وقار کے ساتھ رہنا ضروری

کمل مرارکا 
بہار کا مڈ ڈے میل ہو یا نریندر مودی کا امریکہ ویزا سے جڑا ایشو، دونوں ہی باتیں تشویش کا باعث ہیں،لیکن اس کا مطلب یہ قطعی نہیں ہے کہ ہم اپنے رویے کو کنفیوز کریں۔ہمیں پارلیمانی روایت کے دائرے میں رہنا ہوگا، ساتھ ہی انفرادی و اجتماعی زندگی میں اپنے کردار کو بہتر بنائے رکھنا ہوگا۔کیونکہ ہمارا ملک انہیں روایتوں کے لئے جانا جاتا ہے۔ ہمیں اسے کھونا نہیں چاہئے۔
گزشتہ ہفتہ دو اہم حادثے ہوئے۔ حالانکہ ان حادثوں کے خط و خال ایک دوسرے سے الگ ہیں،لیکن دونوں ہی تشویش کی وجہ ہیں۔ پہلا حادثہ ہے بہار میں مڈ ڈے میل پروگرام کے تحت فراہم کیے گئے خراب کھانا کی وجہ سے 23 اسکولی بچوں کی موت۔ پہلی نظر میں ایسا لگا کہ یہ محض ایک حادثہ تھا، جو فراہم کیے گئے کھانے میں زہریلے مادے ملے ہونے کی وجہ سے ہوا، لیکن جیسے جیسے جانچ آگے بڑھ رہی ہے، نئے نئے خلاصے سامنے آرہے ہیں۔اسکول کی پرنسپل کی گرفتاری کے بعد وزیر اعلیٰ نتیش کمار نے یہ کہا ہے کہ یہ موتیں محض حادثاتی طور پر نہیں ہوئی ہیں۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ یہ معاملہ بہت زیادہ سنگین ہے۔اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ اس پروگرام میں جان بوجھ کر بے ضابطگیاں برتی جا رہی ہیں۔ کچھ لوگ ان منصوبوں کو لوگوں کی، خاص طور پر بچوں کی زندگیوں کو خطرے میں ڈال کر پیسہ بنانے کا ذریعہ بتا رہے ہیں۔ بہار کے اس حادثے کے بعد دوسری الگ الگ ریاستوں سے مڈ ڈے مل اسکیم کو لے کر ایسے ہی حادثوں کی خبروں کا آنا یہ ثابت کرتا ہے کہ پچھلے کئی سالوںسے گھوٹالوں اور بد عنوانیوں کا ماحول بنا ہوا ہے۔ کروڑوں کی لاگت سے چلایا جا رہا یہ مڈ دے میل پروگرام بھی اسی بد عنوانی کا شکار بن گیا ہے۔ سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ اب اسے بہتر بنانے کے لئے کیا قدم اٹھائے جا سکتے ہیں۔ کیا اسے بند کر کے کوئی الگ سے پروگرام شروع کیا جائے یا اسی پروگرام کو جاری رکھتے ہوئے کھانا نہ دے کر سخت قوانین کے تحت سیدھا نقد فائد دیا جائے ۔ اس طرح کی تجویز آرہی ہیں۔ باوجود اس کے ایک بات تو یقینی ہے کہ ایسا کچھ ضرور ہونا چاہئے جس سے یہ حادثہ پھر سے دہرایا نہ جا سکے۔ کیونکہ آپ تو پیسے خرچ کر رہے ہیں، لیکن اس کا نتیجہ بچوں کی موت کی شکل میں سامنے آرہا ہے۔ یہ قطعی طور پر قابل قبول نہیں ہے ۔
کچھ ریاستوں میں بہتر بنیادی سہولتیں ہیں۔ سب سے پہلے یہ پروگرام تامل ناڈو میں شروع ہوا،لیکن کچھ ریاستوں میں آج بھی بنیادی سہولتوں کا فقدان ہے اور ان ریاستوں نے بنیادی سہولتوں کو بہتر کیے بغیر اس پروگرام کی شروعات کر دی۔ بھلے ہی اس پروگرام کے لئے مرکز فنڈ دے رہا ہے،لیکن سبھی ریاستیں ایک ہی ماڈل کے ساتھ نہیں چل سکتیں۔ یہ ماڈل ہر ریاست میں الگ الگ ہونا چاہئے،جو اس بات پرمنحصر ہے کہ اس ریاست کی صلاحیت کتنی ہے اور وہاں کی انتظامیصورت حال کیا ہے؟
دوسرا مسئلہ جو اتنا سنگین نہیں ہے لیکن قابل توجہ ضرور ہے،وہ ہے نریندر مودی کا امریکی ویزا سے جڑا ایشو۔ اس بات کو لے کر دو طرح کی بحث ہو سکتی ہے۔ کوئی بھی یہ دلیل دے سکتا ہے کہ ہندوستان میں کسی بھی ریاست کے ایک منتخب وزیر اعلیٰ کو امریکہ کے لئے ویزا سے انکار نہیں کیا جانا چاہئے، بالکل اسی طرح جیسے امریکہ کے کسی ریاست کے گورنر سے آپ بھلے ہی متفق ہوں یا نہیں ہوں،لیکن انہیں ہندوستان کا ویزا دینے سے انکار نہیں کیا جا سکتا۔ کئی سال پہلے بھی ایک بار اس ویزا کے لئے انکار کیا گیا تھا، تب بھی مرکز میں کانگریس کی سرکار تھی اور اس نے کوئی مخالفت نہیں کی تھی، جبکہ مرکزی سرکار اس مسئلے پر امریکہ سے احتجاج کر سکتی تھی۔ ہم بھی نریندر مودی سے اتفاق نہیں رکھتے ہیں ،لیکن کسی کا امریکہ جانا بہت ہی چھوٹا مسئلہ ہے اور نریندر مودی ان لوگوں میں شامل بھی نہیں ہیں کہ جوامریکہ جارہے ہیں اور وہاں کے انتظامیہ کو ان کے سفر کو لے کراس قدر چوکنا ہونا پڑے کہ ان کو ویزا دینے سے ہی انکار کر دیا جائے۔حالانکہ اصل ایشو یہ نہیں ہے ۔
اس کے علاوہ دو باتیں ایسی ہیں جو پریشان کرنے والی ہیں۔سب سے پہلی بات تو یہ ہے کہ بی جے پی کے صدر راجناتھ سنگھ جب امریکہ جاتے ہیں اور پریس کو یہ بیان دیتے ہیں کہ میں امریکی انتظامیہ سے یہ گزارش کررہا ہوں کہ وہ نریندر مودی کو امریکہ کا ویزا دیں۔ معاف کیجئے گا! یہ کہیں سے کسی سیاسی پارٹی کے صدر کی ذمہ داری نہیں ہے۔ ویزا کے لئے ذاتی طور پر درخواست دی جانی چاہئے۔ہاں، اگر اس سلسلے میں کسی کو امریکی سرکار سے بات کرنے کی ضرورت بھی پڑتی ہے تو وہ ہندوستانی سرکار ہے،نہ کہ کسی سیاسی پارٹی کا صدر۔ اس طرح سے تو آپ امریکی سرکار کے سامنے خود کو نیچا دکھا رہے ہیں۔ دوسری بات یہ ہے کہ 65 ممبرپارلیمنٹ اس مقصد کے لئے درخواست لکھ رہے ہیں کہ برائے مہربانی ویزا کا منع کرنا جاری رکھئے۔یہ ممبر پارلیمنٹ کون ہیں؟بی جے پی کی مخالفت کرنے والی دیگر پارٹیوں کے لوگ؟ ان میں سے 19 لوگوں نے تو یہ کہہ دیا کہ ہم نے میمو پر دستخط نہیں کیے ہیں۔جنہوں نے دستخط کیے ہیں، کیا انہوں نے اس بارے میں سوچا کہ وہ کیا کر رہے ہیں؟کیا اس ملک کے ممبران پارلیمنٹ کا یہ کام ہے کہ وہ امریکی انتظامیہ کو درخواست بھیجیں؟آپ اپنا وقار کم کر رہے ہیں۔آپ اس ملک کے عظیم پارلیمنٹ کے وقار کو مجروح کررہے ہیں۔
میں یہ نہیں جانتا کہ وزیر اعظم اس مسئلے پر کیا سوچتے ہیں، لیکن جیسا کہ میں پہلے بھی کہتا رہا ہوں کہ وزیراعظم کو اب ضرور کوئی قدم اٹھانا چاہئے۔یہ وہ موقع ہے ،جب وہ ملک کے وزیر اعظم کی طرح کوئی فیصلہ لیں۔ وزیر اعظم کو یقینی طور پر ان ممبروں کو بتانا چاہئے کہ یہ آپ کی ذمہ داری نہیں ہے۔آپ کی ذمہ داری یہ ہے کہ آپ پارلیمنٹ میں بحث کریں،جہاں سے عام طور پر وہ غیر حاضر رہتے ہیں۔ وہ اپنی تنخواہ و دیگر سہولتیں لے رہے ہیں۔ ان کے پاس پارلیمنٹ میں موجود رہنے کا وقت نہیں ہے،لیکن امریکی انتظامیہ کو درخواست لکھنے کا وقت ہے۔ یقینی طور پر انہیں منطقی کردار اختیار کرنا ہوگا۔ انتخاب نزدیک آرہا ہے اور جیسا کہ میں سمجھتا ہوں کہ سیاسی پارٹیوں میں غصہ ہے۔ بہت سے مسئلوں پر میرا بھی اختلاف ہے،لیکن اس کا مطلب یہ قطعی نہیں کہ ہم اپنے کردار کو کنفیوز کریں ۔ہمیں پارلیمانی روایت کے دائرے میں رہنا ہوگا ،ساتھ ہی انفرادی و اجتماعی زندگی میں اپنے کردار کو بہتر بنائے رکھنا ہوگا، جس کے لئے ہمارا ملک آزادی کے وقت سے ہی جانا جاتا ہے۔ میرا ماننا ہے کہ ہمیں اسے کھونا نہیںچاہئے۔

Share Article

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *