مسلم پسماندہ سماج کی بے بسی

اجے کمار 
p-9گجرات کے وزیر اعلیٰ اور بی جے پی کی طرف سے وزیر اعظم کے عہدہ کے ممکنہ امیدوار نریندر مودی کافی تول مول کے بعد بولتے ہیں۔ ان کے جارحانہ تیور اور بے باک انداز نے بڑی تعداد میں لوگوں کو ان کا دیوانہ بنا دیا ہے۔ پورے ملک میں مودی کا جادو لوگوں کے سر چڑھ کر بول رہا ہے۔ ایسے میں ان کے مخالفین کی سب سے بڑی پریشانی یہی ہے کہ ان کے پاس مودی کی باتوں کا کوئی توڑ نہیں ہے۔ تاہم، اس حقیقت کو بھی نظرانداز نہیں کیا جاسکتا ہے کہ بڑے سے بڑا ماہر بھی کبھی نہ کبھی کچھ غلط یا اَٹ پٹا بول جاتا ہے، جس کو لے کر خوب ہائے توبہ مچتی ہے۔ ایسا ہی نظارہ مودی کے خلاف گزشتہ دنوں دیکھنے کو ملا، جب وہ مسلم ووٹ حاصل کرنے کے لیے کچھ زیادہ ہی بیتاب نظر آئے۔ دراصل، مودی نے اپنے بیان میں پس ماندہ مسلم سماج کو بھارتیہ جنتا پارٹی کے ساتھ جوڑنے کی وکالت کی تھی۔ قابل ذکر ہے کہ کل مسلمانوں میں پس ماندہ سماج کی آبادی تقریباً 85 فیصد ہے اور مسلم سماج 44 ذاتوں میں بنٹا ہوا ہے، جن میں سے چار اونچی ذاتوں (شیخ، سید، مغل، پٹھان) کو چھوڑ کر 40 کا شمار پس ماندہ سماج میں ہوتا ہے اور انہیں ریزرویشن کا فائدہ بھی ملتا ہے۔ یہ سماج کافی پچھڑا ہوا ہے اور خود کو محروم طبقہ تصور کرتا ہے۔ یہ سماج بھی دوسروں کی طرح خود کو ترقی کی دوڑ میں شامل کرنا چاہتا ہے، لیکن اس کی اس خواہش میں محدود وسائل اور ناخواندگی رکاوٹ بن کر کھڑی ہو جاتی ہے۔ مسلمانوں کے اس طبقہ کی پس ماندگی اور ناخواندگی سیاسی پارٹیوں کے لیے باعث نعمت ہے، کیوں کہ ان کی اسی پس ماندگی اور ناخواندگی کو بہانہ بناکر ان سیاسی پارٹیوں کو ہر الیکشن میں اپنی روٹی سینکنے کا بے پناہ موقع حاصل ہوجاتا ہے۔ دوسری طرف پس ماندہ سماج کا درد ہے کہ اس کے سماج کی چالیس ذاتوں (پچھڑا سماج) پر چار ذاتیں (اونچی ذات کے مسلمان) بھاری پڑ رہی ہیں۔
بدقسمتی کی بات یہ ہے کہ سبھی پارٹیاں ان کو ووٹ بینک کی طرح استعمال کرتی ہیں۔ سماجوادی پارٹی ہو یا بہوجن سماج پارٹی، کانگریس ہو یا پھر آر ایل ڈی جیسی چھوٹی چھوٹی علاقائی پارٹیاں، یہ سبھی وقت وقت پر ان کی مجبوری کا فائدہ اٹھاتی رہتی ہیں۔ اسی ووٹ بینک کو بھارتیہ جنتا پارٹی 2014 کے لوک سبھا الیکشن میں اپنے حق میں کھڑا دیکھنا چاہتی ہے۔ اس کے لیڈر نریندر مودی کہتے ہیں کہ گجرات میں 20-25 فیصد مسلم بی جے پی کے لیے ووٹنگ کر سکتے ہیں، تو پورے ملک میں ایسا کیوں نہیں ہو سکتا ہے؟
ایک سخت گیر ہندو کی شبیہ رکھنے والے نریندر مودی کے اس بیان کے سیاسی معنی نکالے جانے لگے، تو پس ماندہ سماج کو بھی سمجھتے دیر نہیں لگی کہ مودی کو ان کی طاقت کا احساس ہے۔ تاہم، ان کے ساتھ جانے کو لے کر پس ماندہ سماج میں تھوڑا سا بھی تجسس نظر نہیں آتا ہے۔ پس ماندہ مسلم سماج کے قومی صدر انیس منصوری کہتے ہیں کہ ’’مودی غلط بیانی کر رہے ہیں۔ گجرات اسمبلی الیکشن میں 20-25 فیصد مسلمانوں کا بی جے پی کے حق میں ووٹنگ کرنے والا مودی کا بیان گمراہ کن ہے۔ ہوسکتا ہے کہ ایک دو فیصد مسلم ووٹ ان کے کھاتے میں چلے گئے ہوں، لیکن یہ پس ماندہ سماج کے تو بالکل نہیں ہوں گے۔ ہو سکتا ہے کہ بی جے پی کے حق میں کچھ دولت مند مسلمانوں نے اپنے کاروباری مفاد کو پورا کرنے کے لیے ووٹنگ کر دی ہو، لیکن یہ بات بھی وثوق کے ساتھ نہیں کہی جا سکتی ہے۔‘‘

پس ماندہ سماج کے کئی مطالبات برسوں سے پورے نہیں ہو پائے ہیں۔ انیس منصوری کہتے ہیں کہ آئین ہند کی دفعہ 341 پر لگی مذہبی پابندی کو ختم کرکے ہندو، مسلم، سکھ، عیسائی اور بودھ مذاہب سے وابستہ تمام درج فہرست ذاتوں کو فائدہ پہنچایا جائے۔ پس ماندہ مسلمانوں کو ان کی آبادی کے تناسب سے سیاسی نمائندگی عطا کی جائے اور ان کے لیے حلقے ریزرو کیے جائیں۔ سچر کمیٹی اور مشرا کمیشن نے اپنی رپورٹوں میں واضح کیا ہے کہ پس ماندہ مسلمانوں کی حالت ہندو درج فہرست ذاتوں سے کافی بدتر ہے۔ لہٰذا، ان کا مطالبہ ہے کہ پس ماندہ مسلمانوں کو درج فہرست ذات و قبائل (انسدادِ مظالم) قانون سے باہر رکھا جائے ، تاکہ ان کو مظالم سے بچایا جا سکے۔ او بی سی کو مل رہے 27 فیصد ریزرویشن میں سے پچھڑے مسلمانوں کی آبادی کے تناسب سے 9 فیصد کا ریزرویشن الگ سے طے کیا جائے۔

پس ماندہ سماج کو آج بھی یہی لگتا ہے کہ مختلف پارٹیوں میں بیٹھے مسلم لیڈر مسلمانوں اور خاص کر پس ماندہ سماج کی پرواہ نہ کرکے صرف اپنے لیے کرسی ہتھیانے اور اپنے رشتہ داروں کو فائدہ پہنچانے کا کام کر رہے ہیں۔ پس ماندہ مسلمانوں کی خستہ حالی کے لیے مرکز میں برسر اقتدار پارٹیاں اور نام نہاد مسلم لیڈر ہی ذمہ دار ہیں۔ پس ماندہ سماج کی حالت دلتوں سے بھی بدتر ہو گئی ہے۔ مرکزی اور ریاستی حکومتوں کی اندیکھی کے سبب کسگر، راعین، گوجر، گدی، گھوسی، چکوا، قریشی، چھیپا، جوگی، جھوجا، ہاشمی، تمولی، تیلی، سامانی، عراقی، ادریسی، نائک، فقیر، مکیری، سیفی، باری، منیہر، انصاری، میراثی، مسلم کایستھ، رحمانی، نضاف، دھنیا، منصوری، رنگریز، سونار، حلال خور، لال بیگی، حلوائی، سلمانی، عباسی، مشعلچی، دھوپی، نان بائی، میر شکار، شیکھر، سروری، میواتی، سنگ تراش، موچی، ماہی گیر، قلال، نٹ وغیرہ ذاتوں کے پشتینی کاروبار ختم ہو گئے ہیں، جس کی وجہ سے ان کے سامنے روزی روٹی کا مسئلہ پیدا ہو گیا ہے۔ زبردست مہنگائی کی وجہ سے پس ماندہ سماج کے بچوں کی تعلیم و تربیت ممکن نہیں ہو پا رہی ہے۔ اتر پردیش میں کاشت کاری کے بعد سب سے زیادہ روزگار دینے والی پس ماندہ مسلمانوں کی گھریلو صنعت ختم ہونے کے دہانے پر پہنچ چکی ہے، لیکن دہلی کی گونگی، بہری اور پتھر دل سرکار کو یہ سب دکھائی نہیں دے رہا ہے۔
غور طلب ہے کہ پس ماندہ مسلمانوں کی اس کڑوی سچائی کا ذکر سچر کمیٹی اور رنگناتھ مشرا کمیشن نے اپنی رپورٹوں میں کیا تھا۔ پس ماندہ مسلمانوں کی آبادی مسلمانوں کی کل آبادی کا 85 فیصد ہے اور ان کے اتحاد و طاقت کا احساس سرکار اور تمام سیاسی پارٹیوں کو ہے۔ کچھ سیاسی پارٹیاں پس ماندہ مسلمانوں کا ووٹ پانے کے لیے بے چین ہیں۔ پس ماندہ سماج اکثر پوچھتا رہتا ہے کہ ایک طرف ہندو پچھڑی ذاتوں کو تمام علاقوں میں ان کی آبادی کے تناسب سے حصہ داری دی جاتی ہے، لیکن جب مسلمانوں کی حصہ داری کی بات آتی ہے، تو صرف مسلمانوں کے نام پر ہی انہیں کیوں دیکھا جاتا ہے؟ ان کا مطالبہ ہے کہ ہندو پچھڑی دلت ذاتوں کی طرز پر پچھڑے دلت مسلمانوں کو بھی حصہ داری ملنی چاہیے، تاکہ انہیں مین اسٹریم سے جوڑا جا سکے۔ ان کی شکایت ہے کہ سرکاری اسکیموں کا فائدہ 15 فیصد اونچی ذات کے مسلمان ہی اٹھاتے ہیں، جب کہ 85 فیصد پس ماندہ مسلمان اس سے محروم رہ جاتے ہیں، لہٰذا ان کا کہنا ہے کہ اس ناانصافی کو پس ماندہ مسلمان اب کسی بھی قیمت پر برداشت کرنے کو تیار نہیں ہیں۔ انہیں اس بات کا بھی ملال ہے کہ خود کو اونچی ذات کا کہے جانے والے مسلمان بھی ان کے ساتھ نہیں کھڑے ہوتے ہیں۔
پس ماندہ سماج کے کئی مطالبات برسوں سے پورے نہیں ہو پائے ہیں۔ انیس منصوری کہتے ہیں کہ آئین ہند کی دفعہ 341 پر لگی مذہبی پابندی کو ختم کرکے ہندو، مسلم، سکھ، عیسائی اور بودھ مذاہب سے وابستہ تمام درج فہرست ذاتوں کو فائدہ پہنچایا جائے۔ پس ماندہ مسلمانوں کو ان کی آبادی کے تناسب سے سیاسی نمائندگی عطا کی جائے اور ان کے لیے حلقے ریزرو کیے جائیں۔ سچر کمیٹی اور مشرا کمیشن نے اپنی رپورٹوں میں واضح کیا ہے کہ پس ماندہ مسلمانوں کی حالت ہندو درج فہرست ذاتوں سے کافی بدتر ہے۔ لہٰذا، ان کا مطالبہ ہے کہ پس ماندہ مسلمانوں کو درج فہرست ذات و قبائل (انسدادِ مظالم) قانون سے باہر رکھا جائے ، تاکہ ان کو مظالم سے بچایا جا سکے۔ او بی سی کو مل رہے 27 فیصد ریزرویشن میں سے پچھڑے مسلمانوں کی آبادی کے تناسب سے 9 فیصد کا ریزرویشن الگ سے طے کیا جائے۔ تمام حلقہ انتخاب (Constituencies) میں پس ماندہ مسلمانوں کو ان کی آبادی کے لحاظ سے سیاسی نمائندگی عطا کی جائے۔ پس ماندہ مسلمانوں کی ترقی کے لیے پس ماندہ مسلم کمیشن قائم کیا جائے۔ ریاستی حکومتوں کے ذریعے تشکیل کردہ تمام کمیشنوں اور بورڈوں میں پس ماندہ مسلم سماج کا ایک رکن یا صدر نامزد کیا جائے۔ افسران یا ملازمین کی سلیکشن کمیٹیوں میں پس ماندہ مسلم سماج کا ایک رکن نامزد کیا جائے۔ پس ماندہ مسلم سماج کے پشتینی پیشوں کے فروغ کے لیے سرکار کی طرف سے مالی امداد فراہم کی جائے، ساتھ ہی پس ماندہ مسلمانوں کی ترقی کے لیے صنعت و کاروبار کے فروغ اور تجارت وغیرہ کرنے کے لیے بلا سود سبسڈی اور لون پر مبنی پالیسی بنائی جائے۔ ریاستی حکومتوں کے ذریعے پرائیویٹ مسلم اداروں اور تعلیمی اداروں کی منیجنگ کمیٹی میں 50 فیصد پس ماندہ مسلمانوں کا عہدہ ریزرو کیا جائے۔ اسی طرح سرکار کی طرف سے مالی امداد حاصل کرنے والے پرائیویٹ مسلم تعلیمی اداروں میں 85 فیصد پس ماندہ مسلم سماج کے بچوں کو ترجیحی بنیاد پر داخلے کا انتظام کیا جائے۔
بہرحال، اگر بات پس ماندہ سماج کے سیاسی رجحان کی کی جائے، تو اسے بی جے پی اور کانگریس جیسی قومی سطح کی دونوں ہی بڑی پارٹیوں سے ناراضگی ہے۔ بی جے پی کی مسلم مخالف سوچ اور کانگریس کی مسلمانوں کے تئیں اندیکھی دونوں ہی پس ماندہ سماج کو راس نہیں آر ہی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ جہاں ایک طرف بی جے پی کو حاشیہ پر رکھنے کے لیے پس ماندہ سماج کانگریس کے ساتھ کھڑا رہنے میں ہی اپنی بھلائی سمجھتا ہے، وہیں دوسری طرف کانگریس کے متوازی کوئی متبادل مل جانے پر کانگریس کو بھی اندیکھا کر دیتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ پس ماندہ سماج کبھی سماجوادی پارٹی، تو کبھی بی ایس پی کے ساتھ کھڑا نظر آتا ہے۔ تقریباً یہی حال بہار کا بھی ہے۔ یہاں پر بھی پچھلے اسمبلی الیکشن میں اس کا رجحان جے ڈی یو کی طرف تھا۔ گجرات میں کوئی متبادل نہ ہونے کے سبب وہ کانگریس کے ساتھ کھڑا ہو گیا۔ اڑیسہ میں بیجو پٹنائک، مغربی بنگال میں سی پی ایم اور ممتا بنرجی، تمل ناڈو میں جے للتا اور کروناندھی کے ساتھ اس کی ٹیوننگ صحیح بیٹھتی ہے۔
بات لوک سبھا الیکشن کی کی جائے، تو یہی تاریخ 2014 میں بھی دہرائے جانے کی امید ہے۔ بی جے پی کو ہرانے کے لیے ہی پس ماندہ سماج گھروں سے ووٹنگ کرنے کے لیے نکلے گا۔ اس کے سامنے کوئی متبادل رہا تو ٹھیک، ورنہ کانگریس تو ہے ہی۔ اتر پردیش میں سماجوادی سرکار پس ماندہ مسلمانوں کو رجھانے کے لیے طرح طرح کے پینترے آزما رہی ہے۔ قبرستانوں کو ناجائز قبضے سے بچانے کے لیے چہار دیواری کی تعمیر کا انتظام، دسویں کلاس پاس مسلم لڑکیوں کو آگے کی تعلیم دلانے یا ان کی شادی کرانے کے لیے تیس ہزار روپے کی مالی مدد، تمام سرکاری اسکیموں اور تمام سرکاری کمیشنوں، بورڈوں اور کمیٹیوں میں کم از کم ایک اقلیتی نمائندہ کو ممبر کے طور پر نامزد کیے جانے کا وعدہ پورا کرکے فی الحال سماجوادی سرکار اقلیتوں اور ان میں سے بھی پس ماندہ سماج کے مسلمانوں کی پہلی پسند بنی ہوئی ہے۔
تاہم، اردو صحافی حاجی نبی بخش کی رائے جدا ہے۔ وہ کہتے ہیں کہ سرکاری اسکیموں میں مسلمانوں کے لیے 20 فیصد ریزرویشن محض ایک دکھاوا ہے۔ سرکار کو اگر صحیح معنوں میں مسلمانوں کی حالت سدھارنی ہے، تو اسے اُن تمام کمیشنوں کے صدارتی عہدوں پر تقرری کرنی ہوگی، جو مسلمانوں سے جڑے ہوئے ہیں۔ مائناریٹی کمیشن، مدرسہ بورڈ، اردو اکیڈمی، فخر الدین علی احمد کمیٹی، شیعہ وقف بورڈ کے عہدے اکھلیش سرکار کے 17 مہینے پورے ہونے کے بعد بھی خالی پڑے ہوئے ہیں، جب کہ دیگر طبقوں کے کمیشنوں کے ساتھ ایسا نہیں ہے۔ صدر نہ رہنے کے سبب مرکز کا پیسہ واپس چلا جاتا ہے، جو کہ اقلیتوں کے مفاد کے خلاف ہے۔ g

Share Article

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *