مصر کے بگڑتے حالات: اندیشے و امکانات

جیسے جیسے مصر میںفوجی بغاوت کے بعد ظلم و زیادتی اور بربریت بڑھ رہی ہے اور اخوانیوں کا دور ابتلاء پھر سے شروع ہوگیاہے،عام آدمی فوج کی نامزد نئی حکومت سے بدظن ہوتا جارہا ہے۔ اس کی یہ ناراضگی بھی پھر سے بڑھ رہی ہے کہ ظلم و بربریت کے نشان حسنی مبارک کو منتخب حکومت کو معزول کرکے رہا کرادیاگیا۔ ظاہر سی بات ہے کہ یہ سب باتیں بالآخر اخوان کے حق میںجائیںگی اور پھر آج نہ کل ان کی واپسی ہوگی محض اپنی قوت پر۔ کیونکہ تب تک عوام سب کچھ سمجھ چکے ہوںگے۔وسیم احمد کے درج ذیل مضمون میں یہی سب کچھ جائزہ لیا گیا ہے

p-8bکہا تو یہ جاتا ہے کہ کسی بھی فساد میں لیڈریا اس کے رشتہ دار نہیں مرتے ہیں ۔تجربات و مشاہدات بھی اس کی تائید کررہے ہیں مگر ان تجربات کو مصر کے حالیہ واقعہ نے غلط ثابت کردیا ہے۔جہاں اخوان کے لیڈر ملک و قوم کے لئے جان کی بازی لگانے کا دعویٰ کرتے ہیں وہیں موقع آنے پر واقعی وہ اپنے جگر کے ٹکروں کو قربان کردیتے ہیں۔غالباً اخوانیوں کی پہلی تاریخ ہے کہ عام لوگوں کے ساتھ لیڈر اورلیڈروں کے قریبی رشتہ دار فوجی گولیوں کے شکار ہوئے ہیں۔مصر میں محمد مرسی کی حکومت کا تختہ پلٹ دیے جانے کے بعد تقریباً تین ہزار اخوانیوں نے ملک کو فوجی چنگل سے آزاد کرانے کے لئے اپنی جانوں کا نذرانہ پیش کیا ہے اور ان میں متعددلیڈران اور ان کے رشتہ دار بھی شامل ہیں۔چنانچہ اخوانی تحریک کے بانی حسن البناء کو 1949 میں گولی مار کر شہید کردیا گیا اور ان کی بیٹی ہالہ شیخ حسن البناء کو بھی شہید کیا گیا۔بعد ازاں 1960 کی دہائی کے وسط میں سید قطب شہید سمیت متعدد مماز اخوانی بھی پھانسی پر لٹکائے گئے اور دیگر لوگ ملک چھوڑنے پر مجبور ہوئے،جن میںقطر میں رہ رہے علامہ یوسف قرضاوی اور مکہ میں سکونت پذیر 100 سالہ محمد قطب شامل ہیں۔اس کے باوجود اخوانیوں کے موجودہ رہنما سینہ سپر ہوکر اخوانی مشن کو لے کر آگے بڑھ رہے ہیں، چاہے انہیں جان کی بازی ہی کیوں نہ لگانی پڑے ۔ ابھی ماہِ اگست میں قاہرہ کی ایک مسجد میں فوجی کارروائی کے نتیجے میں ڈھائی ہزار سے زیادہ اخوانی موت کے گھاٹ اتار دیے گئے۔اس کارروائی میں موت کے منہ میں جانے والے عام آدمیوں کے علاوہ حسن البناء کے نواسے ڈاکٹر خالد فرناس ، موجودہ مرشد عام ڈاکٹر محمد بدیع کے صاحبزادے انجینئر عمار بدیع اور عمار بدیع کے ایک نہایت ہی قریب دوست،نائب مرشد عام خیرات الشاطر کی صاحبزادی اور داماد ، ڈاکٹر محمد البلتاجی کی صاحبزادی اسماء بلتاجی اور معروف پہلوان و اخوانی عبد الرحمن طرابلی شامل ہیں۔یہ قربانیاں بتا رہی ہیں کہ اخوانی لیڈر اپنے حامیوں کی طرح خود بھی قربانی دینے کا جذبہ رکھتے ہیں۔چنانچہ شیخ بدیع نے اپنی گرفتاری سے چند گھنٹے پہلے عوام کے نام اپنے ایک خط میں جو پیغام دیا ہے اس سے بھی اشارہ ملتا ہے کہ اخوانی لیڈر اپنے کارکنوں کے قدم سے قدم ملا کر چلنے کا جذبہ بدرجہ اتم رکھتے ہیں ۔
انہوں نے اپنے اس خط میں بار بار اس بات کا اعادہ کیا ہے کہ اخوان المسلمین تشدد سے گریز کرنے والی جماعت ہے۔اس کا ہر ہر فرد اہم ہے ۔یہ جماعت قومی قانون کا احترام کرنا جانتی ہے مگر دشمنوں کے لئے ہمیشہ آہنی دیوار بن کر رہتی ہے۔ اس کی قومی حمیت کو گناہ بنا کر رہنمائوں اور کارکنوں کو سلاخوں میں ڈال دیا جاتا ہے اور املاک کو تباہ کیا جاتا ہے۔ ہم پر الیکشن میں دھاندلی کرنے کا الزام لگتا ہے اور پھر ہماری حکومت کو معزول کردیا جاتا ہے۔یہ سب کرنے کا مقصد ہے ہمارے حوصلوں کو توڑنا اور ملک میں صہیونیت کے دبدبے کو قائم کرنا اور اسی مقصد کے لئے ان طاقتوں کو سامنے لایا جارہا ہے جو صہیونی افکار کو ملک میں پھیلنے کا موقع فراہم کرتی ہیں۔ چنانچہ حسنی مبارک پر سے مقدمہ کو ہٹائے جانے کا عدالتی اشارہ، ہمیں بہت کچھ بتا رہا ہے،لیکن صہیونی طاقتوں کو یہ بات سمجھ لینی چاہئے کہ اخوانیوں کو موت سے ڈرا کر وہ ان کے مشن کو آگے بڑھنے سے روک نہیں سکتے ہیں‘‘۔
شیخ بدیع نے اپنے خط میں صہیونی طاقتوں کے ملوث ہونے کے اندیشے کا اظہار کیا ہے۔اس اندیشے کے بارے میں ترکی کے وزیر اعظم طیب اردگان پہلے ہی واضح کرچکے ہیں کہ مرسی کے خلاف اس ہنگامے میں اسرائیل شامل ہے۔ ان کے اس بیان پر اسرائیل سمیت امریکہ نے بھی سخت ناراضگی کا اظہار کیا تھا اور اردگان کی باتوں کو من گھڑت کہا تھا۔اسرائیل کا ناراض ہونا تو فطری ہے ،مگر امریکہ جس کا جھکائو ابتدا سے ہی مرسی حکومت کی طرف رہا ہے اور امریکی صدر باراک حسین اوبامہ السیسی کی کارروائیوں کو تنقید کا نشانا بناتے رہے ہیں ،یہاں تک کہ فوجی مشق اور مصر کو دی جانے والی 24.1 کروڑ ڈالر کی معاشی امداد اور 1.23 ارب کی فوجی امداد بند کیے جانے تک کی دھمکی دے ڈالی تھی،اردگان کے اس انکشاف پر چراغپا کیوں ہے ؟۔
جہاں تک امداد بند کیے جانے کی بات ہے تو یہ ایک گیدڑ بھپکی کے سوا کچھ نہیں ہے۔امریکہ چاہتے ہوئے بھی اس امداد کو اس لئے بند نہیں کرسکتا ہے کہ اس کا حریف روس اس طاق میں ہے کہ جیسے ہی امریکہ اپنا امدادی ہاتھ پیچھے کھینچے ،وہ آگے بڑھ کر السیسی کا ہاتھ تھام لے ،جیسا کہ روس نے السیسی کو حالات پر قابو پانے کے لئے کچھ مخصوص قسم کی رائفلیں مہیا کرانے کا عندیہ بھی دیا ہے اور امریکہ کبھی بھی ایسی غلطی نہیں کرے گا، جس سے خطے میں روس کو قدم جمانے کا موقع ہاتھ لگے۔رہی بات اردگان پر امریکی ناراضگی کی، تویہ سچائی ذہن میں رہنی چاہئے کہ اسرائیل سے امریکہ کا کتنا ہی سیاسی اختلاف ہو ،مگر وہ اس بات کو پسند نہیں کرے گا کہ کوئی مسلم ملک اس کے دائمی حلیف کو تنقید کا نشانا بنائے۔یہی وجہ ہے کہ امریکہ نے اردگان کے بیان کو جھوٹ پر مبنی بیان کہا ہے، لیکن اب جب کہ قاہرہ کی ایجنسیوںسے یہ بات چھن کر سامنے آرہی ہے کہ شیخ بدیع کی گرفتاری کے بعد اسرائیل کا ایک خفیہ سفیر مصر میں عبد الفتاح السیسی سے ملاقات کرچکا ہے اور اس نے السیسی کی کارکردگی کی خوب تعریف بھی کی تو اردگان کی باتوں میں سچائی نظر آنے لگی ہے۔
اس نظریے کی تائید اس بات سے بھی ہورہی ہے کہ حسنی مبارک جن کو عرب ممالک میں اسرائیل کا ترجمان کہا جاتا تھا اور انہوں نے اپنے 30 سالہ دور اقتدار میں اسرائیلی مفاد کے لئے کام کیا اور یہ پہلے عرب رہنما ہیں جنہوں نے اسرائیلی سفارت خانے کو اپنے ملک میں قائم کرنے کی اجازت دی تھی۔اب مصر کی ایک عدالت نے ان کی رہائی کا حکم دیا ہے۔اس کے علاوہ البرادعی جنہوں نے اخوانیوں کو بے دردی سے قتل کیے جانے پر احتجاج کے طور پر اپنے عہدے سے استعفیٰ دے کر ملک سے باہر چلے گئے ہیں ۔ان کے خلاف قومی اعتماد کو ٹھیس پہنچانے کا مقدمہ چلائے جانے کا فصلہ لیا گیا ہے۔یہ تمام چیزیں اس بات کی تائید کررہی ہیںکہ مصر کی موجودہ صورت حال میں اسرائیل کا ہاتھ شامل ہے۔
اب سوال یہ پیداہوتا ہے کہ کیا اخوانیوں کو طاقت کے بل پر دبا کر اور ان کے رہنمائوں کو گرفتار کرکے خاص طور پر نائب مرشد خیرات الشاطی اور مرشد اعلیٰ ڈاکٹرمحمد بدیع کو ڈرامائی انداز سے شمالی قاہرہ سے گرفتار کرکے حالات کو قابو میں کیا جاسکتا ہے جبکہ اخوانیوںنے محمد مرسی ،محمد بدیع، خیرات الشاطی اور اپنے تمام گرفتار شدہ رہنمائوں کی رہائی تک احتجاج جاری رکھنے کا اعلان کردیا ہے۔یہی نہیں مرشد عام کی جگہ محمود عزت کو جماعت کا عبوری سربراہ مقرر بھی کردیا گیاہے۔
اس سلسلے میں اگرچہ یقین کے ساتھ کچھ کہنا قبل از وقت ہوگا، لیکن سیاسی ماہرین کاخیال ہے کہ اب مصر کے حالات انتہائی پیچیدہ ہوچکے ہیں اور عبد الفتاح السیسی کے لئے مظاہرین کو روکنا آسان نہیں ہوگا لہٰذا وہ اس بات کی کوشش کرسکتے ہیں کہ ڈاکٹر محمد بدیع سے بات چیت کرکے یا پھر اخوانیوں کو حکومت میں شامل کرکے صورت حال کو بہتر کرنے کی کوشش کریں۔ حالانکہ جماعت اخوان کو حکومت میں شامل کرنے کا مشورہ البرادعی نے السیسی کو پہلے بھی دیا تھا مگر تب ان کی باتوں کو ٹھکرادیا گیا تھا، لیکن اب حالات بدل چکے ہیں اور السیسی کے سامنے اس کے علاوہ کوئی اور راستہ بھی نہیں ہے کہ وہ اخوانیوں کے ساتھ مل کر مسئلے کا حل تلاش کریں۔اگر وہ صہیونی طاقتوں کے اشارے پر اخوانیوں کو جبراً دبانے کی کوشش کریں گے تو اس کا طویل المیعاد فائدہ اخوانیوں کو ہی ملے گا۔کیونکہ اگر اخوانیوں پر مزید سختیاں کی گئیں اور انہیں انڈر گرائونڈ ہونے پر مجبور کیا گیا تو شاید تاریخ ایک مرتبہ پھر اپنے آپ کو دہرائے گی اور 1954 میں جس طرح سے اخوانی انڈر گرائونڈ ہوکر مصر میں اپنی ایک مضبوط طاقت بن گئے اور پھر صدر انور سادات نے ان کے معاملے میںکچھ نرمی دکھائی۔ بعد ازاں اخوانی پارلیمانی انتخابات میں آزاد امیدواروں کے طور پر کامیاب بھی ہوئے،جن میںسے ایک محمد مرسی تھے اور جنہیں بہترین پارلیمنٹرین کا ایوارڈ بھی دیا گیا تھا۔اس کے بعد اخوانی 2011 میں عرب بہاریہ انقلاب کے بعد عوام کے سب سے زیادہ پسند کے نمائندہ بن کر ابھرے اور ان میں سے ایک وہی محمد مرسی پہلے اخوان کی پیش رفت پر بنی سیاسی جماعت الحریہ و العدالہ کے سربراہ اور بعد میں ملک کی صدارت کی کرسی تک پہنچ گئے اور اسی دوران اخوان کی مقبولیت کے پیش نظر اس پر سے پابندی ہٹالی گئی ،دوبارہ اس سے بڑی طاقتور جماعت بن کر ابھرسکتے ہیں۔ اس امکان کو اس لئے بھی تقویت مل رہی ہے کہ حسنی مبارک کی رہائی کے حکم نے اخوانیوں سمیت دیگر مکتبہ فکر کے لوگوں کو بھی مایوس کیا ہے اور انہیں یہ لگنے لگا ہے کہ ملک میں مبارک دور کے مسائل یعنی بے روزگاری، اقتصادی بحران اور مہنگائی دوبارہ سر اٹھا سکتے ہیں اور ظلم و بربریت کادور واپس آسکتا ہے۔ظاہر ہے کہ ایسی صورت میں مصر کا ایک بڑاطبقہ جو اس وقت اخوانیوں سے الگ ہے، مبارک کی رہائی کی وجہ سے ان کے ساتھ ہوسکتا ہے۔اس لئے بھلائی اسی میں ہے کہ السیسی اخوانیوں کو اعتماد میں لے کر حکومت بنانے کا فیصلہ کریں اور مرسی کو سربراہی پھر سے سونپیں کیونکہ وہ عوام کے ذریعے منتخب ہوکر اے ہیں۔ساتھ ہی یہ فیصلہ اخوانیوں کے لئے بھی بارآور ثابت ہوگا ۔اخوانی رہنما حکومت میں شامل ہوکر مشتعل حالات کو نارمل کرسکتے ہیں۔

Share Article

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *