بہار میں اقتدار کے لئے نفرت کی سیاست

اشرف استھانوی 

2014 کے پارلیمانی اور 2015 کے اسمبلی انتخابات سے ٹھیک پہلے ریاست بہار میں فرقہ وارانہ فسادات کا سلسلہ شروع ہو چکا ہے، جس کا واحد مقصد رائے دہندگان کو مذہب کے نام پر پولرائز کرنا ہے۔ سوال یہ ہے کہ کیا ہم سیاست کے نام پر سماج میں فرقہ وارانہ ہم آہنگی کو بگاڑنے کی اجازت دیں گے؟ انہی باتوں پر مبنی ہے بہار کے ہمارے خصوصی نمائندہ کی یہ رپورٹ …

p-10bمسلمانوں کے خون سے ایوان اقتدار تک پہنچنے کی طاقت حاصل کرنے کا کھیل بہت پرانا ہے۔ اس کھیل کا سہارا لے کر آزادی کے بعد سے آج تک حریص اقتدار پارٹیاں ایوان سیاست کی سیڑھیاں چڑھتی رہی ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ جب بھی انتخابات کا موسم آتا ہے، مسلمانوں کے خون سے ہولی کھیلنے کا سلسلہ شروع ہو جاتا ہے اور اس کھیل میں عموماً وہ طاقتیں آگے رہتی ہیں، جو کہ محض اکثریتی فرقہ کے مذہبی جذبات کو بر انگیختہ کرکے ووٹوں کے پولرائزیشن کے لیے مذہب کے نام پر نفرت کو بڑھا دیتی ہیں۔ بہار میں اس وقت یہی کھیل دہرایا جا رہا ہے۔
’’ چوتھی دنیا ‘‘ نے 8 تا 14 جولائی، 2013 کے شمارہ میں اپنے تجزیاتی مضمون ’’فسادات ہونے ہی والے ہیں‘‘ میں ملک کی موجودہ صورتِ حال کے پیش نظر تجزیہ کیا تھا کہ ملک میں فرقہ وارانہ فسادات کی پوری تیاری ہو چکی ہے۔ اس مضمون میں ڈاکٹر منیش کمار نے جو تجزیہ کیا تھا، وہ صد فیصد صحیح ثابت ہورہا ہے، جس سے اس ہفتہ وار کے تئیں بھروسہ قارئین میں بڑھا ہے، جس کا اندازہ قارئین سے بات کرکے ہوتا ہے۔
سنگھ پریوار فاشسٹ ایجنڈے کو نافذ کرنے اور سیکولر بھارت کو ہندو راشٹر میں تبدیل کرنے کے لیے اپنی سیاسی یونٹ بھارتیہ جنتا پارٹی کو مرکز میں پوری طاقت کے ساتھ بر سر اقتدار لانے کے لیے سرگرم عمل ہے۔ وہ اس ایجنڈہ پر سرگرم عمل ہے کہ وہ اگر کٹر ہندوتو کے ایجنڈے کو اپنائے اور کٹر ہندوتو کی علامت بن چکے گجرات کے وزیر اعلیٰ نریندر مودی کو وزیر اعظم بنا کر ان کے صدارتی قیادت میں لوک سبھا کا انتخاب لڑے، تو بی جے پی تن تنہا لوک سبھا کی 300 سیٹیں حاصل کر سکتی ہے، یعنی اپنے بل بوتے پر مرکز میں برسر اقتدار آسکتی ہے۔ سنگھ پریوار کی ہدایت اور سادھو سنتوں کے مشورے پر بی جے پی نے جیسے ہی نریندر مودی کو آگے بڑھانے کی کارروائی کرتے ہوئے ’نمو نمو‘ کا جاپ شروع کیا، اس کی دیرینہ سیاسی حلیف جنتا دل یو نے بی جے پی کے ساتھ اپنا 17 سال پرانا اتحاد توڑ دیا اور اپنی راہ الگ کر لی۔ بہار میں اس سے بی جے پی کو بڑا بھاری جھٹکا لگا، کیوں کہ مرکزی اقتدار حاصل کرنا تو ابھی دیوانے کا خواب ہی نظر آرہا تھا۔ رہا سہا بہار کا اقتدار بھی ہاتھ سے نکل گیا اور قومی سطح پر ایک مضبوط اور قابل اعتماد پارٹی کا ساتھ چھوٹ گیا۔ بس اسی دن سے بی جے پی اپنی پرانی روش پر لوٹ آئی اور نفرت کا کھیل شروع کر دیا۔
بہار میں بی جے پی سے الگ ہونے کے باوجود اس وقت نتیش کمار کی پارٹی جنتا دل یو بعض سیاسی اسباب کی بنا پر سب سے مضبوط پوزیشن میں ہے اور مسلمانوں کا جھکائو بھی مودی کے سوال پر بی جے پی کو طلاق دینے اور بعض دیگر اسباب کی بناپر نتیش اور ان کی پارٹی کی طرف ہو گیا ہے۔ اس لیے بی جے پی اور اس کی اعانت کرنے والی دوسری سنگھی تنظیمیں اس وقت نتیش حکومت اور مسلمان دونوں کو ٹارگٹ بنائے ہوئی ہیں اور ہر وہ کام کر رہی ہیں، جس سے نہ صرف نتیش حکومت بد نام ہو اور مسلمان نتیش حکومت سے دور ہو جائیں، بلکہ اکثریتی ووٹوں کا بی جے پی کے حق میں پولرائزیشن بھی ممکن ہو۔ پہلے تو اس نے سرکاری اسکولوں میں مڈ ڈے میل اور اسکولوں کے چاپا کلوں میں زہر ڈال کر حکومت کو بد نام کرنے اور عوام میں ناراضگی پیدا کرنے کی مہم کو ہوا دے کر سیاسی فائدہ حاصل کرنے اور نتیش سے بدلہ چکانے کی کوشش کی اور اس کے بعد فرقہ وارانہ منافرت کی آگ بھڑکانے کا ریاست گیر سلسلہ شروع کر دیا۔
کھگڑیا میں میت کی تدفین میں خلل ڈال کر بھاجپائیوں نے ماحول بگاڑنے اور قبرستان پر قبضہ جمانے کی کوشش کی، جس کی وجہ سے فرقہ وارانہ تشدد بھڑک اٹھا۔ بتیا میں ناگ پنچمی کے موقع پر مہاویری جھنڈے کا جلوس نکالنے کے دوران مسلمانوں کے خلاف باضابطہ اور منظم طریقے سے اشتعال انگیزی کی گئی، جس میں سنگ باری اور فائرنگ میں کئی لوگ زخمی ہو گئے۔ عید کے فوراً بعد نوادہ میں فساد بھڑکائی گئی اور معمولی سی بات کو طول دے کر باقاعدہ فساد کا روپ دیا گیا۔ فسادیوں اور پولس کی کارروائی میں تین افراد کی موت ہو گئی، جن میں بیس سالہ اقبال ولد محمد شمس الحق کو فسادیوں نے بلا وجہ گولی مار کر ہلاک کیا۔ نوادہ شہر کئی دنوں تک کرفیو کی گرفت میں رہا اس دوران انتظامیہ میں شامل فرقہ پرست عناصر نے کھل کر فسادیوں کا ساتھ دیا۔ کرفیو کا نفاذ مسلم محلوں میں سختی کے ساتھ ہوا، مگر دوسرے علاقوں میں چشم پوشی سے کام لیا گیا اور فسادیوں کو کھل کر کھیلنے کا موقع دیا گیا۔ شہر میں کرفیو اور بڑے پیمانے پر پولس فورس، ریپڈ ایکشن فورس اور سی آر پی ایف جوانوں کی موجودگی کے باوجود فسادیوں کی ایک طرفہ کارروائی میں مسلمانوں کی تقریباً 80 دکانیں نذر آتش کردی گئیں اور شٹر توڑ کر سامان لوٹ لیے گئے، سبزی بازار کی مسجد بھی جلا دی گئی۔ پرانی کچہری سڑک، اسپتال روڈ واقع اقلیتی فرقہ کی دکانوں کو چن چن کر نشانہ بنایا گیا۔ اس دوران فسادی بجرنگ بلی کا نعرہ نہ لگا کر نریندر مودی زندہ باد اور نتیش کمار زندہ باد جیسے سیاسی نعرے لگا رہے تھے، جس سے اس بات کا بخوبی اندازہ ہوتا ہے کہ اس فساد کے پس پردہ کون سی طاقت کار فرما تھی۔
بتیا میں بھی اسی طرح کے نعرے مسلم مخالف نعروں کے ساتھ لگائے جا رہے تھے۔ نوادہ فساد کے دوران نوادہ- کیول لائن کی ٹرینوں پر سنگ باری کی گئی اور انہیں سگنل پر روک کر یا اسٹیشن پر رکنے کے بعد خاص طور سے نشانہ بنایا گیا۔ فسادیوں نے ٹرین میں داخل ہو کر چن چن کر مسلمانوں کو ان کی داڑھی، ٹوپی یا عید کے کپڑوں کی بنیاد پر شناخت کرکے بری طرح پیٹا۔ 65 سالہ حاجی اسحق کی داڑھی تک نوچی گئی۔ مسلمانوں کی خاص شناخت رکھنے والوں کے ساتھ زیادہ کھل کر بد تمیزی کی گئی۔ نوادہ میں فرقہ پرست حال کے برسوںمیں کافی سرگرم رہے ہیں اور اس دوارن جب بی جے پی حکومت میں شامل تھی، تب وہ وقتاً فوقتاً شرپسندی کا مظاہرہ کرنے سے باز نہیں آتے تھے۔ حکومت سے الگ ہونے کے بعد اب وہ کھل کر فرقہ پرستی اور مسلم دشمنی کا مظاہرہ کر رہے ہیں۔ شب برأت کے موقع پر مستان گنج میں افضل انصاری نام کے ایک مسلمان کو شہید کرکے زمین میں کافی گہرائی میں بے گور و کفن دفن کر دیا گیا اور کئی دنوں تک لا پتہ رہنے کے بعد جب اس سازش کا پتہ چلا، تو صرف ایک شخص کی گرفتاری عمل میں آئی، بقیہ لوگوں کو یوں ہی چھوڑ دیاگیا، جب کہ ایف آئی آر ان کے خلاف بھی تھی۔
نوادہ فساد کے دوران فسادیوں کے ہاتھوں قتل کیے گئے محمد اقبال کے قاتلوں کو اب تک گرفتار نہیں کیا گیا ہے۔ مقتول اقبال کے والد شمس الحق نے نامزد ایف آئی آر کرکے وجے بھان کو قاتل بتایا تھا، لیکن دس دنوںبعد بھی اب تک وجے بھان کی گرفتاری نہیں ہوئی ہے۔ اسے نوادہ پولس کی سرپرستی حاصل ہے۔ نوادہ کے امن پسند لوگوں کا کہنا ہے کہ جب تک ضلع پولس کپتان مسٹر ڈھلون کا تبادلہ نہیں ہو گا، تب تک یہاں امن و امان بحال نہیں ہوگا۔ انہیں اقلیتی فرقہ کا دشمن قرار دیا جا رہا ہے۔ نامزد ملزموں کو پولس کی سرپرستی حاصل ہے۔ انہی لوگوں نے فساد کے دوران وجے بازار کے مسلمانوں کی دکانوں کو لوٹنے اور جلانے میں اہم کردار ادا کیا۔
نوادہ میں فساد کی آگ سرد ہوئی، تو پٹنہ کے قریب پھلواری شریف اور مشرقی چمپارن ضلع کے گھوڑا گائوں میں ایک ہی دن ماحول کو بگاڑنے کی کوشش کی گئی۔ پھلواری شریف کے بھسولا دانا پور علاقہ میں لب سڑک ایک غیر مزروعہ زمین پر، جس کا استعمال ہر فرقہ کے لوگ غیر مذہبی کاموں کے لیے کیا کرتے تھے، اچانک کچھ شرپسند سنگھی عناصر کی تحریک پر کچھ لوگ جمع ہو گئے اور وہاں مندر تعمیر کرنے کی کارروائی شروع کردی۔ اس پر مسلمانوں نے سخت اعتراض کیا اور کہا کہ یہ زمین غیر مزروعہ ہے اور یہ کسی مندر کمیٹی کی ملکیت نہیں ہے، اس لیے یہاں پر مندر کی تعمیر ہر گز نہیں ہونے دیں گے۔ بات آگے بڑھی اور قبل اس کے کہ حالات دھماکہ خیز صورت اختیار کر تے، مقامی پولس اور انتظامیہ نے تیزی سے کارروائی کرتے ہوئے اس مقام پر کسی بھی قسم کی تعمیر پر روک لگادی اور امن کمیٹی کی میٹنگ انعقاد کرکے دونوں فرقوں کے لوگوں کو پر امن رہنے پر آمادہ کیا۔
اسی روز مشرقی چمپارن ضلع کے کھوڑا گائوں میں شرپسندوں نے وہاں کی مسجد پر حملہ کرکے اسے تباہ کرنے کی کوشش کی۔ پتہ چلا کہ وہ گائوں کی اکلوتی مسجد ہے، جسے دو سال قبل رمضان المبارک کے موقع پر گائوں کے مسلمانوں نے آپسی چندہ سے تعمیر کیا تھا۔ یہ مسجد ابھی پختہ نہیں ہے اور کھپڑ پوش حالت میں ہے۔ کیوں کہ مسجد کی آمدنی بہت محدود ہے۔ 150 گھروں پر مشتمل اس گائوں میں مسلم گھروں کی تعداد صرف ایک درجن ہے۔ کسی طرح ان مسلمانوں نے عبادت کے لیے الگ مسجد بنائی، تو وہ بھی فرقہ پرستو ںکی آنکھوں میں کھٹک رہی ہے۔ ایک روز قبل گائوں کے لوگوں نے مہا ویری جلوس نکالا تھا، تو اس وقت بھی مسلمانوں کے خلاف اشتعال انگیز نعرے لگا ئے گئے۔ مسلمانوں نے خاموشی سے کام لیا، لیکن واقعہ کے روز گائوں کے کچھ شرپسند لوگ باہری فرقہ پرست عناصر کی تحریک پر شراب پی کر مسجد کے پاس جمع ہوئے اور مسلمانوں کے خلاف اول فول بکتے ہوئے مسجد کو تباہ کرنے کی تیاری کرنے لگے۔ اس پر گائوں کے مسلمان مشتعل ہو گئے اور وہ مسجد کو بچانے کے لیے اپنی تمام تر بے بضاعتی کے باوجود سینہ سپر ہو گئے۔ پھر کیا تھا، دونوں طرف سے لاٹھی ڈنڈے اور روایتی اسلحہ لے کر لوگ مسجد بچانے اور اسے تباہ کرنے کے لیے نصف آرا ہو گئے اور مار پیٹ شروع ہو گئی۔ جیسے ہی یہ اطلاع مقامی پولس اور انتظامیہ تک پہنچی، وہ بلا تاخیر فورس کے ساتھ جائے واقعہ پر پہنچی، تو مسلمانوں نے راحت کی سانس لی، مگر شرپسندوں نے پولس پارٹی پر ہی حملہ کر دیا۔ بہر حال، بعد میں اضافی فورس کی مدد سے حالات پر قابو پایا گیا اور شرپسندوں کو وہاں سے ہٹایا گیا۔ گائوں ہی نہیں، اس واقعہ کے بعد پورے علاقہ میں سخت کشیدگی پائی جاتی ہے اور کسی بھی وقت کوئی بڑا نا خوشگوار واقعہ رونما ہو سکتا ہے، کیوں کہ شرپسند لگاتار مسلمانوں اور ان کی مسجد کو ٹارگٹ کر رہے ہیں۔ کچھ روز قبل انہوں نے اذان کے لیے مائیک کے استعمال پر اعتراض کیا تھا، تو مسلمانوں نے احتیاطاً مائک کا استعمال ترک کر دیا تھا، لیکن وہ مسجد سے دستبردار نہیں ہوں گے، یہ بات آسانی سے سمجھی جا سکتی ہے۔
مورخہ 24 اگست کو موتیہاری ضلع کے بنجریا بلاک کے موضع سسوا میںڈیڑھ ایکڑ قبرستان، جس کی چہار دیواری کا کام جاری ہے، فرقہ پرستوں نے تعمیری کام پر روک لگادی۔ ماحول کشیدہ ہو گیا۔ دونوں طرف سے آتشی اسلحہ کا استعمال کیا گیا۔ یہاں بھی ایف آئی آر درج کرکے ملزموں کو گرفتار کرنے کا مطالبہ کیا گیا، لیکن سرغنہ اب بھی پولس کی گرفت سے باہر ہے۔
کل ملا کر حالات انتہائی خراب ہیں اور مسلمانوں سے زیادہ نتیش حکومت کے لیے پریشان کن ثابت ہو رہے ہیں۔ یہ صورت حال دوسری سیکولر طاقتوں کے لیے فکر مندی پیدا کرنے والی ہے۔ سی پی آئی کے قومی جنرل سکریٹری سدھاکر ریڈی اور سابق جنرل سکریٹری اے بی بردھن کا کہنا ہے کہ جب سے بی جے پی بہار میں اقتدار سے محروم ہو ئی ہے، وہ ریاست کو فرقہ وارانہ منافرت کی آگ میں جھونکنے اور غیر سیکولر ووٹوں کے پولرائزیشن کے لیے اقلیتی فرقہ کے مذہبی جذبات کو مذہب کے نام پر بر انگیختہ کرنے کی کوشش کر رہی ہے۔ اس کی اس سازش کو ناکام بنانے کے لیے تمام سیکولر طاقتوں اور امن پسند لوگوں کو متحد ہونا پڑے گا۔
مشہور صحافی اور سیاسی تجزیہ کار خورشید ہاشمی کا کہنا ہے کہ اس وقت صرف بہار ہی نہیں، پورے ملک میں سنگھ پریوار 1991 جیسے حالات پیدا کرنے کے چکر میں ہے اور 84 کوسی پریکرما اور اس پر پابندی اور وشو ہندو پریشد کے رہنمائوں کی گرفتاری کے خلاف ملک گیر احتجا اور مظاہرے کے نام پر ملک کے اکثریتی فرقہ کے جذبات کو بر انگیختہ کرکے سیاسی فائدہ حاصل کرنے کی کوشش کر رہا ہے، یہ کسی پارٹی کی نہیں، بلکہ پورے سیکولر انڈیا کی ذمہ داری ہے کہ وہ پارٹی کی سیاست سے اوپر اٹھ کر ملک کے وسیع تر مفاد میں قومی اتحاد و سالمیت کی حفاظت کے لیے متحد ہو۔ یہ کسی خاص پارٹی اور حکومت کا مسئلہ نہیں، بلکہ قوم کا مسئلہ ہے اور اس طرح کے قومی مسائل سے پوری قوم کو متحد ہو کر لڑنا چاہیے۔
ریاست بہار میں فرقہ پرستی کی واپسی کو کوئی روک نہیں پائے گا۔ لہٰذا سوال یہ ہے کہ کیا ہم اس کے لیے تیار ہیں؟

Share Article

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *