منموہن سنگھ جیل جا سکتے ہیں

ڈاکٹر منیش کمار 

کیا وزیر اعظم منموہن سنگھ دسمبر میں جیل جائیں گے؟ کیا منموہن سنگھ ملک کے پہلے ایسے وزیر اعظم ہوں گے، جنہیں جیل جانا ہوگا؟ یہ سوال تکلیف دہ ہے، شرم ناک ہے اور فکرمندی کا باعث بھی ہے، اسی لیے اسے اٹھانا آج بہت ضروری ہے۔ کوئلہ گھوٹالے میں سرکار کا جو اَب تک کا رویہ سچ کو جھوٹ اور جھوٹ کو سچ ثابت کرنے کا رہا ہے، اس سے سپریم کورٹ ناراض ہے۔ آزاد ہندوستان کی تاریخ میں سی بی آئی اور سرکار کے خلاف سپریم کورٹ کی طرف سے جو تبصرہ آ رہا ہے، وہ سرکار کے لیے نہ صرف شرمناک ہے، بلکہ ملک کی جمہوریت کے لیے بھی خطرناک ہے۔ ایک طرف سچ کو ثابت کرنے پر آمادہ ملک کی عدالت ہے، تو دوسری طرف سوال کے گھیرے میں آئے وزیر اعظم ہیں۔ کوئلہ گھوٹالے میں وزیر اعظم کا رول کیا ہے اور اس کا نتیجہ کیا نکل سکتا ہے، یہ سمجھنا ضروری ہے۔ چونکہ ہم نے ملک میں سب سے پہلے کوئلہ گھوٹالے کو 29 اپریل، 2011 کو اجاگر کیا تھا، اس لیے ہمیں اس کیس کو لے کر منموہن سنگھ کے جیل جانے کے آثار دکھائی دے رہے ہیں۔

Mast...کوئلہ گھوٹالے سے جڑی فائلیں غائب ہو گئیں۔ یہ فائلیں کہاں گئیں؟ کیا اِن فائلوں کو زمین کھا گئی یا کوئی بھوت لے کر غائب ہو گیا؟ یہ فائلیں کب غائب ہوئیں؟ کہاں سے غائب ہوئیں؟ اِن فائلوں میں کیا تھا؟ کیا ہندوستانی سرکار کے دفتر چوروں کا اڈّہ بن چکے ہیں؟ یا پھر اِن فائلوں کو غائب کرکے کسی کو بچایا جا رہا ہے؟ نوٹ کرنے والی بات یہ ہے کہ کوئلہ گھوٹالہ اُس وقت ہوا، جب منموہن سنگھ وزیر کوئلہ تھے۔ کوئلہ کی کانوں کے ہر متنازع الاٹمنٹ پر منموہن سنگھ کے دستخط ہیں۔ ایک طرف سرکار ہے، جو سچ کو چھپانا چاہ رہی ہے، سی بی آئی جانچ میں رکاوٹ پیدا کر رہی ہے اور دوسری طرف عدالت ہے، جو کہہ رہی ہے کہ کسی بھی قیمت پر ملزمین کو سزا دی جائے گی۔ دسمبر ماہ میں کوئلہ گھوٹالے کی جانچ پوری ہو جائے گی۔ جیسے ٹو جی گھوٹالے میں سی بی آئی نے ایف آئی آر لکھ کر اے راجا کو گرفتار کیا تھا، اسی طرح سپریم کورٹ کی ہدایت پر سی بی آئی کو منموہن سنگھ کے خلاف ایف آئی آر درج کرنی ہوگی، انہیں گرفتار کرنا ہوگا اور بعد میں اُن پر مقدمہ چلے گا۔ اس گھوٹالے کے مرکز میں وزیر اعظم ہیں۔ تو کیا دسمبر میں ہندوستان کو ایک شرمناک تاریخ کا منھ دیکھنا پڑے گا؟
کوئلہ گھوٹالے میں سرکار عدالت کی نگرانی میں چل رہی جانچ کو روکنے کی ہر ممکن کوشش کر رہی ہے۔ سی بی آئی وزارتِ کوئلہ سے کچھ سوال پوچھتی ہے یا پھر جانکاری مانگتی ہے، تو وزارتِ کوئلہ اسے مہیا نہیں کراتی ہے۔ اس سے بھی شرمناک تو یہ ہے کہ سی بی آئی کی رپورٹ کو سرکار بدل دیتی ہے۔ اگر سی بی آئی کسی افسر پر مقدمہ درج کرنا چاہتی ہے، تو سرکار کہتی ہے کہ سی بی آئی کو سرکار سے منظوری لینی ہوگی۔ حد تو یہ ہے کہ کوئلہ گھوٹالے سے جڑی 236 فائلوں میں سے 186 فائلیں دستیاب نہیں ہیں۔ سرکار کے مطابق، اِن دستاویزوں میں 7 فائلیں اور 173 درخواستیں ہیں، جو ابھی دستیاب نہیں ہیں۔ یہ دستاویز کہاں ہیں، اس کی جانچ کے لیے سرکار کی طرف سے ایک بین وزارتی کمیٹی بنائی گئی ہے، لیکن سپریم کورٹ کو سرکار کی اس کمیٹی پر بھروسہ نہیں ہے۔ سپریم کورٹ کے مطابق، یہ ایک ایکسٹرنل کمیٹی ہے، جس سے کورٹ کو کوئی مطلب نہیں ہے۔ سپریم کورٹ نے سرکار کو اِن فائلوں کو ڈھونڈنے کے لیے وقت دیا ہے اور اگر اس کے بعد بھی گم فائلیں نہیں ملیں، تو سی بی آئی میں شکایت درج کی جائے گی، مقدمہ چلے گا، ذمہ داری طے کی جائے گی۔ یہ معاملہ سنگین ہے۔
کوئلہ گھوٹالے سے جڑی غائب فائلوں پر سپریم کورٹ نے سرکار سے پوچھا ہے کہ کیا یہ سی بی آئی کی جانچ میں رخنہ ڈالنے کے لیے ریکارڈ کو برباد کرنے کی ایک کوشش ہے؟ سپریم کورٹ کا یہ بیان وزیر اعظم کے لیے خطرناک ثابت ہو سکتا ہے۔ سپریم کورٹ کے اِس بیان کا مطلب ثبوت مٹانے کے برابر ہے۔ ہندوستان میں ثبوت مٹانا قانوناً جرم ہے۔ اس کے لیے ذمہ دار لوگوں کو سزا مل سکتی ہے۔ جیل جانا پڑ سکتا ہے۔ یہ معاملہ اس لیے بھی سنگین ہے، کیوں کہ یہ عدالت کی توہین کا بھی معاملہ ہے۔ سپریم کورٹ لگاتار ہدایتیں دے رہا ہے۔ فائلوں کو کورٹ میں جمع کرنے کی ہدایت دیتا رہا ہے۔ کورٹ اس بات پر ناراض ہے کہ کچھ اہم فائلیں وزارتِ کوئلہ سے مہیا نہیں کرائی جا رہی ہیں۔ جو فائلیں جانچ کے لیے ضروری ہیں، وہ یا تو غائب ہو گئی ہیں یا پھر دستیاب نہیں ہیں۔ سرکار کے اس رویے سے ناراض ہوکر جسٹس لوڑھا نے یہاں تک کہہ دیا کہ کیا یہ ریکاڈر کو برباد کرنے کی کوشش ہے؟ سچ تو ویسے بھی باہر آ کے رہے گا، لیکن یہ اس طرح سے نہیں چل سکتا۔ جانچ کیسے آگے بڑھے گی۔ جو فائلیں غائب ہوئی ہیں، وہ شاید سب سے اہم ہوں۔ اتنا کہنے کے باوجود اگر سرکار، اس کے وزیر اور وزیر اعظم یہ دلیل دیں کہ فائل کی حفاظت کرنا ان کی ذمہ داری نہیں ہے، تو انہیں بتانا ہوگا کہ یہ کس کی ذمہ داری ہے۔
سمجھنے والی بات یہ ہے کہ کوئلہ گھوٹالے کے مرکز میں منموہن سنگھ ہیں، کیوں کہ یہ گھوٹالہ تب ہوا، جب منموہن سنگھ وزیر کوئلہ تھے۔ انھیں کے ذریعے ایسی کمپنیوں کو کوئلہ کی کانیں بانٹی گئیں، جو اس کی اہل نہیں تھیں۔ نا اہل کمپنیوں کی درخواست پر منموہن سنگھ کے دستخط ہیں، کیوں کہ بغیر ان کے دستخط کے کسی بھی کمپنی کو کانیں تقسیم نہیں کی جاسکتی ہیں۔ جس وقت کوئلے کی کانوں کو تقسیم کیا جا رہا تھا، اس وقت اس سے جڑے لوگوں کو یہ معلوم تھا کہ اس پورے معاملے میں گڑبڑی ہو رہی ہے ۔ کوئلہ سکریٹری لگاتار وزیر اعظم کے دفتر کو لکھ رہے تھے کہ کوئلے کی کانوں کی نیلامی ہو۔ وزیر اعظم منموہن سنگھ نے کوئلہ سکریٹری کی صلاحوں کو کیوں درکنار کر دیا۔ اگر وزیر اعظم یہ کہیں کہ انہیں کوئلہ سکریٹری کے مراسلہ کے بارے میں معلوم نہیں تھا، تو کون یقین کرے گا۔ 173 مراسلے غائب ہیں۔ سوال یہ ہے کہ اِن درخواست فارموں کی جانچ کہاں ہوئی؟ اس وقت ان درخواستوں کی جانچ پرکھ اور ان کمپنیوں کی اہلیت کی جانچ کون کر رہا تھا؟ حقیقت تو یہ ہے کہ کوئلے کی کانوں کی تقسیم میں وزیر اعظم کے دفتر کا کافی سرگرم رول رہا۔ حیرانی کی بات یہ بھی ہے کہ وزیر اعظم کے دفتر سے جڑی دستاویز کو سرکار گم شدہ بتانے پر آمادہ ہے۔ اگر سرکار غائب فائلوں کو مہیا نہیں کرا سکتی ہے، تو اِن فائلوں کے غائب ہونے کی ذمہ داری سیدھے وزیر اعظم کی بنتی ہے۔ صرف اس لیے نہیں کہ منموہن سنگھ اس وقت وزیر کوئلہ تھے، بلکہ یہ وزیر اعظم اور ان کی کابینہ کی مشترکہ ذمہ داری بھی ہے اور وزیر اعظم اس ذمہ داری سے نہیں بچ سکتے۔ ابھی کورٹ کا رویہ سخت نہیں ہے، لیکن اگر سخت ہو گیا، تو اس کیس سے جڑے لوگوں پر ثبوت مٹانے کا مقدمہ چل سکتا ہے۔ انہیں جیل ہو سکتی ہے۔
یہ اس لیے ممکن ہے، کیوں کہ کورٹ نے سرکار سے یہ بھی پوچھا ہے کہ اگر فائلیں غائب ہوئی ہیں، تو کیا سرکار کی طرف سے کوئی ایف آئی آر درج کی گئی ہے یا نہیں۔ حقیقت یہ ہے کہ سرکار نے یہ تو دنیا کو بتا دیا کہ فائلیں غائب ہو گئیں، لیکن یہ نہیں بتایا کہ پولس میں کوئی ایف آئی آر نہیں درج کرائی گئی ہے۔ اب تو سرکار ہی بتا سکتی ہے کہ اتنے اہم کیس کی فائلیں غائب ہو جانے کے بعد بھی ایف آئی آر درج نہیں کرانے کے پیچھے کیا راز ہے۔ ویسے یہ معاملہ جانچ کا موضوع ہے، لیکن کامن سینس تو یہی کہتا ہے کہ ایف آئی آر اس لیے نہیں درج کرائی گئی، کیوں کہ فائلیں غائب نہیں ہوئیں، بلکہ غائب کرا دی گئی ہوں گی یا پھر جان بوجھ کر فائلوں کو غائب بتایا جا رہا ہے۔ شاید یہی شک سپریم کورٹ کو بھی ہے۔ اس لیے تینوں جج جب سی بی آئی کے ذریعے دی گئی فائلوں کی لسٹ کو دیکھ رہے تھے، تب تینوں ججوں نے ایک رائے سے سرکار کو وارننگ دی ہے کہ آپ اس طرح دستاویزوں پر نہیں بیٹھ سکتے۔ سی بی آئی کی جانچ کے لیے جو دستاویز ضروری ہے، اسے مہیا کرانا ہوگا۔ اُن دستاویزوں کو نہ دینے کی کوئی دلیل نہیں ہے۔ اگر ایسا نہیں کر سکتے، تو سی بی آئی کے پاس مقدمہ درج کرنا پڑے گا۔ کورٹ نے سرکار کے وکیل اٹارنی جنرل واہن وَتی کو یہ بھی وارننگ دی ہے کہ ’’اسے ایسے نہیں چھوڑا جا سکتا ہے۔ اس بات کی تحقیقات ہونی چاہیے کہ یہ فائلیں غائب ہوئی ہیں یا پھر غائب کر دی گئی ہیں اور آپ سی بی آئی میں اس کی شکایت کب درج کرا رہے ہیں، یہ ہمیں بتائیے۔‘‘ اب گیند سرکار کے پالے میں ہے۔ اگر سرکار اِن فائلوں کو مہیا کراتی ہے، تو زیر اعظم کے دفتر کے کارنامے سامنے آئیں گے اور اگر مہیا نہیں کراتی ہے، تو مقدمہ چلے گا، ذمہ داری طے ہوگی۔ انتخابات قریب ہیں، اس لیے سپریم کورٹ میں چلنے والی ہر ایک سماعت کانگریس پارٹی کے لیے تذلیل کا سبب بن سکتی ہے۔ سوال یہ ہے کہ منموہن سنگھ کو بچانے کے لیے کیا کانگریس پارٹی یہ رِسک لے گی یا منموہن سنگھ کو بچانے کے لیے فوری طور پر لوک سبھا تحلیل کر دے گی یا کوئی وجہ بتاکر وزیر اعظم بدل دے گی؟
ویسے وزیر اعظم کو بچانے کی کوشش پہلے بھی ہوئی ہے۔ 26 اپریل، 2013 کو سی بی آئی ڈائریکٹر رنجیت سنہا نے سپریم کورٹ میں ایک حلف نامہ دیا۔ اس میں سی بی آئی نے بتایا کہ کوئلہ گھوٹالے کی جانچ کی اسٹیٹس رپورٹ کو سرکاری نمائندوں کے سامنے 8 مارچ کو پیش کیا تھا، یعنی اس اسٹیٹس رپورٹ کو اُس وقت کے وزیر قانون اشونی کمار، وزیر اعظم کے دفتر کے ایک جوائنٹ سکریٹری اور وزارتِ کوئلہ کے جوائنٹ سکریٹری کے سامنے پیش کیا گیا تھا۔ حیرانی کی بات یہ ہے کہ اس سے پہلے سرکار اور سی بی آئی کی طرف سے یہ کہا گیا تھا کہ اسٹیٹس رپورٹ کو کسی کو دکھایا نہیں گیا ہے۔ ملک کے اٹارنی جنرل واہن وَتی نے کورٹ کے سامنے یہ جھوٹ بولا تھا کہ اسٹیٹس رپورٹ کسی نے نہیں دیکھی ہے۔ کوئی لیڈر یا افسر کورٹ میں جھوٹ بولے، یہ گناہ ہے، لیکن ملک کا پہلا قانونی افسر سپریم کورٹ میں جھوٹ بولے، تو یہ ایک گناہِ عظیم ہے، لیکن افسوس کہ وزیر اعظم کا ضمیر سوتا رہا اور واہن وَتی کے خلاف کوئی کارروائی نہیں ہوئی۔
سرکار کے جھوٹ کا پردہ فاش ہو گیا۔ جس کے خلاف جانچ ہو رہی ہو، انھیں کو جانچ رپورٹ دکھائی جائے، تو اس کا کیا مطلب ہے؟ سرکار کسے بچانے کی کوشش کر رہی ہے؟ اس میٹنگ میں وزیر اعظم کے دفتر کا جوائنٹ سکریٹری کی سطح کا افسر کیا کر رہا تھا؟ وہ کس کی اجازت سے اس میٹنگ میں آیا تھا؟ اگر کوئی یہ کہے کہ وزیر اعظم کو اس کے بارے میں جانکاری نہیں تھی، تو یہ ایک مذاق ہی سمجھا جائے گا۔ اگر کسی پلاننگ کے تحت اُس افسر کو اِس میٹنگ میں نہیں بھیجا گیا، تو اس افسر کے خلاف کوئی کارروائی کیوں نہیں کی گئی؟
حیرانی کی بات تو یہ ہے کہ سی بی آئی نے اسٹیٹس رپورٹ کو وزیر اعظم کے چہیتے وزیر قانون، وزارتِ کوئلہ اور پی ایم او کے افسران کو صرف دکھایا ہی نہیں، بلکہ رپورٹ کو بدل بھی دیا۔ یہ تو چوری اور سینہ زوری کی زندہ مثال ہے۔ سی بی آئی کی جانچ رپورٹ کو بدل دینا اگر جرم نہیں ہے، تو جرم ہوتا کیا ہے؟ رپورٹ کو بدلا گیا، یہ کوئی الزام نہیں ہے، بلکہ 29 اپریل، 2013 کو سپریم کورٹ کے سامنے سی بی آئی نے اس بات کو مانا کہ اِن تینوں نے سی بی آئی کی اوریجنل رپورٹ میں 20 فیصد بدلاؤ کیے ہیں۔ کیوں بدلا گیا اور اگر بدل بھی دیا تو جھوٹ کیوں بولا؟ سرکار نے یہ کیوں کہا کہ رپورٹ کو بدلا نہیں گیا، بلکہ رپورٹ کا جملہ ٹھیک کیا گیا۔ مطلب صاف ہے کہ سرکار کوئلہ گھوٹالے میں کورٹ میں جھوٹ بولتی آئی ہے۔ جن کی آنکھوں میں شرم تھی، وہ اس کیس سے ہٹ گئے اور جو بچ گئے، وہ ڈٹے رہے۔ اگلے ہی دن اس معاملے میں سرکار کی طرف سے دلیل دینے والے ایڈیشنل سولسٹر جنرل ہریش راوَل نے سپریم کورٹ کو ورغلانے کی بات سے شرمسار ہو کر استعفیٰ دے دیا۔ جب رپورٹ بدلنے والی بات اجاگر ہوئی، تو ہنگامہ مچ گیا۔ سرکار کی طرف سے بے تکی دلیلیں دی گئیں، لیکن میڈیا اور اپوزیشن کے دباؤ کے سبب منموہن سنگھ کو اشونی کمار کو برخاست کرنے پر مجبور ہونا پڑا، لیکن حیرانی اس بات کی ہے کہ اشونی کمار کو پچھلے دروازے سے ایک بار پھر سرکار میں شامل کیا گیا ہے۔
وزیر اعظم منموہن سنگھ نے جاپان کے دورے کے لیے اشونی کمار کو اپنا خصوصی ایلچی مقرر کیا ہے، جو کابینی وزیر کا درجہ ہے۔ منموہن سنگھ کی اشونی کمار سے نزدیکیاں اور وزیر اعظم کے دفتر کے افسر کا اس میٹنگ میں ہونا، اس بات کے اشارے ہیں کہ سی بی آئی جانچ کو متاثر کرکے کسے بچانے کی کوشش ہو رہی ہے۔ کوئلہ گھوٹالے کی سماعت سپریم کورٹ میں تین ججوں والی بنچ میں چل رہی ہے۔ اس بنچ کے تینوں جج – جسٹس آر ایم لوڑھا، جسٹس بی لوکر اور جسٹس کورین جوسیف کی نظر ان حرکتوں پر ضرور ہوگی۔

یہ معاملہ صرف غیر قانونی طریقے سے کوئلے کی کانوں کی تقسیم کا نہیں ہے۔ سرکاری ضابطوں کے مطابق، کوئلے کی کانیں تقسیم کرنے کے لیے بھی کچھ ضابطے ہیں، جن کی صاف اندیکھی کر دی گئی۔ بلاکوں کی تقسیم کے لیے کچھ سرکاری شرطیں ہوتی ہیں، جنہیں کسی بھی صورت میں اندیکھا نہیں کیا جا سکتا۔ ایسی ہی ایک شرط یہ ہے کہ جن کانوں میں کوئلے کی کھدائی سطح کے نیچے ہونی ہے، ان میں الاٹمنٹ کے 36 ماہ بعد (اور اگر جنگلاتی علاقے میں ایسی کانیں ہیں، تو یہ مدت چھ ماہ بڑھا دی جاتی ہے) کانکنی شروع ہو جانی چاہیے۔ اگر کان اوپن کاسٹ قسم کی ہے، تو یہ مدت 48 ماہ کی ہوتی ہے (جس میں اگر جنگلاتی علاقہ ہو، تو پہلے کی طرح ہی چھ مہینے کی چھوٹ ملتی ہے)۔ اگر اس مدت میں کام شروع نہیں ہوتا ہے، تو کان کے مالک کا لائسنس ردّ کر دیا جاتا ہے۔ حیرانی کی بات یہ ہے کہ زیادہ تر کانوں سے کبھی کوئلہ نکالا ہی نہیں گیا۔ تو سوال یہ ہے کہ ضابطوں کی خلاف ورزی پر اِن کمپنیوں کے خلاف منموہن سنگھ نے کیوں ایکشن نہیں لیا؟ قصوروار کمپنیوں کے لائسنس کیوں ردّ نہیں کیے گئے؟ منموہن سنگھ کو ان سوالوں کے جواب دینے ہوں گے۔ نوٹ کرنے والی بات یہ ہے کہ چوتھی دنیا نے سب سے پہلے کوئلہ گھوٹالے کا پردہ فاش کیا تھا اور ہم نے دعویٰ کیا تھا کہ یہ گھوٹالہ 26 لاکھ کروڑ روپے کا ہے، جس میں منموہن سرکار نے 52 لاکھ کروڑ روپے کا کوئلہ پرائیویٹ کمپنیوں کے ساتھ مل کر بندر بانٹ کیا ہے۔
کورٹ نے سرکار کو سبھی غائب فائلوں کو مہیا کرانے کے لیے دو ہفتے کا وقت دیا ہے۔ سی بی آئی وزارتِ کوئلہ کو ضروری فائلوں کی لسٹ دے گی اور سرکار دو ہفتے کے اندر یہ بتائے گی کہ وہ فائلیں کہاں ہیں۔ اگر وزارتِ کوئلہ پھر بھی کہتی ہے کہ کچھ فائلیں غائب ہیں، تو سی بی آئی میں ایف آئی آر درج کرایا جائے گا۔ اب تک صرف 37 کمپنیوں کی ہی جانچ ہوئی ہے اور باقی 132 کمپنیوں کے بارے میں کچھ پتہ نہیں چل پایا ہے، جب کہ کوئلہ گھوٹالے کی جانچ دسمبر تک پوری ہونی ہے۔ جس طرح سے فائلیں غائب ہو رہی ہیں، وزارت سے جواب نہیں مل رہا ہے اور جس رفتار سے جانچ آگے بڑھ رہی ہے، اس سے تو یہی لگتا ہے کہ دسمبر تک جانچ پوری نہیں ہو پائے گی۔ اس درمیان کورٹ سے جانچ کے لیے چھ ماہ کا وقت بھی مانگا گیا، لیکن کورٹ نے صاف صاف منع کر دیا ہے اور یہ ہدایت دی ہے کہ جانچ کو دسمبر تک ختم کرنا ہی ہے۔ مطلب یہ کہ کورٹ کوئلہ گھوٹالے کی جانچ و سماعت دسمبر تک ختم کرنے کا من بنا چکا ہے۔ ہمیں یہ بھی یاد رکھنا چاہیے کہ کورٹ نے کچھ دن پہلے یہ بھی کہا تھا کہ کسی بھی قیمت پر اس معاملے میں سچائی کو سامنے لایا جائے گا اور قصورواروں کو سزا دی جائے گی۔
ہندوستانی عوام کے سامنے سپریم کورٹ بھروسے کی آخری امید ہے۔ سپریم کورٹ کوئی سیاسی پارٹی نہیں ہے، جو جھوٹے الزام لگائے اور جسے سیاسی جواب دے کر ٹالا جا سکتا ہے۔ عدالت تو سچ کا پتہ لگاتی ہے۔ دودھ کا دودھ اور پانی کا پانی کرتی ہے۔ عدالت فیصلہ کرتی ہے اور جب تک فیصلہ نہیں دیتی، تب تک وہ اشارہ دیتی ہے۔ کوئلہ گھوٹالے میں اب تک سپریم کورٹ سے جو اشارے مل رہے ہیں، وہ خطرناک ہیں۔ کہیں ملک کے عوام کا یہ بھیانک خواب سچ نہ ہو جائے کہ ملک کے وزیر اعظم کو کسی گھوٹالے میں جیل جانا پڑ جائے۔ اگر ایسا ہوتا ہے، تو یہ ہندوستانی کا سب سے شرمناک صفحہ ہوگا۔

ڈاکٹر منیش کمار

ڈاکٹر منیش کمار کے پاس الیٹرانک میڈیا کا طویل تجربہ ہے۔ وہ ایک بیباک اور تیکھے سیاسی تنقید کار ہیں۔ ان کو سیاست میں بنتے بگڑتے حالات اور ”چوتھی دنیا“ سے سروکار رکھنے والے مدعوں کی باریک سمجھ ہے۔ ”چوتھی دنیا“کے کوآرڈینیشن ایڈیٹر کی اہم ذمہ داری ان کے کندھوں پر ہے۔

Latest posts by ڈاکٹر منیش کمار (see all)

Share Article

ڈاکٹر منیش کمار

ڈاکٹر منیش کمار کے پاس الیٹرانک میڈیا کا طویل تجربہ ہے۔ وہ ایک بیباک اور تیکھے سیاسی تنقید کار ہیں۔ ان کو سیاست میں بنتے بگڑتے حالات اور ”چوتھی دنیا“ سے سروکار رکھنے والے مدعوں کی باریک سمجھ ہے۔ ”چوتھی دنیا“کے کوآرڈینیشن ایڈیٹر کی اہم ذمہ داری ان کے کندھوں پر ہے۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *