بالی ووڈ فلمیں کمائی کے لئے صرف باکس آفس کی محتاج نہیں

p-12ایک وقت تھا جب فلمیں باکس آفس پر اوندھے منھ گر پڑتی تھیں اور فلمسازوں کو بھاری نقصان اٹھانا پڑتا تھا۔ ماضی میں بھی گرودت کو فلم ’’کاغذ کے پھول ‘‘ اور راج کپور کو فلم ’’میرا نام جوکر‘‘ کی ناکامی کے بعد زبردست خسارہ کا سامنا کرنا پڑا تھا اور انہیں اس خسارے سے نکلنے کے لئے کافی وقت لگا تھا، لیکن گزشتہ کچھ سالوں سے نیو میڈیا نے فلمسازوںکے لئے جڑی بوٹی کا کام کیا ہے اور ان کے لئے آمدنی کے نئے نئے ذرائع پیدا کئے ہیں۔ اب فلموں کا ریوینیو باکس آفس کے علاوہ دیگر ذرائع سے بھی جینریٹ ہوتا ہے۔ اندازہ ہے کہ آئندہ کچھ سالوں میں فلموں کا 50فیصدریوینیو نیو میڈیا جیسے انٹرنیٹ، ڈی ٹی ایچ اور موبائل فونس کے ذریعہ جنریٹ ہوگا۔ آج کل فلمیں باکس آفس پر چلیں یا نہ چلیں ، لیکن پھر بھی وہ قابل قدر کمائی کر لیتی ہیں۔ گزشتہ کچھ سالوں سے 100کروڑ سے زیادہ کی کمائی کر لینا کسی فلم کے لئے کوئی بڑی بات نہیں ہے۔اوسطاً تمام فلمیں سو کروڑ سے زیادہ کاعدد چھو ہی لیتی ہیں۔ اس کی شروعات سنجے دت اسٹارر فلم’ لگے رہو منا بھائی ‘ سے ہوئی تھی۔ فلم گجنی ، روبوٹ اور تھری ایڈیٹس جیسی فلموں نے اسے اور بڑھایا۔ حالانکہ سال 2009تک کچھ فلمیں ہی سو کروڑ کی کمائی کر پاتی تھیں، لیکن آج کل سو کروڑ کی فیگر پار کرنے والی فلموں کی بھرمار ہے۔ دراصل، اب باکس آفس پر فلمیں لمبے وقت تک نہیں چل پاتیں۔دراصل فلمسازوں کو فلم کا بجٹ وصولنے کے ساتھ ہی منافع بھی کمانا ہوتا ہے۔ ایسے میں پروڈیوسر صرف باکس آفس کے سہارے نہیں رہتا۔ باکس آفس کمائی کا ایک بڑا ذریعہ ضرور ہے، لیکن فلمساز منافع کے دیگر طریقے بھی اپنانے لگے ہیں۔ آج کے وقت میں فلمیں ریلیز ہونے سے پہلے اپنی لاگت سے زیادہ کمائی کر لیتی ہیں۔ فلموں کی موسیقی، سیٹلائٹ رائٹ، ڈی وی ڈی، ٹکٹ فروخت، انٹر نیٹ وغیرہ ذرائع فلم کی کمائی کا بڑا ذریعہ بن گئے ہیں۔ موبائل میں بجنے والی رنگ ٹونس ، یو ٹیوب پر چلنے والی فلمیں، گانے سے لے کر ویڈیو پر چلنے والے گانے بھی پیڈ ہوتے ہیں۔ایکتا کپور نے 28کروڑ روپے کی لاگت سے ڈرٹی پکچر بنائی ۔ اس فلم کو باکس آفس پر زبردست کامیابی ملی اور دیگر ذرائع سے بھی ایکتا نے موٹی کمائی کی۔ اس فلم کے سیٹلائٹ رائٹس بھی ایکتا نے منھ مانگی رقم میں بیچے۔ اس کے علاوہ فلاپ فلموں کی بات کریں تو وہ بھی اپنی لاگت سے کئی گنا زیادہ کمائی کر لیتی ہیں۔ شاہ رخ خان کی سپر فلاپ راون ، روہت دھون کی دیسی بوائز یا پھر عامر کی تلاش نے سیٹلائٹ رائٹس کے علاوہ غیر ملکی حکومتوں سے کافی کمائی کی۔ تقریباً تمام ملک اپنے یہاں شوٹنگ کرنے کے لئے آنے والے فلمسازوں کو سبسڈی دینے کے لئے تیار رہتے ہیں۔ راون کو برطانوی حکومت سے 25کروڑ کی سبسڈی حاصل ہوئی، جبکہ دیسی بوائز کو 15کروڑ روپے ملے۔ دیگر غیر ملکی سرکاریں بھی فلموں کی شوٹنگ اپنے ملک میں کرنے پر سبسڈی دیتی ہیں۔ اس کے علاوہ ، برازیل، پولینڈ، چیکو اسلوواکیا جیسے کچھ ممالک میں بالی ووڈ فلموں کے مداحوں میں اضافہ ہوا ہے۔ وہاں کے سنیما گھروں میں ہندی فلمیں ریلیز ہو رہی ہیں۔ آج کل فلموں کے سیٹلائٹ رائٹس خریدنے کے لئے بھی چینلوں میں زبردست مقابلہ آرائی ہوتی ہے۔ حالانکہ فلموں کے سیٹلائٹ حقوق خریدنے والے چینلس کی تعداد بہت زیادہ نہیں ہے ، لیکن ان میں ڈیمانڈ زیادہ ہے۔ چیلنس اپنی لائبریری کے لئے اونچی قیمتوں پر فلموں کے رائٹ خرید کر جمع کر لیتے ہیں۔ اب تو فلم پروڈکشن کے دوران ہی فلموں کے سیٹلائٹ رائٹ بک جاتے ہیں۔ دن بہ دن بڑھتی چینلس کی باہمی مقابلہ آرائی کے سبب بھی سیٹلائٹ مارکیٹ میں تیزی آئی ہے۔ فلموں کو نشر کرنے کے لئے بھی ان میں باہمی مقابلہ آرائی بڑھی ہے، جس کا فائدہ فلمساز اٹھاتے ہیں اور فلموں کے سیٹلائٹ رائٹس اونچی قیمتوں پر فروخت کرتے ہیں۔ سلمان کی فلم دبنگ 2نے باکس آفس پر کافی اچھی کمائی کی اور اس کے سیٹلائٹس بھی اسٹار نیٹورک نے 50کروڑ روپے میں خریدے ، جب کہ راون کے سیٹلائٹ رائٹ 30کروڑ سے زیادہ میں فروخت ہوئے تھے، وہیں دیسی بوائز کے رائٹ 27کروڑ میں فروخت ہوئے تھے۔ فلمساز کمار منگت نے 6کروڑ کی لاگت سے نئے فنکاروں کو لے کر ویڈنگ پلاننگ پر مبنی فلم ’’بٹو باس‘‘ بنائی۔ حالانکہ فلم باکس آفس پر ناکام رہی لیکن اس کے سیٹلائٹ، میوزک اور دوسرے رائٹس بیچ کر فلم نے ریلیز سے پہلے ہی 8کروڑ روپے کما لئے۔ اس کے علاوہ فلمسازوں کا برانڈس کے ساتھ بھی ٹائی اپ ہوتا ہے۔ اپنی فلموں میں وہ برانڈس کا اشتہار بھی کرتے ہیں اور اس سے ان کی موٹی کمائی ہو جاتی ہے۔حال ہی میں ریلیز ہوئی فلم چنئی ایکسپریس کا ٹائی اپ نوکیا کے ساتھ تھا۔ وہیں فلم گرو میں ہیرو سائیکل، ڈان میں موٹورولا ، گارنیئر سٹی بینک ، لوئس ، فلپس ، دھوم 2میں کوک، پیپ، سونی، ڈژنی چینل، میڈی ، کرس میں سنگا پور ٹورازم بورڈ، سونی، جان پلیئر ، بارنویٹا ، ٹائڈ ، ہیرو ہونڈا، بورو پلس، لائف بوائے ، ایچ پی پاور، رنگ دے بسنتی میں کوکا کولا، ایئر ٹیل، ایل جی ، برجر اور پروووگ کو دکھایا گیا تھا۔ بالی ووڈ میں یہ کوئی نیا ٹرینڈ نہیں ہوا ہے۔ راج کپور کی فلم بابی میں بھی راج دوت موٹر سائیکل ، فلم ہیرو میں یامہا 350، یادیں میں پاس پاس ، ہیرو سائیکل اور کوک جیسے برانڈس نظر آئے۔

Share Article

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *