ہندو پاک تعلقات : حافظ سعید جیسے شخص کی ہمت شکنی لازمی

ایک ایسے وقت جب کہ ہندوستان اور پاکستان جیسے پڑوسی ممالک آپسی اختلاف کے سبب دوسرے کے پڑوسی بن گئے ہیں اور انہیں پھر سے قریب تر لانے کی کوششیں کی جارہی ہیں، کسی بھی طرح کی ایسی حرکت جو کہ آگ پر تیل چھڑکنے کا کام کرے اور تعلقات و روابط پھر سے بد تر ہوجائے، کسی لحاظ سے مناسب نہیں ہے۔ ابھی حال میں پاکستان کی جماعۃ الدعوہ جسے امریکہ نے ممنوعہ قرار دے رکھا ہے کے سپریمو حافظ سعید نے راولپنڈی میں ’’دفاع پاکستان کارواں‘‘ میں ہندوستان کے خلاف جو نفرت آمیز تقریر کی اس کی بھی حیثیت اسی قسم کی ہے۔ اس سے ہندو پاک تعلقات کا معاملہ بہتری کے بجائے بدتری کی طرف جائے گا۔ لہٰذا اس بات کی ضرورت ہے کہ حافظ سعید جیسے افراد کی ہمت شکنی کی جائےکیونکہ حافظ سعید نے جس قسم کا اظہار کیا ہے اس کی اجازت کسی بھی ملک حتی کہ پاکستان کا آئین بھی اجازت نہیں دے سکتا ہے۔ ذیل کی رپورٹ اسی پہلو کو اجاگر کرتی ہے۔

p-8حافظ سعید وہی شخص ہے جن کو اقوام متحدہ کی سیکورٹی کونسل نے دہشت گرد قرار دیا ہے اور اس کی گرفتار ی پر 10 ملین ڈالر کا انعام ہے ۔یہ وہی ہیں جن کو 2008 میں ممبئی حملے کا ذمہ دار پایاگیا ہے۔وہ لاہور کے اندر ہزاروں لوگوں کے مجمع میں کھلے عام ہندوستان اور اس کی پالیسی کے خلاف کہتے ہیں کہ جب تک کشمیر ہندوستان سے الگ نہیں ہوجاتا اس وقت تک وہ ہندوستان کے خلاف جہاد جاری رکھیں گے۔وہ بین اقوامی اصولوں کی خلاف ورزی کرتے ہوئے ہندوستان پر بے بنیاد الزام عائد کرتے رہتے ہیں مگر پاکستان کی حکومت اس پر کوئی کارروائی نہیںکرتی ہے ۔آخر اس کا مطلب کیاہے؟۔پاکستان حافظ سعید جیسے لوگوں کی وجہ سے ہی دنیا بھر میںبد نام ہورہا ہے۔ ابھی حال ہی میں برطانیہ کے سابق سکریٹری آف اسٹیٹ برائے دفاع لیام فاکس نے پاکستان کے بارے میں ایک جملہ کہا تھاکہ’ وہ ایک خطرناک ترین ملک ہے جو دہشت گردی اور انارکی کے معاملے میں صومالیہ اور یمن سے بھی بد تر ہے‘۔ان کے اس بیان پر پاکستان نے سخت ناراضگی جتائی اور کہا کہ ایسے الزامات بین اقوامی ضابطوں کے خلاف ہیں ۔

اب پاکستانی حکومت کو ہی فیصلہ کرنا ہیکہ حافظ سعید حکومت ہند پر جو جھوٹے الزامات عائد کرتے رہے ہیں ، وہ عالمی ضابطوں کی خلاف ورزی کے دائرے میں آتے ہیں یا نہیں ؟ظاہر ہے کہ یہ سراسر بین اقوامی ضابطوں کی خلاف ورزی ہے۔ ان کے باوجود اس پر کارروائی نہیں کی جارہی ہے بلکہ حافظ سعید کو تحفظ فراہم کیا جارہا ہے اور سابقہ حکومت کی طرح نواز شریف حکومت بھی ان کی تنظیم کو فنڈ فراہم کرنے کا سلسلہ جاری رکھے ہوئی ہے ،چنانچہ پنجاب حکومت نے اس کی تنظیم جماعۃ الدعوۃ کے لئے 61 ملین روپے مختصکیا ہے۔حافظ سعید نے 6ستمبر کو لیاقت آباد ،راولپنڈی سے لاہور تک ’’دفاعِ پاکستان کارواں‘کے نام سے ہزاروں لوگوں کے ساتھ لانگ مارچ کیا۔ اس کارواں میں اسکولوں، کالجوں، یونیورسٹیوں اور مدارس کے طلباء کے علاوہ وکلاء ، تاجرین، سول سوسائٹیز سمیت دیگر شعبہ ہائے زندگی سے تعلق رکھنے والے افراد بڑی تعداد میں شریک تھے۔ اس موقع پر حافظ سعید نے ہندوستان کے خلاف خوب بھڑکیلی باتیں کی اور کشمیریوں کے حق میں زبردست نعرے لگائے۔نعرے میں ہند مخالف جذبے جھلک رہے تھے۔مثلاً’’ بھارت سے رشتہ کیا؟ نفرت کا انتقام کا‘‘۔’’ حافظ محمد سعید قدم بڑھائو ہم تمہارے ساتھ ہیں‘‘۔اس کے علاوہ ہندوستان پر آبی جارحیت، کنٹرول لائن پر مسلسل حملوں، کشمیر میں بد ترین مظالم ڈھانے جیسے الزامات بھی کھلے عام لگائے گئے۔
کارواں کو خطاب کرتے ہوئے امیر جماعۃ الدعوۃ حافظ محمد سعید نے جو باتیں کہیں ،اس سے بخوبی اندازہ لگایا جاسکتا ہے کہ ان کا مقصد دفاع پاکستان کم اور ہندوستان کے خلاف زہر اگلنا زیادہ تھا۔انہوں نے اپنے خطاب میں کہا ’’ 6 ستمبر یوم دفاع ہمیں 1971کو سانحہ مشرقی پاکستان کا دن یاد دلاتا ہے ۔ حکمرانوں کی طرف سے دہشت گردی کے مسئلہ پر اے پی سی (All Parties Conference)بلانا خوش آئند ہے لیکن یہ بات یادرکھنی چاہئے کہ اس ساری دہشت گردی کے پیچھے بھارت ہے جس نے پاکستان کے خلاف سرمایہ کاری کی ہے اور خوفناک سازشیں کی ہیں۔ پاکستان کے مشرق اور مغرب میں شدید خطرات منڈلا رہے ہیں۔ ہندو، صلیبی اور یہودیوں کو اس بات سے خطرہ ہے کہ پاکستان مدینہ طیبہ کی طرح ایک اسلامی ریاست نہ بن جائے۔ کل بھی یہی مسئلہ تھا اور آج بھی یہی مسئلہ ہے۔ آج فرقہ واریت اور تشدد نے وطن عزیز میں غیر ملکی قوتوں کی مداخلت کے راستے فراہم کئے ہیں۔ اس خوفناک سازش کا ازالہ کرنا ضروری ہے۔ بھارت نے بلوچستان میں علیحدگی کی تحریکیں کھڑی کیں، عصبیتوں کو ہوا دی اورجب نائن الیون کاواقعہ ہوا تو امریکہ اور اس کے اتحادیوں نے پاکستان کو بیس کیمپ بنا کر افغانستان پر حملہ کیا۔ امریکہ نے پاکستانی زمینوں اور فضائوں کو استعمال کرکے افغانستان پر بارود برسانا شروع کیا تو بھارت نے اس موقع پر فائدہ اٹھاتے ہوئے اپنے منصوبوں پر تیزی سے عمل شروع کیا۔ مجھے کسی بین الاقوامی فورم پر کھڑا کر دو ہم دنیا کے سامنے یہ حقیقتیں انشاء اللہ واضح کریں گے۔ امریکہ کی شہ پر بھارت نے افغانستان میں قونصل خانے بنائے اور یہاں بیٹھ کر بارہ سال تک دہشت گردی کے لئے اپنے ایجنٹ پاکستان میں داخل کرتا رہا۔ نوازشریف صاحب کو یہ بات سمجھ لینی چاہئے کہ بھارت پاکستان کا دوست نہیں، دشمن ہے۔ وہ گاندھی اور نہرو کے ایجنڈے پر عمل پیرا ہے‘‘۔
کشمیر ایشو پر بولتے ہوئے حافظ سعید نے کہا کہ ’’ جب تک پورا کشمیر ہندوستانی قبضے سے نہیں نکل جاتا ہے اس وقت تک وہ ہندوستان کے خلاف جہاد جاری رکھیں گے۔انہوں نے بھرے مجمع میں دھمکی دیتے ہوا کہا کہ ہندوستان کو 2008 جیسے دہشت گردانہ حملوں کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے،کیونکہ ہندوستان ایک دہشت گرد ملک ہے‘‘۔ حافظ سعید نے اپنی جوشیلی تقریر کے دوران کہا کہ ’’کشمیر ہماری شہہ رگ ہے اور ہماری یہ شہہ رگ اس وقت بھارت کے قبضے میں ہے۔ کشمیر پاکستان کے لئے زندگی اور موت کا مسئلہ بن چکا ہے اگرنواز شریف کشمیر کو اپنی شہہ رگ قرار دیتے ہیں جیسا کہ وہ پہلے اقرار کرچکے ہیں تو پھر دفاع کے تقاضوں کو مد نظر رکھتے ہوئے اپنی شہہ رگ بھارت کے قبضہ سے چھڑائیں۔ بھارت نے ہماری فصلیں برباد کیں اور بارشوں کے موسم میں دریائوں میں پانی چھوڑ کر پاکستان کو سیلاب سے دو چار کیا ہے۔ اس وقت پاکستان کے دفاع کو مضبوط کرنے کا مسئلہ ہے۔نواز شریف کو چاہئے کہ وہ ہندوستانی دہشت گردی کو انٹرنیشنل کمیونیٹی کے سامنے لائیں۔
علاوہ ازیں کارواں کے اختتام پر جلسہ سے خطاب کرتے ہوئے مذہبی و سیاسی جماعتوں کے قائدین نے کہا کہ ’’ پاکستان کو بھارت کی تجارتی منڈی نہیں بننے دیں گے، واگاہ کے راستے وسط ایشیا تک تجارت کیلئے موٹروے نہیں بنانے دیں گے۔ اے پی سی کا انعقاد اچھی بات ہے مگر اس کے ایجنڈے میں پاکستان میں دہشت گردی پھیلانے والے افغانستان میں موجود بھارتی قونصل خانوں کی بات بھی شامل کی جائے اور اسی کے ساتھ ہی کشمیری کے مسئلے بھی حل کیے جائیں۔ ان خیالات کا اظہار مولانا سمیع الحق، جنرل حمید گل، حافظ عبدالرحمن مکی، سردار عتیق احمد خان، لیاقت بلوچ، غلام محمد صفی، صاحبزادہ سلطان احمد علی، مولانا عبدالقادر لونی، مولانا امیر حمزہ ، حافظ سیف اللہ منصور، قاری محمد یعقوب شیخ، حافظ خالد ولید، رانا شمشاد احمد سلفی، مولانا ادریس فاروقی،مولانا سیف اللہ خالد اور دیگر نے خطاب کیا اور ہندوستان کے خلاف من گھڑت باتوں سے اپنے دل کی خوب بھڑاس نکالی۔
حافظ سعید کے بیانات ،ان کی زہر اگلتی تقریریں اور ہندوستان کے خلاف ا ن کی نفرت کے بیچ اب سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ دونوں ملکوں کے درمیان نفرت کی دیوار منہدم کرنے کی جو کوشش ہورہی ہے اور ستمبر کے آخری ہفتہ میں نیو یارک میں اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے دوران منموہن سنگھ اور نواز شریف کے بیچ تعلقات بحال کرنے کی جو بات چیت ہوئی،اس میں حافظ سعید کیوں رخنہ ڈال رہے ہیں۔کیا وہ یہ نہیں چاہتے ہیں کہ دونوں ملکوں کے درمیان باہمی تجارت کے لئے 2011 سے جو کوششیں ہورہی ہیں اور تب سے اب تک تین سکریٹری سطح اور تین وزارتی سطح کی میٹنگیں ہوچکی ہیں ،ان کا کوئی نتیجہ سامنے نہیں آیا۔ممبئی و کراچی کے راستے سمندری اور اٹاری واگہ کے راستے دونوں کے بیچ تجارت کو فروغ دینے کی جو باتیں چل رہی ہیں وہ ختم ہوجائیں اور نفرت کی دیوار مزید مضبوط ہو۔ حافظ سعید نے دفاع کارواں میں جس طرح کی باتیںکی،اس سے تو یہی سمجھ میں آتا ہے کہ وہ اپنے بیان سے ماحول کو خراب کرنے کی کوشش میں ہیں۔چنانچہ پیٹرس برگ میںجی 20 کانفرنس سے لوٹنے کے بعد منموہن سنگھ نے بھی افسوس کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ پاکستان کو چاہئے کہ وہ26/11 کے ماسٹر مائنڈ پر لگام کسے جو انڈیا کے خلاف مذہبی بنیاد پر تبلیغ کررہا ہے۔حافظ سعید کا بیان دونوں ملکوں کی امن بحالی کی کوششوں کو نقصان پہنچا سکتاہے۔منموہن سنگھ نے کہا کہ ہم پاکستان کے ساتھ بات چیت کرنا چاہتے ہیں مگر جو صورت حال پیدا کی جارہی ہے ،اس میں بات چیت کو جاری رکھنا ممکن نظر نہیں آرہا ہے۔
اس موقع پر سب سے اہم ذمہ داری نواز شریف حکومت کی ہے کہ وہ ایسے کارواں کو نکالنے کی اجازت ہی نہ دیں جس میں کسی پڑوسی ملک پر جھوٹے الزامات عائد کیے جارہے ہوں ۔کیا نوازشریف کو اس تلخ حقیقت کا اندازہ نہیں ہے کہ اس طرح کی زہر اگلتی تقریریں جب دونوں ملکوں کے تعلقات خراب کریںگی تو نقصان صرف اور صرف دونوں ملکوں کے عوام کا ہی ہوگا۔ پہلے ہی ویزا میں بے پناہ سختی ہے ۔دونوں طرف ویزا کے لئے رشتہ دار ترس رہے ہیں ایسے میں حافظ سعید کا یہ رویہ تلخیوں میں مزید اضافہ کرے گا۔
حافظ سعید کو ہندوستان میں دہشت گردی کے الزام میں 2009 میں نظر بند کیا گیا تھا مگر پھر پاکستانی عدالت نے یہ کہہ کر کہ ان کے خلاف کوئی ثبوت نہیں ہیں، آزاد کردیا تھا۔اب سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ جب حافظ سعید علی الاعلان یہ بات کرر ہے ہیں کہ وہ کشمیر کی آزادی تک ہندوستان کے خلاف جہاد جاری رکھیں گے تو کیا اعتراف گناہ کے بعد بھی کوئی شک رہ جاتا ہے کہ وہ ہندوستان میں دہشت گردی میں ملوث نہیں ہے۔اگر پاکستان واقعی تعلقات کو بحال کرنا چاہتا ہے تو پھر حافظ کے خلاف ہندوستان میں دہشت گردانہ عمل جاری رکھنے پر کارروائی کرنی چاہئے۔اگر پاکستان حافظ سعید جیسے افراد کے خلاف کارروائی نہیں کرتا ہے تو وہ نہ صرف پوری دنیا میں بدنام ہوجائے گا بلکہ ہند و پاک کے بیچ تجارت کے لئے پسندیدہ ملک ہونے اور 5 ہزار اشیاء کی تجارت کو فروغ دینے کی جو بات چل رہی ہے وہ بھی کھٹائی میں پڑ سکتی ہے جس سے نقصان دونوں ممالک کو ہی ہوگا۔آخر میں سب سے اہم سوال یہ ہے کہ کیا پاکستان کا آئین کسی بھی شہری کو ایک پڑوسی ملک کے خلاف نفرت آمیز سرگرمیوں کی اجازت دیتا ہے۔

Share Article

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *