آئی بی ، سی بی آئی تنازعہ: ملک کے اتحاد و سا لمیت کے لئے خطرہ

روبی ارون 

دنیا کے کسی بھی ملک میں شاید ہی ایسا کبھی ہوا ہو کہ وہاں کی حکومت نے ووٹ بینک کی خاطر ملک کی اندرونی سلامتی کو ہی دائو پر لگا دیا ہو۔ ہمارے ملک ہندوستان میں آج کل ایسا ہی ہو رہا ہے۔ منموہن سرکار نے خود کوسیکولر ثابت کرنے اور اپنے مخالفین کو مات دینے کی غرض سے نہ صرف ملک کی خفیہ ایجنسی انٹیلی جنس بیورو (آئی بی) کو بربادی کے دہانے پر کھڑا کر دیاہے، بلکہ اپنے مفادات کے لیے انٹیلی جنس بیورو اور سی بی آئی جیسے اداروں کو ایک دوسرے کے خلاف کھڑاکر دیا ہے۔ حکومت کو ملک کے اتحاد، سا لمیت اور سلامتی کی پرواہ نہیں ہے، بلکہ اسے اپنے چہرے پر پڑے سیکولرازم کے نقاب کو بچانے کی زیادہ فکر ہے۔

حکومت خود کو سیکولر ثابت کرنے کے لیے اس قدر بے چین ہے کہ اس نے حکومت کے لیے کام کرنے والی سی بی آئی کو ذریعہ بنا کر ملک کے لیے کام کرنے والی آئی بی کو کٹہرے میں لا کھڑا کیا ہے۔ آئی بی افسران حکومت کے تئیں بے حد مشتعل ہیں۔ فی الحال آئی بی وزارت داخلہ یا ریاستی حکومتوں سے اندرونی سلامتی سے متعلق اطلاعات راست طور پر شیئر نہیں کر رہی ہے اور نہ ہی دہشت گردی سے متعلق کسی آپریشن میں وہ ریاستی حکومتوں سے کوئی تعاون کر رہی ہے۔ آئی بی کے چیف آصف ابراہیم نے اس سلسلہ میں وزیر اعظم اور وزیر داخلہ سے پہلے ہی مل کر یہ کہہ دیا ہے کہ مائونوازوں اور دہشت گردوں کے بارے میں صحیح معلومات دینے پر بھی انہیں ملزم بنا دیا جاتا ہے، یہاں تک کہ ان کی گرفتاری کی نوبت آ جاتی ہے، جس سے انٹیلی جنس بیورو کے افسران کے حوصلے کمزور ہوتے ہیں۔ لہٰذا، ڈی آئی بی یعنی ڈائریکٹر آف آئی بی کے ذریعہ روزانہ وزیر اعظم سے مل کر ملک کی صورتحال سے آگاہ کرانے کا سلسلہ بھی ان دنوں فقط ایک رسم ادائیگی ہو کر رہ گیا ہے، جس سے ظاہر ہوتا ہے کہ یہ صورتحال ملک کی سلامتی کے لیے بے حد خطرناک ہے۔
Mastملک کی سلامتی خطرے میں ہے، لیکن پھر بھی منموہن سرکار کے لیے کام کر رہی سی بی آئی کا رخ تبدیل نہیں ہوا ہے۔ گجرات میں عشرت جہاں اور صادق جمال کے مبینہ فرضی انکائونٹر معاملہ پر آئی بی کے اسپیشل ڈائریکٹر راجندر کمار کو ملزم بنائے جانے سے آئی بی پہلے ہی وزارتِ داخلہ اور وزیر اعظم سے برہم ہے، لیکن جب سی بی آئی نے پوچھ گچھ کے نام پر آئی بی سے حال ہی میں ریٹائرڈ اسپیشل ڈائریکٹر راجندر کمار سے آئی بی کے ’انکرپٹنگ کوڈ‘ (Incripting Code)، یعنی کہ سفارتی زبان کے مینول کی مکمل معلومات حاصل کر لی اور ان کے بیان کو سی آر پی سی کی دفعہ 161 کے تحت نوٹ کر لیا، اس کے بعد آئی بی افسران نے کھل کر نہ سہی، لیکن باغی رخ اختیار کر لیا۔ عشرت جہاں انکاؤنٹر کا ٹرائل احمد آباد کے سیشن کورٹ میں سی بی آئی کی خصوصی عدالت میں شروع ہو چکا ہے، جس کی سماعت 10 ستمبر سے ہونی ہے۔
سی آر پی سی کی دفعہ 161 کے تحت اس معلومات کے درج ہونے کا مطلب ہے کہ اب راجندر کمار کو کورٹ میں اس سے متعلق بیان بھی دینے پڑیں گے اور ملک کا کوئی بھی شہری ایک آر ٹی آئی داخل کر کے ملک کی اندرونی سلامتی سے جڑی ان باتوں کو بے حد آسانی سے معلوم بھی کر سکتا ہے۔ مثلاً، اب تک گجرات کے مخبروں نے فیلڈ سے کیا کیا معلومات مہیا کرائیں اور اس کے بدلے میں انہیں کتنا محنتانہ دیا گیا۔ ان اطلاعات کو کس طرح استعمال کیا گیا اور کس کے حق میں کیا گیا۔ آئی بی کے کام کرنے کا کیا طریقہ رہا اور آئی بی کے مخبروں کا نیٹ ورک کس طرح کام کرتا ہے۔ مخبر کیسے بنائے جاتے ہیں اور ان مخبروں کے لیے خفیہ فنڈ میں کتنے پیسے جمع ہوتے ہیں۔ اپنے مخبروں کو آئی بی کس خبر کے لیے پیسے دیتی ہے اور حکومت سے مخبری کرانے کے نام پر کتنے پیسے لیتی ہے۔
سی بی آئی کا یہ قدم آئی بی کو بے حد ناگوار گزرا ہے۔ آئی بی افسران کا کہنا ہے کہ تفتیش کے نام پر سی بی آئی کی اس حرکت سے ان مخبروں کی جان بھی خطرے میں پڑے گی، جنھوں نے گجرات ریاست کے علاوہ دوسرے بھی کئی اہم کیسوں میں آئی بی کو بڑے ہی اہم سراغ دیے ہیں۔ چونکہ جب سی بی آئی نے آئی بی کے ’انکرپٹنگ کوڈ‘ کی ڈی کوڈنگ کر کے اسے عدالت میں پیش کرنے والی دستاویزات میں شامل کر لیا ہے، تو ظاہر ہے کہ معاملہ کی سماعت کے درمیان گواہوں اور ثبوتوں کے طور پر ان مخبروں کو بھی عدالت میں پیش کیا جائے گا، جنھوں نے آئی بی کو عشرت جہاں اور اس کے ساتھیوں کے ارادوں کے بارے میں بتایا تھا۔ ایسے میں مخبروں کی شبیہ اور شناخت عام ہو جائے گی، تو یقینا ہی ان کی جان بھی خطرے میں پڑ جائے گی۔ بعد میں کوئی اور مخبر بھی آئی بی کے لیے یا دوسری سلامتی ایجنسیوں کے لیے خفیہ اطلاعات جمع کرنے کا کام کرنے کو تیار نہیں ہوگا اور یہ ہمارے ملک کے لیے بے حد خطرناک ثابت ہوگا۔ المیہ یہ ہے کہ ان خراب نتائج سے بے پرواہ سی بی آئی اور آئی بی کے افسران اطلاعات جمع کرانے کے بجائے، کیسوں کی تفتیش کرنے کے بجائے، ایک دوسرے کے افسران کے خلاف خبروں کا ڈوژیئر تیار کر رہے ہیں۔ دونوں ہی ایجنسیاں اب ملک کے دشمنوں کے خلاف لڑنے کے بجائے ایک دوسرے کو نیچا دکھانے پر آمادہ ہیں۔
وزارتِ داخلہ کی اندرونی سلامتی (آئی ایس 1 اور آئی ایس 2)، مائو نواز اور کشمیر ڈویژن کے افسران کو ان دنوں آئی بی کی طرف سے فیڈ بیک کے علاوہ دیگر کوئی بھی مدد نہیں مل رہی ہے۔ پہلے آئی بی کے افسران نہ صرف دہشت گردوں اور مائونوازوں کو پہچاننے، ان کی نقل و حرکت اور ٹھکانوں وغیرہ کے بارے میں پکی خبریں دیتے تھے، بلکہ ان کی گرفتاری کروانے میں بھی مدد کرتے تھے۔
حالانکہ اوپری طور پر سی بی آئی اور آئی بی کے درمیان کی تکرار تھمی تھمی سی نظر آ رہی ہے اور اخبارات میں اس طرح کی خبریں بھی شائع ہوئی ہیں، لیکن دراصل ایسا ہے نہیں۔ وزیراعظم کے دفتر کے ایک سینئر افسرکا کہنا ہے کہ گزشتہ دو مہینے سے نہ تو انہیں اور نہ ہی وزارتِ داخلہ کو آئی بی کی خفیہ انتباہی رپورٹ موصول ہوئی ہے، جبکہ آئی بی کا کام ہر دن ملک بھر کے واقعات کی رپورٹ وزارتِ داخلہ اور وزیر اعظم کے دفتر میں بھیجنا ہے۔ اس کے علاوہ آئی بی الگ سے ملک بھر میں فسادات، انارکی اور دہشت گردانہ حملوں کی سازشوں کی خفیہ رپورٹ وزیر اعظم کے دفتر بھیجتی ہے۔
انہیں رپورٹوں کی بنیاد پر وزارتِ داخلہ اور وزیر اعظم کا دفتر ریاستی حکومتوں اور سیکورٹی ایجنسیوں کو فعال رہنے اور ضروری اقدامات کرنے کا حکم دیتا ہے۔ اگر آئی بی سے یہ تمام خفیہ معلومات نہ ملیں، تو ملک میں ہونے والی دہشت گردانہ سازشوں کو ناکام نہیں کیا جا سکتا۔ لہٰذا، ان دونوں ایجنسیوں کے درمیان پیدا ہوئی رسہ کشی نے ملک کی سلامتی کو خطرے میں ڈال دیا ہے۔ آئی بی کوئی بھی خفیہ اطلاع شیئر نہیں کر رہی ہے۔ دہشت گردانہ خبروں سے جڑی صرف وہی اطلاعات شیئر کی جا رہی ہیں، جو ملک کی دیگر ایجنسیوں کے ذریعہ ملٹی ایجنسی سینٹر یعنی میک (MAC) میں آتی ہیں۔
کسی بھی ملک کی خفیہ ایجنسی کی خراب حالت اس سے زیادہ اور کیا ہو سکتی ہے کہ اس کا ڈائریکٹر اپنی ایجنسی کے کام کی پرائیویسی قائم رکھنے کے لیے وزیر داخلہ سے لے کر وزیر اعظم تک منتیں کر چکا ہو اور اس کی کہیں کوئی بات نہ سنی جاتی ہو۔ آصف ابراہیم کی ڈی بی آئی کے عہدہ پر تقرری حکومت نے اس تصور کو ختم کرنے کے لیے کی تھی، جس کے تحت حکومت پر الزام عائد ہوتا ہے کہ ملک کے اعلیٰ فوجی اور خفیہ عہدوں پر اقلیتوں کو تعینات نہیں کیا جاتا، کیونکہ ملک کی سلامتی کے مسئلہ پر ان پر بھروسہ نہیں کیا جاتا۔
بہر حال، آئی بی کے جس اسپیشل ڈائریکٹر راجندر کمار کے اوپر یہ تمام الزامات عائد ہیں اور انہیں ثابت کرنے کی تیاری کی جا رہی ہے، اس افسر کا شمار آئی بی کے سب سے محنتی افسران میں ہوتا ہے۔ راجندر کمار کا ریکارڈ ہے کہ انھوں نے ہندوستان میں کام کر رہے تقریباً 300 پاکستانی جاسوسوں کو پکڑوایا ہے۔
دراصل، منموہن حکومت کو اس بات کی بالکل فکر نہیں ہے کہ اس کی کارگزاریوں سے ملک کی سلامتی خطرے میں ہے، بلکہ ان کی پریشانی یہ ہے کہ اسے ان پانچ ریاستوں کی اندرونی خفیہ اطلاعات موصول نہیں ہو پا رہی ہیں، جہاں چند ماہ بعد اسمبلی انتخابات ہونے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ حکومت اندازہ نہیں لگا پا رہی ہے کہ ان ریاستوں میں اس کی اور اس کے مخالفین کی پوزیشن کیا ہے۔ دراصل، یہاں اس مسئلہ پر ٹکرائو وزارتِ داخلہ اور وزیر اعظم کے دفتر کے درمیان بھی ہے۔ وزارت داخلہ کے ایک سکریٹری سطح کے افسر واضح الفاظ میں کہتے ہیں کہ سی بی آئی جس حلف نامہ کے دم پر راجندر کمار کو ملزم ثابت کرنے پر آمادہ ہے، وہ حلف نامہ ہی جھوٹا ہے۔
یہ سب کچھ گجرات کے وزیر اعلیٰ نریندر مودی کو گھیرنے کی غرض سے کیا جا رہا ہے ، کیونکہ وہ وزیر اعظم کے عہدہ کے مضبوط امیدوار بن چکے ہیں اور افسران سیاست کے شکار ہو رہے ہیں۔ اس کے لیے سی بی آئی کا بیجا استعمال کیا جا رہا ہے۔ جب عشرت جہاں انکائونٹر ہوا تھا، تو اسی وزارت داخلہ نے مارے گئے تمام لوگوں کو دہشت گرد قرار دیا تھا اور دوسری سیاسی جماعتوں کے اس مطالبہ کی سخت مخالفت ہوئی تھی کہ اس انکائونٹر کی سی بی آئی تفتیش کرائی جائے۔ بعد میں سی بی آئی نے یہ کہا کہ عشرت اور اس کے ساتھیوں کے دہشت گرد ہونے کے پختہ ثبوت نہیں ہیں۔ عدالت نے اس کے بعد ہی سی بی آئی تفتیش کے احکامات دیے تھے۔ حالانکہ اس معاملہ میں سی بی آئی اور آئی بی کے درمیان چل رہے تنائو اور سابق اسپیشل ڈائریکٹر راجندر کمار کے خلاف سی بی آئی کی چارج شیٹ دائر کرنے کی تیاریوں کے درمیان قومی سلامتی کے مشیر شو شنکر مینن اور سابق داخلہ سکریٹری آر کے سنگھ نے سی بی آئی ڈائریکٹر رنجیت سنہا اور آئی بی چیف آصف ابراہیم کے ساتھ مل بیٹھ کر صلح، سمجھوتے کی کوشش بھی کی۔
اس میٹنگ میں یہ موقف اختیار کیا گیاکہ آئی بی کی کیڈر کنٹرولنگ اتھارٹی ہونے کی وجہ سے بنا اس کی اجازت کے سی بی آئی، آئی بی کے کسی افسر کے خلاف چارج شیٹ دائر نہیں کر سکتی، لیکن یہ صرف فوری طور پر ایک رسمی کوشش ہی تھی، کیونکہ یہ خبریں میڈیا کی سرخیاں بن رہی تھیں اور حکومت کی کرکری ہو رہی تھی ۔ سی بی آئی ڈائریکٹر رنجیت سنہا نے آئی بی افسران کے خلاف اپنی مہم جاری رکھی اور گجرات پولس کے دیگر ملزم افسران کے ساتھ ساتھ راجندر کمار سمیت چار آئی بی افسران کے خلاف بھی احمد آباد کی سی بی آئی عدالت میں چارج شیٹ داخل کر دی ہے۔
سی بی آئی کی نیت اور تفتیش پر سوال اس لیے بھی اٹھ رہے ہیں، کیونکہ اتنے تنازع اور بحث کے بعد بھی سی بی آئی نے اس میں ابھی تک دو باتیں واضح نہیں کی ہیں۔ پہلی یہ کہ کیا عشرت اور اس کے ساتھیوں کے تعلقات دہشت گردوں سے تھے؟ اگر سی بی آئی اس بات کے جواب میں ہاں کہتی ہے، تو پھر تفتیش کی آڑ میں چل رہے اس کے سیاسی کھیل کا پردہ فاش ہو جائے گا اور دوسری یہ کہ اگر یہ انکائونٹر فرضی تھا، تو اس کے پیچھے کا مقصد کیا تھا؟ بنا کسی مقصد کے یو ں ہی الگ الگ جگہوں سے لوگوں کو اٹھا کر انکائونٹر کے نام پر کیوں مار دیا گیا؟ اگر سی بی آئی مان لیتی ہے کہ انکاؤنٹر میں مارے گئے لوگوں کے تعلقات دہشت گردوں سے تھے، تو آئی بی خود بخود بری ہو جائے گی اور پھر اس کا سیاسی فائدہ نریندر مودی اٹھا لیں گے، جو یو پی اے حکومت کو کسی حال میں منظور نہیں ہوگا۔
یہاں سوال یہ بھی اٹھتا ہے کہ اس انکائونٹر کی تفتیش سی بی آئی نے ایک ایسے آئی پی ایس ستیش شرما کے سپرد کی، جو عشرت جہاں کی ماں کے ذریعہ نامزد تھا، جبکہ ستیش ورما کی ناراضگی آئی بی کے اسپیشل ڈائریکٹر راجندر کمار سے پہلے سے ہی تھی۔ یہ بات محکمہ میں بھی تمام اعلیٰ افسران کو معلوم تھی کہ ستیش ورما، راجندر کمار کو بالکل پسند نہیں ہیں۔ جب عشرت جہاں انکائونٹر کی تفتیش کا رخ پوری طرح آئی بی کے خلاف جانے لگا، تو آئی بی کے ڈائریکٹر نے اپنا اعتراض درج کرایا۔ تمام صورتحال کا جائزہ لینے کے بعد سی بی آئی نے ستیش شرما سے اس معاملہ کا چارج واپس لے لیا۔ ستیش شرما سے تفتیش کا چارج واپس لینے کی بات ہی یہ ثابت کرتی ہے کہ عشرت جہاں انکائونٹر معاملہ کی تفتیش صحیح طریقہ سے نہیں ہو رہی تھی۔ آئی بی پر عائد الزامات پر شک کی گنجائش اس لیے بھی بنتی ہے، کیونکہ آئی بی کا کام صرف اطلاعات دینا ہوتا ہے، نہ کہ اس کے حکم پر ریاستی پولس کام کرتی ہے۔
کچھ دیر کے لیے اگر یہ مان بھی لیا جائے کہ عشرت جہاں کو غلط طریقہ سے مارا گیا، تو بھی یہ بات سمجھ میں نہیں آتی کہ گجرات پولس کو آئی بی افسران نے ایسا کرنے کو کہا ہوگا، کیونکہ بات پھر وہیں پر آ کر ٹک جاتی ہے کہ مقصد کیا تھا؟ حالانکہ ہمارے ملک میں تفتیشی ایجنسیوں کے آپسی ٹکرائو کا یہ کوئی پہلا معاملہ نہیں ہے۔ اس سے پہلے بھی ان کی باہمی رسہ کشی کے نتیجہ میں ملک کئی دہشت گردانہ حملوں سے دو چار ہوا ہے۔ ہندوستان میں تفتیش کے نام پر ایجنسیوں کا مکڑ جال پھیلا ہوا ہے، جیسے ریسرچ اینڈ اینالیسس ونگ (RAW)، جوائنٹ صفر بیورو (ملٹری انٹیلی جنس اور سگنل انٹیلی جنس کے لیے ذمہ دار)، نیشنل انویسٹی گیٹو ایجنسی (این آئی اے)، سینٹرل وجیلنس کمیشن (سی وی سی)، ڈائریکٹر آف ریوینیو انٹیلی جینس، ڈیفنس انٹیلی جینس، ڈائریکٹوریٹ آف انکم ٹیکس انٹیلی جینس، ریاستوں کے انسداد دہشت گردی دستے، ریاستوں کی اسپیشل ٹاسک فورس، ریاستوں کی پولس کرائم برانچ اور سی بی سی آئی ڈی۔ تمام تفتیشی اور خفیہ ایجنسیوں کے دائرۂ کار بنے ہوئے ہیں، لیکن بدقسمتی یہ ہے کہ کوئی بھی تفتیشی ایجنسی معتبر ہونے کی کسوٹی پر کھری نہیں اترتی۔
جب بھی کوئی دہشت گردانہ واردات یا بدعنوانی سے جڑا معاملہ پیش آتا ہے اور کوئی ایجنسی اس کی تفتیش کرتی ہے، تو اس کے طریق کار پر سوال اٹھا دیے جاتے ہیں۔ سیاسی الزام تراشی شروع ہو جاتی ہے۔ پھر اسی تفتیش کو دوسری ایجنسی کے حوالہ کردیا جاتا ہے، جس کے بعد اسی مسئلہ سے جڑی کئی اور کہانیاں سامنے آ جاتی ہیں۔
نتیجتاً، دونوں ہی تفتیشی ایجنسیاں اپنے اپنے دعوے پر قائم رہتی ہیں اور خود کے تفتیشی نتائج کو سچائی قرار دیتی ہیں۔ تاہم، ایسی صورت میں باہمی ٹکرائو پیدا ہوتا ہے اور پھر بات وزیر اعظم کے دفتر اور وزارت داخلہ تک پہنچتی ہے، مسائل کو حل کرنے کا دکھاوا ہوتا ہے اور حاصل کچھ نہیں ہوتا، کیونکہ یہاں سب کچھ تو سیاسی آقائوں کے اشاروں پر ہوتا ہے۔ لہٰذا، تفتیش اور خفیہ ایجنسیوں کا استعمال اپنے حق میں کر کے حکومت اپنے حریفوں اور مخالفین کو مات دینے میں کامیاب ہو جاتی ہے، لیکن اس کی یہ چال آخر کار ملک کی سلامتی اور سا لمیت کے لیے خطرہ ثابت ہو تی ہے۔

روبی ارون

روبی ارون سیاسی ، جرائم اور سماجی سروکاروں کی خبروں کو اپنی قلم کے ذریعہ گزشتہ 18سال سے اٹھاتی آ رہی ہیں۔ عام عوام کے مفاد اور صحافت کے لئے ہمیشہ جدو جہد کرنے والی روبی ارون ”چوتھی دنیا“ میں ایڈیٹر( انویسٹی گیشن)کا عہدہ سنبھال رہی ہیں۔
Share Article

روبی ارون

روبی ارون سیاسی ، جرائم اور سماجی سروکاروں کی خبروں کو اپنی قلم کے ذریعہ گزشتہ 18سال سے اٹھاتی آ رہی ہیں۔ عام عوام کے مفاد اور صحافت کے لئے ہمیشہ جدو جہد کرنے والی روبی ارون ”چوتھی دنیا“ میں ایڈیٹر( انویسٹی گیشن)کا عہدہ سنبھال رہی ہیں۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *