مدارس کے اساتذہ پر نتیش حکومت کی مہربانی

اشرف استھانوی 

ایسا محسوس ہوتا ہے کہ بہار کی نتیش حکومت نے بی جے پی سے ناطہ توڑ نے کے بعدعام سیکولر ووٹروں اور خاص طور پرمسلمانوں کو اپنی طرف راغب کرنے کی نئے سرے سے کوشش شروع کردی ہے، تاکہ اس کا فائدہ اسے آئندہ سال ہونے والے لوک سبھا انتخابات اور اس کے بعد ریاستی اسمبلی انتخابات میں حاصل ہو سکے۔ اس سلسلے میں اس نے ایک بڑا فیصلہ کیا ہے، جس سے ریاست کے 1128 ملحقہ مدارس کے اساتذہ و ملازمین کو پہلی بار نظر ثانی شدہ اور با وقار شرح تنخواہ ملے گی اور وہ بھی جنوری 2006 سے۔

بہار کی نتیش حکومت نے مدارس کے اساتذہ اور ملازمین کی تنخواہوں میں اضافہ کرنے کا ایک بڑا فیصلہ لیا ہے اور اعلان کیا ہے کہ بڑھی ہوئی ان تنخواہوں کا نفاذ جنوری p-4b2006 سے قابل عمل ہوگا۔ حکومت کے اس نئے فیصلہ سے جہاں ایک طرف ریاست کے 1128 ملحقہ مدارس کے اساتذہ و ملازمین مستفید ہوں گے، وہیں، اس سے ریاست کے 525 سنسکرت اسکولوں کے اساتذہ اور ملازمین بھی مستفید ہوں گے۔ لیکن زیادہ بڑا فائدہ مدارس کے اساتذہ اور ملازمین کو ہی حاصل ہوگا، کیوں کہ 1128 ملحقہ مدارس، جن میں 9 مدرسۃ البنات بھی شامل ہیں، کے علاوہ مالی منظوری کے منتظر 2460 مدارس میں سے 205 ان مدارس کو بھی اب حکومت کی طرف سے مالی معاونت حاصل ہوگی، جو اس کے لیے مقررہ تمام شرائط پوری کرتی ہیں۔ بقیہ مدارس کی جانچ پڑتال چل رہی ہے اور جیسے جیسے وہ منظوری کی شرطیں پوری کرتے جائیں گے، سرکاری گرانٹ پانے والے مدارس کی فہرست میں شامل ہوتے جائیں گے، کیوں کہ حکومت نے ان تمام مدارس کو مالی منظوری دینے کا فیصلہ پہلے ہی کر لیا ہے۔ اس طرح ان تمام مدارس کی منظوری کے بعد ایسے مدارس کی تعداد 3588 ہو جائے گی۔ لیکن فی الحال جو مدارس اس سے مستفید ہوں گے، ان پر حکومت کو سالانہ 525 کروڑ روپے اضافی خرچ کرنے پڑیں گے۔
نئے فیصلے کے مطابق مدارس ملحقہ کے پرنسپل کو، جنہیں 2000-3500 روپے کی معمولی اور ہتک آمیز شرح تنخواہ دی جا رہی ہے، انہیں اب 9300-34000 روپے کی نئی شرح تنخواہ کے علاوہ 4600 روپے کا گریڈ پے بھی دیا جائے گا۔ معاون مدرسین اور دیگر تدریسی وغیر تدریسی ملازمین کے لیے بھی اسی طرح زیادہ بہتر سلیب تیار کیا گیا ہے اور چونکہ یہ شرح تنخواہ جنوری 2006 کے اثر سے نافذ ہوگی، اس لیے ہر مدرس اور ملازم کو کثیر رقم بقایا کے طور پر بھی ملے گی۔

مدارس اور سنسکرت اسکولوں کے اساتذہ اور ملازمین گزشتہ کئی دہائیوں سے بہتر تنخواہ اور سہولیات کے لیے لگاتار تحریک چلا رہے تھے، خصوصاً پندرہ سالہ لالو- رابڑی حکومت کے د وران ان کی تحریک بہت شدت اختیار کر گئی تھی۔ سال کے 6 ماہ مدارس اور سنسکرت اسکولوں کے مولوی اور پنڈت راجدھانی کی سڑکوں پر دھرنا مظاہرہ کرتے اور پولس کی لاٹھیاں کھاتے نظر آتے تھے۔

مدارس اور سنسکرت اسکولوں کے اساتذہ اور ملازمین گزشتہ کئی دہائیوں سے بہتر تنخواہ اور سہولیات کے لیے لگاتار تحریک چلا رہے تھے، خصوصاً پندرہ سالہ لالو- رابڑی حکومت کے د وران ان کی تحریک بہت شدت اختیار کر گئی تھی۔ سال کے 6 ماہ مدارس اور سنسکرت اسکولوں کے مولوی اور پنڈت راجدھانی کی سڑکوں پر دھرنا مظاہرہ کرتے اور پولس کی لاٹھیاں کھاتے نظر آتے تھے۔ حکومت بھی ان کی تحریک اور مظاہرے سے انتہائی پریشان اور تنگ آچکی تھی، اس لیے وہ ان کی تحریکوں کو سختی کے ساتھ کچلنے کے علاوہ اور کوئی ٹھوس کارروائی ضروری نہیں سمجھتی تھی، بلکہ اس نے تو صاف انکار ہی کر دیا تھا کہ حکومت کے لیے ان کے مطالبات کو تسلیم کرنا ممکن نہیں ہے۔
2005 کے اسمبلی انتخابات میں ٹھکرائے گئے اور ہر طرف سے مایوس مدارس اور سنسکرت اسکولوں کے مولیوں اور پنڈتوں اور ان کے اعزا و اقارب نے اس وقت کی رابڑی حکومت کے خلاف کھل کر کام کیا تھا اور راشٹریہ جنتا دل کو اقتدار سے محروم کر دینے کے لیے متحد ہونے والی طاقتوں کی بھر پور اعانت کی تھی، جس کے نتیجہ میں پندرہ سالہ لالو- رابڑی راج کا خاتمہ ہو گیا تھا۔ اس کے بعد جب نتیش حکومت اقتدار میں آئی، تو انہیں ایسا لگا تھا کہ نتیش حکومت انہیں پہلی فرصت میں اس کا صلہ دے گی اور ان کے دیرینہ مسائل کو حل کرکے انہیں بہتر زندگی مہیا کرائے گی، لیکن ایسا نہیں ہوا تھا۔ حکومت نے 2006 میں صرف اتنا کیا تھا کہ ان کا مہنگائی بھتہ 125 فیصد سے بڑھا کر 300 فیصد کر دیا تھا۔ ظاہر ہے کہ یہ ان کے مسائل کا اصلی حل نہیں تھا، مگر پھر بھی مہنگائی بھتہ میں ہونے والے اس غیر معمولی اضافہ نے انہیں کچھ مالی فائدہ ضرور پہنچایا تھا اور وہ پہلے سے بہتر تنخواہ پانے لگے تھے۔ انہیں امید تھی کہ حکومت بتدریج ان کے دیگر مسائل بھی حل کرے گی۔
اس دوران یہ اساتذہ اپنے دیگر مسائل کے حل کے لیے سنجیدگی کے ساتھ آواز تو بلند کرتے رہے تھے، مگر لالو – رابڑی حکومت کی طرح وہ کبھی حکومت کے خلاف سڑکوں پر نہیں اترے تھے اور اس طرح کا ہنگامہ کبھی دیکھنے میں نہیں آیا تھا، جس طرح کا آر جے ڈی حکومت کے دوران نظر آتا تھا، لیکن اس کے بعد پھر نتیش حکومت نے ان اساتذہ کی طرف دوبارہ مڑکر نہیں دیکھا۔ شاید اس کی ایک وجہ یہ بھی رہی کہ محکمہ مالیات بی جے پی کے پاس تھا اور وہ مدارس کے مولویوں پر اتنی بڑی رقم خرچ کرنے کا حوصلہ نہیں رکھتی تھی۔ لیکن مدارس کے اساتذہ اور ملازمین مایوس نہیں ہوئے اور انہوں نے 2010 کے اسمبلی انتخاب میں پہلے سے بھی زیادہ جوش و خروش کے ساتھ نتیش حکومت کا ساتھ دیا اور بلا امتیاز جماعت این ڈی اے کو بھر پور ووٹ دیا۔ نتیجہ یہ ہوا کہ نتیش حکومت ریکارڈ توڑ اکثریت کے ساتھ دوبارہ اقتدار میں آگئی۔ اس کے بعد مدارس کے اساتذہ کو ایک بار پھر یہ امید جاگی کہ حکومت اس بھر پور حمایت کا انعام ضرور دے گی اور جس طرح پہلی بار اقتدار سنبھالنے پر مہنگائی بھتہ میں اضافہ کرکے راحت پہنچائی تھی، اسی طرح دوبارہ اقتدار پانے کی خوشی میں بھی وہ کچھ نہ کچھ ان کے حق میں ضرور کرے گی۔ مگر ماہ و سال گزر گئے، لیکن حکومت کی طرف سے اس سلسلے میں کوئی اشارہ تک نہیں ملا، تو ان میں مایوسی پھیلنے لگی تھی اور انہیں سمجھ میں نہیں آرہا تھا کہ جس حکومت کو انہوں نے خود اپنی کد و کاوش سے اتنی طاقت دی ہے، اس کی طاقت سے خود کس طرح ٹکرائیں اور اپنے بقایا مسائل کے حل کے لیے کون سا راستہ اختیار کریں۔
اسی دوران گجرات کے وزیر اعلیٰ نریندر مودی کے سوال پر حکمراں جنتا دل یو اور بی جے پی کے تعلقات کشیدہ ہو گئے اور حالات اس حد تک خراب ہوئے کہ دونوں کو اپنے اپنے راستے الگ کرنے پڑے۔ حکومت سے بی جے پی کو ہٹائے جانے کے بعد ایک بار پھر امید کی شمع روشن ہوئی کہ شاید اب نتیش کمار مدارس کے اساتذہ اور ملازمین کے لیے کچھ کریں۔ ادھر خود نتیش کے سامنے یہ مسئلہ آگیا کہ وہ اب کیا کریں۔ مودی کی مخالفت اور بی جے پی کے اخراج کے بعد اب این ڈی اے حامی ووٹ تو انہیں ملنے سے رہے۔ رہی بات غیر این ڈی اے ووٹوں کی، تو اس کے طلب گار اور دعویدار کئی ہیں، یعنی ایک انار اور سو بیمار والی کیفیت ہے۔ سب سے بڑا دعویدار تو راشٹریہ جنتا دل ہے۔ ایسے میں انہیں غیر این ڈی اے ووٹروں، خصوصاً مسلمانوں میں اپنی ساکھ جمانے اور ان کا بھر پور اعتماد حاصل کرنے کے لیے پرانی روش سے ہٹ کر کچھ خاص کرنا ہی پڑے گا۔ چنانچہ دوماہ کی غو ر و فکر اور منصوبہ بندی کے بعد گزشتہ دنوں 21 اگست کوایک فیصلہ لیا اور اسے ریاستی کابینہ کی منظوری دلائی، تو مدارس کے اساتذہ اور ملازمین کے چہرے کھل گئے اور انہیں ایک ہی ماہ میں لگا تار دو عید منانے کا موقع مل گیا۔ حکومت بھی یہ فیصلہ لے کر خوش ہے کہ اس نے وہ کام کر دکھایا، جو ابھی تک کسی نے نہیں کیا تھا۔
دریں اثناء حکومت اپنے ایک اور فیصلے پر عمل کرنے کے قریب ہے۔ حکومت نے بہار کے تمام اضلاع میں مائنا ریٹی ویلفیئر افسر کا تقرر کرنے کا فیصلہ کیا تھا۔ اس پوسٹ پر بحالی کے لیے بہار پبلک سروِس کمیشن (بی پی ایس سی) سے ناموں کی سفارش کرنے کے لیے کہا گیا تھا۔ بی پی ایس سی کے 53 ویں سے 55 ویں مقابلہ جاتی امتحان کا جو فائنل رزلٹ گزشتہ دنوں سامنے آیا ہے، اس میں بہار کے سبھی 38 اضلاع کے لیے 38 مائنا ریٹی ویلفیئر افسر منتخب قرار دیے گئے ہیں۔ حکومت اب ان کا تقرر کرکے اقلیتی فلاحی پروگراموں کو تیزی سے نافذ کرکے اگلے اسمبلی انتخاب سے پہلے اپنی ساکھ کو بہتر کرنے کا ارادہ رکھتی ہے۔

دوسری سرکاری زبان ’’اردو ‘‘کا برا کاحال
بہار میں اردو کے معاملے میں حکومت کی پوزیشن کافی خراب ہو رہی ہے۔ ریاست میں اردو دوسری سرکاری زبان ہے، مگر اردو کا عملی نفاذ بالکل صفر کے برابر ہے۔ اردو کے نفاذ کے لیے اردو ڈائریکٹوریٹ قائم کیا گیا تھا، مگر اسے آج تک مالی اور انتظامی اختیارات نہیں دیے گئے۔ نتیجہ یہ ہوا کہ وہ ہاتھی کا دانت بن کر رہ گیا۔ راج بھاشا کے اردو ملازمین کی ایک بار جو بحالی ہوئی، وہ ڈاکٹر جگن ناتھ مشرا کے دور اقتدار میں ہوئی۔ ان کے ریٹائر منٹ سے خالی ہوئی جگہ پر آج تک پھر کوئی بحالی نہیں ہوئی۔ دوسری سرکاری زبان اردو کے عملی نفاذ کے لیے جو ملازمین ہیں، انہیں آج تک کوئی پروموشن نہیں ملا۔ ایک ہی پوزیشن میں رہ کر وہ پوری ملازمت کرکے سبکدوش بھی ہو گئے۔ ڈائریکٹوریٹ میں اردو ڈائرکٹر کا عہدہ جنوری 2013 سے خالی پڑا ہوا ہے۔
اردو کے نفاذ کے سلسلے میں حکومت کو مشورے دینے کے لیے جو اردو مشاورتی کمیٹی بنائی گئی ہے اور جس پر ماہانہ لاکھوں روپے خرچ ہوتے ہیں، وہ گاندھی جی کے بندر کا رول ادا کر رہی ہے۔ نہ سنتی ہے، نہ دیکھتی ہے اور نہ ہی کچھ بولتی ہے یا سفارش کرتی ہے۔ ایک چیئر مین کے علاوہ کسی کو کوئی سہولت بھی حاصل نہیں ہے۔ بہار اردو اکادمی کی حالت بھی خستہ ہے۔ اس کے پاس اردو کے فروغ کے لیے کوئی فنڈ نہیں ہے۔ ملازمین کو تنخواہ کی ادائیگی بھی مشکل ہو رہی ہے۔ ریٹائر ہونے والے ایک ملازم کو ریٹائر منٹ بینیفٹ دینا بھی محال ہے۔ اکادمی کا ترجمان ’’زبان و ادب‘‘ بند ہونے کی پوزیشن میں ہے۔ ساڑھے سات سالہ نتیش حکومت میں ایک بھی عربی و فارسی ٹیچر کی تقرری نہیں کی گئی۔ ہزاروں کی تعداد میں پرائمری اردو اساتذہ کی خالی اسامیاں ابھی تک پر نہیں ہوئی ہیں۔ بہار اسٹیٹ مدرسہ ایجو کیشن بورڈ، جسے بد عنوان بورڈ کہیں، تو زیادہ بہتر ہوگا، یہاں چیئر مین ایک دھرم پرچارک کو بنایا گیا ہے، جن کی تنک مزاجی اور مطلق العنانی سے لوگ پریشان ہیں۔ایسے میں نتیش حکومت کے لیے مسلمانوں کا اعتماد حاصل کرنا آسان نہ ہوگا اور انہیں ابھی بہت کچھ کرنا پڑے گا، جس کے لیے وقت کم پڑ سکتا ہے۔ دیکھنا یہ ہے کہ حکومت اپنے اس ہدف کو حاصل کرنے کے لیے اور کون کون سی کارروائی کرتی ہے اور اسے اپنے مقصد کے حصول میں کس حد تک کامیابی حاصل ہوتی ہے؟

سشیل مودی مدارس کے اساتذہ کا بھلا نہیں چاہتے تھے: وزیر تعلیم کا سنسنی خیز انکشاف
ریاستی وزیر تعلیم پی کے شاہی نے 22 اگست کو ’چوتھی دنیا‘ سے ایک خصوصی ملاقات میں نتیش حکومت کے ذریعہ برخواست کیے گئے وزیر مالیات سشیل کمار مودی پر کئی سنگین الزامات عائد کیے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ وزیر اعلیٰ کی خواہش کے باوجود اقلیتی فلاحی پروگراموں میں وافر فنڈ مختص کرنے میں مودی ٹال مٹول سے کام لیتے رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ مدارس اسلامیہ کے تدریسی و غیر تدریسی ملازمین کو نظر ثانی شدہ تنخواہ کا فائدہ ایک سال قبل ہی مل جاتا اور کابینہ کی مہر بھی لگ گئی ہوتی، لیکن وزیر مالیات سشیل کمار مودی وزیر اعلیٰ کے بار بار تقاضے کے باجود ان فائلوں پر کنڈلی مارے بیٹھے رہے اور اپنی منظوری نہیں دی۔ وزیر تعلیم نے صاف لفظوں میں کہا کہ سشیل مودی کسی بھی صورت میں مدارس کے اساتذہ کو فائدہ نہیں پہنچانا چاہتے تھے اور حکومت پر مالی بوجھ کا بہانہ بنا کر مدارس کے اساتذہ کی تنخواہ بڑھانے سے انکار کرتے رہے، لیکن جیسے ہی وزارت مالیات کی ذمہ داری وزیر اعلیٰ کے ہاتھ میں آئی، تو انہوں نے اپنی اولین فرصت میں مدارس اسلامیہ کے تدریسی و غیر تدریسی ملازمین کے مسائل حل کر دیے۔ وزیر تعلیم نے کہا کہ حکومت سے ہٹتے ہی سشیل مودی اساتذہ کو مستقل کرنے کا شور و غل کرکے اپنی غلطیوں کو چھپانے کی کوشش کر رہے ہیں۔
بہرحال، وزیر اعظم تعلیم کے اب انکشاف کے تعلق سے سوال یہ اٹھتا ہے کہ انہوں نے مدارس کے اساتذہ سے متعلق یہ سب کچھ سشیل مودی کے حکومت کے اندر رہتے ہوئے کیوں نہیں کیا اور خود وزیر اعلیٰ نے اس وقت حکومت کے سربراہ رہنے کے باوجود انہیں کچھ کرنے کو کیوں نہیں کہا اور خاموش کیوں رہے؟

 

 

Share Article

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *