دوسری آزادی کی لڑائی

اگر صحیح معنوں میں جمہوریت لانی ہے، تو عوام کو اپنی حصہ داری بڑھانی ہوگی۔ کسی بھی پارٹی کے امیدوار کو ووٹ نہ دینے کا عزم کرنا ہوگا۔ عوام خود اپنا امیدوار کھڑا کریں گے، اس میں پارٹی کا کوئی رول نہیں ہوگا۔ ایسے میں پارٹی تنتر، جو کہ دراصل بھرشٹ تنتر ہے، اپنے آپ نیست و نابود ہو جائے گا۔ اس ذہنی تبدیلی میں وقت لگے گا، لیکن جتنی جلد لوگ اِس صورتِ حال سے باہر نکل کر، بدعنوانی سے لڑنے کے لیے باہر آئیں گے، اتنی ہی جلد ملک صحیح معنوں میں آزاد ہوگا اور یہی ہوگی ہماری دوسری آزادی۔

انا ہزارے
Mastآزادی کی لڑائی 1857 میں ہی شروع ہو گئی تھی۔ 1857 سے لے کر 1947 تک لاکھوں لوگوں نے اپنی جانوں کی قربانی دی۔ بھگت سنگھ، سکھ دیو اور راج گرو جیسے کئی دیش بھکت ہنستے ہنستے پھانسی پر چڑھ گئے۔ ملک کے لوگوں نے ایک لمبی لڑائی کے بعد انگریزوں پر فتح پائی اور انگریز اِس ملک سے چلے گئے۔ ایک لمبے عرصے کے بعد ملک 15 اگست، 1947 کو غلامی کی زنجیروں سے نکلا اور آزادی کے جشن میں ڈوب گیا۔ میں اُس انوکھے دور کا گواہ رہا ہوں۔ کتنا جوش تھا لوگوں میں۔ سب کے چہروں پر خوشی کی چمک تھی۔ ہر گھر میں روشنی جگمگا رہی تھی، لیکن جیسے جیسے وقت گزرتا گیا، وہ روشنی پھیکی پڑتی گئی اور اُس روشنی کے ساتھ ساتھ آزادی کا جوش بھی آج لوگوں کے چہرے سے غائب سا ہو گیا ہے۔ آج ہم یومِ آزادی تو منا رہے ہیں، لیکن آزادی کے معنی ختم ہو گئے ہیں۔ صحیح معنوں میں ہم آزادی ابھی تک صرف اِس بات کی منا رہے ہیں کہ ہم انگریزوں سے آزاد ہو گئے۔ حقیقی آزادی ابھی بھی ہم سے دور ہے، اسی لیے ملک کے لوگ 15 اگست، یعنی یومِ آزادی تو منا رہے ہیں، لیکن بے دلی سے۔
ایسا کیوں ہوا، ہمیں پہلے یہ سمجھنے کی ضرورت ہے۔ انگریزوں سے آزادی کے بعد ملک کا آئین بنا، لیکن مشکل تب شروع ہوئی، جب سیاسی پارٹیوں نے آئین کا مذاق اڑاتے ہوئے آئین کی تمام تشریحات کو اپنے حساب سے ڈھال لیا۔ آئین میں کہا گیا ہے کہ جمہوری ملک میں عوام جسے اہل سمجھیں، اسے اپنا امیدوار منتخب کرکے پارلیمنٹ میں بھیجیں، لیکن جب 1952 میں ملک کا پہلا انتخاب ہوا، تو پارٹی کی بنیاد پر الیکشن ہوا، جب کہ آئین میں سیاسی پارٹیوں کا کہیں کوئی ذکر ہی نہیں ہے۔ ایسے میں آئین کی تشریح کے مطابق، تمام سیاسی پارٹیوں کو اسی وقت ختم ہوجانا چاہیے تھا، کیوں کہ جب جمہوریت آ گئی، تو ’پکش‘ (حزب مخالف) اور ’پارٹی‘ (حزبِ اقتدار)کے رول کا کیا مطلب؟ مہاتما گاندھی نے بھی کانگریس پارٹی سے کہا کہ اب جمہوریت آ گئی، اس لیے ’پکش‘ اور ’پارٹیوں‘ کو ختم کرنا چاہیے، لیکن ہوا اس کا اُلٹا اور 1952 کا الیکشن پارٹیوں کے تحت ہی لڑا گیا اور الیکشن لڑ کر ’پکش‘ اور ’پارٹیوں‘ نے اپنے لوگ پارلیمنٹ میں بھیجے، عوام کے لوگ گئے نہیں۔
ہم کہتے ہیں کہ لوک سبھا۔ لوک سبھا کے معنی ہیں کہ لوگوں کے بھیجے ہوئے نمائندوں کی ’سبھا‘ (مجلس)۔ لیکن، کہاں ہے لوک سبھا؟ وہ تو محض پارٹیوں کی ’سبھا‘ بن کر رہ گئی ہے۔ گڑ بڑی یہیں سے شروع ہوئی۔ ’جن تنتر‘ پر اِن پارٹیوں نے ناجائز قبضہ کیا اور ’لوک تنتر‘ کے مطلب کو ہی ختم کر دیا۔
مہاتما گاندھی کہتے تھے کہ ملک کو بدلنا ہے، تو پہلے گاؤں کو بدلنا ہوگا۔ لیکن اِن پارٹیوں نے گاؤں میں ترقی کو درکنار کرکے اپنے مفادات کو پورا کیا۔ لوگ متحد ہو کر اِن پارٹیوں کے خلاف نہ کھڑے ہو جائیں، اس لیے انہوں نے گاؤں کے باشندوں کو ذات پات کے نام پر گمراہ کرکے سسٹم سے باہر بنائے رکھا۔
لوک تنتر یا عوامی جمہوریت کا مطلب ہے وہ نظام، جو لوگوں کے ذریعے تیار کیا گیا ہو۔ اب چونکہ اس میں عوام کا رول ہی نہیں ہے، اس لیے یہ لوک تنتر نہیں ہے، بلکہ پارٹی تنتر (پارٹی پر مبنی نظام) ہے۔ اسی لیے میں کہہ رہا ہوں کہ ہم آزاد نہیں ہیں، بلکہ پارٹی تنتر کی گرفت میں ہیں۔
جن تنتر کا صحیح مطلب ہے عوامی شراکت داری سے چلایا جا رہا ’تنتر‘ (نظام)۔ اصلی مالک تو عوام ہیں۔ جنہیں منتخب کرکے بھیجا گیا ہے، وہ عوام کے خدمت گار ہیں۔ جو اہل کار منتخب کیے جاتے ہیں، وہ بھی عوام کی خدمت کے لیے منتخب کیے جاتے ہیں، اس لیے وہ بھی عوامی خدمت گار ہیں، لیکن یہاں تو اُلٹا ہو رہا ہے، مالک خدمت گار بن گیا ہے اور خدمت گار مالک۔ اگر نظام اُلٹا چل رہا ہے، تو پھر آزادی کیسی؟ آزادی کے نام پر کیا بس یہی سمجھا جائے کہ انگریز چلے گئے۔ حالات تو جوں کے توں بنے ہوئے ہیں۔ ایسے میں سوال اٹھتا ہے کہ لاکھوں لوگوں کی قربانی اور آزادی کی راہ میں برسوں کی جدوجہد کیوں برباد ہو گئی؟ آئیے، عہد کریں کہ اپنے شہیدوں کی قربانی کو ہم رائیگاں نہیں جانے دیں گے۔
اگر جمہوریت لانی ہے، تو عوام کو اپنی حصہ داری بڑھانی ہوگی۔ ہر ایک ووٹر کو بیدار ہو کر کسی بھی پارٹی کے امیدوار کو ووٹ نہ کرنے کا عزم کرنا ہوگا۔ عوام اپنے امیدوار خود کھڑا کریں گے، اس میں پارٹی کا کوئی رول نہیں ہوگا۔ عوام با کردار لوگوں کا انتخاب کریں گے اور انہیں اپنا نمائندہ بنائیں گے۔ ایسے میں پارٹی تنتر، جو کہ دراصل بھرشٹ تنتر ہے، اپنے آپ نیست و نابود ہو جائے گا۔
ان سب کے درمیان یہ سوال کھڑا ہونا لازمی ہے کہ کیا سیاسی پارٹیاں عوام میں یہ اعتماد پیدا ہونے دیں گی کہ وہ اپنے امیدوار کھڑا کریں اور کیا ملک کے عوام میں اتنا بھروسہ آ گیا ہے کہ وہ اپنے امیدوار خود کھڑا کر سکیں۔ اس سوال کی سب سے بڑی وجہ ہے ’دھن بل‘ (پیسے کی طاقت) اور ’باہو بل‘ (جسمانی طاقت) کا سیاست پر حاوی ہونا۔ ان پیسے والوں کے سامنے عوام کا امیدوار کیسے ٹِک پائے گا، یہ فکرمندی جائز ہے، لیکن ملک کی تاریخ گواہ ہے کہ انہی عوام نے بدعنوانی کے خلاف لڑائی لڑی۔ لہٰذا ایک بار پھر عوام اسے آزادی کی دوسری لڑائی سمجھ کر یہ طے کر لیں کہ ہم رشوت لے کر ووٹ نہیں دیں گے، داغیوں کو ووٹ نہیں دیں گے، اپنے کھڑے کیے ہوئے امیدواروں کو چنیں گے، تو عوام کی قوتِ ارادی کے سامنے بڑی بڑی مشکلیں حل ہوئی ہیں، یہ بھی حل ہوگی۔ ہمیں یہ بھی سمجھنا ہوگا کہ نوجوانوں کی طاقت ملک کی طاقت ہے۔ حالانکہ سیاسی پارٹیاں نوجوانوں کو بھی اپنا حامی بنانے کے لیے ان کے درمیان پارٹی پر مبنی سیاست کے بیج بو رہی ہیں، لیکن آپ نے دیکھا کہ ملک کا نوجوان اب بدعنوانی کے خلاف جاگ گیا ہے۔ پورے ملک کو اسی طرح جاگنا ہوگا۔ اس ذہنی تبدیلی میں وقت لگے گا، لیکن جتنی جلدی لوگ اس صورتِ حال سے باہر نکل کر، بدعنوانی سے لڑنے کے لیے باہر آئیں گے، اتنا ہی جلدی ملک صحیح معنوں میں آزاد ہوگا۔
آزادی کی دوسری لڑائی کو کامیاب بنانے کے لیے ضروری ہے کہ عوام پہلے سیاست میں رائج بدعنوانی کا خاتمہ کریں۔ اس کے لیے عوام اپنے درمیان سے ایماندار، با کردار اور سچے امیدواروں کا انتخاب کریں۔ ایسے عوامی امیدواروں کے ساتھ میری حمایت رہے گی۔ ان کے لیے میں ملک بھر میں دورہ کروں گا۔ میں ایسے لوگوں کے حق میں رہوں گا اور عوام کے تعاون سے جب ایسے لوگ جیت کر آئیں گے، تبھی صحیح معنوں میں جمہوریت کے تصور کو معنی حاصل ہوگا۔
عوام ان تمام حالات کو سمجھتے ہیں۔ میں مانتا ہوں کہ ملک میں حساس لوگوں کی کمی نہیں ہے، لیکن ان حساس لوگوں کو سیاسی لیڈروں نے ہمیشہ دھوکہ دیا ہے۔ ملک کے وزیر اعظم بار بار کہتے ہیں کہ ہم جن لوک پال لائیں گے۔ مجھے اس قسم کا خط اپنے لوگ بھی بھیجتے ہیں، لیکن یہ ابھی تک حقیقت میں تبدیل نہیں ہو پایا ہے۔ سرکار نے عوام کے ساتھ دھوکہ کیا ہے اور میں اسی دھوکے کو اِن حساس عوام کے سامنے لانا چاہتا ہوں اور اس کا ذریعہ میں خود احتسابی کو مانتا ہوں۔ مہاتما گاندھی نے عدم تشدد اور خود احتسابی کی راہ اختیار کرنے کی بات کی تھی۔ اسی لیے اور ملک کی دوسری آزادی کی آواز کو قوت عطا کرنے کے لیے میں پارلیمنٹ کے آئندہ سرمائی اجلاس کے پہلے دن سے خود احتسابی اور پاکی نفس کے لیے اَنشن کرنے جا رہا ہوں اور مجھے یقین ہے کہ اس کی فریاد عوام تک پہنچے گی۔ مجھے یہ بھی یقین ہے کہ 16 اگست، 2011 کے دور میں جس طرح عوام جن لوک پال کی حمایت میں سڑکوں پر اتر آئے تھے، اس سے کہیں بڑی تعداد میں اِس بار لوگ بدعنوانی کے خلاف ہاتھ سے ہاتھ ملائیں گے، کیوں کہ انہیں نہ صرف دھوکہ دیا گیا ہے، بلکہ حالات کو اور بدتر بنا دیا گیا ہے۔
انہی بدتر حالات نے ملک کے عوام کے درمیان میں سے کئی ہاتھوں میں بندوقیں تھما دیں۔ یہ ملک تو مہاتما گاندھی کے عدم تشدد کے اصولوں پر چلنے والا ملک تھا، لیکن یہ سرکار کی ناکامی ہے کہ جو ہاتھ تعمیرکے لیے اٹھتے تھے، وہ اب تخریب کے لیے اٹھ رہے ہیں۔ اور سرکار کا یہ تانا شاہی رویہ تو دیکھئے، وہ اُن ہاتھوں میں ترقی کی ڈور دینے کی بجائے اُن کو دبا رہی ہے۔ سرکار غلط فہمی میں ہے کہ وہ مالک ہے۔ اس ملک میں عوام کا اقتدار ہے اور جس دن اقتدار میں بیٹھے لوگوں کی سمجھ میں یہ بات آ جائے گی، اسی دن سماج میں موجود ساری مشکلیں حل ہو جائیں گی۔
سیاسی پارٹیاں عوام میں بھروسہ نہیں کرتیں، وہ صرف عوام کو اپنے ووٹ بینک میں لانے کے لیے ذات و مذہب اور دیگر بنیادوں پر بس بانٹ رہی ہیں۔ میری جدو جہد یہ ہے کہ سیاسی پارٹیاں عوام کا استعمال اپنے ذاتی اغراض کے لیے نہ کریں۔ اسی لیے میں بار بار عوام کی شراکت داری کی بات کر رہا ہوں۔ عوام کے دل میں ذات و عقیدہ جیسا کوئی اختلاف نہیں ہے۔ نیتا کے دماغ میں عوام کی خدمت کی بجائے ووٹ بیٹھ گیا ہے۔ ملک کے عوام کی سوچ ان سب سے اوپر ہے، بس ان میں تال میل بنائے رکھنا ہوگا۔ میری کوشش اسی تال میل کو بنائے رکھنے کی ہے۔ ہو سکتا ہے کہ اس میں تھوڑا وقت لگے، لیکن میں اسے عوام کے ساتھ چل کر ہر قدم منزل کو حاصل کرنے کے لیے بڑھاؤ ں گا۔
میری دوسری آزادی کی لڑائی کو لے کر ایک سوال یہ کھڑا ہو سکتا ہے کہ جب پہلی آزادی کی لڑائی کے بعد ملک کے رہنما غلط راستوں پر چلنے لگیں، تو عوام جن لوگوں کو منتخب کرکے بھیجیں گے، وہ ایماندار ہی بنے رہیں گے، اس بات کی کیا گارنٹی ہے؟ میرا جواب ہے کہ عوام کے جو امیدوار منتخب ہو کر جائیں گے، وہ رائٹ ٹو ریکال کی حد میں بندھے رہیں گے۔ اگر وہ عوام کے حق میں نہیں رہیں گے، تو عوام انہیں واپس بلا کر سبق سکھائیں گے۔ عوام کے ہاتھ اور سوچ دونوں مضبوط ہیں، اس لیے جب وہ اپنے ہی اندر سے اپنے پیمانوں کی بنیاد پر لوگوں کو منتخب کریں گے، تو یقینی طور سے وہ لوگ ملک اور سماج کے بارے میں سوچنے والے لوگ ہوں گے۔
عوام کو معلوم ہے کہ آزادی کی لڑائی کی کیا قیمت چکائی گئی تھی اور عوام اُس قربانی کو نہ بھولیں اور جس آزاد اور مثالی ہندوستان کا تصور اُن شہیدوں نے کیا تھا، اسے قائم رکھنے کے لیے قدم آگے بڑھائیں۔ یہی اُن شہیدوں کے تئیں سچی خراجِ عقیدت ہوگی اور یہی سوچ اصلی آزادی کو صحیح شکل دے پائے گی۔

Share Article

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *