مغربی بنگال پنچایت الیکشن تشدد کی نذر

عند العزیز 
p-8مغربی بنگال میں الیکشن سے پہلے ممتا حکومت اور الیکشن کمشنر مغربی بنگال میرا پانڈے کی برتری کی قانونی جنگ شروع ہوئی اور یہ جنگ کلکتہ ہائی کورٹ کے بعد سپریم کورٹ تک جاری رہی۔ سپریم کورٹ نے الیکشن کمشنر کی پانچ مرحلوں میں الیکشن کی تجویز منظور کی اور رمضان کے مہینے میں پانچوں مرحلے کی تاریخیں مقرر کیں۔ جس کی وجہ سے مسلمانوں کی چند جماعتیں اور حکومت مغربی بنگال نے نظر ثانی کی درخواست کی مگر سپریم کورٹ نے درخواست مسترد کردی۔ پانچ مرحلوں میں الیکشن ہوا۔ میرا پانڈے نے مرکزی فورسیز کی تعیناتی پر بھی زور دیا تھا۔ سپریم کورٹ نے اس کا بھی لحاظ رکھا۔ الیکشن کمشنر کی قانونی چارہ جوئی میں تو کامیابی ہوئی لیکن الیکشن کو لہو لہان ہونے سے بچا نہ سکیں۔ساٹھ، ستر سے زائد افراد الیکشن کی نذر ہوئے اور سیکڑوں لوگ زخمی ہیں اور اسپتالوں میں زیر علاج ہیں۔ اس کے علاوہ بے شمار گھروں کو نذر آتش کیا گیا، جائیدادیں تباہ و برباد کی گئیں، گھر لوٹے گئے، آبرو ریزی کے واقعات بھی سامنے آئے۔ یہ الیکشن تشدد ،خون ریزی ،قتل و غارت گیری اور لوٹ مار کے ناموں سے جاناجائیگا۔
ویسے تو سی پی ایم کے زمانے میں تشدد کے واقعات ہوتے تھے اور خاص طور پر گاؤں میں لوگ سی پی ایم کے خلاف ووٹ ڈالنے میں خوف و ہراس محسوس کرتے تھے ۔ 34سالہ حکومت کے دوران پنچایت ،اسمبلی اور لوک سبھا کے جو انتخابات ہوئے اس میں بھی تشدد کے واقعات رونما ہوئے لیکن ممتا حکومت کے دوران پہلے اسمبلی اور لوک سبھا کے ضمنی انتخابات ہوئے اس میں بھی تشدد کے واقعات ہوئے۔ مگر جس قدر پنچایت کے الیکشن میں خون خرابے کے واقعات ہوئے ہیں اس سے یہ کہنا بجا ہوگا کہ صرف انسانیت ہی لہو لہان نہیں ہوئی ہے بلکہ جمہوریت بھی لہو لہان ہے اور مغربی بنگال میں جمہوری قدروں کا ایک حد تک جنازہ نکل گیا ہے۔ الیکشن میں حکمراں جماعت نے جو کردار ادا کیا ہے وہ یقینا بہت بھاری اکثریت سے کامیاب ہوگی لیکن جس طرح کامیاب ہوگی اسے کامیابی کے زمرے میں وہ لوگ شمار نہیں کرسکتے ہیں جو لوگ جمہوریت کی فضا برقرار رکھنا چاہتے ہیں اور الیکشن کو صاف و شفاف دیکھنا چاہتے ہیں۔ اگر جمہوریت آمریت میں تبدیل ہوجائے تو الیکشن بے معنی ، بے مطلب ہوکر رہے گا۔ لڑائی کھڑے ہونے والے امیدواروں کے درمیان میں نہیں بلکہ غنڈے ،بدمعاشوں اور جنگجوؤں کے درمیان ہوئی ہے اور ہوگی بھلا اس الیکشن میں کوئی شریف اور اچھا آدمی کیونکر حصہ لے گا؟
کہا یہ جارہا ہے کہ ترنمول کانگریس نے اپنی حکمرانی میں الیکشن کو جو بے معنی بنایا ہے اس کی وجہ یہ ہے کہ لوک سبھا کے الیکشن میں زبردست اکثریت سے کامیاب ہونا چاہتی ہے۔ اس کیلئے پنچایت الیکشن میں گاؤں کا گاؤں دخل کرلیناآگے کے الیکشن کے مرحلے میں یقینا کامیابی ہوگی جس کی وجہ سے یہ ساری خرابیاں الیکشن کے دوران ہوئی ہیں۔ مارکسی پارٹی میںیا کانگریس کی پارٹی میں شرپسندنہیں ہیں ایسا نہیں کہا جاسکتا لیکن مغربی بنگال میں حکومت کی تبدیلی ہوتے ہی سب سے بڑی تبدیلی جو بلا تاخیر ہوئی وہ یہ ہوئی کہ غنڈے، بدمعاش خواہ کسی بھی پارٹی میں ہوں وہ سب کے سب اپنے مفاد کی خاطر اور غنڈہ گردی اور بدمعاشی کیلئے حکمراں پارٹی میں چلے گئے۔
پولس کا محکمہ بھی تبدیلی کے ساتھ ساتھ اپنے رخ اور رجحان کو بدل لیتا ہے اگر وہ نہیں بدلتا تو اس کیلئے پریشانیاں لاحق ہوتی ہیں۔ پولس کو حکمراں پارٹی کے افراد یا لیڈران باقاعدہ ہدایت کرتے ہیں کہ اب ان کی حکومت ہے ، ان کے مطابق کام کاج ہونا چاہئے۔ پولس نے الیکشن کے پہلے اور الیکشن کے دوران حکمراں پارٹی کی ہدایت پر کام انجام دیا ۔ امیدوار وں کو الیکشن سے پہلے ڈرانے ، دھمکانے کا سلسلہ بھی جاری رہا۔ پولس بھی اس میں معاون و مدد گار رہی جس کی وجہ سے بلا مقابلہ سینکڑوں امیدوار کامیاب کہلائے اور بہت سی جگہوں پر اپوزیشن پارٹیوں کے امیدواروں کو نامزدگی کے پرچے داخل کرنے نہیں دیئے گئے۔
مسلمانوں کے خون کی ارزانی:مغربی بنگال میں اپنی معاشی ، تعلیمی اور سماجی پسماندگی کی وجہ سے ہر پارٹی میں ایسے مسلمان دستیاب ہیں جو پارٹی کیلئے لڑنے بھڑنے کیلئے تیار رہتے ہیں۔ سی پی ایم کے زمانے میں دخل داری کیلئے مسلمانوں کا خون بے تحاشہ بہا مگر 34سال میں مسلمانوں کے ہاتھ میں کچھ بھی نہیں آیا۔ سی پی ایم میں اونچے درجے کا کوئی ایسا لیڈر پیدا نہیں ہوا جو مسلمانوں کے حق میں مارکسی حکومت یا محاذی حکومت سے کچھ کراسکاہو۔
عبد الرزاق ملا چیختے چلاتے رہے لیکن ان کی کسی نے نہ سنی اور اب جبکہ سی پی ایم اقتدار سے باہر ہوگئی ہے۔ عبد الرزاق ملا غیر سرکاری تنظیم بناکر سیاسی اور سماجی سطح پر کچھ کرنے کی طرف مائل ہیں۔
ترنمول کانگریس میں مسلمانوں کی بھاری تعداد جمع ہوگئی ہے۔ ایم ایل اے اور ایم پی بھی ہوگئے ہیں مگر کسی مسلم لیڈر کا کوئی وزن یا مرتبہ پارٹی کے اندر نہیں ہے۔ پارٹی کا ڈھانچہ کچھ اسطرح ہے کہ ممتابنرجی کے سوا کوئی کچھ ہے ہی نہیں چاہے اس کاعہدہ جتنا بھی بڑا ہو ،وزیر ہو، چیئرمین ہو یا کچھ اور ہو۔ مگر وہ ہاتھ جوڑے کھڑا رہنے اور ہاں میں ہاں ملانے کے سوا شاید ہی کچھ کرپاتاہے۔ یہ پہلے سے پارٹی میں رہنے والوں کو معلوم تھا کہ ہاں میں ہاں کئے بغیرپارٹی میں کوئی گزر نہیںہوگا۔ ترنمول کانگریس کیلئے جو لوگ خون دے رہے ہیں یا خون لے رہے ہیں ان میں تعداد 80فیصد مسلمانوں کی ہے۔ خاص طور پر مالدہ اور مرشدآباد میں جو خون ریزی ہوئی ہے اس میں ایک دو کو چھوڑ کر سب کے سب مسلمان مارے گئے ہیں۔
مرشدآباد میں مسلمانوں کی آبادی 75فیصد سے زیادہ ہے اوراس میں زیادہ تر اہلحدیث حضرات ہیں یعنی اہلحدیثوں کی تعداد 80فیصد سے کم نہیں ہے لیکن ان کی کوئی جماعت نہیں ہے جس کی رہبری یا رہنمائی میںیہ کچھ کرسکیں۔ یہ بھی بکھرے ہوئے ہیں ان کی تعداد کانگریس میں زیادہ ہے۔ علماء جدھر رہتے ہیں ادھر عام آدمی کا رجحان رہتاہے۔ اب کچھ علماء اور عام آدمی ترنمول کانگریس میں چلے گئے ہیں اور سی پی ایم میں پہلے سے کچھ لوگ ہیں۔ مرشدآباد ضلع کوبے دخل کرنے کیلئے پنچایت میں بے تحاشہ مسلمانوں کا خون بہا ہے۔ دونوں طرف جو لوگ نبردآزما تھے وہ مسلمان ہی تھے اور جو مارے گئے وہ بھی مسلمان ہی تھے اور یہ پارٹیوں کیلئے مرتے ہیں، نہ ان کو اسلام سے کوئی مطلب ہے اور نہ ملت سے کوئی لینا دینا ہے۔ اب ایسی موتیں جو سیاست کی نذر ہوتی ہیں اللہ ہی جانتا ہے کہ ان کا حشر کیا ہوگا۔’’نہ خدا ہی ملا نہ وصالِ صنم ‘‘والا قصہ سمجھ میں آتا ہے۔
الیکشن میں جو لوگ مارے گئے ہیں ،ایک اندازہ کے مطابق ان کی تعداد 67 ہے جس میں 43 مسلمان ہیں یعنی مسلم مہلوکین کی تعداد64فیصد سے بھی زیادہ ہے جبکہ یہ سرکاری نوکریوں میں دو تین فیصد سے بھی کم ہیں۔ بی جے پی مغربی بنگال کے صدرراہل سنہا نے مغربی بنگال کے پنچایتی الیکشن کے دوران مسلمانوں کے ہلاک شدگان کی فہرست جاری کی ہے۔ اس سے بھی اس شرح فیصد کی تائید ہوتی ہے۔
مرشدآباد کے مسلم ہلاک شدگان: غلام مصطفی، نوشاد شیخ، جیتائی شیخ، سعید الشیخ، مقبول شیخ، فتح شیخ(سیاسی وابستگی سی پی ایم)، فیض الملک، صدام شیخ، یاسین شیخ، حسن الرحمان، نور بخش، حیات شیخ، عزیز الشیخ، پیر الدین شیخ (سیاسی وابستگی کانگریس)، نعیم الدین (سیاسی وابستگی ترنمول)اور نور جہاں بی بی (عام شہری)۔
شمالی جنوبی 24پرگنہ کے مسلم ہلاک شدگان: طیب علی ملّا، نذر الملّا، شبہاش منڈل، مدر بخش (سیاسی وابستگی سی پی ایم)، شیخ انور حسین (سیاسی وابستگی کانگریس)، یاد علی ، نذر المولاج، حسن نور غازی، مفیظ الملّا(سیاسی وابستگی ترنمول)، عمل ہلدار(ایس یو سی آئی)۔
بردوان کے مسلم ہلاک شدگان:شیخ حشمت (سیاسی وابستگی سی پی ایم)، بابل ملّا، سعید العلی، سعید الملک (سیاسی وابستگی ٹی ایم سی)۔
مالدہ کے مسلم ہلاک شد گان:اکبر علی ، کلیم الدین سرکار (سیاسی وابستگی سی پی ایم)
بیر بھوم کے مسلم ہلاک شدگان:ضمیر شیخ، عاصم بغدادی، راجو شیخ اورہمایوں میر(سیاسی وابستگی سی پی ایم)۔
ہگلی کے مسلم ہلاک شدگان:محمد اخلاق (سیاسی وابستگی سی پی ایم)۔
دیناجپور کے مسلم ہلاک شدگان:محمد سلطان اور عبد العزیز (سیاسی وابستگی سی پی ایم)
ندیا کے مسلم ہلاک شدگان: اکبر الدین شیخ (سیاسی وابستگی سی پی ایم)
کوچ بہار مسلم ہلاک شدگان:شمس الحق (سیاسی وابستگی ترنمول)۔
جب کانگریس کا اقتدار تبدیل ہوکر سی پی ایم کا دور آنے والا تھا تو مسلمانوں نے 70فیصد سے زیادہ جانیں دیں اور جب سی پی ایم کا دور ختم ہونے کو آیا تو جان دینے کی تعداد کم و بیش یہی رہی ۔ پنچایت الیکشن جس کے بارے میں کانگریس لیڈر دیپا منشی نے کہا ہے کہ انہوں نے ایسی افراتفری کبھی نہیں دیکھی کہ ریگنگ (Rigging) ہوئی، بوتھ پر قبضہ کیا گیا، بوتھ جام کرکے اندر جانے سے روکا گیااور بوتھ کے اندر قتل کے واقعات رونما ہوئے۔ نیم فوجی فورسز کو بیٹھا کر رکھا گیا اورپولس کی نگرانی میں الیکشن کرایا گیا۔ اپوزیشن پارٹیوںنے کم و بیش یہی بیان دیا ہے ۔بایاں محاذ کے لوگوں نے میرا پانڈے کی ناکامی اور بد انتظامی کیخلاف ایف آئی آر بھی درج کرنے کا اعلان کیا ہے۔ ترنمول کے لیڈران اپوزیشن کے الزامات کو سراسرغلط بتاتے ہیں مگر جو افراتفری ، تشدد، قتل و غارتگری ہوئی ہے بھلا وہ اس سے کیسے انکار کرسکتے ہیں؟ٹی وی چینلوں میں الیکشن کے پانچوں مرحلوں کی Live Cast (نقلی) دکھائی جاتی رہی ہے جسے ترنمول والے بھلا کیسے جھٹلا سکتے ہیں؟
حیرت کی بات یہ ہے کہ بی جے پی کے علاوہ کسی بھی پارٹی نے یہ مسئلہ نہیں اٹھایا ہے کہ مسلمان الیکشن کے دوران خون دینے میں سب سے آگے ہیں۔ بی جے پی یہ بھی مسئلہ اٹھاتی ہے کہ مسلمانوں کی منہ بھرائی (Appeasement) کی جاتی ہے جبکہ مسلمانوں کی مدد اونٹ کے منہ میں زیرہ کے برابر بھی نہیں کی جاتی ۔ مغربی بنگال میں مسلمانوں کے اندر بہت کچھ سیاسی طور پر اتھل پتھل ہورہا ہے۔مسلم اقلیت سے ایک نہیںکئی سیاسی پارٹیوں نے الیکشن لڑنا بھی شروع کردیا ہے۔ سی پی ایم کے ایم ایل اے اور سابق وزیر اراضی اور محصولیات (Land & Revenue Minister) عبد الرزاق ملا سی پی ایم سے نکل کر مسلمانوں کی سیاسی رہنمائی کیلئے پرتول رہے ہیں۔ ترنمول کانگریس کے ایم ایل اے ڈاکٹر نور الزماں ملا صاب کی ہمت افزائی میں پیش پیش ہیں۔ ملی اتحاد پریشد جیسی سماجی تنظیم نے بھی اعلان کیا ہے کہ ملا اور زماں کے پریشر گروپ کی حمایت کریگا۔ اس گروپ کی طرف سے راقم کی درخواست ہے کہ دلتوں اور مسلمانوں کا ایک سیاسی کنونشن کے انعقاد کی کوشش کی جائے کہ تبدیلی کیلئے خون مسلمان اور دلت دیں اورپھل اونچے طبقہ کے لوگ کھائیں، آخر یہ کیوں ہورہا ہے اور کب تک ہوتا رہیگا؟
یہ سوال بھی پیدا ہوتا ہے کہ آخر مسلمان ہی کیوں زیادہ خون دیتے ہیں؟ اس کی وجہ یہ ہے کہ مسلمان خالی ہاتھ ہوتے ہیں ان کے پاس کھونے کیلئے کچھ نہیں ہوتا اس لئے یہ ہر وقت مرنے مارنے کیلئے تیار رہتے ہیں۔ دوسری وجہ یہ ہے کہ جن کے پاس کچھ نہیں ہوتا خواہ وہ ہندو ہوں یا مسلمان وہ سب سے زیادہ خطرناک (Dangerous) ہوتے ہیں ۔ تیسری وجہ یہ ہے کہ جن کے پاس کچھ نہیں ہوتا وہ کم دام اور کم پیسے میں خریدے جاسکتے ہیں۔ الیکشن میں جیسا کہ ہوتا ہے شراب،پیسے اور عورتوں کا استعمال ہوتا ہے۔ جو لوگ کچھ نہیں رکھتے (Have not) ہیں اور ان کو یہ چیزیں وقتی اور ہنگامی طور پر کچھ زیادہ مطلوب ہوتی ہیں اس کیلئے ان پر کیا گزرے گی اس سے وہ بے پرواہ ہوتے ہیں۔ مسلمانوں کو یہ نصیحت دی جاتی ہے اور دی جاسکتی ہے کہ وہ حق کیلئے زندہ رہیں اور حق کیلئے جان دیں لیکن وہ حق وباطل سے جب واقف ہی نہیں ہوں تو ظاہر ہے کہ وہ چند سکوں اور شراب کی چند بوتلوں پر مرنے کیلئے تیار ہوجائیں گے اور تیار ہوجاتے ہیں۔ اس رخ اور رجحان کو کیسے بدلا جائے ،ہر مکتبِ فکر کے لوگوں کو سوچنے کی ضرورت ہے۔ اس تعلق سے جب تک سنجیدگی سے نہیں سوچا جائے گا ، اس جانب کوئی مثبت تبدیلی نہیں ہو سکتی ہے۔

Share Article

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *