دور ہوتے پڑوسی ممالک کو قریب لانے کی ضرورت

وسیم احمد 

پڑوسی مکان کا ہو،گاؤں کا ہو ، ملک کے اندر کا ہویا باہر کا،وہ ہر حال میں پڑوسی ہوتا ہے اور وقت پڑنے پر ایک دوسرے کے کام آتا ہے۔یہ بڑی عجیب بات ہے کہ ہمارے ملک کے اپنے پڑوسی ممالک سے بہت اچھے اور مضبوط ے تعلقات نہیں ہیں۔ضرورت اس بات کی ہے کہ دور ہوتے پڑوسی ملکوں سے تعلقات سدھارے جائیں کیونکہ یہ تمام پڑوسی ممالک وہ ممالک ہیں جن سے ہمارے روایتی رشتے صدیوں سے رہے ہیں۔اس تجزیاتی رپورٹ میں ان تمام باتوں کا جائزہ لیا گیا ہے۔

p-8یو پی اے کے9 سال پورے ہوچکے ہیں۔ان نو برسوں میں ملک کی قومی و بیرونی پالیسی بے یقینی کی شکار رہی ہے۔اس دوران یو پی اے سرکار نے بہت سے وعدے اور دعوے کیے ، مگرعملی طور پر ان میں سے بہت سی باتیں دعوے کے برعکس نظر آرہی ہیں۔یو پی اے سرکار نے خارجہ پالیسی میں کئی تبدیلیاں کی مگر اس سلسلے میں اپوزیشن ،ماہرین و دیگر متعلقہ شخصیات،اداروں و تنظیموں کو اعتماد میں لینے کے لئے مناسب کوشش نہیں کی گئی، بلکہ بسا اوقات اسے اعتماد میں لیا ہی نہیںگیا۔جس کا نتیجہ ہم پارلیمنٹ کے اجلاس میں بھی دیکھتے ہیں کہ کس طرح سے وہاں ہنگامے ہوتے ہیں اور سیاسی پارٹیاں پارلیمنٹ سے واک آوٹ کرتی ہیں۔وقفہ سوال میں جب کوئی سوال پوچھا جاتا ہے تو سرکار اس کا تسلی بخش جواب دینے سے قاصر نظر آتی ہے۔ ملک کی صورت حال کو دیکھ کر ہر آدمی پوچھنے پر مجبور ہے کہ آخر ایسا کیوں ہورہا ہے؟ ۔ان تمام باتوں کو سامنے رکھتے ہوئے جو صورت حال سامنے آتی ہے،اس کو دیکھتے ہوئے ایسا لگتا ہے کہ اس کا جواب بس ایک ہے کہ یو پی اے کے دور اقتدار میں ملک کی خارجہ پالیسی بے یقینی کی شکار رہی ہے اور اسی بے یقینی پالیسی کی وجہ سے پڑوسی ملکوں جو سارک ممالک کہلاتے ہیں کے ساتھ ہمارے تعلقات میں کڑواہٹ پیدا ہوئی ہے۔مثال کے طور پر پڑوسی ملک مالدیپ کو ہی لے لیں۔
مالدیپ ہمارا ایک اچھا پڑوسی ملک رہا ہے۔ مامون عبد القیوم کے دور تک ہندو مالدیپ کی دوستی مثالی سمجھی جاتی تھی۔ان کے بعد محمد ناشد وہاں کے صدر منتخب ہوئے تب بھی ہندوستان کے ساتھ تعلقات بحال رہے،لیکن 2012 میں جب مالدیپ میں محمد ناشد کے خلاف بغاوت ہوئی اور محمد وحید حسن کو مالدیپ کا صدر بنایا گیا تو ہندوستان نے پہلے تو محمد ناشد کی حمایت کی اور 10 دنوں تک مالے میں ہندوستانی سفارت خانے میں انہیں پناہ بھی دی ، لیکن اچانک ہندوستان کی پالیسی میں بدلائو آیا اور محمد ناشد کو سفارت خانہ خالی کرنے کا حکم دیا گیا ،یہی نہیں ان کے خلاف بغاوت کی حمایت بھی کی گئی ۔لیکن شاید اب منموہن سرکار کو اس بات کا احساس ہونے لگا ہے کہ ناوابستہ ممالک میں ہندوستان کی پالیسی ہمیشہ سے امن کی بنیاد پر اپنائی جاتی رہی ہے ۔ہندوستان نے ہمیشہ ٹکڑائو کے موقف سے گریز کیا ہے،لیکن مالدیپ کے معاملے میں یو پی اے سرکار اپنے روایتی موقف سے ہٹ گئی تھی اور نظریاتی طور پر مزاحمت کرنے والوںمیں ایک گروپ کے ساتھ ہوگئی تھی،جو کہ ہندوستانی موقف کے سراسر خلاف تھا اور غالباً اسی غلطی کو سدھارنے کے لئے منموہن سنگھ اوران کے کچھ سینئر افسروں نے کچھ ہفتہ پہلے محمد ناشد سے اس وقت ملاقات کی جب وہ عمرہ کے لئے سعودی عرب جاتے ہوئے ہندوستان میں رک گئے تھے۔حالانکہ اس ملاقات کے لئے نہ تو کوئی پریس ریلیز جاری کی گئی تھی اور نہ ہی ہندوستانی موقف پر ان سے معافی مانگی گئی،مگر منموہن سنگھ کی ملاقات سے اتنا تو اندازہ لگایا ہی جاسکتا ہے کہ اب مالدیپ کے تئیں منموہن سنگھ کی سوچ میںتبدیلی آرہی ہے اور ہندوستان کی غیر مزاحمتی موقف سے ہٹ کر محمد وحید کی جو حمایت کی گئی تھی ،ان کی اس ملاقات کے ذریعہ تعلقات بہتر کرنے کی کوشش کی گئی ہے۔
یہی صورت حال ہمارے دوسرے پڑوسی ملک بنگلہ دیش کے ساتھ بھی ہے۔ یو پی اے سرکار ملک کی دیرینہ پالیسی سے ہٹ کر اور اپوزیشن و دیگر متعلقہ شخصیات و گروپ کو اعتماد میں لئے بغیر بنگلہ دیش سرکار کے ساتھ ایک معاہدہ کرتی ہے اوراس کو راجیہ سبھا میں بحث کے لئے گزشتہ پارلیمانی اجلاس میں پیش کیا جاتا ہے۔یہ معاہدہ خشک سرحدی حد بندی معاہدے (LBA) سے متعلق ہے ۔ اس طرح کے سرحدی معاہدے کی پیشکش خالدہ ضیاء کے دور میں بھی کی گئی تھی،مگر کچھنکات پر اختلاف کی وجہ سے اس پر عمل درآمد نہیں ہوسکا تھا پھر جب شیخ حسینہ کا دور آیا تو منموہن سنگھ نے تقریباً دو سال پہلیان کے ساتھ ایک معاہدہ کیا اور اسے راجیہ سبھا کے اجلاس میںپاس کرانے کے لئے پیش کردیا۔لیکن بھارتیہ جنتا پارٹی نے اس کی مخالفت کردی ۔اپوزیشن نے اس معاہدے کے تئیں جو سوالات اٹھائے تھے۔ اس کا منموہن سنگھ تسلی بخش جواب نہیں دے سکے۔دراصل منموہن سنگھ اس گمان میںتھے کہ وہ ممتا بنرجی کی حمایت سے اس بل کو پاس کرا لیںگے لہٰذا اپوزیشن کو اعتماد میں لینے کی ضرورت محسوس نہیں کی گئی مگر ممتا نے تیستا ندی کے پانی کی تقسیم کو لے کر اس معاہدے کی حمایت سے صاف انکار کردیا۔جب ممتا نے اس کی حمایت کرنے سے انکار کردیا تب منموہن سنگھ کو احساس ہوا کہ اپوزیشن کو اعتماد میں لئے بغیر کسی بھی بیرونی معاہدے کو عمل میںلانا مشکل ہے، لہٰذا گزشتہ دنوں منموہن سنگھ نے بی جے پی لیڈروں کے ساتھ ایک میٹنگ کی تاکہ اس سلسلے میں بی جے پی کو اعتماد میں لیا جاسکے۔
لیکن سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ اگر بی جے پی اس بل پر اتفاق رائے کر بھی لیتی ہے تو بھی کیا اس پر عمل درآمد ہوسکے گا؟۔2014 کے عام انتخابات قریب ہیں اور جس طرح سے ہندوستان میں یو پی اے کی شبیہ خراب ہے۔ اسی طرح بنگلہ دیش میں بھی حسینہ واجد کی پوزیشن کمزور ہے۔اب اگر وہاں حسینہ واجد کی حکومت ختم ہو جاتی ہے اور خالدہ ضیاء دوبارہ اقتدار میں آجاتی ہیں تو کیا اس معاہدے پر عمل درآمد کے لئے وہ اپنا تعاون دیںگی؟۔ گزشتہ دو برسوں میں یو پی اے نے اس پہلو پر کبھی غور نہیں کیا ،لیکن اب منموہن سنگھ کو احساس ہونے لگا ہے کہ ہندوستان کا روایتی موقف تمام پارٹیوں کو لے کر چلنے کاہے،جس پر عمل نہ کرنے کی وجہ سے انہیں بارہا شرمندگی کا سامنا کرنا پڑا ہے۔لہٰذا اب وہ اس معاہدے کے اہم نکات پر غور کرنے لگے ہیں اور دوسری طرف شیخ حسینہ بھی اس بات کو محسوس کر رہی ہیں کہ 2014 کا انتخاب ان کے لئے بہت خوش آئند نہیں ہے ،لہٰذا وہ بھی کوشش کر رہی ہیں کہ عام انتخابات سے پہلے ہی یہ معاملہ حل ہوجائے تو اچھا ہے، لہٰذا بی جے پی کو مطمئن کرنے کے لئے سفارتی ذرائع استعمال کیے جارہے ہیں اور اسی مقصد کو لے کر بنگلہ دیش کے ہائی کمشنر طارق کریم بی جے پی کے سینئر لیڈر نریندر مودی سے ملاقات بھی کرچکے ہیں۔غرض بیرونی پالیسی میں جو بے یقینی کی صورت حال بنی ہوئی ہے اس کو دور کرنے کے لئے ہر طرح سے کوشش جاری ہے۔
بات صرف پڑوسی ملک مالدیپ اور بنگلہ دیش کی نہیں ہے بلکہ دوسرا پڑوسی ملک بھوٹان کے ساتھ بھی کانگریس کی غیر یقینی پالیسی نے ایک اچھے دوست کو دشمن کے قریب کردیا ہے۔ بھوٹان سے ہمارا بہت اچھا رشتہ رہا ہے۔یہ پہلا ایسا پڑوسی ملک ہے جس کی سرحد سے ہندوستان کو کبھی کوئی دخل اندازی ،جھڑپ یا کوئی مسئلہ پیدا نہیں ہوا۔ بھوٹان کے لئے ہماری خارجہ پالیسی ہمیشہ سے امداد باہمی پر قائم رہی ہے۔دیگر اشیاء کے ساتھ ساتھ کیروسین اور کوکنگ گیس انہیں سبسڈی کی بنیاد پر دی جاتی تھی،لیکن اچانک اس پالیسی میں تبدیلی کی گئی اور سبسڈی ہٹالی گئی جس کی وجہ سے وہاں کی اپوزیشن کو ایک ایشو مل گیا اور جب اپوزیشن کی سرکار بنی تو وہ ہندوستان کا مخالف سمجھا جانے والا ملک چین سے قریب ہوگیا۔حالیہ الیکشن کے بعد گزشتہ سال بھوٹانی وزیر اعظم نے Rio de Janeiro میں چینی سپریمو سے ملاقات کی۔بھوٹان اور چین کی یہ قربت الیکشن کے عین موقع پرکیروسین اور کوکنگ گیس کی قیمت میںاضافہ نے بھوٹان کو چین سے قریب کردیاجو کہ ہماری ملک کی سرحدی سیکورٹی کے لئے اچھی علامت نہیں ہے۔اب جبکہ یو پی اے 2 آخری مرحلے میں ہے تو منموہن سنگھ کو احساس ہونے لگا ہے کہ خارجہ پالیسی میں یہ بدلائو ملک کی سیکورٹی کے لئے نقصان دہ ہے لہٰذا اب یہ کہا جارہا ہے کہ سبسڈی کو عارضی طور پر روکا گیا تھا اور ضرورت پڑنے پر اسے دوبارہ جاری کیا جاسکتا ہے۔
گزشتہ 9 برسوں میں یو پی اے سرکار کی خارجہ پالیسی میں جو بے یقینی کی صورت حال پیدا ہوئی ہے، اس میں کسی حد تک کمی لانے کی کوشش کی جارہی ہے تاکہ پڑوسی ملکوں کے ساتھ اچھے تعلقات قائم رکھنے کی جوہندوستانی روایت رہی ہے وہ برقرار رہے۔لیکن سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ ہمارے پڑوسی ملکوں میں صرف مالدیپ ،بنگلہ دیش اور بھوٹان ہی نہیں ہیں بلکہ ان کے علاوہ نیپال ،سری لنکا، پاکستان اور چین بھی ہیں۔ان سب کے ساتھ ہماری غیر مزاحمتی پالیسی قائم رہنی چاہئے اور اگر اس میں بدلائو کی ضرورت ہو تو اپوزیشن اوردیگر گروپوں و ماہرین کو اعتماد میں لے کر بدلائو ہونا چاہئے۔
جہاں تک نیپال کی بات ہے تو اس کے سابق وزیر اعظم اور یونائٹیڈ کمیونسٹ پارٹی نیپال کے پشپا کمال دہال ’پرچندا‘ نے ایک موقع پر کہا تھا کہ’’ دونوں ملکوں کے تعلقات میں بہتری ہماری فلاح کے لئے لازمی ہے‘‘۔ نیپال کے ساتھ ہندوستان کے کچھ سرحدی تنازعات ہیں،ان تنازعات کو خارجہ سکریٹری شیو شنکر مینن کے مطابق بہت حد تک حل کرلیے گئے ہیں،مگر سابق کابینی وزیر یشونت سنہا کا کہنا ہے کہ نیپال کے ساتھ تعلقات میں جو قدم اٹھایا جانا چاہئے اس طرح سے نہیں اٹھایا گیا ہے ۔ مطلب یہ ہے کہ یو پی اے کی طرف سے کہیں نہ کہیں کچھ کمی ہے جس کو دور کیے جانے کی ضرورت ہے۔اس کے ساتھ ہی یو پی اے کو پرچندہ کی کہی ہوئی باتوںکو اہمیت کے ساتھ لینی چاہئے کیونکہ نیپال ایک ایسا ملک ہے جہاںچین اپنا اثر و رسوخ بڑھانے کے لئے پر تول رہا ہے۔ ایسے میں نیپال کے ساتھ بجلی آئی ٹی آئی اور سیاحت کے شعبوں میںہمیں اپنی خارجہ پالیسی میں خاص نظر رکھنی ہوگی ۔
یہی صورت حال سری لنکا کی بھی ہے۔سری لنکا سے ہمارے تجارتی لین دین تقریباً 10 بلین ڈاکر تک پہنچ چکی ہے، اس کے باوجود ہمارا رشتہ جس طرح سے ہونا چاہئے ،ویسا نہیں ہے۔خاص طور پرہندوستان کا سب سے بڑا حریف چین وہاں بڑے پیمانے پر سرمایا کاری کررہا ہے۔ظاہر ہے ہماری ذرا سی لا پرواہی، سری لنکا کو چین کے قریب کرسکتا ہے،بھوٹان کے سلسلے میں اس طرح کی غلطی کرکے اس کا خمیازہ بھگت چکے ہیں۔
جہاں تک پاکستان کی بات ہے تو اس کے ساتھ ہمارا رویہ مختلف نشیب و فراز سے گزرتا رہا ہے ۔حالانکہ پاکستان نے کئی مرتبہ ایسے حالات پیدا کیے ہیں کہ سرحد پر تنازع کی صورت حال پیدا ہوسکتی تھی، لیکن ہندوستان نے اپنی دیرینہ پالیسی پر عمل کرتے ہوئے صبرو تحمل سے کام لیا،مگر ایسے وقت میں جب لائن آف دی کنٹرول پر ہمارے پانچ فوجیوںکے سر کاٹ لئے گئے تھے تو اس وقت یو پی اے نے نہایت ہی سرد مہری اختیار کر لی تھی، جس کی وجہ سے اپوزیشن نے پارلیمانی اجلاس میں بہت ہنگامہ کیا تھا مگر کانگریس کی سرد مہری برقرار رہی ۔
یہی غیر یقینی پالیسی یو پی اے نے چین کے ساتھ خارجہ پالیسی میں اپنا رکھی تھی ۔چنانچہ لداخ میں ہندوستانی سرحد کے اندر تقریباً 19 کیلو میٹر تک چینی مداخلت کے سلسلے میں یو پی اے سرکار تذبذب کی شکار رہی جس کی وجہ سے چین کا حوصلہ بڑھتا رہا ،لیکن جب ہر طرف سے یو پی اے پر تنقید ہونے لگی تو اسے احساس ہوا کہ اس کی پالیسی غلط رخ پر جارہی ہے اور اس میں سدھار لانے کے لئے چینی سرحد پر دفاعی نظام پر توجہ دی اور وہاں پر An IAF C 130J Super Hercules Lands نصب کیا ۔غرضیکہ یو پی اے سرکار کے 9 سالہ دور اقتدار میں خارجہ پالیسی بے یقینی کی شکار رہی ،مگر اب جبکہ عام انتخابات بالکل قریب آچکے ہیں تواس میں اصلاح کے لئے سوچا جارہا ہے۔بہر کیف دیر سے ہی صحیح ہندوستانی روایتی پالیسی کا خیال تو آیا۔اب ضرورت اس بات کی ہے کہ اس روایت کو الیکشن اسٹنٹ کے طور پر نہ اپنایا جائے اور اپنے تمام پڑوسی ملکوں کے ساتھ مستحکم اور یقینی پالیسی بھی اپنائی جائے تاکہ پھر اسے اسی طرح پچھتانا نہ پڑے جس طرح سے محمد ناشد کے خلاف فیصلہ کرکے پچھتانا پڑا تھا ۔
خارجہ پالیسی کا مستحکم ہونا ہی کسی ملک کو بہتر ترقی یافتہ ملک بناتا ہے۔ہم ترقی پذیر ملک کے دائرے سے نکل کر ترقی یافتہ ممالک کی دوڑ میں شامل ہونے جارہے ہیں۔ایسیمیں ہماری خارجہ پالیسی بہت ہی مضبوط ہونی چاہئے۔ کسی بھی ملک کی خارجہ پالیسی بہت ہی اہم بات ہوتی ہے۔لہٰذا اس کے طے کرنے میں ملک کی تمام سیاسی پارٹیوں بشمول اپوزیشن کے علاوہ متعلقہ ماہرین و دیگر شخصیات ،اداروں اور تنظیموں کو ضرور اعتماد میں لینا چاہئے۔ مثال کے طور پر اگر ویسے ممالک جہاں بدھزم کے حاملیں اقتدار اور اکثریت میں ہیں یا ویسے ممالک جہاں مسلمان اقتدار میں یا قابل ذکر تعداد میں ہیں، متعلقہ ماہرین اور اداروں سے تبادلہ خیال کرلیا جائے تو یہ اس مخصوص پالیسی بنانے میں بہت مفید ثابت ہوگا۔

Share Article

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *