یومِ آزادی پر چند چبھتے سوالات

کمل مرارکا 
ایک بار پھر یومِ آزادی منایا گیا۔ ہر سال کی طرح اس سال بھی یومِ آزادی کے موقع پر مختلف اخبارات و رسائل نے آزادی سے متعلق مضامین شائع کیے اور اس بات کو بحث کا موضوع بنایا کہ کیا ہندوستان کی تقسیم ہونی چاہیے تھی، یا یہ کہ اگر ہندوستان کی تقسیم نہیں ہوتی، تو کیا ہوتا۔
جب کہ ہندوستان کی تقسیم کے وقت انگریزوں سے اس وقت جو مذاکرات کیے گئے تھے، وہ بہت ہی دلچسپ ہیں، لیکن آج اس پر بحث کرنے کا کوئی فائدہ نہیں ہے کیا تقسیم ہونا چاہیے تھی۔ اب تقسیم تاریخ کا ایک جز اور ایک حقیقت بن چکی ہے۔ ہندوستان اور پاکستان کو اچھے پڑوسیوں کی طرح ایک ساتھ رہنا ہے اور یہاں کے عوام کو یہ مشورہ دینا ہے کہ ان کے درمیان تعلقات کو کیسے بہتر بنایا جائے۔
مگر اس سے زیادہ اہم ہندوستان میں وقوع پذیر ہونے والی اندرونی صورتِ حال ہے۔ سوال یہ ہے کہ آزادی کا مطلب کیا ہے؟ تمام سیاسی لوگ اور دوسرے افراد، جو اقتدار میں ہیں، چاہے وہ کارپوریٹ لیڈرس ہوں یا عام زندگی میں لوگ یا پھر سول سوسائٹی، سبھی کو ایک قدم پیچھے ہٹ کر یہ سوچنا چاہیے کہ کیا ہم نے آئین پر اسی طرح عمل کیا ہے، جیسا کہ اس میں کہا گیا تھا، یا پھر ہم نے 1952 سے لے کر اب تک آئین کے ہرحصے سے انحراف کیا ہے، یعنی کاغذ پر تو ہم اس پر عمل کر رہے ہیں، لیکن عملی طور پر اس کے خلاف جا رہے ہیں۔ مثال کے طور پر آئین میں حکومت کے انتخاب کا مخصوص طریقہ بتایا گیا ہے اور یہ بھی بتایا گیا ہے کہ حکومت کو کیا کرنا ہے۔ حکومت کے رول کے بارے میں پوری طرح وضاحت موجود ہے کہ منتخب ہو کر آنے والی کسی بھی حکومت کو اپنی پالیسی، خواہ وہ اقتصادی ہو، سیاسی ہو یا سماجی، کس طرح بنانی ہے۔ ان پالیسیوں کے نفاذ کی ذمہ داری سول سرونٹس کے ذریعے ہونی چاہیے۔ ایسے بہت سے آئی اے ایس اور دیگر سروسز کے افسران ہیں، جنہیں نہایت مشکل بھرے دور سے گزرنا پڑا ہے۔ بہت سے لوگوں نے مقابلہ جاتی امتحانات میں حصہ لیا اور ان میں سے انہی کا انتخاب ہوا، جو سب سے زیادہ انٹیلی جنٹ تھے۔لہٰذا، آپ کے پاس اپنی پالیسیوں کو نافذ کرانے کے لیے ایک بہت ہی باصلاحیت گروپ موجود ہے، مگر سوال یہ ہے کہ کیا ہم ان کا صحیح طور پر استعمال کر رہے ہیں؟ جواب ہے، نہیں۔
بدقسمتی سے، وہ پارٹیاں جو اَب منتخب ہو کر آ رہی ہیں، ان کی دلچسپی بڑی چیزوں میں نہ ہو کر چھوٹی چھوٹی چیزوں میں ہے۔کوئی بھی پارٹی ملک میں موجود بنیادی خرابیوں کو دور نہیں کرنا چاہتی۔ مثال کے طور پر، جب ملک کا بٹوارہ ہوا، تب بدقسمتی سے مسٹر جناح نے اسے مذہب کی بنیاد پر انجام دیا۔ پاکستان اس وقت ہندوستانی مسلمانوں کے نام پر بنایا گیا، مگر جس دن ملک کا بٹوارہ ہوا، اس دن بھی یہ واضح طور پر دیکھنے کو ملا کہ ہندوستان میں ٹھہرنے والے مسلمانوں کی تعداد پاکستان جانے والے مسلمانوں سے زیادہ تھی۔ آج بھی یہی صورتِ حال ہے۔ اس کا مطلب کیا ہے؟ اور وہ ہندوستانی جو یہاں ٹھہر گئے، آخر وہ یہاں کیوں رکے؟ کیوں کہ مہاتما گاندھی، جواہر لعل نہرو، سردار پٹیل اور مولانا آزاد نے یہ یقین دہانی کرائی کہ پاکستان ایک اسلامی ملک ہو سکتا ہے، لیکن ہندوستان ایک سیکولر ملک بنا رہے گا۔ حکومت جب اپنے عوام سے معاملات کرے گی، تو مذہب اس کی بنیاد نہیں بنے گا۔ مذہب ایک نجی معاملہ ہے، اس کا مطلب صرف اتنا ہے کہ آپ خدا کو مختلف ناموں سے پکار رہے ہیں، چاہے آپ اسے ’بھگوان‘ کہیں یا ’اللہ‘ یا ’ایشور‘ یا ’گاڈ‘ یا ’واہے گرو‘، اس سے کوئی فرق نہیں پڑتا۔ سوال یہ ہے کہ کیا ہم نے اس جذبے پر عمل کیا ہے؟ بدقسمتی سے آج میں دیکھ رہا ہوں کہ اگر میں ایک مسلمان ہوتا، جو کہ میں نہیں ہوں، اگر میں ہندوستان میں رکا ہوا مسلمان ہوتا، تو میں شرمندگی محسوس کرتا، کیوں کہ میں یہ محسوس کرتا ہوں کہ ان عظیم رہنماؤں کے ذریعے جو وعدے کیے گئے تھے، وہ بعد میں آنے والی تمام حکومتوں نے پورے نہیں کیے۔جب کہ یہ سچ ہے کہ ہم سب خود کی حفاظت کی خاطر ووٹ دینے کی کوشش کرتے ہیں، سب نے ہمیں ایک ووٹ بینک کی طرح استعمال کرنا شروع کر دیا ہے۔ سوال یہ ہے کہ اس میں ان کا کتنا حصہ ہے؟ اگر مسلمان پوری آبادی کا 15 فیصد ہیں، تو ان کا حصہ کتنا ہوگا؟ آئی اے ایس میں 2 فیصد، آئی پی ایس میں 2 فیصد، کارپوریٹس میں مشکل سے ایک یا دو فیصد۔ سوال یہ ہے کہ انہیں کیا ملا؟ انہیں برابری کا درجہ نہیں دیا گیا۔ انہیں یکساں مواقع نہیں فراہم کرائے گئے۔ تعلیم ان سے دور رہی۔ زیادہ تر مسلمان ناخواندہ اور غیر تعلیم یافتہ ہیں۔ بدقسمتی سے ملک میں یہی صورتِ حال پائی جاتی ہے۔
اس سے بھی بڑا المیہ یہ ہے کہ ہمارے پاس ایک ایسی بڑی اپوزیشن پارٹی ہے، جو کہ ہمیشہ یہ کہتی ہے کہ ہم لوگ ان کی منھ بھرائی کر رہے ہیں اور انہیں بہت زیادہ گرانٹ دے رہے ہیں۔ یہ حقیقت نہیں ہے۔ حقیقت تو یہ ہے کہ ہندوستان ایک سیکولر ملک ہے، ایک سوشلسٹ ملک ہے اور ایک جمہوری ملک ہے۔ وقت کا تقاضا یہ ہے کہ موجودہ حکومت یا نئی حکومت، جو 2014 میں آئے گی، وہ آئین ہند کی اسٹیٹ پالیسی کے رہنما اصولوں پر عمل کرنا شروع کرے، جس کی واضح طور پر نشاندہی کی گئی ہے۔ ہمیں اسی پر عمل کرنا چاہیے، چاہے جو بھی حکومت دہلی میں اقتدار میں آئے، اس سے کوئی فرق نہیں پڑتا ہے، لیکن آپ کو ہر حال میں آئین کا پابند رہنا ہے، آپ کو غریبوں کے لیے کچھ کرنے کی کوشش کرنا ہے، آپ کو ان لوگوں کے لیے بھی کام کرنا ہے، جو طلبہ ہیں، درج فہرست ذات ہیں، درج فہرست قبائل ہیں، عورتیں ہیں یا پھر اقلیتیں ہیں۔ لیکن ایسا کرنے کی بجائے ہر شخص امریکی راستہ اختیار کر رہا ہے یا پھر کارپوریٹ کی طرح چل رہا ہے۔ غریبی کے ایسے اعداد و شمار سامنے آ رہے ہیں، جن کو دیکھ کر مجھ جیسے لوگوں کا سر شرم سے جھک جاتا ہے۔ میں نے کبھی غربت نہیں دیکھی ہے، لیکن یہ بات میری سمجھ سے باہر ہے کہ آپ کس طرح یہ کہہ رہے ہیں کہ کچھ لوگ ایک دن میں پانچ روپے یا بارہ روپے میں اپنا پیٹ بھر سکتے ہیں۔یہ بڑی شرمناک بات ہے۔ اعداد و شمار اہم نہیں ہیں، اہم بات تو یہ ہے کہ ہمیں غریبوں کے لیے کچھ کرنا چاہیے اور اگر ہم کچھ کریں، تو وہ دکھائی بھی دینا چاہیے۔ یقینا کانگریس پارٹی نے منریگا اور اب فوڈ سیکورٹی جیسی اسکیموں کو شروع کیا ہے۔ حالانکہ یہ بہت منظم اور پوری طرح سوچا سمجھا قدم نہیں ہے۔ ان اسکیموں پر بہت زیادہ پیسے خرچ کیے جا رہے ہیں۔ یقینا یہ صحیح سمت میں اٹھائے گئے قدم ہیں، لیکن منریگا میں بہت سے گھوٹالے ہوئے ہیں اور فوڈ سیکورٹی بل میں بھی اتنے زیادہ پیسوں کی ضرورت پڑے گی کہ اسے نافذ کرنا مشکل ہو جائے گا۔
ایک بار پھر مجھے وزیر اعظم سے یہ کہنا ہے کہ پلاننگ کمیشن کے پاس وزیر اعظم کا سب سے با اعتماد شخص موجود ہے۔یہ مناسب وقت ہے کہ وہ ایسی کوئی قابل عمل پالیسی بنائیں، جس سے کہ ہم سب سے نچلی سطح پر رہنے والے یا سب سے غریب لوگوں کو متوسط کلاس میں تبدیل کر سکیں۔امیر اور بھی امیر بنتے جا رہے ہیں، یہ ان کے لیے کوئی مسئلہ نہیں ہے۔ ملک کی جی ڈی پی میں بھی نمایاں ترقی دیکھنے کو مل رہی ہے، لیکن غریب اب بھی وہیں پر ہیں، جہاں وہ پہلے تھے۔ ہاں، یہ ضرور ہے کہ مڈل کلاس نے ترقی کی ہے، مثال کے طور پر ان کے پاس آج موٹر کاریں ہیں، سڑکوں کی تعمیر ہوئی ہے، مال بنائے گئے ہیں، فارین برانڈ اشیاء انہیں میسر ہیں، لیکن اس سے ان لوگوں کو کوئی فائدہ نہیں پہنچ رہا ہے، جن کے پاس زمینیں نہیں ہیں۔بے زمین مزدور اب بھی بے زمین مزدور ہیں، گاؤں میں رہنے والا ایک غریب اب بھی غریب ہے، وہ مذکورہ بالا چیزوں کو صرف ٹی وی پر دیکھ سکتا ہے اور دیکھ کر بدتر صورتِ حال کو محسوس کر سکتا ہے۔ وقت کا تقاضا ہے کہ ہم آئین پر عمل کرنا شروع کردیں۔

Share Article

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *