زمبابوے: موگابے کی کامیابی کتنی فرضی کتنی حقیقت پسندانہ؟

وسیم احمد 

زمبابوے جہاں حالیہ انتخابات میں 89 سالہ رابرٹ موگابے ساتویں بار کامیاب ہوکر ایک مرتبہ پھر کرسی صدارت پر فائز ہوئے ہیں۔ان کے ہندوستان سے زمانہ قدیم سے روابط و تعلقات رہے ہیں اور دونوں ممالک کی آزادی کے بعد اسے مزید فروغ ملا ہے۔یہی وجہ ہے کہ وہاں ہونے والے کسی بھی واقعہ میں ہندوستان کی خصوصی دلچسپی رہتی ہے۔ ویسے موگابے کی کامیابی پر اس ملک کے اندر احتجاج بھی ہو رہا ہے۔ اس بات کے پیش نظر اس خصوصی مضمون میں یہ جائزہ لیا گیا ہے کہ موگابے کی کامیابی فرضی ہے یا حقیقت پر مبنی۔

p-9زمبابوے جنوبی افریقہ کا ایک ایسا ملک ہے جہاں کی سیاسی تبدیلی کا اثر ہندوستان سمیت صحراء کبریٰ کے ارد گرد کئی افریقی ملکوں پر پڑتا ہے۔جہاں تک ہندوستان کی بات ہے تو زمبابوے میں اقتدار کی منتقلی یا سیاسی تبدیلی سے ہندوستان کی سیاست اس لئے متاثر ہوتی ہے کہ دونوں کے سیاسی ،تجارتی و ثقافتی رشتے گہرے اور بڑے پیمانے پر ہیں۔کہا جاتا ہے کہ 17 صدی میں وہا ں کے راجا (منہوموٹاپا) کا بیٹا تعلیم حاصل کرنے کے لئے ہندوستان آیا تھا ،جو اس بات کی علامت ہے کہ زمبابوے پر ہندوستانی ثقافت کا اثر قدیم ہے۔
اس کے علاوہ دونوں ملکوں کے درمیان بڑے پیمانے پر تجارت ہورہی ہے جس میں ٹکسٹائل، منرل اور میٹل کی تجارت قابل ذکر ہے۔دونوں ملکوں کے بیچ مضبوط رشتے کی وجہ سے ہی سیاست دانوں کے درمیان اعلیٰ سطحی ملاقاتوں کا سلسلہ جاری رہتا ہے۔1980 میں وزیر اعظم آنجہانی اندرا گاندھی زمبابوے کی جشن آزادی میں شرکت کے لئے خصوصی طور پر وہاں مدعو کی گئی تھیں۔ اس کے بعد آنجہانی راجیو گاندھی نے 1986 میں زمبابوے میں منعقد ناوابستہ ممالک کانفرنس میں شرکت کی تھی۔ ان کے بعد صدر جمہوریہ ہند آر وینکٹ رمن نے 1989 میں زمبابوے کا سفر کیا تھا۔ پھر دوسال بعد اس وقت کے وزیر اعظم پی وی نرسمہا رائو 1991 میں زمبابوے گئے اور کئی مسائل حل کیے گئے ۔بعد ازاں صدر جمہوریہ ایس ڈی شرما 1995 میں وہاں گئے اور ان کے جانے کے صرف ایک سال بعد وزیر اعظم ایچ ڈی گوڑا نے 1996 میں،زمبانوے کا سفر کیا ۔
ایسا نہیں ہے کہ صرف ہندوستانی ذمہ داران و اعلیٰ سیاست داں ہی زمبابوے کا سفر کرتے رہے ہیں بلکہ زمبابوے کا اعلیٰ سیاسی وفد باربار ہندوستان آتا رہا ہے بلکہ خود وہاں کے صدر موگابے نے اپنے دور صدارت میں ہندوستان کا 6 دورہ کیا ہے جو دونوں ملکوں کے ما بین مضبوط رشتے کی علامت ہے۔اس کے علاوہ دنوں ملکوں کے درمیان تجارتی رشتے کا اندازہ اس بات سے بھی لگایا جاسکتا ہے کہ2008-09میں ہندوستان سے زمبابوے کے لئے 58-99 ملین امریکی ڈالر کا سامان اکسپورٹ کیا گیا جبکہ اسی سال 13.77 ملین ڈالر کا مال امپورٹ ہوا جو سال بہ سال مسلسل بڑھتا جارہا ہے ۔
زمبابوے کے شمال کی طرف زیمبیا، مشرق میں موزمبیق، مغرب میں بوٹسوانا اور جنوب میں جنوبی افریقہ ہے۔جغرافیائی اعتبار سے اس کا محل وقوع (لوکیشن) انتہائی اہم ہے۔ یہی وجہ ہے کہ یہاں کی سیاسی اتار چڑھائو کا اثر افریقہ کے کئی ملکوں پرخاص طور پر موزمبیق، بوٹسوانا اور صحراء کبریٰ کے ارد گرد کے ممالک پر گہر ا پڑتا ہے۔چنانچہ یہاں جب بھی الیکشن کا وقت قریب آتا ہے تو پوری دنیا کی نظریں اس پر ٹک جاتی ہیں ۔ابھی حال ہی میں 31 جولائی 2013 کو وہاں جو عام انتخابات ہوئے، اس کے نتائج آنے سے پہلے متعلقہ ملکوں میں بڑی بے چینی پائی جارہی تھی،خاص طور پر غیر ملکی سرمایاکار وں کے لئے تو ایک ایک دن گزارنا مشکل ہورہاتھا۔
دراصل غیر ملکی سرمایاکار اس بات کو جانتے تھے کہ اگر وہاں موگابے (زانو پی ایف) کی حکومت قائم ہوتی ہے تو ان کے لئے زمبابوے میں سرمایا کاری کے زیادہ مواقع پیدا ہوںگے جبکہ مورگان چنگرائی (ایم ڈی سی) اور دیگر پارٹیوں کے اقتدار میں آنے سے غیر ملکی تاجروں کے لئے مواقع کم ہوسکتے ہیں۔کیونکہ معمّر موگابے جو تقریباً1980 سے ملک کی قیادت سنبھالے ہوئے ہیں یعنی انہیں ملک چلانے کا 33 برس کا تجربہ ہے،وہ جانتے ہیں کہ ملک کی معیشت کو مستحکم کرنے کے لئے غیر ملکی کرنسی اور نوجوانوں کے لئے روزگار کے مواقع کی فراہمی لازمی ہوتی ہے اور یہ صورت حال تب ہی ممکن ہوسکتی ہے جب غیر ملکی سرمایا کاروں کو مواقع دیے جائیں اور انہوں نے اپنے دور صدارت میں اس طرح کے متعدد مواقع پیدا کیے ہیں۔یہی وجہ ہے کہ موگابے کی جیت کی دعا نہ صرف زمبابوے کے تاجر بلکہ چین اور زمبابوے کے ہیرے کے تاجرین بھی دعا کرتے ہیں اور یہی چاہتے ہیں کہ موگابے کی حکومت قائم رہے تاکہ انہیں وہاںسرمایاکاری کا موقع ملے ۔
بہر کیف !جب اگست کے پہلے ہفتہ میں انتخابات کے نتائج آئے تو یہ نتائج غیر ملکی سرمایا کاروں کے عین مطابق تھے ۔ اس میں89 سالہ صدر رابرٹ موگابے کی پارٹی ’زانو پی ایف‘ کو پارلیمنٹ کی 210 سیٹوں میں دو تہائی پر کامیابی ملی ۔انہیں 61 فیصد ووٹ ملے جبکہ وزیراعظم مورگان چنگرائی کو صرف 34 فیصد ووٹ ملیجو اس بات کی علامت ہے کہ نئی نسل اقتصادی ترقی کو ہر چیز پر مقدم رکھتی ہے ۔موگابے (زانو پی ایف ) اور مورگان چنگرائی ( ایم ڈی سی ) نے 2009 میں اتحاد بنا کر حکومت قائم کی تھی جس میں زانو پارٹی کے موگابے ملک کے صدر اور ایم ڈی سی کے مورگان وزیر اعظم بنائے گئے،لیکن حالیہ الیکشن کے موقع پر دونوں پارٹیاں آمنے سامنے تھیں اور اب الیکشن کے نتائج سے صدر موگابے کی جیت یقینی ہوگئی ہے تو وزیر اعظم مورگان نے صدر موگابے کے خلاف مورچہ کھول دیا ہے۔
زمبانوے میں 2013 کے انتخابات کو خاص اہمیت دی جارہی تھی۔ کیونکہ اس مرتبہ انتخابات کے تعلق سے سپریم کورٹ نے ایک ریفرنڈم پر فیصلہ سناتے ہوئے مئی 2013 میں حکومت کو ہدایت جاری کی تھی کہ وہ میعاد کے اندر الیکشن کرانے کا اہتمام کرے ۔اس فیصلے میں تاخیر قابل سرزنش عمل ہے۔کورٹ کی ہدایت کے مطابق ہی عام انتخابات کی تاریخ 31 جولائی طے کی گئی تھی ۔سپریم کورٹ کو تاریخ کے تعین میں اس لئے مداخلت کرنی پڑی کہ ملک کا اقتدار مدت پوری ہونے کے بعد کسی عبوری حکومت کے پاس نہ رہے۔دراصل یہ شبہ کیا جارہا تھا کہ صدر مملکت الیکشن کوٹالنے کی کوشش کررہے ہیں۔ اس شک کی وجہ سے عدلت میں عرضی داخل کی گئی تھی، جس کے جواب میں کورٹ کا یہ فیصلہ آیا۔
زمبابوے جب سے آزاد ہوا ہے، یہاں تین سیاسی پارٹیاں ہمیشہ سے اقتدار تک رسائی کے لئے زور آزمائی کرتی رہی ہیں ۔ان میں سب سے بڑی پارٹی موگابے کی ’ زانو پی ایف ‘ ہے۔دوسری بڑی پارٹی ویلشمین نکیوب کی ایم ڈی سی (موومنٹ فار ڈیموکریٹک چینج) ہے اور ڈومیسو ڈابینگوا کی زاپو ہے۔اس کے علاوہ گائوں کے کچھ حلقوں سے آزاد امیدوار کے طور پر کچھ لوگ کھڑے ہوتے ہیں ،مگر ان کی تعداد بہت کم ہے اور آزاد امیدوار وںمیں لوگ زیادہ دلچسپی بھی نہیں لیتے ہیں۔
جولائی کا یہ جنرل الیکشن صدر موگابے کے لئے چیلنج بھرا تھا۔ تمام پارٹیوں نے انہیں اقتدار سے دور کرنے کے لئے ٹھان رکھا تھا۔یہی وجہ تھی کہ الیکشن کی تشہیری مہم میں ان تمام سیاسی پارٹیوں کے لیڈران ایک دوسرے کے نقائص پر کم یا بالکل دھیان نہیں دے رہے تھے مگر اپنی تشہیری مہم میں ’زانو پی ایف‘ کے خلاف ضرور بولتے تھے، لیکن ان تمام مہم سازی کے باوجود عوام خاص طور پر نوجوانوں کا ووٹ موگابے کو ہی ملا۔کیونکہ ان کے سامنے سب سے بڑا مسئلہ ہے روزگار اور معاشی خوشحالی کا ، جس کے لئے نسبتاًبہترین منشور صرف صدر موگابے کی پارٹی کے پاس ہی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ تمام پارٹیوں کے یک جٹ ہوکر موگابے کے خلاف ہوجانے کے باجود جیت انہیں اور ان کی پارٹی کو ہی ملی۔
اس جیت نے حریف پارٹیوں کو بہت مایوس کیا ۔انہیں لگا کہ کہیں نہ کہیں کچھ ہے جس کی وجہ سے ان کی شکست ہوئی ہے۔ چنانچہ صدر موگانے پر حریف پارٹیوں کی طرف سے جو الزام لگا ،وہ یہ کہ الیکشن کے دوران بڑے پیمانے پر دھاندلی ہوئی ہے۔ الیکشن کے موقع پر دیہاتی حلقوں سے تقریبا ایک ملین ووٹر جن کے ووٹ موگابے کو ملنے کی امید نہیں تھی کے نام ووٹر لسٹ سے نکال دیے گئے ہیں ،لہٰذا دیہی علاقوں میںبہت سے ووٹر وں کو پولنگ بوتھ سے واپس جاتے ہوئے دیکھا گیا ، کیونکہ ان کے نام ووٹر لسٹ میں موجود نہیں تھے۔اس کے علاوہ دیہی علاقوں میں بہت سے فرضی بیلوٹ پیپر پائے گئے تھے۔اس شبہے کو اس لئے بھی تقویت ملتی ہے کہ دور دراز کے گائوں میں خاص الیکشن کے دن کئی نئے پولنگ بوتھ تیار کیے گئے تھے جبکہ الیکشن کے دن کسی نئی بوتھ کی اجازت نہیں دی جاتی ہے۔ موگابے سے اختلاف کرنے والی پارٹیوں میں ’ایم ڈی سی‘ سب سے پیش پیش ہے۔اس کے اہم کارکن مورگان چنگرائی جو ملک کے وزیر اعظم بھی ہیں کا کہنا ہے کہ جب تک ووٹنگ پر منصفانہ جانچ نہیں ہوتی ہے وہ اس کی شفافیت پر شک کرتے رہیں گے اور الیکشن کے نتائج کو قبول نہیں کریںگے۔ان کاکہنا ہے کہ وہ اس دھاندلی اور ظلم کے خلاف چپ نہیں بیٹھیں گے۔ برطانوی وزیر خارجہ ویلیم ہگ نے بھی الیکشن کی شفافیت پر شک کا اظہار کیا ہے جبکہ صدر موگابے کا کہنا ہے کہ یہ الزام سراسر غلط ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ الیکشن میں دھاندلی کو روکنے کے لئے جس طرح کے وسائل اختیار کیے گئے تھے ، اس کے بعد دھاندلی کا کوئی راستہ باقی ہی نہیں رہ جاتا۔ اس الیکشن کی مانیٹرنگ کے لئے 600 غیر ملکی مانیٹر اکسپرٹ متعین کیے گئے تھے۔اس کے علاوہ 7 ہزار ایسے غیر جانبدار آبزرور انتہائی چابکدستی کے ساتھ الیکشن کی سرگرمیوں پر نظر رکھے ہوئے تھے۔ظاہر ہے ایسی صورت میں دھاندلی کے امکانات نہ کے برابر تھے، لہٰذا حزب اختلاف کا الزام سراسر بے بنیاد ہے۔ صدر موگابے کا کہنا ہے کہ یہ جیت عوام کے ان پر اعتماد اور بھروسے کی وجہ سے ہوئی ہے۔ یقینا ان کی باتوں میں سچائی ہوسکتی ہے اور اب جب عوام نے انہیں منتخب کیا ہے تو ان کی بھلائی کے لئے سوچنا ان کی ذمہ داری بھی ہے ۔
انتخاب میں شفافیت تھی یا نہیں،یہ ایک الگ موضوع ہے مگر صدرموگابے اور ان کے پارٹی ورکروں کو اس بات کا خیال رکھنا ہوگا کہ ملک میںجتنی بھی سیاسی پارٹیاں ہوتی ہیں وہ اپنے اپنے طور پر قوم کی خدمت کے لئے مامور ہوتی ہیں۔ پارٹیوں کے باہمی نظریاتی اختلاف کا یہ مطلب نہیں ہوتا ہے کہ باہمی دشمنی کر لی جائے۔ ملک کی ہر پارٹی کوکامیابی کا جشن منانے کا حق ہے، اس سے انہیں کوئی روک نہیں سکتا لیکن جشن مناتے ہوئے صدر موگابے کے پارٹی کارکنوں نے ہرارے میں جو غیر اخلاقی عمل کیا ہے، اسے کسی بھی صورت میں دانشمندانہ نہیں کہا جاسکتاہے۔
ہوا یہ کہ’ زانو پی ایف ‘کے کارکنان اپنی جیت کی خوشی میں حزب مخالف کی تابوت بنا کر ہرارے اور ماشونا لینڈ کے علاقوں میں گھوم رہے تھے اور ایم ڈی سی کے لئے توہین آمیز الفاظ بول رہے تھے۔یہی نہیں جہاں پر انہیں’ ایم ڈی سی‘ کے ممبروں کا گھر نظر آتا ،تو ان کے دروازے پر جاکر کہتے تھے ’’ اپنے سامان باندھو اور چلے جائو‘‘۔ ظاہر ہے یہ ایک غیر اخلاقی عمل ہے، جس پر ’ایم ڈی سی‘ کے کارکنوں نے اعتراض کیا تو جیت کے نشے میں دھت زانو پی ایف کے کارکنان نے ان پر حملہ کرکے ایم ڈی سی کے کئی لوگوں کو بری سے طرح زخمی کردیا۔
دراصل’ زانو پی ایف‘ کے کارکنوں کے غصہ کی وجہ یہ ہے کہ’ ایم ڈی سی‘ کے اہم رکن اور وزیر اعظم مورگان نے قسم کھا کر کہا ہے کہ’’ وہ اب نہ تو موگابے کے ساتھ مل کر کام کرسکتے ہیں اور نہ ہی وہ حالیہ الیکشن کے نتائج کو قبول کریں گے بلکہ وہ الیکشن میں دھاندلی کے خلاف کورٹ سے رجوع کریں گے۔بس اسی بات کا غصہ’ ایم ڈی سی‘ کے کارکنوں پر حملہ کرکے اتارا جارہا ہے‘‘۔حالانکہ موگابے کی پارٹی کو ایم ڈی سی کے اس شبہے کا ازالہ دلائل و ثبوت سے کرنا چاہئے تھا، تشدد اور طاقت کے بل پر نہیں۔

Share Article

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *