مودی کا مسلمانوں کی حمایت ملنے کا دعویٰ:کتنی حقیقت کتنا فسانہ

 

وسیم راشد

Mast... حیرت ہے کہ مسلمانوں سے ٹوپی نہ پہننے والے مودی کو اچانک 2014 کےعام انتخابات کے نزدیک آتے آتے مسلم ووٹرس کا خیال ستانے لگا اوران کو لگا کہ یہ وہ صحیح وقت ہے جب وہ مسلمانوں اور خاص طورپر پچھڑے طبقے کے مسلمانوں کو ووٹ دینے کے لیے راضی کرسکتے ہیں اور نہ جانے کس خوش فہمی یا غلط فہمی کے تحت انہوں نے یہ بیان دے ڈالا کہ گجرات کے اسمبلی انتخابات میں مسلمانوں نے بی جے پی کو 20سے25فیصد ووٹ دیا ہے۔ آئیے دیکھتے ہیں کہ کیا ہے مودی کے اس بیان کی سچائی اور کتنی حقیقت ہے اس کہانی میں؟

یہ الیکشن کی بساط ہے اور اس بساط پر سارے مہرے اپنی اپنی چالیں چل رہے ہیں۔ پیادے بھی بادشاہ بننے کی کوشش میں ہیں اور اس بساط پر بی جے پی ، کانگریس اور دوسری پارٹیاں کھل کر کھیل رہی ہیں۔ جیسے جیسے الیکشن قریب آ رہے ہیں مودی بحث کا موضوع بنتے جا رہے ہیں اور مودی کی شہرت جتنی منفی ہوتی جارہی ہے اتنا ہی ان کو فائدہ ملتا جاتا ہے ۔ ہندوستان کی تاریخ میں مودی شاید اکیلے ہی ایسے لیڈر ہیں، جن کے یا تو لوگ سخت خلاف ہیں اور یا پھر زبردست حامی۔ ظاہر ہے بی جے پی نے مودی کا کارڈ بہت سوچ سمجھ کر کھیلا ہے۔ گجرات کی سیاست سے قومی سیاست میں قدم رکھنے والے مودی نے کانگریس کو بوکھلا دیا ہے۔ ظاہر ہے راہل گاندھی بھی کانگریس کے لئے ترپ کا پتہ ہیں اور اپنے اس یوراج پر کانگریس کو بڑا بھروسہ ہے، بڑا ناز ہے لیکن مودی کی مقبولیت نے کانگریس کو بھی سوچنے پر مجبور کر دیا ہے۔ ہندو نظریاتی تنظیم آر ایس ایس جو مودی کی سخت مخالف تھی اب مودی کو وزیر اعظم کے طور پر قبول کر رہی ہے۔ اسی طرح وشو ہندو پریشد نے بھی مودی کو اوتار مان لیا ہے۔ مودی ایسے میں خوب کھل کر سامنے آ رہے ہیں اور انھوں نے 15اگست کو جس طرح بھج میں تقریر کر کے خود کو وزیر اعظم کے مدمقابل لا کھڑا کیا ، اس سے یہ بات بھی ثابت ہو گئی کہ وہ خود بھی اپنے آپ کو مستقبل کے وزیرا عظم کے روپ میں دیکھ رہے ہیں۔پر ہمارے لئے بحث کا موضوع یہ نہیں ہے کہ وہ خود کو کیا سمجھ رہے ہیں۔ ہمارے لئے اہم یہ ہے کہ وہ کس بنیاد پر یہ کہہ رہے ہیں کہ گجرات اسمبلی الیکشن میں مسلمانوں نے ان کی پارٹی کو 20سے 25فیصد ووٹ دیا ہے اور اگر گجرات میں مسلمان اتنی بڑی تعداد میں ووٹ دے سکتا ہے تو 2014کے الیکشن میں لوک سبھا انتخابات میں کیوں نہیں مسلمان ووٹرس تک پہنچا جائے۔

پہلی بات تو یہ ہے کہ ابھی کچھ عرصہ پہلے ہی ایک سروے کی بنیاد پر یہ کہا گیا تھا کہ گجرات الیکشن میں9فیصدمسلم ووٹ ملے ہیں۔ اب یہ سمجھ میں نہیں آ رہا کہ یہ اعداد و شمار مودی کو کہاں سے ملے ہیں؟ اور یہ کیسے طے پائے کہ مودی جو کہہ رہے ہیں وہ سچ ہے کیونکہ ابھی تک کسی بھی نیوز چینل یا اخبار میں اس طرح کی کوئی رپورٹ یا تفصیل دیکھنے کو نہیں ملی ہے۔ ہاں یہ ضرور ہے کہ مودی مسلمانوں کو جوڑنے کی کوشش کر رہے ہیں اور 2014کے الیکشن کی تیاری کو سامنے رکھتے ہوئے گاندھی نگرکے مہاتما مندر میں ایک پروگرام کا انعقادبھی اس سلسلہ میں کیا گیا تھا، جس کی خاص بات یہ تھی کہ پورے ملک کے نوجوانوں کو اس میں جمع کیا گیا تھا اور خاص طور پر نوجوانوں کو ہی اس میٹنگ میں اہمیت دی گئی تھی اور جو خاص بات اس پروگرام کی تھی وہ یہ کہ 200کی فہرست میں30اقلیتی طبقہ سے تعلق رکھتے تھے، جس میں کچھ مسلم اسکالرس بھی تھے۔ اس فہرست میں سابق صدر اے پی جے عبد الکلام بھی شامل تھے۔ جنھوں نے مودی کے ساتھ نوجوانوں سے خطاب کیا۔ اس کے علاوہ کچھ مسلم نوجوان کشمیر، حیدرآباد، اتر پردیش، ممبئی، لکش دویپ اور احمدا آباد سے بھی اس میٹنگ میں شامل ہوئے تھے۔ اس پروگرام کو کرنے والوں میں مشہور صنعت کار ظفر سریسوالا بھی شامل تھے۔ اس کے علاوہ دارالعلوم دیوبند سے مفتی اعجاز ارشد جو کہ نوجوان اسلامک اسکالر مانے جاتے ہیں۔ وہ بھی شامل تھے اور مفتی مبین مدنی جو کہ مدینہ یونیورسٹی سے فارغ ہیں، وہ بھی اس پروگرام میں بلائے گئے تھے ۔ اسی پروگرام میں ظفر محمود جو کہ زکوٰۃ فائونڈیشن کے چیئر مین اور سچر کمیٹی کے ممبر ہیں ۔ انھوں نے ایک بھارت کے عنوان سے تقریر بھی کی تھی۔

دو ہزار دو میں مودی کے چیف منسٹر بنتے ہی گودھرا کا نڈ ہوا ، جو سوچی سمجھی اسکیم کے تحت تھا۔ ورنہ سوچئے کہ چلتی ٹرین یا رکی ہوئی ٹرین میں سے بھی کوئی باہر سے تیل ڈال کر کیسے آگ لگا سکتا ہے؟ بہرحال آگ لگی اور تقریباً57ہندواس میں بری طرح جھلس گئے جس کے ردِعمل میں گودھرا سانحہ ہوا اور مسلمانوں کے گاؤں کے گاؤں اس میں تباہ و برباد کر دئے گئے۔ سرکاری اعداد و شمار صرف 2000بتاتے ہیں جبکہ تعداد اس سے کئی گناہ زیادہ ہے۔

اب ان تمام مسلم نوجوانوں یا اے پی جی عبدالکلام کی بات کی جائے تو ان سب میں کوئی بھی ایسا آدمی نہیں ہے۔ جس کو یہ کہا جا سکے کہ یہ مسلمانوں کی نمائندگی کر سکتا ہے یا کر رہا ہے۔ عبد اکلام کی شبیہ ایک اچھے ، ایماندار، سچے ، مخلص شہری او ر صدر کی ہو سکتی ہے ، لیکن وہ مسلمانوں کو ووٹ دینے کے لئے بی جے پی کی مدد کریں گے ۔ ایسا ناممکن ہے۔اسی طرح ظفر محمود سچر کمیٹی کے حوالے سے ضرور جانے جاتے ہیں ،لیکن پورے ملک کی اگر بات کی جائے تو ان کو کوئی نہیں جانتا ۔ صرف دہلی میںہی ان کی شناخت ہے۔ آگے تو یہ کہنے کی ضرورت ہی نہیں کہ باقی مسلم نوجوان بی جے پی کے لئے ووٹ لا سکتے ہیں یہ بات ہی بڑی مضحکہ خیز ہے۔
اب سوال پیدا ہوتا ہے، 20سے 25والے مودی کے بیان کا۔ تو پہلی بات تو یہ کہ مودی کے اعداد و شمار کا کوئی بھی ثبوت نہیں ہے اور نہ ہی بی جے پی کبھی مسلمانوں کے لئے سنجیدہ رہی ہے۔ خود گجرات اسمبلی الیکشن میں مودی نے کسی ایک بھی مسلم امیدوار کو ٹکٹ نہیں دیا۔ ظاہر ہے اس کے پیچھے یہ سوچ ضرور شامل ہو گی کہ ہندو ووٹ متاثر ہوگا ۔ اب جبکہ ووٹ لینے کا وقت آیا ہے تو مودی کو مسلمان یاد آ رہے ہیں۔ اس کا مطلب یہی ہے کہ مودی کا لینے اور دینے کا پیمانہ الگ الگ ہے۔ دینے کے لئے ان کے پاس کسی امیدوار کو ایک پارٹی ٹکٹ بھی نہیں اور لینے کے لئے 20سے 25فیصد ووٹ۔ ایسے میں کیا مودی کوئی ایسا ڈاٹا پیش کر سکیں گے جو یہ ثابت کر سکے کہ ان کو گجرات کے مسلمانوں نے 20سے 25فیصد ووٹ دیا ہے۔ پر اب ہم دوسری بات کرتے ہیں اور وہ بات بہت کڑوی ہے ، لیکن سچ ہے ۔ ہو سکتا ہے مودی کا 20سے 25والا ڈاٹا صحیح ہوکیونکہ گجرات کے مسلم اکثریتی علاقوں سے بی جے پی نے تو ظاہر ہے کسی مسلم کو ٹکٹ دیا ہی نہیں لیکن کانگریس نے ان علاقوں سے مسلم امیدواروں کو ٹکٹ دیاتھا۔ اب اس میں پہلا سوالیہ نشان کانگریس پر بھی لگ جاتا ہے، وہ یہ کہ کانگریس نے آج تک کسی ایسی جگہ سے مسلمان کو ٹکٹ نہیں دیا ، جہاں مسلم اکثریت نہ ہو۔ اس بات کو چھوڑ کر ہمیں پھر واپس اسی سوال پر آجانا چاہئے کہ جہاں گجرات میں مسلمانوں کو ٹکٹ دیا گیا ، وہاں مودی کے امیدوار جیتے ہیں۔ جس سے ظاہر ہوتا ہے کہ گجرات کے مسلمانوں نے بی جے پی کو ہی ووٹ دیا۔ اب مودی کی ہی بات کو ثابت کرنے کے لئے ہم ایک اور بات بھی کہتے ہیں کہ مودی ہو سکتا ہے 20سے 25فیصد کی بات بالکل صحیح کہہ رہے ہوں۔ ہم آپ کو بتاتے ہیں اس کا سبب کیا ہے۔
کیوں گجرات کے مسلمانوں نے مودی کو ہی ووٹ دیا ہوگا۔ پورے ہندوستان کا مسلمان گجرات سمیت مودی سے نفرت کرتا ہے۔ وہ مودی کو کبھی بھی وزیر اعظم نہیں بننے دے گا لیکن گجرات کے مسلمانوں پر جو قہر بی جے پی، آر ایس ایس، بجرنگ دل اور دیگر ہندو تنظیموں، ریاستی انتظامیہ اور وشو ہندو پریشد کا ٹوٹا تھا۔ اس سے مسلمان مودی سے اتنا خائف ہے کہ وہ کسی اور پارٹی کو ووٹ دینے کی جرأت ہی نہیں کر سکتا۔ وہ جانتاہے کہ کسی بھی پارٹی کی چاہے وہ کانگریس ہی کیوں نہ ہو کوئی حیثیت نہیں ہے۔ وہ جانتا ہے کہ وہ صرف اور صرف گجرات میں مودی کو خوش کر کے ہی اپنی جان و مان کی حفاظت کر سکتا ہے۔ وہ جانتا ہے کہ اگر وہ مودی کے خلاف جائے گا تو اسے اس کے خاندان کو زندہ جلا دیا جائے گا۔ وہ جانتا ہے کہ اگر اس نے مودی کو ووٹ نہیں دیا تو اس کے گھر کی عورتیں اور معصوم بچیوں کی عصمت دری اس کی آنکھوں کے سامنے ہی کر دی جائے گی۔ کیا اس کے سامنے کانگریس کے قدآور لیڈر احسان جعفری کا حال نہیں ہے۔ جنہیں زندہ جلا دیا گیا اور کانگریس پارٹی انہیں بچا بھی نہیں سکی۔ مسلمان اسی میں بھلائی سمجھتا ہے کہ مودی کو ووٹ ڈالیں اور محفوظ رہیں۔ خوف میں آ کر گجرات کے مسلمانوں نے مودی کو ووٹ دیا ہے۔ گجرات کا مسلمان جانتا ہے کہ انہیں اگر کوئی بچا سکتا ہے تو خود مودی ہی بچا سکتا ہے اور اگر مودی ہاجاتا ہے تو وشو ہندو پریشد اور بجرنگ دل پھر سے گجرات کو 2002کی آگ میں جھونک دیں گے۔ اس لئے مسلمانوں نے بی جے پی کو ووٹ دیا بلکہ یو ں کہئے کہ مودی کوووٹ دیا۔
2002میں مودی کے چیف منسٹر بنتے ہی گودھرا کا نڈ ہوا ، جو سوچی سمجھی اسکیم کے تحت تھا۔ ورنہ سوچئے کہ چلتی ٹرین یا رکی ہوئی ٹرین میں سے بھی کوئی باہر سے تیل ڈال کر کیسے آگ لگا سکتا ہے۔ بہر حال آگ لگی اور تقریباً57ہندواس میں بری طرح جھلس گئے۔ جس کے ردِعمل میں گودھرا سانحہ ہوا اور مسلمانوں کے گائوں کے گائوں اس میں تباہ و برباد کر دئے گئے۔ سرکاری اعداد و شمار صرف 2000بتاتے ہیں جبکہ تعداد اس سے کئی گناہ زیادہ ہے۔ چیف منسٹر بنتے ہی مودی نے گجرات میں ایک وجہہ پیدا کرا کے بناء کسی تفتیش کے ایک بڑا فساد کرا کے خود کو 10سالوں کے لئے محفوظ کر لیا اور دس سالوں میں گجرات میں کوئی فساد نہیں ہوا۔ اس فساد میں اس نے مسلمانوں کو بری طرح کچل ڈالا تاکہ وہ اگلے دس سالوں تک سر ہی نہ اٹھا سکیں اور اپنی سوچنے سمجھنے کی صلاحیت ہی کھو دیں یہ ایک بڑی سازش تھی ۔ ایک طبقہ کو برباد کر کے اس کے ذہن کو مفلوج کر کے اس کے دل و دماغ کو کھوکھلا کر کے اسے بس بے جان کٹھ پتلی کی طرح نچانے کی نہ ایک بڑی سازش تھی تاکہ اس کمیونٹی کی ہمت ہی نہ ہو آواز اٹھانے کی اور اپنے حقوق کا مطالبہ کرنے کی۔ مسلمان بھی جانتا ہے کہ کسی بھی پارٹی کی گجرات میں کوئی اوقات نہیں ہے۔ اس میں یہ سوچ بھی شامل ہے کہ اگر مودی خدا نخواستہ وزیر اعظم بنتا ہے تو پھر وہ کوئی وجہہ پیدا کر کے پھر سے کوئی ایسا بڑا فساد نہ کرا دے جس سے مسلمان پھر بڑی تعداد میں مارے جائیں اور یہ بھی ہو سکتا ہے کہ اس بڑے فساد سے اب مسلمان 60سے 65سال پیچھے چلے جائیں۔ کیونکہ تاریخ اپنے آپ کو دہراتی ہے۔ مودی کو اپنے امخالف کو کچلنا بخوبی آتا ہے اور پھر اس وقت تو مودی کے لئے میدان صاف ہے اور کافی حد تک ہموار بھی۔ کانگریس اس قدر گھوٹالوں میں ملوث ہے اور راہل گاندھی بھی نوجوان لیڈر کے طور پر اپنی کوئی شناخت نہیں بنا پا رہے ہیں۔ منموہن سنگھ پوری طرح ایک ناکام وزیر اعظم ثابت ہوئے ہیں۔ جس ملک کا وزیر اعظم خود ایک ماہر اقتصادیات ہو اس ملک کی کرنسی کا بری طرح گر جانا اس بات کی علامت ہے کہ ملک سے کسی کو سروکار نہیں ہے۔ عوام کانگریس سے بری طرح اوب چکے ہیں۔ وہ ایسی حکومت کا کیا کریں جہاں کسی بھی گھوٹالہ میں فائلیں تک گم ہو جاتی ہوں اور وزیر اعظم کے پاس اس کا کوئی جواب نہ ہوتا ہو۔ بہار میں نتیش نے بی جے پی سے اپنا اتحاد ختم کر لیا ہے اور اس میں بھی یہی سنا جا رہاہے کہ وہ مسلمانوں کا ووٹ حاصل کرنے کے لئے ایسا کر بیٹھے ہیں۔ لالو کی گردن پر اربوں روپے کے چارہ گھوٹالے کی تلوار لٹک رہی ہے۔ اگر وہ قصوروار ثابت ہوتے ہیں تو ان کو یقینا سزا بھی ہوگی۔
اتر پردیش میں نوجوان اکھلیش یادو سے لوگوں نے جتنی امیدیں لگائی تھیں ، ان کو بھی مایوسی ہوئی ہے۔ مودی سے ملائم سنگھ کے لوگ زبردست خائف ہیں۔ ملائم سنگھ کو یہ بھی ڈر ہے کہ مودی کے خوف کی وجہ سے کہیں مسلمان کانگریس کی طرف نہ چلے جائیں اور اس وقت وہ پھر سے مسلمانوں کی ہمدردی جیتنے پر لگ گئے ہیں۔
مارکسی پارٹیوں کی صورت حال بھی بے حد خراب ہے۔ تمل ناڈو کی جماعت ڈی ایم کے پر بدعنوانیوں کے بے شمار الزامات ہیں۔
ایسے میں مودی کا راستہ کافی حد تک صاف تو نظر آ ررہا ہے۔ حالانکہ مودی نے مسلمانوں کے علاوہ بھی گجرات کی ترقی کے لئے کچھ کیا ہو ایسا نظر تو نہیں آتا بلکہ ان کی پارٹی کے کئی وزیر اعظم اور پارٹی کارکنوں پر قتل اور انکائونٹر کے الزامات ہیں۔ ایسے میں مودی کا 272پلس کاٹارگیٹ کیسے پورا ہوگا ۔ شاید اسی لئے انہیں مسلم ووٹرس کی ضرورت پڑنے والی ہیں کیونکہ وہ جانتے تھیکہ وہ گجرات میں مسلمانوں کا ووٹ آسانی سے حاصل کرلیں گے مگر لوک سبھا الیکشن میں مسلمانوں کا ووٹ حاصل کرنا آسان نہیں ہوگا۔ اس لئے وہ مسلمانوں اور وہ بھی پچھڑے مسلمانوں تک پہنچنے کی بات کر رہے ہیں۔ مودی جب پچھڑے مسلمانوں کی پسماندگی کی بات کررہے ہیں تو یہاں یہ تو واضح حقیقت ہے کہ کانگریس نے مسلمانوں کے لئے کچھ نہیں کیا۔ انھوں نے پچھڑے طبقہ سے لیڈر تو بنا دئے لیکن اس سے کسی بھی طبقے کو کوئی فائدہ نہیں مل سکا۔ اب مودی جب پچھڑے طبقوں کو آگے لانے اور ان کی نمائندگی کی بات کررہے ہیں تو یہ کانگریس کو ہرانے کا ایک الیکشن پروپیگنڈہ بھی ہوسکتا ہے۔
مودی کا کہنا ہے کہ ہمیں طبقوں کو بانٹنا نہیں ہے بلکہ ہمیں سبھی طبقوں کو آگے لانا ہے۔ مودی کا یہ بھی کہنا ہے کہ کانگریس نے اقلیتوں کے لئے کچھ نہیں کیا اور ان کی غریبی ان کو نظر انداز کرنے کی ایک وجہ ہے۔مودی کا کہنا ہے کہ مسلمانوں میں بھی شیعہ، سنی، بوہرہ اور دوسرے فرقے ہیں۔ ان کی پریشانیوں تک پہنچنا بھی ضروری ہے۔ بڑے حیرت کی بات ہے کہ مودی کو 2014سے پہلے اب ان اقلیتوں کا خیال آیا ہے اور وہ بھی خاص طور پر مسلم اقلیت کا ۔ بے شک مسلمانوں میں پچھڑی ذاتوں میں پس ماندگی بہت زیادہ ہے اور وہ پورے ملک میں ہی ہے۔ کانگریس نے اور دوسری پارٹیوں نے ان پچھڑی ذاتوں کو ووٹ کے لئے ہمیشہ استعمال کیا ہے ۔
راشد علوی کا یہ کہنا ہے صرف 2ہی مسلم بی جے پی کوو وٹ دیں گے ایک شاہنواز حسین بہارسے اور دوسرے مختار عباس نقوی الہ آباد سے۔ تو راشد علوی سے بھی یہ سوال کرنا چاہئے کہ کانگریس نے مسلمانوں کے لئے کیا کیا ہے۔ سوائے ووٹ بینک کے استعمال کرنے کے ۔
اس سب بیان بازی سے بہتر یہ ہے کہ یہ دیکھا جائے کہ بی جے پی پانچ ریاستوں میں ہونے والی الیکشن میں کتنے مسلم امیدواروں کو ووٹ دیتی ہے اور پھر لوک سبھا الیکشن میں کیونکہ جب ہم 2014کے الیکشن سروے رپورٹ ایگزٹ پول کو دیکتے ہیں تو ٹائمزد نائو ووٹرا رائے میں این ڈی اے کو 156سیٹ ملیں گی، جس میں بی جے پی کو تقریباً 131سیٹیں ملیں گی ۔ جبکہ یو پی اے 136سیٹوں سے جیت سکتی ہے۔ جس میں 119کانگریس کی ہو سکتی ہیں۔ اس کے علاوہ تیسرا مورچہ جس میں سماجوادی پارٹی آر جے ڈی، ٹی ڈی پی ، بی جے ڈی اور دوسری علاقائی پارٹیاں بھی شامل ہیں ۔ تقریباً 121سیٹ اور چوتھا مورچہ جس میں بی ایس پی، ترنمول کانگریس AIADMKاور دوسری پارٹیاں 122سیٹوں سے لوک سبھا میں آ سکتی ہیں۔ ووٹر اوپنین پول کے مطابق ابھی تیسرا اور چوتھا مورچہ بنا نہیں ہے مگر آنے والے مہینوں میں بن سکتا ہے۔
اور اگر یہ پیش گوئی صحیح ثابت ہوتی رہے تو AIADMK، ایس پی، بی ایس پی ، بایاں محاذ اور ترنمول کو 22سے 23سیٹیں مل سکتی ہیں۔
یہ سب پیش گوئیاں اور انداز ے کتنے صحیح اور کتنے غلط ثابت ہوتے ہیں یہ تو وقت ہی بتائے گا لیکن ایک سچائی ضرور ہے کہ مسلمان مودی کو گجرات میں ووٹ ڈر کی وجہ سے دے سکتا ہے لیکن پورے ملک کا مسلمان اس ڈر سے اوپر ہے۔ اس کے علاوہ مودی کے گجرات اور بابری مسجد جیسے ایشوز پھر سر اٹھائیں گے ۔ ہوسکتا ہے کانگریس گجرات فساد کا ہی کارڈ کھیلے اور بی جے پی کانگریس کے خلاف گھوٹالوں اور بدعنوانی کا۔
ایک بات ضرور کہنی ہے کہ مسلمانوں کے لئے کانگریس اور بی جے پی میں کوئی فرق نہیں ہے۔ کانگریس نے ان کے لئے سچر کمیٹی سفارشات، رنگا ناتھ مشرا سفارشات کو لاگو نہیں کیا یہ بڑی نا انصافی کی اور اس کے علاوہ ہزاروں مسلم نوجوان جیلوں میں بنا کسی ثبوت کے بند ہیں ۔ یہ بھی مسلمان شاید نہیں بھول سکتا۔ موردی کا گجرات ، بی جے پی کا بابری مسجد سانحہ، عشرت جہاں فرضی انکائونٹر ، سہراب الدین فرضی انکائونٹر۔ یہ سب بھی مسلمان فراموش نہیں کر پائیں گا۔ مسلمانوں کو اس وقت کچھ نہیں چاہئے ۔ اسے صرف اور صرف تعلیم، روزگار اور انصاف چاہئے ۔ عدلیہ پر بھروسہ چاہئے ۔ ایسے میں مودی شاید اس بار مسلم ووٹ کی سیاست نہ کر پائیں۔

A.U. Asif

تقریباً40برسوں سے لسانی صحافت سے جڑے 63سالہ اے یو آصف ’چوتھی دنیا‘ کی اردو ٹیم کے ذمہ دار ہیں۔ چوتھی دنیا اردو میں ادارتی صفحات پر ان کا ’لمحہ فکریہ‘ پابندی سے شائع ہوتا ہے۔ انہوں نے متعدد انگریزی، ہندی اور اردو اخبارات و رسائل سے وابستگی کے دوران کئی ہزار زائد انٹرویوز،انویسٹی گیٹیو اور کوراسٹوریز، کتابوں کے تبصرے اور شخصیات کے پروفائل کیے ہیں۔ عمومی ایشوز کو کور کرنے کےساتھ ان کی حاشیہ پر رہ رہے افراد اورطبقات بشمول مسلمانوں پر مہارت ہے خواہ وہ کسی بھی ملک ہوں۔یہ 2003میں امریکی حکومت کی دعوت پر امریکہ کا دورہ کرکے 9/11کے بعد کی صورتحال کا جائزہ لینے والے5سائوتھ ایشیا کے سینئر صحافیوں کے وفد میں شامل تھے۔ 1986میںمیانمار (برما) سے ہندوستان آنے والے اولین مہاجر خاندان سے کٹیہار جیل میں انٹرویو لینے کا نہیں کریڈیٹ حاصل ہے۔ 1987میں بھی ہاشم پورا سانحہ کی جائے وقوع مراد نگر جاکر رپورٹنگ کرنے والے یہ پہلے صحافی ہیں۔ علاوہ ازیں متعدد صدور، وزیراعظم و دیگر اہم شخصیات سے انہوں نے انٹرویو لیے ہیں۔ انہوںنے کئی کتابیں تصنیف کی ہیں جن میں انگریزی میں میڈیاسے متعلق دوکتابیں شامل ہیں جو کہ جرمن زبان میں ترجمہ ہوکر جرمنی کی متعدد یونیورسٹیوں کے نصاب میں پڑھائی جاتی ہیں۔ یہ نئی دہلی میں پریس کلب آف انڈیا کے رکن بھی ہیں۔
Share Article

A.U. Asif

تقریباً40برسوں سے لسانی صحافت سے جڑے 63سالہ اے یو آصف ’چوتھی دنیا‘ کی اردو ٹیم کے ذمہ دار ہیں۔ چوتھی دنیا اردو میں ادارتی صفحات پر ان کا ’لمحہ فکریہ‘ پابندی سے شائع ہوتا ہے۔ انہوں نے متعدد انگریزی، ہندی اور اردو اخبارات و رسائل سے وابستگی کے دوران کئی ہزار زائد انٹرویوز،انویسٹی گیٹیو اور کوراسٹوریز، کتابوں کے تبصرے اور شخصیات کے پروفائل کیے ہیں۔ عمومی ایشوز کو کور کرنے کےساتھ ان کی حاشیہ پر رہ رہے افراد اورطبقات بشمول مسلمانوں پر مہارت ہے خواہ وہ کسی بھی ملک ہوں۔یہ 2003میں امریکی حکومت کی دعوت پر امریکہ کا دورہ کرکے 9/11کے بعد کی صورتحال کا جائزہ لینے والے5سائوتھ ایشیا کے سینئر صحافیوں کے وفد میں شامل تھے۔ 1986میںمیانمار (برما) سے ہندوستان آنے والے اولین مہاجر خاندان سے کٹیہار جیل میں انٹرویو لینے کا نہیں کریڈیٹ حاصل ہے۔ 1987میں بھی ہاشم پورا سانحہ کی جائے وقوع مراد نگر جاکر رپورٹنگ کرنے والے یہ پہلے صحافی ہیں۔ علاوہ ازیں متعدد صدور، وزیراعظم و دیگر اہم شخصیات سے انہوں نے انٹرویو لیے ہیں۔ انہوںنے کئی کتابیں تصنیف کی ہیں جن میں انگریزی میں میڈیاسے متعلق دوکتابیں شامل ہیں جو کہ جرمن زبان میں ترجمہ ہوکر جرمنی کی متعدد یونیورسٹیوں کے نصاب میں پڑھائی جاتی ہیں۔ یہ نئی دہلی میں پریس کلب آف انڈیا کے رکن بھی ہیں۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *