اقتصادی بحران سے کیسے نمٹا جائے؟

کمل مرارکا 
ملک ایک اقتصادی بحران سے گزر رہا ہے، جس کے کئی اسباب ہیں۔تاہم، حکومت آہستہ روی سے اس کا جواب دے رہی ہے، یعنی کافی دیری سے بہت کم قدم اٹھا رہی ہے۔ وزیر خزانہ نے سونے پر اِمپورٹ ڈیوٹی بڑھا دی ہے اور ملک سے باہر پیسے بھیجنے پر کچھ پابندی لگائی ہے۔ لیکن اس سے مسئلہ حل نہیں ہوگا۔ ضرورت اس بات کی ہے کہ درآمدات کو سختی سے کم کیا جائے۔ سونے کی درآمدات پر کچھ دنوں کے لیے پوری طرح پابندی لگا دینی چاہیے اور 31 مارچ، 2014 تک تو یہ پابندی ہونی ہی چاہیے۔ اسی طرح غیر ضروری الیکٹرانک اشیاء جیسے موبائل فون کی وجہ سے فارین ایکسچینج کا ایک بڑا حصہ ختم ہو رہا ہے، لہٰذا اس پر بھی 31 مارچ، 2014 تک پابندی لگا دینی چاہیے۔ اگر مارچ تک کے لیے یہ قدم اٹھائے جاتے ہیں، تو ان سے مالی خسارے کا موجودہ بحران پوری طرح سے قابو میں آ جائے گا اور آج کل ہم جس طرح ہر روز روپے میں گراوٹ دیکھ رہے ہیں، جس کی وجہ سے بازار میں بے چینی اور خوف کا ماحول ہے، یہ تمام چیزیں قابو میں آ جائیں گی۔ ظاہر ہے، اس کا نتیجہ یہ ہوگا کہ ڈبلیو ٹی او اور آئی ایم ایف میں اس پر احتجاج ہوگا، لیکن میرے خیال میں جب ملک میں بحران پیدا ہوگیا ہو، تو اس قسم کا سخت قدم اٹھانا ہی چاہیے، بجائے اس کے کہ حالات کو مزید بگڑنے دیا جائے۔ مجھے نہیں معلوم کہ وزیر خزانہ کے صلاح کار کون لوگ ہیں اور وہ خود بھی نیو لبرل پالیسی کے حامی ہیں، لیکن وہ بھی حالات کی سنگینی کو سمجھ رہے ہیں۔ آپ اپنی کرنسی کو کمزور ہونے کی اجازت نہیں دے سکتے۔ مجھے امید ہے کہ وہ کوئی سخت قدم اٹھائیں گے اور تیزی سے اٹھائیں گے۔
دوسری طرف پارلیمنٹ نے آخرکار کام کرنا شروع کردیا ہے، جو کہ ایک اچھی خبر ہے۔ فوڈ سیکورٹی بل پاس کیا جا چکا ہے۔ ظاہر ہے، یہ ایک معزز ذمہ داری ہے۔ اس بل کے ذریعے ہندوستان کی 67 فیصد آبادی کو غذائی اجناس فراہم کرنے کا وعدہ کیا گیا ہے، لیکن سوال یہ ہے کہ کیا ہمیں اتنے لوگوں کے لیے غذائی اجناس حاصل ہو پائیں گی، کیا ہم ان پر کنٹرول حاصل کر پائیں گے، ہم انہیں اسٹور کر پائیں گے، انہیں تقسیم کر پائیں گے؟ اس کام کے لیے ہمیں ایک لاکھ 25 ہزار کروڑ سے لے کر تین لاکھ کروڑ روپیوں تک کی ضرورت پڑے گی۔ ظاہر ہے، ان سب پر چند برسوں کے بعد عمل ہو پائے گا۔ اس کے لیے ضروری ہے کہ حکومت جو کچھ بھی کرنے کی کوشش کر رہی ہے، اس کے لیے اسے ان سب پر گہری نظر رکھنی ہوگی اور اس بات کی نگرانی کرنی پڑے گی کہ اس اسکیم کو کیسے نافذ کیا جا رہا ہے۔ پبلک ڈسٹری بیوشن سسٹم (پی ڈی ایس) بہت سی ریاستوں میں پہلے سے ہی ٹھیک ڈھنگ سے کام نہیں کر رہا ہے، جب کہ تمل ناڈو اور چھتیس گڑھ جیسی بعض ریاستوں میں غذائی اسکیمیں فوڈ سیکورٹی سے بہتر کام کر رہی ہیں۔ ضرورت اس بات کی ہے کہ حکومت ایسی کوئی نئی مشینری تیار کرے، جس سے اس بات کی گہرائی سے نگرانی کی جا سکے کہ اسکیموں کو مؤثر ڈھنگ سے نافذ کیا جا رہا ہے۔
جیسا کہ پہلے بھی ہوتا رہا ہے، فوڈ سیکورٹی بل کو جیسے ہی پارلیمنٹ میں پیش کیا گیا، کوئلہ گھوٹالے سے متعلق فائلیں غائب ہونے کی وجہ سے پارلیمنٹ کی کارروائی میں رکاوٹ آئی۔ فائلوں کو بڑی چالاکی سے جان بوجھ کر غائب کر دیا گیا۔ ہر کوئی جانتا ہے کہ کوئلہ کی کانیں غیر قانونی طریقے سے تقسیم کی گئیں، اس کے لیے کوئی ٹنڈر نہیں نکالا گیا، ضابطوں کا کوئی خیال نہیں رکھا گیا۔ لہٰذا اگر یہ فائلیں مل جاتی ہیں، تو اس سے بہت سے وزرائ، سابق وزراء اور ایسے بہت سے قریبی سرمایہ داروں کی سبکی ہوگی، جنہوں نے اس سے فائدہ اٹھایا ہے۔ مجھے بتایا گیا کہ ایک ایسی کمپنی بھی ہے، جس نے کبھی کوئلہ سے متعلق کام نہیں کیا پھر بھی اسے کوئلہ بلاک الاٹ کیا گیا اور اس نے کوئلہ بلاک خریدنے کے لیے ایک نیشنلائزڈ بینک سے ہزاروں کروڑ روپے قرض کے طور پر لیے۔ صورتِ حال اتنی خراب ہو چکی ہے۔ آخر اُس بینک کو اس کا پیسہ واپس کیسے ملے گا؟ لیکن چونکہ یہ معاملہ سپریم کورٹ اور سی بی آئی کے سامنے ہے، لہٰذا یہ ضروری ہے کہ جن محکموں کے پاس بھی اس سے متعلقہ کاغذات دستیاب ہیں، ان سے ان فائلوں کے تار کو دوبارہ جوڑا جائے۔ سی اے جی کے لوگوں نے کہا تھا کہ انہیں سارے کاغذات مل گئے ہیں، لیکن کسی نے ان سے کاغذات کے بارے میں نہیں پوچھا۔ ایک بار پھر میں وزیر اعظم سے ہی التجا کر سکتا ہوں، کیوں کہ اس وقت وہی اس وزارت کو دیکھ رہے تھے۔ یہ کوئی دلیل نہیں ہے کہ وزیر اعظم ہر فائل کو نہیں دیکھ سکتا، بجائے اس کے انہیں سچائی کو سامنے لانا چاہیے اور یہ بتانا چاہیے کہ ان کے ماتحت جو بھی وزیر مملکت تھا یا سکریٹریز تھے، جن کی وجہ سے ضابطوں میں یہ کوتاہیاں برتی گئیں، جن کے نتیجہ میں ہزاروں کروڑ روپے کا نقصان ہوا، ان سب کو قانون کے کٹہرے میں لانا چاہیے۔
یہ اچھی بات ہے کہ منموہن سنگھ نے آخر کار اپنی خاموشی توڑی۔ وزیر اعظم نے پارلیمنٹ کے دونوں ایوانوں میں تقریر کی اور اپنی بات رکھی۔ وہ ایک شائستہ، متین اور محترم شخص ہیں، جو اپوزیشن کو مطمئن کرنے میں کامیاب رہے۔ انہیں ایسا اکثر کرتے رہنا چاہیے۔ میرے خیال سے مزید شفافیت برتنے سے کانگریس پارٹی کو ہی فائدہ ہوگا اور وزیر اعظم کو بھی اس کا فائدہ ہوگا۔ میں امید کرتا ہوں کہ پارلیمنٹ کی کارروائی اب ٹھیک ڈھنگ سے چلے گی اور موجودہ اجلاس کے دوران بعض اچھے کام ہوں گے۔

Share Article

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *