شفافیت کی حامی نہیں ہے سرکار

پہلی بات تو یہ ہے کہ حق اطلاع قانون سی بی آئی جیسی جانچ ایجنسی کو اس کے دائرے سے باہر رکھنے کی اجازت نہیں دیتا ہے۔دوسری بات یہ ہے کہ اگر ایک جانچ ایجنسی کو اس سے چھوٹ ملی تو کیا مستقبل میں سی آئی ڈی پولیس یا دیگر جانچ ایجنسیوںکو بھی آرٹی آئی کے دائرے سے باہر رکھنے کا ارادہ ہے؟ ایسی ہی مانگ اگر ریاستی سرکار کی جانچ ایجنسیوں کی طرف سے اٹھنے لگے تو اس کی اطلاع کے بعد حق اطلاع قانون میں کیا بچے گا؟معاملہ چاہے لوک پال کا ہو یا پھر بدعنوانی کا، سب کے پیچھے اصل وجہ سرکاری کام کاج میں رکاوٹ اور جواب دہی کا ہے۔ آج بدعنوانی اورگھوٹالوں کو لے کر ملک میں جو ماحول بنا ہوا ہے اس میں سی بی آئی سمیت سبھی جانچ ایجنسیوں میں اصلاح کی ضرورت ہے۔ سرکار الٹا سوچتی ہے۔ سی بی آئی کو صاف و شفاف بنانے کی جگہ اسے آرٹی آئی کے دائرے سے ہی باہر کر دیا گیا۔ دراصل سرکار چاہتی ہی نہیں ہے کہ سی بی آئی پر سے اس کا لگام کم ہو یا سی بی آئی کو آزاد کیا جائے۔ سپریم کورٹ نے سی بی آئی کے پچھلے دنوں کے کام کاج کو دیکھتے ہوئے اسے پنجرے میں بند طوطا تک کہہ دیا تھا۔سی بی آئی کو آرٹی آئی سے باہر رکھنے کا مطلب ہی یہ ہے کہ اس کے دفتر سے اب کوئی جانکاری آرٹی آئی کے ذریعہ باہر نہیں آسکتی۔ سرکار اور کانگریس پارٹی حق اطلاع قانون کو یوپی اے سرکار کی پہلی ترجیح مانتی ہے۔ جن سبھائوں میں کانگریسی نیتا اور سرکار کے وزراء یہ کہتے ہیں کہ چاہے کوئی بھی سرکاراقتدار میں ہو، کوئی بھی شہری اس قانون کے ذریعہ سرکار سے سوال پوچھ سکتا ہے اور جواب کی امید کرسکتا ہے۔ حق اطلاع قانون 2005میں نافذ ہوا۔ اس قانون نے پچھلے 6سالوں سے لوگوں میں ایک نئی امیدجگانے کا کام کیا۔ اب اچانک ایسا کیا ہو گیا کہ سرکار نے سی بی آئی کو اس قانون کے دائرے سے باہر رکھنے کافیصلہ لے لیا۔ سرکار نے ایسا کر دیا ہے، تو یہ اس کی ذمہ داری تھی کہ اس حکم کے ساتھ ساتھ ملک کے عوام کو یہ بتایا جاتاکہ کن حالات میں سرکار یہ فیصلہ لینے کو مجبور ہوئی۔ سی بی آئی ایسا کیا کام کررہی ہے، جس کی اطلاع عوام میں آنے سے ملک کیسلامتی کا مسئلہ بن جاتا ہے۔ جہاں تک مجھے خبر ہے سپریم کورٹ کی وجہ سے سی بی آئی آج کل پچھلے کچھ سالوں میں ہوئی بڑی بڑی بدعنوانیوں کی جانچ میں مشغول ہے۔ سی بی آئی کے افسران وزراء کی باتوں کو ماننے سے انکار کررہے ہیں۔ایسے میں کیا یہ سمجھا جائے کہ یہ سرکار کی طرف سے سی بی آئی کو لبھانے کی کوشش ہے۔ سوال تو یہ ہے کہ جب آج تک سی بی آئی کے کسی ڈائریکٹر نے یہ مانگ نہیں کی تو پھر سرکار نے یہ فیصلہ کیوں لیا۔سی بی آئی کو آرٹی آئی کے دائرے سے باہر رکھنے کا مشورہ اٹارنی جنرل غلام واہنوتی نے دیا تھا۔ واہنوتی نے اپنا مشورہ 11صفحہ کی رپورٹ میں دیا۔ انہوںنے یہ دلیل دی کہ خفیہ ایجنسی کو آرٹی آئی کے دائرے سے باہر رکھنا چاہئے کیونکہ اس سے ملک کی حفاظت کا معاملہ جڑا ہوا ہے۔
واہنوتی کی رپورٹ کو دلیل بنا کر سرکار نے سی بی آئی کو آرٹی آئی کے دائرے سے باہر رکھنے کا حکم دے دیا۔ مزے کی بات یہ ہے کہ واہنوتی کے مشورے کیبرعکس مشورہ وزارتِ قانون اورایک دیگر وزارت نے دیا۔ آرٹی آئی کو نافذ کرانے کی ذمہ داری ڈی اوپی ٹی کے پاس ہے۔ مزے کی بات یہ ہے کہ اسے چوری چھپے کیاگیا۔ سرکار نے اس فیصلے کو ملک کے عوام یاپارلیمنٹ کو بتانے کی ضرورت نہیں سمجھی،اس بات کا پردہ فاش بھی ایک آرٹی آئی کے تحتہوا۔حیدرآباد کے سی جے کریرہ نے جنوب بلاک کے ڈی او پی ٹی کے دفتر میں اس حکم کی فائل کو دیکھنے کے لیے ایک آرٹی آئی ڈالی تھی۔ انہیں پوری فائل دیکھنے میں پچاس منٹ لگے۔ سی بی آئی کو دائرے سے باہر رکھنے کے لیے آرٹی آئی قانون کے سیکشن 24کو بنیاد بنایا گیا ہے۔ اب سوال یہ ہے کہ اس کا سیکشن 24کیا کہتا ہے۔سیکشن 24کے پہلے حصے میں صاف صاف لکھا ہے کہ آرٹی آئی قانون مرکزی سرکار کے ذریعہ بنائی گئی خفیہ تنظیموں پر نافذ نہیں ہوگا۔ جن تنظیموں کو اس قانون میں چھوٹ دی گئی ہے ان کے نام دوسرے شیڈول میں شامل کیے گئے ہیں۔ مزے کی بات یہ ہے کہ اس سیکشن کے اگلے واقعہ میں یہ بھی لکھا ہے کہ بدعنوانی اور انسانی حقوق کے خلاف معاملے میں ان تنظیموں کو چھوٹ نہیں دی جائے گی۔ سیکشن 24کا دوسرا حصہ یہ کہتا ہے کہ مرکزی سرکار کو حق ہے کہ وہ ایک نوٹیفیکیشن جاری کرکے دوسرے شیڈول میں شامل تنظیموں کے ناموں میں تبدیلی کرسکتی ہے۔ مطلب یہ ہے کہ سرکار کسی بھی خفیہ ایجنسی یا دیگر تنظیموںکا نام جوڑسکتی ہے یا ہٹا سکتی ہے۔ سیکشن 24کے تیسرے حصہ کے مطابق اگر سرکار کسی تنظیم کو جوڑنے یا ہٹانے کے لیے نوٹس جاری کرسکتی ہے تو اسے یہ معاملہ پارلیمنٹ کے دونوں ایوانوں میں رکھنا ضروری ہے۔
سی بی آئی کو آرٹی آئی کے دائرے سے باہر رکھنے کا فیصلہ چونکانے والا ہے۔ یہ فیصلہ کیوں لیاگیا، کیا پارلیمنٹ میں اس بات پر چرچا ہوا؟ سی بی آئی صرف ایک جانچ ایجنسی ہے اس سے سرکار کی ذہنیت کو لے کر کئی سوال اٹھتے ہیں۔ کیا یہ شروعات ہے۔ پہلی بات تو یہ ہے کہ حق اطلاع قانون سی بی آئی جیسی جانچ ایجنسی کو اس کے دائرے سے باہر رکھنے کی اجازت نہیں دیتا ہے۔ دوسری بات یہ ہے کہ اگر ایک جانچ ایجنسی کو اس سے چھوٹ ملی تو کیا مستقبل میںاس جیسی دیگر ایجنسیوں کو بھی آرٹی آئی کے دائرے سے باہر رکھنے کا ارادہ ہے؟ ایسی ہی مانگ اگر ریاستی سرکاروں کی جانچ ایجنسیوں کی طرف سے اٹھنے لگے تو اس حق اطلاع قانون میں کیابچا رہ جائے گا؟ ایک دلیل دی جاسکتی ہے کہ آرٹی آئی قانون کے تحت ہی یہ چھوٹ ملی ہے۔ ایک بار معاملے کی جانچ ہوگئی تو پھر سی بی آئی کو اس معاملے کے بارے میں اطلاع دینے میں کیا پریشانی ہوسکتی ہے۔ ایک دلیل یہ دی گئی ہے کہ جن معاملوں کی جانچ پوری ہوجاتی ہے ، ان کے کاغذات ویسے بھی کورٹ میں جمع ہوجاتے ہیں۔یہ وقت سی بی آئی اور سرکار دونوں کی ساکھ بچانے کا ہے۔ سی بی آئی پہلے سے ہی الزامات کے دائرے میں ہے۔ سی بی آئی کا سیاسی استعمال ہوتاہے۔ سرکار چلانے والی سیاسی جماعتیں سی بی آئی سے اپنے حساب سے کام کراتی ہیں۔ سرکار سی بی آئی کے ذریعہ مخالف پارٹیوں پر لگام لگاتی ہے اورحلیف جماعتوںکے معاملے کو بھلادیتی ہے۔ سی بی آئی میں بحالی کے لیے لابنگ ہوتی ہے۔ ایسے کئی الزامات ہیں جو ملک کی اس بنیادی جانچ ایجنسی پر اکثر لگائے جاتے ہیں۔ کیا سرکار یہ سمجھتی ہے کہ اس ملک کے لوگ ایک صاف ستھری اور قابل جانچ ایجنسی کے لائق بھی نہیں ہیں یا پھر یہ سمجھا جائے کہ یوپی اے سرکاری کام کاج میں شفافیت لانے کے حق میں نہیں ہے۔

Share Article

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *