یو پی اے بدانتظامی سے بے انتظامی کی طرف بڑھ رہا ہے

کمل مرارکا 
بد قسمتی سے کانگریس کو وقت کے تعین کا کوئی احساس نہیں ہے۔ وہ یا تو انتخابات کب کرائے جائیں، اس کو لے کر کنفیوژ ڈ ہیں یا پھر اس قدر خوف زدہ ہیں کہ بجائے اس کے کہ وزیر اعظم خود اپنے ہاتھ میں تمام معاملات کو لیں اور ملک کی نبض پر ہاتھ رکھیں، اس کے بدلے یہ لوگ یکے بعد دیگرے غلطیاں کرنے میں لگے ہوئے ہیں۔
یہ لوگ فوڈ سیکورٹی بل کے تعلق سے پہلے بھی میٹنگ کر سکتے تھے اور اس میں اس پربات چیت بھی کر سکتے تھے، لیکن وہ اس بل کو ایک آر ڈی ننس کے ذریعے لائے، کیوں کہ انہیں کسی بھی صورت میں اسے پارلیمنٹ کے ذریعے پاس کرانا ہے۔ افواہ تو یہ بھی تھی کہ یہ لوگ فوڈ سیکورٹی ایکٹ کو آئندہ 20 اگست کو راجیو گاندھی کی سالگرہ کے موقع پر نافذ کرنا چاہتے تھے۔ یہ ممکن ہے کہ نہیں، ہمیں نہیں معلوم۔
اسی طرح انہوں نے تلنگانہ کی تشکیل کا اعلان پارلیمنٹ کے مانسون اجلاس سے پہلے ہی کر دیا۔ یہ لوگ غیر ضروری ایجی ٹیشن کرتے ہیں اور اجلاس میں اُس ایشو پر، جو کہ 57 سال سے زیر التوا ہے، پر چیختے ہیں۔ ایک بار اگر ان لوگوں نے تلنگانہ پر فیصلہ کر لیا، تو انہیں گورکھا لینڈ، وِدربھ اور اس جیسے دیگر مطالبات پر بھی فیصلہ کرنا چاہیے۔
اسی طرح، پارلیمنٹ کی کارروائی کو پاکستان سے ہونے والی در اندازی کے سبب روک دیا گیا۔ پاکستان ایسی حرکت بار بار کرتا رہتا ہے۔ سوال یہ ہے کہ حکومت کا موقف کیا ہے؟ ہم اسے نہیں جانتے ہیں۔ یہ پارلیمنٹ میں ایک بیان دیتے ہیں اور پھر دوپہر میں متعلقہ وزارت کا ترجمان دوسرا بیان دے دیتا ہے۔ یہ سب کسی بھی طرح مناسب نہیں ہے۔ لوگوں کا اعتماد ان سب باتوں کے سبب کم ہو تا جا رہا ہے۔ جیسا کہ میں اس کالم میں پہلے بھی لکھتا رہا ہوں کہ وزیر اعظم کو معاملات اپنے ہاتھ میں لینا چاہیے اور حکومت کے متعدد شعبوں میں نظم و ضبط پیدا کرنا چاہیے۔
ایک جواں وزیر اعلیٰ کے تحت اتر پردیش حکومت نے بہت سی امیدیں جگائی تھیں، لیکن انہوں نے جس طرح سے ایک جونیئر آئی اے ایس افسر کو ریت مائننگ مافیا کے خلاف کارروائی کرنے کے سبب معطل کر دیا، اس سے یہی ظاہر ہوتا ہے کہ کچھ بھی نہیں بدلا ہے۔ ان کے اس عمل سے اس بات کی تردید ہو جاتی ہے کہ ملک کا نوجوان تبدیلی چاہتا ہے۔ ایک جواں وزیر اعلیٰ کے طور پر انہیں ایک مثال قائم کرنی چاہیے تھی، مگر اس کے بدلے وہ اپنے وزراء کے دباؤ میں کام کر رہے ہیں۔ ایک وزیر نے عوامی طور پر یہ بیان دیا کہ اس نے ایک آئی اے ایس افسر کو بے نقاب کر دیا ہے۔ لہٰذا، اب سیاسی لیڈران جونیئر آئی اے ایس افسران کے پیچھے پڑ گئے ہیں۔ اس سے اس بات کا اندازہ لگایا جاسکتا ہے کہ آخر ہم کہاں پہنچ چکے ہیں؟ ویسے یہ صحیح ہے کہ ریاستی حکومتوں کے پاس کسی بھی آئی اے ایس افسر کو معطل یا اس کا تبادلہ کرنے کا پورا اختیار ہے اور مرکز کو اس سلسلے میں کوئی مداخلت نہیں کرنی چاہیے، مگر جو کچھ بھی وقوع پذیر ہوا ہے، وہ انتظامیہ کے لیے اچھی بات نہیں ہے۔ اتر پردیش ایک بہت بڑی ریاست ہے، جب تک کہ یہ تین یا چار حصوں میں تقسیم نہیں ہو جاتی۔ فی الوقت یہ ایک بہت بڑی ریاست ہے اور یہاں امکانات کافی وسیع ہیں۔ افسوس کا مقام ہے کہ ایک سب ڈویژنل مجسٹریٹ سطح کی افسر ، جو غیر قانونی کانکنی کو روکنا چاہتی تھی، کو بغیر کسی وجہ کے معطل کر دیا گیا۔ مزید برآں، اپنے گناہوں کی پردہ پوشی کے لیے یہ لوگ سطحی وجوہات پیش کر رہے ہیں، مثلاً یہ کہ اس نے مسجد کی دیوار گرادی، یہ ایک غلط الزام ہے، جس سے مسلم کمیونٹی بھی اتفاق نہیں کرتی ہے۔ مسلم کمیونٹی کے رہنماؤں کا کہنا ہے کہ یہ صحیح نہیں ہے۔ ان میں سے کچھ تو یہ بھی کہتے ہیں کہ یہ لوگ خود ہی دیوار کو ہٹانا چاہتے تھے، لہٰذا مسجد کی دیوار کو توڑنا معطلی کی وجہ نہیں ہو سکتی ہے، جب کہ اصل وجہ ریت مائننگ مافیا ہیں۔
اگر موجودہ حکومت ریاستی سطح پر ریت مائننگ مافیاؤں اور قومی سطح پر کوئلہ مافیاؤں کے ہاتھوں میں کھیلتی ہے، تو سوال یہ ہے کہ خر ہم کدھر جارہے ہیں؟ ایسے میں ایک سوال یہ بھی پیدا ہوتا ہے کہ ہم فوج کو پاکستان سے لڑنے کے لیے آمادہ کیسے کر سکتے ہیں؟ فوج میں کام کرنے والے افراد بھی اسی ملک کے شہری ہیں اور وہ اخبارات بھی پڑھتے ہیں۔ اگر حکومت کی اخلاقی حیثیت کمزور ہوتی ہے، تو ملک کا پورا تانا بانا بھی کمزور ہوگا۔ مجھے یہ بات کہتے ہوئے افسوس ہوتا ہے کہ ملک کی اخلاقی حیثیت بہت ہی نچلے درجے پر آ چکی ہے۔
وہ کب انتخابات کرانا چاہتے ہیں، یہ ہمیں نہیں معلوم، جب کہ ملک میں جتنی جلد انتخابات کرائے جائیں، اتنا ہی بہتر ہوگا۔ مگر ایسا محسوس ہوتا ہے کہ یہ انتخابات جون 2014 میں ہونے جا رہے ہیں۔ اس کا مطلب یہ ہوا کہ انتخابات کے ہونے میں اب بھی آٹھ مہینے باقی ہیں۔ وزیر اعظم کی مداخلت کے بغیر انتظامیہ اور بھی نیچے کی طرف جائے گی۔ اگر اقتصادی فیصلے نہیں لیے جاتے ہیں، اگر انتظامی فیصلے نہیں لیے جاتے ہیں، اگر فوجی فیصلے نہیں لیے جاتے ہیں، تب یہ آٹھ ماہ مستقبل میں ملک کے لیے بہت مہنگے ثابت ہو سکتے ہیں۔
ایک بار پھر ہمارا جواب یہی ہے کہ وزیر اعظم کی حیثیت کو قائم کرنا چاہیے اور انہیں ان تمام معاملوں میں مداخلت کرنی چاہیے اور ان ایجی ٹیشن پر قدغن لگانا چاہیے۔ انہیں اتر پردیش کے وزیر اعلیٰ سے بات کرنی چاہیے تھی، کیوں کہ اس میں کوئی برائی نہیں تھی۔ انہیں اس بدانتظامی کو بے انتظامی میں بدلنے پر ضرور روک لگانی چاہیے۔ فی الوقت جو کچھ بھی ہو رہا ہے، وہ بے انتظامی ہی ہے، اس کے سوا اور کچھ بھی نہیں۔

Share Article

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *