ہی سارے بڑے دفتر ہیں۔ دہلی سے ہی راج کاج چلتا ہے، اس لیے دہلی میں لوگ آئیں گے ہی اور بسیں گے ہی۔

راشٹریہ سویم سیوک سنگھ نے شگوفہ چھوڑا کہ بوڑھوں کو ہٹا کر نوجوانوں کے ہاتھ میں اقتدار سونپنا چاہیے۔ راشٹریہ سویم سیوک سنگھ کے پاس نہ تو تجزیہ کرنے کی صلاحیت ہے، نہ ہی تاریخ سے سبق لینے کی عقل۔ راشٹریہ سویم سیوک سنگھ اب تک یہ نہیں سمجھ پایا کہ جن بوڑھوں کو سنگھ بیکار کہہ رہا ہے ان کی عمر، ان کا تجربہ اور ان کی سمجھداری ہی ان کی اصلی طاقت ہے۔ پچاسوں سال کی محنت کے بعد کوئی ایک لال کرشن اڈوانی یا مرلی منوہر جوشی بنتا ہے، جس کے سامنے سارا ملک ہوتا ہے۔ جس میں ہندو بھی ہوتے ہیں، مسلمان بھی ہوتے ہیں، دلت بھی ہوتے ہیں اور اونچی ذات کے لوگ بھی۔ ایسے لوگ سچائی سے منھ نہیں موڑتے، بلکہ سچائی کی زبان کو ادب سے رکھتے ہیں۔ ایسے لوگوں کے چہرے اور جسم کی زبان جارحانہ نہیں ہوتی، بلکہ سب کو ساتھ لے کر چلنے والی ہوتی ہے۔ اب تک ملک میں سب سے نوجوان وزیر اعظم راجیو گاندھی ہوئے۔ راجیو گاندھی کے نوجوان ہونے کی تعریف کانگریس کے ساتھ ساتھ سنگھ نے بھی کی تھی۔ بہت سے لوگوں کا یہ بھی ماننا ہے کہ انہوں نے ملک کا بہت بھلا کیا، لیکن یہ عجیب المیہ ہے کہ راجیو گاندھی نے جتنے سمجھوتے کیے، ان میں سے کوئی بھی اپنے منطقی انجام تک نہیں پہنچ پایا۔ چاہے راجیو – لونگو وال سمجھوتہ ہو یا اسم گن پریشد کے ساتھ ہوا سمجھوتہ ۔ راجیو گاندھی کی جلد بازی نے ان کی ماں کے ذریعے کھڑی کی گئی ایل ٹی ٹی ای نام کی طاقت کو توڑ دیا۔ اُدھر پربھاکرن کے لوگ مارے گئے، وہ بھی اپنے لوگ تھے اور جو اِدھر مارے گئے، وہ بھی اپنی فوج کے ہی لوگ تھے۔ ہمارے ملک کا کنیا کماری کا حصہ پربھاکرن کی وجہ سے محفوظ تھا، کیو ںکہ اس کی وجہ سے چین، سری لنکا میں داخل نہیں ہو پا رہا تھا۔ راجیو گاندھی کے اس فیصلے نے چین کو سری لنکا میں جگہ دے دی۔ اس سے ہماری سیکورٹی کی ایک دیوار گر گئی۔ راجیو گاندھی کے نوجوان ہونے کی وجہ سے ان کی جلد بازی کی ذہنیت کو اگر کوئی بزرگ ہوتا، تو وہ نہ اپناتا۔ نریندر مودی کو بھی اڈوانی اور جوشی کے مقابلے نوجوان ہونے کا فائدہ آر ایس ایس نے دیا۔ نریندر مودی میں بھی وہی جلد بازی ہے، جو راجیو گاندھی میں تھی۔ اسی لیے نریندر مودی نے پرچار کی بدولت بازار میں ایک مایا جال بُن دیا کہ وہ گجرات میں بہت کامیاب ہیں اور انہوں نے جو گجرات میں کیا، وہی سارے ملک میں کریں گے۔ بقول مودی، ان کے اوپر صرف ایک الزام ہے اور وہ بھی گجرات کا۔ چلئے مان لیتے ہیں کہ مودی نے گجرات کے فسادات نہیں کرائے یا مودی کا گجرات کے فسادات کو بڑھانے میں کوئی ہاتھ نہیں تھا۔ یہ بھی مانا جا سکتا ہے کہ صرف نریندر مودی پر فسادات کا الزام لگانا ان کے ساتھ نا انصافی ہے، کیوں کہ فسادات تو کانگریس کے دورِ حکومت میں بھی بہت ہوئے اور آج اسی طرح کے الزامات سے اکھلیش یادو بھی گھرے ہوئے ہیں۔ اگر فسادات کو بنیاد مانتے ہیں، تو ووٹوں کا پولرائزیشن ہوتا ہے۔ اس لیے نریندر مودی کو فسادات سے الگ رکھ کر بات کرتے ہیں، کیوں کہ اگر نریندر مودی کی پالیسی فسادات کرانے کی ہوتی، تو 2002 کے بعد بھی گجرات میں فسادات ہوئے ہوتے۔ مودی کو فسادات کے نام پر بدنام کیا جاتا ہے۔ لیکن خود نریندر مودی کیا کہتے ہیں؟ مودی خود کو ملک میں سب سے زیادہ ترقی کرنے والے شخص کے روپ میں سامنے لاتے ہیں۔ اس لیے مودی کا تجزیہ ترقی کو لے کر ہونا چاہیے، فسادات کو لے کر نہیں۔ 2014 کے الیکشن میں کچھ لوگ فسادات کو پیمانہ بنانا چاہتے ہیں، لیکن خود مودی ترقی کو پیمانہ بنانا چاہتے ہیں۔ اس لیے مودی کے اس دعویٰ کو جانچنے پرکھنے کی ضرورت ہے۔ پچاس کی دہائی سے ہی صنعت کاری کی سمت میں گجرات ملک میں سب سے آگے تھا۔ ہندوستان کی سب سے بڑی کمپنی ریلائنس گجرات میں ہے۔ ہندوستان کی ساری بڑی ریفائنری گجرات میں ہے۔ سارے بڑے پاور پروجیکٹ گجرات میں ہیں۔ گجرات ملک کا واحد ایسا ساحل سمندر ہے، جہاں سے دورِ قدیم سے ہی تجارت ہوتی رہی ہے۔ اس لیے فطری ہے کہ گجرات میں سب سے زیادہ صنعت کاری ہوگی ہی۔ یہ نریندر مودی کی وجہ سے نہیں ہے۔ یہ گجرات کی روایتی اقتصادی مضبوطی کی وجہ سے ہے۔ اگر دہلی میں ڈیڑھ کروڑ لوگ آکر بس رہے ہیں، تو اس میں شیلا دیکشت کا کوئی کمال نہیں ہے، کیوں کہ اس کی وجہ ہے کہ دہلی میں ہی سارے بڑے دفتر ہیں۔ دہلی سے ہی راج کاج چلتا ہے، اس لیے دہلی میں لوگ آئیں گے ہی اور بسیں گے ہی۔ نریندر مودی اگر گجرات کے وزیر اعلیٰ نہیں ہوتے، تو بھی گجرات کی ترقی ہوتی ہی۔ ریلائنس کی فیکٹری نریندر مودی کے اقتدار میں آنے سے پہلے لگی۔ پہلے اس کی کیپسٹی (Capacity) 120 ملین ٹن تھی، مودی کے آنے کے بعد آج بھی اتنی ہی کیپسٹی ہے۔ اگر ترقی ہوتی، تو نئی نئی چیزیں گجرات میں آتیں۔ نریندر مودی کے راج میں نیا کیا آیا؟ نریندر مودی کے راج میں ٹاٹا کی نینو آئی، جو کہ فلاپ ہو گئی۔ ماروتی کا نیا پلانٹ آیا۔ ادانی کے کچھ پاور پروجیکٹ آئے۔ اب اِن پلانٹس کی گہرائی میں جائیں۔ نریندر مودی نے صنعتوں کو 12 فیصد سیلس ٹیکس کی چھوٹ دے دی۔ اب اگر اس چھوٹ کو کیل کولیٹ کریں، تو یہ پلانٹ مفت کا پڑ جاتا ہے۔ مثال کے لیے 10 کروڑ کی لاگت کا ایک پلانٹ 100 کروڑ کی پیداوار کرتا ہے۔ اگر اس پر 12 فیصد کی سیلس ٹیکس کی چھوٹ کو دیکھیں، تو صنعت کار 12 کروڑ کی بچت کرتا ہے۔ 10 کروڑ کی لاگت سے لگا ہوا پلانٹ اگر 12 کروڑ کا منافع سیلس ٹیکس میں چھوٹ سے کما لیتا ہے، تو کون انڈسٹری لگانے نہیں جائے گا، کیوں کہ پلانٹ تو مفت کا ہو گیا۔ نریندر مودی نے اپنے دورِ حکومت میں جتنے اعلانات کیے، ان میں سے کتنے پورے ہوئے؟ ابھی انہوں نے اعلان کیا ہے کہ وہ سردار پٹیل کی مورتی کو اسٹیچو آف لبرٹی سے بڑی بنائیں گے۔ انہوں نے یہ کام گزشتہ 12 سالوں کے اندر کیوں نہیں کیا؟ کیا ملک میں لوہے کی کمی تھی؟ سردار پٹیل کی مورتی بنانے کی بات 2014 کے انتخابات کے وقت ہی کیوں اٹھی؟ اور وہ سردار پٹیل، جنہوں نے راشٹریہ سویم سیوک سنگھ پر پابندی عائد کی تھی۔ اسے جانچنا چاہیے کہ نریندر مودی نے گجرات کی ترقی کس قیمت پر کی اور سردار پٹیل کی مورتی 12 سال پہلے کیوں نہیں بنالی۔ نریندر مودی کے اوپر صرف عشرت جہاں کیس کا الزام ہی نہیں ہے۔ جانچ ایجنسیوں کی رپورٹوں کو دیکھیں، تو ہرین پانڈیہ کے قتل کا واقعہ بھی یاد آتا ہے۔ سی بی آئی نے فائنل رپورٹ لگا دی تھی کہ اس کا کوئی سراغ نہیں مل رہا، لیکن اب سپریم کورٹ کی ہدایت پر یہ کیس دوبارہ کھولا جار ہا ہے۔ اس کی جڑ میں تلسی پرجا پتی کا کیس بھی ہے اور اب یہ سچ سامنے آنے والا ہے کہ جو پولس آفیسر عشرت جہاں کیس میں شامل تھے، وہی آفیسر ہرین پانڈیہ کے قاتلوں کو اپنی گرفت میں لے کر نیپال سرحد پر انہیں بحفاظت چھوڑ آئے تھے۔ اگر ایک بھی الزام ثابت ہوگیا، تو یہ مانا جائے گا کہ نریندر مودی اقتدار کے لیے اپنے ساتھیوں کو بھی نہیں بخشتے ہیں۔ کچھ اخباروں نے تو قتل کے ملزم وزیر اعظم جیسے امکانات بھی ظاہر کر دیے ہیں۔ اس کا مطلب صاف ہے کہ صنعت کاری فطری طور پر ہوئی، نہ کہ اس کے پیچھے مودی ہیں۔ جن نئے کارخانوں کو لانے میں وہ اپنی ترقی دیکھتے ہیں، وہ اس لیے آئے، کیوں کہ انہیں مفت میں زمینیں اور سیلس ٹیکس میں چھوٹ ملی۔ جہاں بھی یہ سہولیات ملیں گی، وہاں صنعت کار جائیں گے ہی، کیوں کہ ایس ای زیڈ کے نام پر صنعت کار ہی زمینیں لوٹ رہے ہیں۔ جو ریفائنریاں نریندر مودی کے آنے سے پہلے لگیں، وہ تو اٹھ کر کہیں جا نہیں سکتیں۔ اب اگر ریفائنری ہوگی، تو ایک لاکھ لوگوں کو روزگار ملے گا ہی۔ اگر ریفائنریاں رہیں گی، تو تیل کی آمد و رفت بڑھے گی۔ فی کس آمدنی ہوگی۔ تب اس میں نریندر مودی کا نیا کمال کیا تھا؟ ہاں، نریندر مودی کا ایک نیا کمال ہے ضرور۔ انہوں نے گجرات میں سنگھ کا سارا ڈھانچہ توڑ دیا، یعنی سیلاب ہی کھیت کو کھا گیا۔ ونجارا کا خط بتاتا ہے کہ عشرت جہاں کو مارنے یا تلسی پرجا پتی جیسے لوگوں کو مارنے کا فیصلہ ان کا نہیں، ریاستی حکومت کا تھا اور ریاستی حکومت سے سیدھا مطلب امت شاہ اور نریندر مودی سے ہے۔ سوال تو کھڑا ہوتا ہے نہ! نریندر مودی اور امت شاہ نے جس پالیسی کو اپنایا، اس پالیسی پر عمل کرنے والے صرف افسر قصوروار کیوں؟ پالیسی بنانے والے بھی تو قصوروار ہونے چاہئیں اور قتل کو اگر سپریم کورٹ صحیح مان لیتا ہے، تو پالیسی بنانے والے لوگ بھی قتل کی سازش کے حصہ دار ہو جائیں گے۔ سپریم کورٹ کہتا ہے کہ جو لوگ جیل میں ہیں، انہیں الیکشن نہیں لڑنا ہے۔ اس کا سیدھا سا مطلب ہے کہ یا تو ڈی آئی جی، آئی جی، ہوم سکریٹری، وزیر داخلہ اور وزیر اعلیٰ حلف نامہ دیں کہ وہ الیکشن نہیں لڑیں گے یا پھر سپریم کورٹ یہ یقینی بنائے کہ عشرت جہاں، ہرین پانڈیہ اور تلسی پرجا پتی کیس کا فیصلہ دسمبر تک ہو جائے گا، تاکہ نریندر مودی اور امت شاہ کے اوپر قتل کی ممکنہ سازش کرنے والے کے طور پر لگا دھبہ اپنے آپ ہٹ جائے۔ آسا رام باپو کے بیٹے نارائن سائیں نے کہا کہ میرے والد نے عصمت دری نہیں کی۔ سوال اٹھتا ہے کہ تب رات میں آسا رام باپو لڑکی کے ساتھ کیا کر رہے تھے؟ عدالت میں آسا رام باپو کے دوست اور ملک کے ایک نامی گرامی وکیل دلیل دیتے ہیں کہ لڑکی کو جنسی خواہش کی بیماری ہے۔ کیا یہ دلیل زیب دیتی ہے۔ یہی بڑے وکیل نریندر مودی کے بھی گہرے دوست ہیں۔ انہیں راجیہ سبھا میں لانے کا فیصلہ نریندر مودی کی وجہ سے ہی ہوا۔ وکالت کا پیشہ کرنا ایک بات ہے اور وکالت کے ساتھ انصاف کرنا دوسری بات۔ جو وکالت کا پیشہ کرتے ہیں، وہ بے شرمی کے بامِ عروج پر پہنچ جاتے ہیں۔ یہ وکیل صاحب نریندر مودی کی ٹیم کا اہم حصہ ہیں اور ہمارے شاستروں میں لکھا ہے کہ آدمیوں کی پہچان اس کے ساتھیوں سے بھی ہوتی ہے۔ ایک اور کمال ہوا ہے۔ ابھی تک کسی نے نریندر مودی سے یہ نہیں پوچھا کہ ان کی دفعہ 370 کے بارے میں کیا رائے ہے؟ کسی بڑے صحافی نے یہ بھی نہیں پوچھا کہ رام جنم بھومی اور بابری مسجد پر ان کی کیا رائے ہے؟ کامن سول کوڈ پر بھی مودی خاموش ہیں۔ ان سوالوں پر مودی اس لیے خاموش ہیں، کیوں کہ جواب آتے ہی یا تو ہندو روٹھے گا یا پھر مسلمان۔ اور اگر وہ جواب دیتے ہیں کہ عدالت کے فیصلے کو مانیں گے، تو وہ ’کٹر ہندو ہردیہ سمراٹ‘ نہیں رہ جاتے۔ وہ صحافی جو اِن سوالوں کے پوچھنے میں اپنی شان سمجھتے تھے، آج خاموش بیٹھے ہیں۔ دراصل، ابھی سمندر میں جوار (مد) آیا ہوا ہے اور جب جوار آتا ہے، تو بھاٹا (جزر) بھی آتا ہے۔ ہندوستان کے میڈیا کو ایک پپو کی تلاش ہوتی ہے اور اس وقت انہوں نے نریندر مودی کو پپو بنایا ہے۔ اور جب کوئی پپو بن جاتا ہے، تو وہ پپو بنے رہنے کے لیے پیسے دیتا ہے اور اس کا مخالف خیمہ پپو کو ڈبو بنانے کے لیے پیسے دیتا ہے۔ میڈیا یہی کھیل کر رہا ہے۔ یہ بھی جاننے کی ضرورت ہے کہ نریندر مودی کے دعووں میں سچائی کتنی ہے۔ صرف ایک چیز سمجھ میں نہیں آتی کہ اگر وہ اچھے حکمراں ہیں، تو ان پر قتل کرنے کا الزام کیوں لگ رہا ہے؟ اگر اچھے حکمراں ہیں، تو زمینیں مفت میں کیوں دے رہے ہیں؟ سچ کا ایک پہلو یہ بھی ہے کہ دنیا کا کوئی قانون کسی کی بھلائی کے لیے نہیں بنتا۔ جو لوگ طاقتور ہوتے ہیں، وہ اپنی بھلائی کے لیے قانون بناتے ہیں اور اس عمل میں جس کا فائدہ ہونا ہو، ہو جائے۔ کچھ لوگوں کا ہو بھی جاتا ہے۔ جیسے دہلی میں کچھ کالونیوں کو لیگلائز کرنے کا فیصلہ ہوا۔ یہ فیصلہ جھگی جھونپڑی میں رہنے والوں کو دھیان میں رکھ کر نہیں کیا گیا۔ اس لیے کیا گیا، تاکہ کانگریس جیت جائے۔ اسی بہانے جھگی جھونپڑی والوں کو فائدہ ہو گیا۔ مودی بہت جلدی میں تھے، انہوں نے سارے ملک میں ایک اچھی ریاست اور حکمراں کا پرچار کیا۔ اس کے لیے بڑی بڑی کمپنیوں کی خدمات حاصل کیں۔ میڈیا میں اس کا پرچار کرایا، جس میں بڑا پیسہ ٹیلی ویژن چینلوں پر خرچ ہوا۔ کسی نے نہیں پوچھا کہ اتنا پیسہ آ کہاں سے رہا ہے۔ یہ پیسہ امبانی، ادانی اور روئیا خرچ کر رہے ہیں یا یہ پیسہ ریاست کی اسکیموں کے راستے بے ایمانی سے بہہ رہا ہے۔ نریندر مودی کی ریواڑی میں ایک بڑی ریلی ہوئی۔ اس ریلی میں کروڑوں روپے خرچ ہوئے۔ وہ پیسہ کہاں سے آیا؟ بی جے پی کے ہمارے دوست بتاتے ہیں کہ کم از کم ایک لاکھ لوگوں کی ریلی کرانے کا وعدہ کوئی کرے، تو اسے فی کس ایک ہزار روپے کے حساب سے خرچ گجرات میں ایک ٹیم دے سکتی ہے۔ مودی وزیر اعظم کے عہدہ کے امیدوار نہ تو کارکنوں کے دباؤ میں بنے، نہ ہی پارٹی نے پرجوش ہو کر بنایا۔ نہ ہی وہ سازش کا نتیجہ ہیں اور نہ ہی پیسے والے انہیں چاہتے تھے کہ وہ وزیر اعظم کے عہدہ کے امیدوار بنیں۔ حالات بن گئے۔ ایک طرف میڈیا پر اندھا دھند پیسہ، جس پر میڈیا نے کوئی سوال نہیں اٹھایا کہ یہ پیسہ کہاں سے آ رہا ہے؟ انا ہزارے اگر عوام کے درمیان گھومیں، تو سوال اٹھتا ہے کہ ان کی کار میں پٹرول کون ڈلوا رہا ہے؟ اس پر طرہ یہ کہ مودی ایماندار آدمی ہیں۔ شاید ایمانداری کی تعریف بدل گئی ہے۔ گلزاری لال نندہ اس ملک کے وزیر اعظم ہوئے، لیکن نریندر مودی کو یاد نہیں ہے۔ گلزاری لال جی نہایت ایماندار تھے۔ دوسری مثال لال بہادر شاستری کی ہے، جو موت کے وقت بینکوں کے قرضے میں تھے۔ اب تو یہ طے کرنے کا سوال ہے کہ ایماندار لفظ نریندر مودی کے ساتھ جڑے گا یا گلزاری لال نندہ اور لال بہادر شاستری کے ساتھ۔ سوال اٹھتا ہے کہ کون مودی کے لیے اتنا پیسہ خرچ کر رہا ہے۔ بھارتیہ جنتا پارٹی اڈوانی جی کو وزیر اعظم کے عہدہ کا امیدوار بناکر دیکھ چکی تھی اور اس کی سیٹیں کم ہوئی تھیں۔ اس بار اس کے سامنے دو ہی چہرے تھے۔ خواتین میں سشما سوراج اور مردوں میں نریندر مودی۔ سشما سوراج کے پاس پیسہ نہیں تھا۔ ہائپ کرئیٹ کرنے کی طاقت نہیں تھی۔ ان کے پاس صرف ان کی بولی تھی۔ دوسری طرف نریندر مودی کے پاس سب کچھ تھا۔ ارون جیٹلی اور اوما بھارتی کسی کیٹیگری میں نہیں آتے۔ اس لیے نریندر مودی امیدوار بن کر سامنے آئے۔ سنگھ نریندر مودی سے چھٹکارہ پانا چاہتا تھا، کیوں کہ سنگھ گجرات میں نریندر مودی کی وجہ سے اپنے نظام کو بکھرتے ہوئے دیکھ چکا تھا۔ نریندر مودی پوری طرح سے حالات کی دین ہیں۔ نریندر مودی فطری امیدوار کہے جاسکتے ہیں، لیکن وہ فطری امیدوار ہیں نہیں۔ سنگھ میں سنگھ کو کنٹرول کرنے والے جتنے لوگ ہیں، ان سب کی عمر اڈوانی جی سے کم ہے۔ وہ نہ اڈوانی جی سے کچھ کہہ پاتے تھے، نہ ہی ان سے اونچی آواز میں بات کر پاتے تھے۔ وہ لوگ اڈوانی نام کے وبال سے چھٹکارہ بھی پانا چاہتے تھے۔ اس کے لیے انہیں نریندر مودی سب سے موزوں کردار نظر آئے۔ کہا جاسکتا ہے کہ سشما سوراج اور مودی میں، مودی کے پاس پیسہ تھا اور میڈیا کو استعمال کرنے کی چالاکی تھی۔ بی جے پی کو ایک چہرہ کی تلاش تھی، تاکہ اڈوانی کے وقت سے اور کم سیٹیں نہ آ سکیں۔ سنگھ نہ صرف اڈوانی سے چھٹکارہ پانا چاہتا تھا، بلکہ ملک میں یہ تنازع بھی کھڑا کرنا چاہتا تھا، کیوں کہ اس کو اس کہاوت پر بھروسہ تھا کہ بدنام ہوئے تو کیا، نام نہ ہوا۔ بھارتیہ جنتا پارٹی کے ایک بڑے لیڈر سے میری بات ہوئی، جنہیں اس حکمت عملی میں بہت بڑی خامی نظر آتی ہے۔ وہ کہتے ہیں کہ اگر اپریل میں ہونے والے لوک سبھا انتخابات سے دو ماہ قبل مودی کے نام کا اعلان ہوتا، تو جنتا دل ان سے دور نہیں جاتا۔ تب تک ممتا بنرجی اور جے للتا سے بھی پکی بات ہو سکتی تھی۔ تب تک اڈوانی جی کے نام کا بھرم بنے رہنے دینا چاہیے تھا۔ اب جے للتا نے کہہ دیا ہے کہ وہ الیکشن کے بعد گٹھ بندھن پر غور کریں گی۔ کرونا ندھی نے مودی سے ملنے سے منع کر دیا ہے۔ ممتا بنرجی مودی کا نام نہیں سننا چاہتیں اور نتیش کمار نے تو خود کو پہلے ہی الگ کر لیا ہے۔ اتنا ہی نہیں، بہار میں سرکار بھی نہیں جاتی۔ اگر بہار میں سرکار نہیں جاتی، تو اس کا اثر دہلی پر پڑتا۔ اس حالت میں بہار اور پوروانچل کے سارے ووٹ بی جے پی کو ملتے، تو دہلی میں بی جے پی اکثریت کے ساتھ سرکار بناتی۔ راجستھان میں جے ڈی یو کی موجودگی ہے۔ وہاں وہ بی جے پی کا ساتھ دیتا اور آسانی سے ان کی سرکار بنتی۔ آج کی تاریخ میں وسندھرا راجے سندھیا اور اشوک گہلوت برابری پر کھڑے ہیں۔ ریاستوں کے انتخابات بھی نکل جاتے اور مودی کا ٹیسٹ بھی نہیں ہوتا۔ مودی ممکنہ غیر اعلانیہ امیدوار کے طور پر کرناٹک گئے تھے۔ بی جے پی وہاں بری طرح نہ صرف الیکشن ہاری، بلکہ ضمنی انتخاب بھی ہاری۔ اگر اچانک اعلان ہوتا، تو کانگریس بھی پریشانی میں پڑ جاتی اور اس وقت یہی ہائٹ کرئیٹ ہوتی، جو آج ہوئی ہے، تو مودی 370 سیٹیں لا سکتے تھے۔ اگر کوئی سیاسی دماغ فیصلہ لیتا، تو ایسا فیصلہ لیتا۔ چونکہ یہ فیصلہ حالات کے مطابق رہا، اس لیے ان باتوں پر غور ہی نہیں ہوا۔ اگر مان لیجئے چار ریاستوں میں ہونے والے آئندہ اسمبلی انتخابات میں بی جے پی پٹ گئی، تو کیا ہوگا؟ جب تک نتیجے نہیں آ جاتے، تب تک کچھ نہیں کہا جاسکتا۔ مودی برانڈ کا تب کیا ہوگا؟ گزشتہ لوک سبھا الیکشن اس کی مثال ہے۔ کوئی نہیں مانتا تھا کہ کانگریس 110 یا 112 سے اوپر جائے گی، لیکن کانگریس 200 سیٹیں لے آئی۔ بھارتیہ جنتا پارٹی میں سازشیں آج کل بہت ہوتی ہیں۔ دو گھنٹے بعد نتن گڈکری کو بی جے پی کے صدارتی عہدہ پر دوسرا ٹرم ملنے والا تھا۔ ایک انکم ٹیکس افسر نتن گڈکری کے یہاں چائے پینے گیا اور حقیقت میں وہ انہیں ایک نوٹس دینے والا تھا۔ اس نے چائے پینی شروع کی اور اِدھر سارے ملک کے چینلوں میں یہ خبر چلنی شروع ہوگئی کہ گڈکری کے یہاں چھاپہ پڑا ہے۔ بھارتیہ جنتا پارٹی کا کون لیڈر وزیر خزانہ کے رابطہ میں تھا اور کون ٹیلی ویژن چینلوں کے رابطہ میں تھا، جو چائے کی شروعات ہوتے ہی سب جگہ خبریں چلنے لگیں کہ چھاپہ پڑا۔ اڈوانی جی نے ایسا کیا گناہ کیا تھا کہ سازشی لوگوں نے موہن بھاگوت سے ایسا بیان دلوا دیا کہ وہ صدارتی عہدہ پر ڈی 4 کو نہیں چاہتے۔ ڈی 4 یعنی اڈوانی جی کے ساتھی۔ اس ملک کا میڈیا آج تک تو اتنا تیز نظر نہیں آیا کہ ایک انکم ٹیکس کا افسر چائے پینے جائے اور انہیں خبر مل جائے۔ کیا بھارتیہ جنتا پارٹی سازشی پارٹی بن گئی ہے؟ اس سے تو یہی لگتا ہے کہ اس پارٹی میں سازشیں بڑی خوبصورتی سے چلائی جا رہی ہیں۔ نریندر مودی کی ریاست میں امبانی، روئیا، ادانی، ٹاٹا سمیت تاجروں کی مجبوری ہے کہ وہ مودی کا ساتھ دیں اور نریندر مودی کا فائدہ 100 روپے لگا کر 1000 روپے کمائیں۔ جسمانی سائنس کو جاننے والے ماہرین کا کہنا ہے کہ اچھل اچھل کر چلنے والا آدمی سوچی سمجھی ترقی کرتا ہے اور اتفاق سے نریندر مودی کی چال اچھل اچھل کر چلنے والی ہی ہے۔ نریندر مودی نے اس تھیوری کو صحیح ثابت کیا ہے۔ ان کی شروعات سیاست کی سب سے نچلی سیڑھی سے ہوئی ہے اور آج وہ پہلے پائیدان پر آ چکے ہیں۔ نریندر مودی کے دماغ کی اور ان کی حکمت عملی کی بنا شرط تعریف کرنی چاہیے۔ ملک سے غداری صرف ملک کے بارے میں دشمنوں کو خبر دینا ہی نہیں ہوتا۔ جمہوریت کے وجود پر حملہ کرنا بھی ملک سے غداری ہوتی ہے۔ اور اگر ہم ہندوستان کی فوج میں فرقہ واریت پھیلانے کی کوشش کریں، تو یہ ملک سے غداری کرنے سے کم نہیں ہے۔ اگر 20 کروڑ لوگوں کو بحر عرب میں ڈبا دینے یا 20 کروڑ لوگوں کا قتل عام کرنے کا منصوبہ ذہن میں نہیں ہے، تو 20 کروڑ لوگوں کو ساتھ لے کر جینے کی اور ترقی کرنے کی باتیں سامنے آنی چاہئیں، جو ابھی تک سامنے نہیں آئی ہیں۔ اس لیے جو زیادہ دیش پریم – دیش پریم چلّاتے ہیں، دراصل وہ اپنی ملک سے غداری کی فطرت کو چھپانے کے لیے ملک سے محبت کا نام لیتے ہیں۔ سب سے بڑے اور سیدھے سوال کا جواب ابھی بھی مستقبل کی گرد میں ہے۔ اگر نریندر مودی 160-180 یا 200 سیٹیں بھی جیت جاتے ہیں، تو باقی 73 سیٹیں کہاں سے آئیں گی اور تب بھارتیہ جنتا پارٹی اور سنگھ کو لال کرشن اڈوانی کے دروازے پر جانا ہی پڑے گا۔ بھارتیہ جنتا پارٹی میں اس وقت وہی ایک ایسے لیڈر ہیں، جن کا زیادہ تر سیاسی پارٹیوں سے رابطہ ہے اور یہی لال کرشن اڈوانی کی طاقت ہے۔

سنتوش بھارتیہ

سنتوش بھارتیہ

Editor-in-cheif at Chauthi Duniya
سنتوش بھارتی’چوتھی دنیا‘ کے مدیر اعلی ہیں۔ہندی صحافت میں ان کا نام کسی تعارف کا محتاج نہیں ان کا شمار ہندوستان کے 10معروف صحافیوں میں کیا جاتا ہے۔ وہ ایسے مدبر اور مفکر ہیں جوتبدیلی میں یقین رکھتے ہیں۔1986میں جب انھوں نے چوتھی دنیا کا آغاز کیا تھا، تب انھوں نے صحافت کو مکمل طور پر نئے معنی دیئے تھے۔
سنتوش بھارتیہ
Share Article

سنتوش بھارتیہ

سنتوش بھارتی’چوتھی دنیا‘ کے مدیر اعلی ہیں۔ہندی صحافت میں ان کا نام کسی تعارف کا محتاج نہیں ان کا شمار ہندوستان کے 10معروف صحافیوں میں کیا جاتا ہے۔ وہ ایسے مدبر اور مفکر ہیں جوتبدیلی میں یقین رکھتے ہیں۔1986میں جب انھوں نے چوتھی دنیا کا آغاز کیا تھا، تب انھوں نے صحافت کو مکمل طور پر نئے معنی دیئے تھے۔

One thought on “نریندر مودی خوش فہمی میں ہیں

  • October 19, 2013 at 5:06 pm
    Permalink

    plz send recent artical on above email

    Thanking you

    shamshad
    یو.

    Reply

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *