فسادات شروع ہو چکے ہیں

ڈاکٹر قمر تبریز 

مغربی اتر پردیش کے ضلع شاملی اور مظفر نگر میں ہونے والے فرقہ وارانہ فسادات میں 19 گاؤں متاثر ہوئے ہیں اور تقریباً ایک لاکھ مسلم آبادی بے گھر ہوئی ہے۔ مقامی لوگوں کے مطابق ان فسادات میں مرنے والوں کی تعداد 500 کے قریب ہے۔ ضلع انتظامیہ ان فسادات کو روکنے میں ناکام رہی، جس کی وجہ سے حالات زیادہ خراب ہو گئے۔ ملک بھر کے میڈیا کا دھیان صرف مظفر نگر پر ہی رہا، جب کہ فسادات کی شروعات شاملی ضلع سے ہوئی اور یہی فسادات کا مرکز بھی رہا۔ چوتھی دنیا کی ٹیم نے شاملی ضلع کے بعض مقامات کا دورہ کیا اور حقائق کو جاننے کی کوشش کی۔ پیش ہے یہ رپورٹ ……

Mastمغربی اتر پردیش کا شاملی اور مظفر نگر ضلع فرقہ وارانہ فسادات کی زد میں ہے، جس کی وجہ سے اب تک سینکڑوں لوگوں کی موت ہو چکی ہے اور ہزاروں فیملی اپنا گھر بار چھوڑ کر محفوظ جگہوں کی تلاش میں نقل مکانی کر رہے ہیں۔ اس علاقہ کے زیادہ تر لوگ عام طور سے کسان ہیں۔ ہندو مسلم بھائی چارے کی زندگی جیتے چلے آئے ہیں۔ اس علاقے میں کبھی فسادات نہیں ہوئے۔ ایسے میں یہ سوال اٹھتا ہے کہ آخر کیا وجہ تھی کہ یہا فرقہ وارانہ تناؤ بڑھا اور فسادات نے اتنی خطرناک صورت اختیار کر لی۔ میڈیا کے ذریعے یہ معلوم ہوا کہ ایک برادری کی لڑکی کے ساتھ دوسری برادری کے لڑکے کا عشق اور پھر اس کے نتیجہ میں دونوں فرقوں کے تین لڑکوں کا قتل ہو جانا ہی فساد کی اصل وجہ بنا۔ اسی کو بہانہ بناکر علاقے کے لیڈروں نے اپنی سیاسی روٹیاں سینکنی شروع کردیں۔ پنچایتوں اور مہا پنچایتوں کا سلسلہ شروع ہوا، ایک دوسرے کے خلاف اشتعال انگیز نعرے بازی شروع ہوئی اور اس طرح نفرت کی چنگاری دھیرے دھیرے پورے علاقے میں پھیلنے لگی، جس نے آخر کار خونیں شکل اختیار کر لی۔ صرف ایک واقعہ کی وجہ سے فسادات ہو گئے، یہ نہیں مانا جاسکتا ہے، کیوں کہ اس طرح کے واقعات ہر شہر میں ہوتے ہیں، لیکن کیا وہاں فساد برپا ہوتا ہے؟ چوتھی دنیا کی تحقیقات بتاتی ہیں کہ شاملی اور مظفر نگر ضلع میں ہندوؤں اور مسلمانوں کے درمیان ٹکراؤ کے حالات پچھلے چار پانچ مہینوں سے بنے ہوئے تھے، جسے بی جے پی سے جڑے لیڈر مسلسل ہوا دے رہے تھے۔ خود آر ایس ایس کے کچھ لوگ پچھلے کئی مہینوں سے چھوٹے چھوٹے واقعات میں مسلمانوں کو نشانہ بنا رہے تھے اور اس موقع کی تلاش میں تھے کہ کیسے ایک چنگاری کو شعلے کی شکل دی جائے، تاکہ بڑے پیمانے پر مسلمانوں کا قتل عام کیا جاسکے۔ ویسے ’چوتھی دنیا‘ نے جولائی مہینہ میں ہی ملک کے عوام کو آگاہ کر دیا تھا کہ فسادات ہونے ہی والے ہیں اور شر پسند عناصر کے ساتھ ساتھ آر ایس ایس اور بی جے پی کے لوگ بس موقع کی تلاش میں ہیں۔ تین ماہ قبل انہیں ایسا ہی ایک موقع مغربی اتر پردیش کے ضلع شاملی میں ہاتھ لگ گیا۔

اسی دوران تھانہ سے ہی کسی نے علاقہ کے بی جے پی لیجسلیٹو پارٹی کے لیڈر حکم سنگھ کو فون کرکے بتا دیا کہ تھانے میں ایک ایسی ہندو لڑکی موجود ہے، جس کے ساتھ یہاں کے مسلم لڑکوں نے اجتماعی عصمت دری کی ہے۔ حکم سنگھ فوراً ہی تھانے پہنچ گئے اور پولس پر دباؤ بنانے لگے کہ وہاں پر موجود مسلم لڑکوں کے ساتھ ساتھ کچھ دوسرے مسلم لڑکوں کے خلاف بھی عصمت دری کا معاملہ درج کیا جائے۔ مقامی باشندوں کے مطابق، حکم سنگھ جن دوسرے مسلم لڑکوں کے خلاف پولس کیس درج کرانا چاہتے تھے۔

تین ماہ قبل، یعنی جون میں ہریدوار کی ایک ہندو لڑکی روڑکی کے ایک مسلم لڑکے کے ساتھ شاملی آئی۔ یہ دونوں شاملی کے آزاد چوک کے نزدیک ایک ہوٹل میں رکے۔ ان دونوں کے ساتھ اُس کمرے میں اس کے کچھ مسلم دوست بھی تھے۔ اس واقعہ کے بارے میں جب شاملی کے ایک مسلم صحافی کو پتہ چلا، تو اس نے مقامی پولس کو اس کی اطلاع دے دی۔ انسپکٹر آر این یادو نے پولس دستہ کے ساتھ ہوٹل پر چھاپہ مارا اور ان لڑکوں کو پکڑ لیا۔ اس کے ساتھ ساتھ پولس نے کچھ اور بھی مسلم لڑکوں کو گرفتار کیا، جو اس میں شامل نہیں تھے۔ اسی دوران تھانہ سے ہی کسی نے علاقہ کے بی جے پی لیجسلیٹو پارٹی کے لیڈر حکم سنگھ کو فون کرکے بتا دیا کہ تھانے میں ایک ایسی ہندو لڑکی موجود ہے، جس کے ساتھ یہاں کے مسلم لڑکوں نے اجتماعی عصمت دری کی ہے۔ حکم سنگھ فوراً ہی تھانے پہنچ گئے اور پولس پر دباؤ بنانے لگے کہ وہاں پر موجود مسلم لڑکوں کے ساتھ ساتھ کچھ دوسرے مسلم لڑکوں کے خلاف بھی عصمت دری کا معاملہ درج کیا جائے۔ مقامی باشندوں کے مطابق، حکم سنگھ جن دوسرے مسلم لڑکوں کے خلاف پولس کیس درج کرانا چاہتے تھے، ان کا اس لڑکی کے ساتھ کوئی تعلق نہیں تھا۔ حکم سنگھ دراصل، جاٹوں اور مسلمانوں کو ایک دوسرے سے لڑاکر اپنی آئندہ کی سیاسی حکمت عملی کے تحت یہ سب کام کر رہے تھے، اسی لیے انہوں نے جان بوجھ کر چند بے قصور مسلمانوں کے خلاف پولس کیس درج کرانے کی کوشش کی۔ انسپکٹر آر این یادو نے حکم سنگھ کی بات کو ماننے سے انکار کردیا اور کہا کہ لڑکی جس کا نام لے گی، اس کے خلاف معاملہ درج ہوگا۔ پولس کے پوچھنے پر ہریدوار کی اُس ہندو لڑکی نے روڑکی کے مسلم لڑکے کو اپنا دوست بتایا اور کہاں کہ وہ یہاں گھومنے آئی تھی۔ پولس کے سامنے اپنی بات بنتے نہ دیکھ کر حکم سنگھ وہاں سے ناراض ہو کر چلے گئے اور انہوں نے پہلے تو بی جے پی کے کارکنوں کو بھڑکایا اور پھر اپنے دیگر ساتھیوں کی مدد سے ہندوؤں، خاص کر جاٹوں میں افواہ پھیلانی شروع کردی۔ افواہ کی وجہ سے ہندوؤں میں مسلمانوں کے خلاف غصہ بھڑکنے لگا اور انہوں نے اس واقعہ کے خلاف احتجاج کرنا شروع کر دیا۔ اس واقعہ پر بی جے پی نے شاملی میں تین دن کے بند کا اعلان بھی کیا۔ اس واقعہ پر بی جے پی نے شاملی میں تین دن کے بند کا اعلان بھی کیا۔ حالانکہ جب شاملی کے ایس پی عبدالحمید نے احتجاج کرنے والے ہندؤوں پر ایک جگہ لاٹھی چارج کا حکم دیا، تو ان پر یہ الزام لگایا جانے لگا کہ وہ مسلمانوں کا ساتھ دے رہے ہیں اور قصورواروں کے خلاف کوئی کارروائی نہیں کر رہے ہیں۔ علاقہ کے ہندوؤں کی طرف سے ایس پی عبدالحمید کو ہٹانے کی بھی مانگ زور پکڑنے لگی اور آخرکار ان کو وہاں سے ہٹنا ہی پڑا۔ بی جے پی کے لیڈر حکم سنگھ نے اس درمیان شاملی کے بعض گاؤں میں پنچایت بلانے کی بھی کوشش کی، لیکن چونکہ وہاں کے ہندوؤں نے جب حکم سنگھ کا ساتھ نہیں دیا اور کوئی بھی ہندو کسی بھی پنچایت میں شریک نہیں ہوا، تو حکم سنگھ نے شاملی کو چھوڑ کر مظفر نگر کا رخ کیا اور وہاں کے ہندؤوں کو اپنے ساتھ ملانے کی کوشش شروع کر دی۔
حکم سنگھ پر شاملی کے مسلمانوں کا یہ بھی الزام ہے کہ انہوں نے مارچ میں ہولی سے ایک دن پہلے اپنے آبائی گاؤں بُچّا کھیڑی (کوتوالی کیرانہ، ضلع شاملی) میں ہولی کے موقع پر جلانے کے لیے جمع کی گئی لکڑی میں خود بعض ہندوؤں سے کہہ کر آگ لگوا دی اور مسلمانوں پر اس کا الزام لگا دیا۔ اس کے بعد وہاں کی مسجد کے ایک امام کو مارا پیٹا گیا، ایک مسجد کی دیوار گرا دی گئی اور مسجد میں موجود قرآن کے 40 نسخوں کو آگ لگا دی گئی۔ قابل ذکر ہے کہ بچا کھیڑی گاؤں میں مسلمانوں کے صرف 20 گھر ہیں، جب کہ اکثریت ہندو جاٹ برادری کی ہے۔ اس کے بعد بچا کھیڑی میں تناؤ بڑھ گیا۔ لہٰذا، اُس وقت کے ایس پی عبدالحمید اور ایڈیشنل ایس پی اتل سکسینہ نے گاؤں کے کچھ قصورواروں کو پکڑا اور ان میں سے کچھ کو جیل بھی ہوئی، لیکن مسجد میں آگ لگانے والے شر پسند عناصر کو حکم سنگھ نے گرفتار نہیں ہونے دیا۔ یہ لوگ آج بھی پولس کی گرفت سے باہر ہیں۔ اس واقعہ کے بعد وہاں کے ہندوؤں اور مسلمانوں نے ایک امن کمیٹی بنائی اور دونوں برادری کے لوگوں کو سمجھانے کی کوشش کی۔ کچھ دنوں تک اس گاؤں میں امن رہا، لیکن پھر تناؤ شروع ہو گیا۔
بچا کھیڑی کے واقعہ کے بعد حکم سنگھ کے کہنے پر بی جے پی اور آر ایس ایس سے جڑے چند شر پسند عناصر نے جگہ جگہ پر مسلمانوں کو اکیلا پاکر مارنے پیٹنے کا سلسلہ شروع کر دیا۔ یہ لوگ جہاں بھی داڑھی- ٹوپی والے مسلمانوں کو دیکھتے، ان کی پٹائی کر دیتے یا گالیاں بکتے تھے۔ ان میں سے زیادہ تر یا تو تبلیغی جماعت سے جڑے ہوئے تھے یا پھر مدرسوں میں پڑھنے والے بچے تھے۔ اس کا مقصد مسلمانوں کو ذلیل کرکے انہیں مشتعل کرنا تھا۔ داڑھی اور ٹوپی والے مسلمانوں کو نشانہ بنانے کا واقعہ خاص کر دہلی سے مظفر نگر، دیو بند یا سہارنپور جانے والی ریل گاڑیوں میں پیش آیا اور بیچ راستے میں ان مسلمانوں کے ساتھ مار پیٹ کی گئی۔ g
اس سے مسلمانوں میں بھی ہندوؤں کے خلاف غصہ بھڑکنے لگا، جسے حکم سنگھ اور ان کے ساتھی لگاتار ہوا دیتے رہے۔ دراصل، حکم سنگھ کی شروع سے ہی کوشش تھی کہ علاقہ کے ہندو (جاٹ اور گوجر) مسلمانوں کے خلاف کھڑے ہو جائیں اور پوری طرح حکم سنگھ یا ان کی پارٹی بی جے پی کا ساتھ دیں۔
ٹرین، بس، ٹیمپو اور موٹر سائیکل سے سفر کر رہے داڑھی اور ٹوپی والے مسلمانوں کو جگہ جگہ پر مارنے پیٹنے کا سلسلہ شاملی اور مظفر نگر ضلع میں لگاتار جاری رہا۔ اسی درمیان شاملی ضلع میں ایک ایسا واقعہ ہوا، جس نے ہندوؤں اور مسلمانوں کے درمیان زبردست ٹکراؤ کا ماحول بنا دیا۔ لکھنؤ کے رہنے والے تین مسلمان، جو دیوبند کے کسی مدرسے میں درس و تدریس کے کام میں لگے ہوئے ہیں، گزشتہ 29 اگست کو کاندھلہ (ضلع شاملی) کے معروف اور قابل احترام مذہبی رہنما مولانا افتخار الحسن سے ملاقات کرنے کے لیے آر ہے تھے، اسی وقت چند شر پسند ہندوؤں نے کاندھلہ تھانے کے تحت آنے والے بھویسا گاؤں میں ان تینوں کو زبردستی ٹیمپو سے اتارا اور ان میں سے داڑھی اور ٹوپی والے دو مسلمانوں کو بری طرح مارا پیٹا، جب کہ تیسرے کو اس لیے چھوڑ دیا، کیوں کہ اس کے چہرے پر نہ تو داڑھی تھی اور نہ ہی سر پر ٹوپی۔ اس واقعہ کی خبر جیسے ہی کاندھلہ پہنچی، وہاں کے مسلمانوں میں زبردست غم و غصے کی لہر دوڑ گئی۔ انہوں نے بڑی تعداد میں سڑکوں پر اتر کر احتجاج کرنا شروع کر دیا اور پولس سے قصورواروں کو گرفتار کرنے کی مانگ کرنے لگے۔ حالات کو بگڑتا دیکھ کر علاقہ کے ڈسٹرکٹ مجسٹریٹ (ڈی ایم) پروین کمار نے مسلمانوں کو سمجھایا اور انہیں بھروسہ دلایا کہ جلد ہی قصورواروں کو پکڑا جائے گا، جس کے بعد مسلمان اپنے اپنے گھروں کو واپس لوٹ گئے۔
دوسری طرف، اس سے دو دن پہلے ہی، یعنی 27 اگست کو مظفر نگر ضلع کے ’کوال‘ گاؤں میں تین لڑکوں کا قتل کر دیا گیاتھا، جن میں سے ایک تو مسلمان تھا، جب کہ دو لڑکے ہندو تھے۔ واقعہ بہت معمولی تھا، لیکن اسی نے اس علاقے میں کافی دنوں سے ہندوؤں اور مسلمانوں کے درمیان چلے آر ہے تناؤ کے ماحول کو پوری طرح بگاڑ دیا، جس سے اس علاقے میں ہندو مسلم فساد پھوٹ پڑا۔ دراصل، وشال اور سچن نام کے دو جاٹ لڑکوں نے ’کوال‘ گاؤں کے چوراہے پر شاہنواز نام کے ایک مسلم لڑکے کو اپنی موٹر سائیکل سے ٹکر مار دی۔ تینوں میں تو تو -میں میں ہوئی اور بات اتنی بگڑ گئی کہ وشال اور سچن نے شاہنواز کا قتل کر دیا اور اپنی موٹر سائیکل پر سوار ہو کر بھاگنے لگے، لیکن چونکہ چند قدم کے فاصلے پر مسلمانوں کے کئی گھر ہیں، لہٰذا مسلمانوں نے اِن دونوں جاٹ لڑکوں کا بھی وہیں قتل کر دیا۔ اس کے بعد جاٹوں کی طرف سے مختلف گاؤں میں پنچایتیں شروع ہوئیں۔ معاملے کو بگڑتا ہوا دیکھ، اس پورے علاقے میں دفعہ 144 لگا دی گئی، لیکن پولس نے اس پر سختی سے عمل نہیں کرایا۔ پولس انتظامیہ کی لاپروائی کی وجہ سے جاٹوں کے ذریعے کوال، گنگیرو، لیساڑھ، بہاوڑی، پھوگانہ، بسی، پلڑی، جان سٹھ، شاہ پور، لانکھ، کھرڑ وغیرہ مختلف گاؤں میں غیر قانونی طریقے سے پنچایتیں ہوتی رہیں اور پنچایتوں میں مسلمانوں کے خلاف نہ صرف نعرے بازی کی گئی، بلکہ انہیں جان سے مارنے کا باقاعدہ اعلان بھی کیا گیا۔ فساد شروع ہونے کے بعد مسلمانوں کا سب سے زیادہ جانی و مالی نقصان انہی گاؤوں میں ہوا۔
کوال گاؤں کے اس واقعہ سے برہم ہو کر 52 گاؤوں پر مبنی گٹھوالا کھاپ کے چودھری بابا ہری کشن نے 5 ستمبر کو اپنے آبائی گاؤں لیساڑھ (جو تھانہ پھوگان، ضلع مظفر نگر کے تحت آتا ہے) اور پھر دو دن بعد، یعنی 7 ستمبر کو نانگلا منڈور میں ایک مہا پنچایت بلائی۔ اس پنچایت میں ان سبھی 52 گاؤں کے جاٹ شریک ہوئے اور بی جے پی اور بھارتیہ کسان یونین کے لیڈروں کے علاوہ کئی جاٹ رہنماؤں نے اشتعال انگیز تقریریں کیں اور مسلمانوں کے خلاف نعرے لگائے۔ پنچاتیوں میں جانے والے یہ لوگ مسلمانوں کی جن جن بستیوں سے گزرے، مسلمانوں کے خلاف خوب نعرے بازی کی اور بھالے، پھرسے کی شکل میں وہ جو بھی ہتھیار لے کر جا رہے تھے، اسے ہوا میں لہرایا۔ نانگلا کی مہا پنچایت میں جاتے ہوئے جاٹوں کا جب ایک قافلہ بسی پلڑی گاؤں پہنچا، تو وہاں پر واقع ایک مدرسہ کے باہر چار پولس والے پہلے سے تعینات تھے، جنہوں نے ان جاٹوں کو مسلمانوں کے خلاف نعرے بازی کرنے سے منع کیا۔ اس پر وہ لوگ پولس والوں کو ہی مارنے لگے، تب پولس نے مدرسے میں موجود مسلمانوں سے اپنی جان بچانے کی فریاد کی۔ لہٰذا، مسلمانوں نے ان جاٹوں پر پتھر چلانا شروع کر دیا، جس میں کئی لوگ زخمی ہوگئے۔ یہ جاٹ جب نانگلا منڈور کی مہا پنچایت میں پہنچے، تو بی جے پی کے لیڈروں نے انہیں اسٹیج پر بلاکر وہاں موجود سارے لوگوں کو بھڑکایا اور کہا کہ دیکھو مسلمان کس طرح ہندوؤں کو مار رہے ہیں۔ اسی کے بعد اس پورے علاقے میں مسلمانوں کو مارنے کاٹنے کی شروعات ہوئی اور یہ آگ گٹھوالا کھاپ کے تحت آنے والے سبھی 52 گاؤں میں پھیل گئی۔

سال میں فسادات کی سنچری
ایک اترپردیش کے مظفرنگر میں فرقہ وارانہ فسادات کے بعد وزیر داخلہ نے ایک رپورٹ جاری کی ۔ رپورٹ کے مطابق اترپردیش میں 2012 میںفرقہ وارانہ تشدد کے 104 معاملے درج کیے گئے تھے۔ وزیر داخلہ کی اس رپورٹ میں لکھا ہے کہ 100 سے زیادہ فسادات میں 34 لوگوں کی موتیں ہوئیں اور 456 زخمی ہو گئے جبکہ وزیر اعلیٰ اکھلیش یادو کا کہنا ہے کہ 2012 میں اتر پردیش میں صرف 27 فسادات ہوئے۔ وہ ان فسادوں کا سارا قصور ان فرقہ ورانہ طاقتوں کے سر ڈال رہے ہیں جو ان کی سرکار کو کمزور کرنا چاہتی ہیں۔ایک برس میں فسادات کی سینچوری لگاکر سماج وادی پارٹی کی سرکار نے اپنی ملک و بیرون ملک میں خوب کرکری کرائی ہے۔
اکھلیش حکومت کے پہلے 12 مہینے لاء اینڈ آرڈر کے لحاظ سے بد تر ثابت ہوئے ہیں اور اس نے اکثریتی سرکار کی حیثیت کو ہی سوالوں کے گھیر ے میں لا کھڑا کر دیا ہے۔ سال 2012 میں یکم جون کو متھرا، 23 جون کو پرتاب گڑھ ، 23 جولائی اور 11 اگست کو دو بار بریلی میں فسادات ہوئے۔ یہی نہیں 17 اگست کو لکھنو ، کانپور اور الٰہ آباد میں سڑکوں پر فسادات ہوئے تو 17 ستمبر کو غازی آباد کے مسورھی علاقے اور 24 اکتوبر کو فیض آباد میں فسادات ہوئے۔ اس سال 5 مارچ2013 کو امبیڈکر نگر کے ٹانڈا میں قتل کے بعد فساد ہوا اور اب مظفر نگر کی حالت سدھارے نہیں سدھر رہی ہے۔

دو ماہ میں اس طرح بگڑا ماحول 
چھبیس جولائی کو میرٹھ کے ننگلامل میں مندر میں لائوڈسپیکر بجانے کو لے کر فساد
تین اگست کو ایٹہ کے امان پور قصبے میں طالبہ سے چھیڑ چھاڑ کے بعد فساد
چھ اگست کو رامپور کے بہادر گنج میں نماز کے دوران لائوڈسپیکر بجانے پر فساد
نو اگست کو میرٹھ کے جانی تھانہ علاقے کے رسول پور گھولڑی گائوں میں گورو کے اکائونٹ سے اسلام کے بارے میں ریمارکس درج کرنے پر فساد
سولہ اگست کو بلند شہر میں ایک لڑکی کے ساتھ اجتماعی عصمت دری کے بعد فرقہ وارانہ فساد،گولی باری
بائیس اگست کوعلی گڑھ کے خیر علاقے میں لڑکی بھگانے کے معاملے میں جاٹ سماج نے 450 مسلم خاندانوں کا کیا بائیکاٹ
ستائس اگست کو مظفر نگر کے کوال میں فساد
انتیس اگست بجنور کے نگینہ میں رام ڈول جلوس کے دوران فساد
نو ستمبر کو شاملی میں فرقہ وارانہ فساد۔

گزشتہ حکومت میں کامیاب تھا کے ایس بی ایل فارمولہ
سیاسی میدان میں ہمیشہ ضروری نہیں ہے کہ مخالفت کی ہی سیاست کی جائے۔ مخالفین کی ناکامیوں اور خوبیوں سے جو لیڈر فائدہ اٹھاتا ہے وہ کبھی ناکام نہیں ہوتاہے ۔ یہ بات ریاست کے سردار اکھلیش یادو کی سمجھ میں نہیں آئی۔ انہوں نے تمام فسادوں کے بعد بھی سابق حکومت کے اس فارمولے کی طرف دھیان نہیں دیا جس کے سہارے مایا نے یو پی میں فرقہ وارانہ طاقتوں کو ابھرنے نہیں دیا اور کہیں کوئی فساد نہیں ہوا۔
یہ فارمولا اس وقت کے ڈی جی پی کرم ویر سنگھ (کے ایس) اور اسی وقت کے ای ڈی جی لا اینڈ آرڈر (بی ایل) نے سال 2010 میں اس وقت ایجاد کیا تھا جب ایودھیا مسئلے پر ہائی کورٹ اپنا فیصلہ سنانے والا تھا۔ لوگ شبہ کا اظہار کررہے تھے کہ جس کے حق میں فیصلہ نہیں آئے گا ،وہ تشدد اختیار کرسکتا ہے ۔ اس فارمولے کی بنیاد پر ہر ایک گائوں میں لوگوں کو پابند کیا گیا ،ایسے لوگوں سے جو فساد بھڑکا سکتے ہیں ۔ان سے حلف نامے لئے گئے کہ وہ کوئی جلوس نہیں نکالیں گے۔ نعرے بازی نہیں کریں گے اور فساد نہیں ہونے دیں گے۔ ہر گائوں میں کچھ ہتھیار لائسنس ہولڈروں کا گروپ بنا کر ان کے کندھے پر امن بحال رکھنے کی ذمہ داری ڈالی گئی تھی۔ اس گروپ میں دونوں فرقے کے لوگ شامل تھے۔ یہ گروپ پولیس افسروں کے رابطے میں رہتا تھا۔یہاں تک کہ ڈی جی پی تک سے اس گروپ کی موبائل سے سیدھے بات ہوتی تھی۔ کے ایس بی ایل فارمولے کو لاء اینڈ آرڈر میں عوامی تعاون کا سرکری نام دیا گیا تھا۔
ڈی جی پی لاء اینڈ آرڈر برج لال کے اوپر بہو جن سماج پارٹی کا ٹھپہ لگا کر سماج وادی سرکار نے کنارے لگا دیا ہے۔ برج لال کی شبیہ ایسے افسروں میں ہوتی تھی جو فسادیوں کو سیکورٹی دینے کے پوری طرح مخالف تھے،ان سے اقتدار میں شامل پارٹی کے داغدار اور دبنگ ارکان اسمبلی تک ڈرتے تھے۔ g

Share Article

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *