سچر رپورٹ کا نفاذ: کتنا سچ، کتنا جھوٹ

ڈاکٹر قمر تبریز 

سال 2004 میں مرکز میں کانگریس قیادت والی یو پی اے کے بر سر اقتدار ہوتے ہی جب اسی سال کے اواخر میں رنگناتھ مشرا کمیشن اور اگلے سال سچر کمیٹی کی تشکیل ہوئی، تو امید ہو چلی تھی کہ ہندوستان کی دوسری سب سے بڑی مذہبی کمیونٹی کی صحیح صورتِ حال ملک کے سامنے آئے گی اور اس کی پس ماندگی کو دور کرکے اسے دیگر طبقات کے ساتھ ترقی کی دوڑ میں شامل کیا جائے گا، مگر اب جب کہ یو پی اے کا دوسرا دور بھی ختم ہونے کو ہے، ابھی تک وہ مختلف شعبوں میں نیو بدھسٹ سے بھی بدتر حالت سے باہر نہیں نکلی ہے۔ مشرا رپورٹ تو’ چوتھی دنیا‘ کے توسط سے پارلیمنٹ میں موضوعِ بحث بننے کے باوجود بھی حکومت کے تہہ خانے میں بند ہے اور سچر رپورٹ عمل درآمد کی بھول بھلیوں یا پیچیدگیوں میں گم ہے۔ ان رپورٹوں کو شاید انتظار ہے کسی وی پی سنگھ کا، جو کہ آئے اور 1979 میں جنتا پارٹی حکومت کے تشکیل کردہ منڈل کمیشن، جس کی رپورٹ 1980 میں کانگریس حکومت کو سونپی گئی، کی طرح انہیں بھی عملی جامہ پہنائے۔ ’چوتھی دنیا‘ کو یہ فخر حاصل ہے کہ یہ میڈیا میں پہلی مرتبہ سچر رپورٹ کی 76 سفارشات کا نکتہ بہ نکتہ حکومت کے دعووں کی روشنی میں جائزہ کا سلسلہ شروع کر رہا ہے۔ اس سے سچر رپورٹ کے تعلق سے صحیح صورتِ حال اور حکومت کے کھوکھلے دعووں کو سمجھنے میں مدد ملے گی۔ اس بار پڑھیے ان سفارشات کے ابتدائی چار نکات کا بے باک تجزیہ……

Mastہندوستان مختلف مذہبوں، تہذیبوں اور افکار و نظریات کا ملک ہے۔ آئین ہند میں بھی اس کی اس حیثیت کو تسلیم کیا گیا ہے اور سیکولر ازم کی مخصوص تشریح کے تحت سبھی کو اپنے اپنے عقیدہ و سوچ کے مطابق نجی و اجتماعی زندگی گزارنے کی آزادی دی گئی ہے۔ جہاں تک ساتویں صدی عیسوی میں اس ملک میں متعارف ہونے والے اسلام کے حاملین کا سوال ہے، تو یہ یہاں انڈونیشیا اور پاکستان کے بعد دنیا کی تیسری سب سے بڑی اور ملک کی دوسری سب سے بڑی مذہبی آبادی ہیں۔ 2001 کی مردم شماری کے مطابق یہ ملک کی کل آبادی کا 13.10 فیصد ہیں۔ ان کی مجموعی حالت بدتر ہے اور یہ مختلف شعبوں میں بہت پچھڑے ہوئے ہیں۔ آزادی کے بعد نیشنل سیمپل سروے آر گنائزیشن (این ایس ایس او) اور گوپال سنگھ ہائی پاور مائنارٹی پینل و دیگر چند غیر سرکاری رپورٹوں سے یہ اشارہ تو ملتا تھا، مگر اس ضمن میں کسی باضابطہ سرکاری رپورٹ کی کمی محسوس ہوتی تھی۔ لہٰذا 2004 میں برسر اقتدار ہونے کے ایک برس بعد کانگریس کی قیادت والی ہندوستان کی موجودہ یو پی اے حکومت نے ملک میں آزادی کے بعد سے اب تک مسلمانوں کی سماجی، اقتصادی اور تعلیمی پس ماندگی کا پتہ لگانے کے لیے 2005 میں سچر کمیٹی کی تشکیل کی، جس نے اپنی رپورٹ منموہن حکومت کو 17 نومبر، 2006 کو سونپ بھی دی۔ دریں اثناء 2004 کے اواخر میں لسانی و مذہبی اقلیتوں سے متعلق متعدد ایشوز کی تحقیق کے لیے سپریم کورٹ کے سابق چیف جسٹس آنجہانی رنگناتھ مشرا کی سربراہی میں ’قومی کمیشن برائے مذہبی و لسانی اقلیت‘ (National Commission for Religious and Linguistic Minorities) قائم کیا گیا، جس نے بھی 21 مئی، 2007 کو اپنی رپورٹ حکومت کو سونپ دی۔ سچر رپورٹ کو تو پارلیمنٹ کی میز پر پیش کیا گیا، مگر مشرا کمیشن رپورٹ سرکار کی جانب سے منظر عام پر نہیں لائی گئی، جب کہ یہ اِدھر اُدھر دستیاب تھی۔ یہی وجہ ہے کہ ’چوتھی دنیا‘ نے جب اسے شائع کیا، تو یہ پارلیمنٹ میں موضوعِ بحث بھی بنی۔ مگر افسوس کی بات یہ ہے کہ اس پر آج بھی سرد مہری ہے۔ دوسری جانب سچر کمیٹی رپورٹ کا حشر بھی اچھا نہیں ہے۔ اب جب کہ اس حکومت کی لگاتار دوسری میعاد کے مکمل ہونے میں چند ماہ ہی باقی رہ گئے ہیں، نہ تو سرکار نے اس کی تمام سفارشات کو نافذ کیا ہے اور نہ ہی ایسا کوئی بڑا کام کیا ہے، جس سے یہ ثابت ہوتا ہو کہ مسلمانوں کی پس ماندگی کو کم کرنے کی سمت میں کوئی قابل قدر پیش رفت ہوئی ہے۔
شرم کی بات تو یہ ہے کہ جس سچر کمیٹی نے اپنی سفارشات میں اس بات پر زور دیا تھا کہ مسلمانوں کی تعلیمی پس ماندگی کو اگر دور کرنا ہے، تو ان کے لیے بنیادی تعلیم کا انتظام ان کی مادری زبان، یعنی اردو میں کرنا ہوگا، لیکن یو پی اے حکومت نے نہ تو اردو میڈیم کے سرکاری پرائمری اسکول کہیں پر کھولے ہیں اور نہ ہی ملک بھر کے ان پرائیویٹ اسکولوں کو ترجیحی بنیاد پر کوئی خاص سہولت عطا کی ہے، جہاں پر اردو میڈیم کے ذریعے تعلیم کا نظم و نسق ہے۔
سب سے زیادہ حیرانی کی بات تو یہ ہے کہ خود سچر کمیٹی کی رپورٹ کا اردو ترجمہ اب تک منظر عام پر نہیں آ سکا ہے، حالانکہ یہ رپورٹ انگریزی اور ہندی میں پہلے سے ہی دستیاب ہے۔ چوتھی دنیا نے جب تفتیش کی، تو معلوم ہوا کہ سچر کمیٹی کی رپورٹ کا اردو ترجمہ قومی کونسل برائے فروغِ اردو زبان (این سی پی یو ایل) سے کرایا جا چکا ہے اور یہ اردو ترجمہ سرکار کے پاس پہنچ بھی چکا ہے، لیکن اردو میں یہ رپورٹ نہ تو این سی پی یو ایل کی ویب سائٹ پر دستیاب ہے اور نہ ہی وزارتِ اقلیتی امور کی ویب سائٹ پر اور نہ ہی یو پی اے سرکار کی طرف سے اب تک اس رپورٹ کو کتابی شکل میں شائع کرانے کی کوئی کوشش ہوئی ہے۔ اس پر طرہ یہ کہ اقلیتی امور کے موجودہ وزیر کے رحمن خان اور سابق وزیر اور موجودہ وزیر خارجہ سلمان خورشید ملک کے متعدد سیمیناروں اور پبلک پلیٹ فارم پر یہ کہتے ہوئے نہیں تھک رہے ہیں کہ سچر کمیٹی کی تمام یا زیادہ تر سفارشات کو نافذ کیا جا چکا ہے۔ مسلمانوں کو جب یہ معلوم ہی نہیں ہے کہ ان کی پس ماندگی کی اصل روداد کیا ہے، تو پھر وہ بھلا یہ کیسے چیک کر سکتے ہیں کہ مسلمانوں کی فلاح و ترقی سے متعلق سرکار کے دعوے کتنے سچے ہیں۔ گویا کہ ہندوستانی مسلمانوں کو اندھیرے میں رکھ کر ایک بار پھر کانگریس کی قیادت والی یو پی اے سرکار 2014 کے لوک سبھا الیکشن میں انہیں بیوقوف بناکر ان کے ووٹ حاصل کرنا چاہتی ہے۔ مرکزی سرکار کے اس رویے سے تنگ آکر ہی کیرالہ، کرناٹک، اتر پردیش اور مغربی بنگال کی حکومتوں نے اسے اپنے یہاں نافذ کرنے کا اعلان کیا، مگر وہاں بھی کچھ نہ ہوا۔
آئیے دیکھتے ہیں کہ سچر کمیٹی کی سفارشات کیا کیا ہیں اور سرکار نے ان پر کتنا عمل کیا ہے، تاکہ یہ بات معلوم ہو سکے کہ مرکز میں بر سر اقتدار کانگریس کی قیادت والی یو پی اے سرکار مسلمانوں کی پس ماندگی کو دور کرنے کے لیے کتنی سنجیدہ ہے، وہ کتنا سچ بول رہی ہے اور کتنا جھوٹ۔ یو پی اے سرکار کے دعووں کا مطالعہ کرتے وقت یہ بات ذہن میںرہنی چاہیے کہ سچر کمیٹی کی سفارشوں پر عمل آوری سے متعلق اس نے جو بھی کارروائی کی ہے، وہ 31 مارچ، 2013 تک کی کارروائی ہے۔ مارچ سے لے کر ستمبر 2013 تک ان میں کئی پیش رفت ہوئی ہیں، جن کی نشاندہی درج ذیل سطور میں کی گئی ہے۔
سفارش نمبر .1 ملک میں مسلمانوں کی پس ماندگی یا محرومی کو دور کرنے کے لیے پالیسیاں بناتے وقت شمولیاتی ترقی (Inclusive Development) اور اس کمیونٹی کو مین اسٹریم (Main Stream) میں لانے پر سب سے زیادہ توجہ مرکوز کی جانی چاہیے اور ایسا کرتے وقت اس بات کا خیال رکھنا نہایت ضروری ہے کہ مسلمانوں کی ترقی کو تمام شعبوں میں یقینی بنایا جائے اور یہ ترقی ملک میں سبھی جگہوں پر دکھائی بھی دیتی ہو۔
یو پی اے سرکار کا دعویٰ : اس پہلی سفارش کے نفاذ کے بارے میں یو پی اے سرکار کا دعویٰ ہے کہ اس نے تعلیم، روزگار اور ہاؤسنگ کے شعبوں میں ہونے والی پیش رفت اور کمیوں کی شفاف اور قابل قبول جانچ اور نگرانی کے لیے ماہرین کے ایک گروپ کی تشکیل کی تھی، جس نے اپنی رپورٹ جون، 2008 میں سرکار کو سونپ دی تھی۔ لیکن بعد میں اس کام کو ’یکساں مواقع کمیشن‘ (Equal Opportunity Commission, EOC) قائم کرنے کی تجویزمیں شامل کر لیا گیا۔
چوتھی دنیا کا موقف : سچر کمیٹی نے اس پہلی سفارش کے ضمن میں اس بات پر خاصا زور دیا ہے کہ ان پالیسیوں کے نفاذ سے مسلم قوم کے اندر سے یہ سوچ ختم ہوجانی چاہیے کہ ان کے ساتھ بھید بھاؤ یا جانبداری سے کام لیا جا رہا ہے اور یہ تبھی ممکن ہے، جب مسلمانوں کو بھی ہندوستان کے تکثیری سماجی ڈھانچے کا ایک اٹوٹ حصہ سمجھا جائے اور انہیں بھی دوسری قوموں کی طرح اہمیت دی جائے۔ لیکن ہم سبھی جانتے ہیں کہ ہندوستانی مسلمانوں کے اندر سے یہ سوچ اب تک ختم نہیں ہو سکی ہے کہ دوسری قوموں کے مقابلے ان کے ساتھ بھید بھاؤ کیا جاتا ہے، بلکہ ان کا یقین اور بھی مضبوط ہوتا جا رہا ہے کہ کانگریس ہو یا بی جے پی، ملک کی ان دونوں ہی بڑی سیاسی پارٹیوں کی طرف سے انہیں ملک میں دوسرے درجہ کا شہری بنانے کی پوری کوشش کی جا رہی ہے۔
دوسری جانب اس پہلی سفارش کے نفاذ کی موجودہ صورتِ حال یہ ہے کہ سرکار نے ’یکساں مواقع کمیشن‘ قائم کرنے میں حائل دشواریوں کا بہانہ کرکے اپنی معذوری ظاہر کر دی ہے، یعنی اب یہ کمیشن کبھی نہیں قائم ہو پائے گا، کم از کم یوپی اے – II حکومت کے دورِ اقتدار میں تو ہر گز نہیں۔ اس طرح دیکھا جائے، تو یو پی اے سرکار نے سچر کمیٹی کی سب سے پہلی اور سب سے اہم سفارش کو کبھی بھی سنجیدگی سے نہیں لیا اور آخر کار اسے خارج کر دیا۔ لیکن کانگریس کے لیڈر، چاہے وہ سلمان خورشید ہوں یا پھر موجودہ وزیر برائے اقلیتی امور کے رحمن خان، اب تک مسلمانوں سے یہی جھوٹ بولتے آ رہے ہیں کہ ان کی سرکار نے سچر کمیٹی کی تمام سفارشات یا زیادہ تر سفارشات کو نافذ کر دیا ہے۔

سفارش نمبر .2 ایک نیشنل ڈاٹا بینک (این ڈی بی) تیار کیا جائے، جس میں متعدد سماجی و مذہبی طبقوں یا ایس آر سی (Socio-Religious Categories) سے متعلق شفافیت، نگرانی اور تمام اہم اور ضروری اعداد و شمار کی دستیابی کو یقینی بنایا جائے۔ ایسے تمام اعداد و شمار کو کمپیوٹرائز کیا جائے اور پھر انہیں انٹرنیٹ پر ڈالا جائے۔
یو پی اے سرکار کا دعویٰ : مرکزی شماریاتی تنظیم یا سی ایس او (Central Statistical Organisation) کی ویب سائٹ پر تعلیم، صحت، مزدوری اور روزگار سے متعلق ایس آر سی کے اعداد و شمار پر مبنی 97 جدوَل (Tables) اَپ لوڈ کی جا چکی ہیں۔
چوتھی دنیا کا موقف : یو پی اے سرکار کی طرف سے بولا گیا یہ پہلا جھوٹ ہے، کیوں کہ سنٹرل اسٹیٹس ٹیکل آرگنائزیشن کی اپنی کوئی علیحدہ ویب سائٹ نہیں ہے، بلکہ اس نے یہ سارے ٹیبل وزارتِ شماریات اور نفاذِ پروگرام (Ministry of Statistics and Programme Implementation) کی ویب سائٹ پر ’نیشنل ڈاٹا بینک‘ نامی صفحہ پر اَپ لوڈ کیے ہیں۔ اِن جدوَل میں جو بھی اعداد و شمار دیے گئے ہیں، ان کو دیکھ کر آسانی سے یہ بالکل پتہ نہیں چلتا کہ مسلمانوں کی تعلیم، صحت، روزگار جیسے شعبوں میں کتنی ترقی ہوئی ہے اور ان شعبوں میں ان کی پس ماندگی کو کس حد تک دور کیا جا سکا ہے۔
دوسرے یہ کہ سچر کمیٹی کو اپنی رپورٹ تیار کرنے میں سب سے زیادہ دقتوں کا سامنا اعداد و شمار نہ ہونے کی وجہ سے کرنا پڑا تھا، کیوں کہ ملک میں ایسا کوئی ادارہ نہیں تھا، جہاں سے سچر کمیٹی کو مسلمانوں کی پس ماندگی سے متعلق صحیح اور قابل اعتبار اعداد و شمار حاصل ہو سکیں۔ اس کے لیے ملک کی تمام سیاسی پارٹیاں تو ذمہ دار ہیں ہی، لیکن سب سے زیادہ ذمہ دار کانگریس پارٹی ہے، کیوں کہ آزادی کے بعد سے اب تک مرکز میں زیادہ تر حکومت اسی پارٹی کی رہی ہے۔ کانگریس نے جان بوجھ کر مسلمانوں کو اندھیرے میں رکھا، کیوں کہ اسے خوف تھا کہ اگر ملک کے مسلمانوں کو اپنی پس ماندگی کی صحیح صورتِ حال کا پتہ چل گیا، تو وہ کانگریس کو ہرگز ووٹ نہیں دیں گے۔ ہم سارے لوگ یہ بھی جانتے ہیں کہ جب سچر کمیٹی نے ہندوستانی مسلح افواج میں مسلمانوں کی نمائندگی سے متعلق اعداد و شمار طلب کیے تھے، تو اسے کیا جواب سننے کو ملا تھا۔
یو پی اے حکومت آج تک فوج میں مسلمانوں کی صحیح تعداد کے بارے میں نہیں بتا سکی ہے، تو پھر بھلایہ کیسے کہہ دیا جائے کہ وہ سچر کمیٹی کی سفارشات کو نافذ کرنے میں پوری طرح سنجیدہ ہے اور اس کے وزیر جھوٹ بول کر مسلمانوں کو گمراہ کرنے کی کوشش نہیں کر رہے ہیں۔سچر کمیٹی نے اپنی سفارش میں کہا تھا کہ نیشنل ڈاٹا بینک (این ڈی بی) کو ایک خود مختار ادارہ کے طور پر کام کرنے کی اجازت فراہم کی جائے اور سنٹرل اسٹیٹس ٹیکل کمیشن (سی ایس سی)، جسے حال ہی میں قائم کیا گیا ہے، وہ این ڈی بی کو ایک بڑا فریم ورک فراہم کرنے میں مدد کر سکتا ہے۔ لیکن یو پی اے سرکار نے اس سفارش پر عمل نہیں کیا اور وزارتِ شماریات و نفاذِ پروگرام کی ویب سائٹ پر 97 ٹیبل اَپ لوڈ کرکے یہ سمجھ لیا کہ اس نے سچر کمیٹی کی اس دوسری سب سے اہم سفارش کو نافذ کر دیا ہے، جو کہ گمراہ کن ہی نہیں، بلکہ سراسر جھوٹ بھی ہے۔
نیشنل ڈاٹا بینک کی اہمیت کو اجاگر کرتے ہوئے سچر کمیٹی نے کہا ہے کہ مردم شماری، نیشنل اکاؤنٹس اسٹیٹسٹکس (این اے ایس) اور نیشنل سیمپل سروے آرگنائزیشن (این ایس ایس او) بڑے پیمانے پر اعلیٰ معیار کے اعداد و شمار کی فراہمی کے سب سے اہم ذرائع ہیں، لیکن یہ تینوں ہی ادارے پہلے سے تیار ایسا کوئی ڈاٹا فراہم نہیں کرتے، جس سے ہندوستان کی مختلف سماجی و مذہبی جماعتوں کی سماجی، اقتصادی اور تعلیمی صورتِ حال کا صحیح صحیح اندازہ لگایا جاسکے۔ اسی لیے سچر کمیٹی کی اس دوسری سفارش کے تحت یہ نہایت ضروری ہے کہ نیشنل ڈاٹا بینک تیار کیا جائے اور پھر اس کی ویب سائٹ پر یہ معلومات فراہم کی جائے کہ ہندوستان کی مختلف سماجی و مذہبی جماعتوں نے کن کن شعبوں میں ہر سال کتنی ترقی کی ہے، مرکزی اور ریاستی سرکاروں کے ذریعے کتنے لوگوں کو روزگار فراہم کیا گیا ہے، مرکزی اور ریاستی سرکاروں کے ذریعے چلائے جا رہے بینکوں سے خاص کر مسلمانوں کو مین اسٹریم میں لانے کی کوششوں کے تحت کتنی مالی مدد فراہم کی گئی ہے، ان کی فلاح و ترقی کے لیے چلائی جا رہی سرکاری اسکیموں میں کتنے لوگوں نے شرکت کی ہے۔ لیکن افسوس کی بات ہے کہ اِس رپورٹ کے منظر عام پر آنے کے سات سال بعد بھی یو پی اے حکومت نے اب تک ’نیشنل ڈاٹا بینک‘ کی نہ تو کوئی علیحدہ ویب سائٹ تیار کی ہے اور نہ ہی اسے ایک خود مختار ادارہ کے طور پر کام کرنے کی اجازت دی ہے، جب کہ اس سے متعلق وزیر لگاتار جھوٹ بول رہے ہیں کہ یو پی اے حکومت نے سچر کمیٹی کی تمام سفارشات کو نافذ کر دیا ہے۔

سفارش نمبر .3 جب اس طرح کے اعداد و شمار تیار ہو جائیں، یعنی این ڈی بی جب پوری طرح سے کام کرنے لگے، تو اس کے بعد ایک خود مختار اتھارٹی برائے تجزیہ و نگرانی یا ’اے ایم اے‘ (Assessment and Monitoring Authority) قائم کی جائے، جو اس بات کا پتہ لگا سکے کہ متعدد سماجی و مذہبی جماعتوں کی ترقی کے لیے جو پروگرام یا اسکیمیں نافذ کی گئی ہیں، ان سے انہیں کتنا فائدہ پہنچ رہا ہے۔ اس کام میں سرکاری حکام کے ساتھ ساتھ اکیڈمکس، پروفیشنلس اور سول سوسائٹی کی تنظیموں کو بھی نگراں کے طور پر شامل کیاجائے، جو ریاستی اور مرکزی سطح پر ان پروگراموں کے نفاذ پر گہری نظر رکھیں۔اگر ان اعداد و شمار کو انٹرنیٹ پر ڈال دیا جاتا ہے، یعنی اگر ان کا ڈجٹائزیشن ہو جاتا ہے، تو پنچایت، نگر پالیکا اور ضلع سے لے کر ریاستی اور مرکزی سطح تک پروگراموں کے نفاذ کی مانیٹرنگ کرنے میں آسانی پیدا ہو جائے گی۔
یو پی اے سرکار کا دعویٰ : پلاننگ کمیشن نے اس سفارش پر عمل کرتے ہوئے تین ورکنگ گروپ بنائے ہیں۔ پہلے ورکنگ گروپ نے اپنی رپورٹ وزارتِ اقلیتی امور کو بھیج دی ہے، جس کو دیکھنے کے بعد وزارت نے اس رپورٹ پر اپنا تبصرہ کرنے کے بعد اسے واپس کر دیا ہے۔ دوسرے اور تیسرے ورکنگ گروپ کی رپورٹ ابھی تک وزارت کو موصول نہیں ہوئی ہے۔
چوتھی دنیا کا موقف : یہاں پر سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ جب یو پی اے سرکار نے نیشنل ڈاٹا بینک ہی نہیں بنایا ہے، تو پھر اس کے بعد کی اس تیسری سفارش پر عمل کیسے ہو پائے گا۔ حقیقت تو یہ ہے کہ ابھی تک نہ تو نیشنل ڈاٹا بینک بن پایا ہے اور نہ ہی اسیس منٹ اینڈ مانیٹرنگ اتھارٹی (اے ایم اے) کا کہیں دور دور تک کوئی وجود ہے۔ اس طرح سے دیکھا جائے تو یو پی اے سرکار نے سچر کمیٹی کی پہلی تینوں ہی سفارشوں پر ابھی تک سنجیدگی سے عمل نہیں کیا ہے۔ سرکار کی طرف سے چھوٹی بڑی جو بھی کوششیں ہوئی ہیں، وہ تشفی بخش نہیں ہیں، جن کی بنیاد پر یہ کہاجا سکے کہ آئندہ دس بارہ سالوں میں ہندوستانی مسلمانوں کی پس ماندگی دور ہو پائے گی۔

سفارش نمبر .4 ہندوستانی آئین نے ’بنیادی حقوق‘ کے تحت اپنے تمام شہریوں کو بلا تفریق مذہب برابری کا درجہ عطا کیا ہے۔ یہی نہیں، بلکہ آئین نے اقلیتوں کے مذہبی، لسانی اور ثقافتی حقوق کے تحفظ کا خصوصی انتظام کرنے کی ذمہ داری بھی سرکاروں پر عائد کی ہے۔ اگر اقلیتوں کے ان حقوق کی خلاف ورزی ہوتی ہے، تو اسے ملک کی کسی بھی عدالت میں چیلنج کیا جا سکتا ہے۔ اسی کو مد نظر رکھتے ہوئے، سچر کمیٹی نے کہا تھا کہ چونکہ مسلمانوں میں عام طور پر یہ سوچ پائی جاتی ہے کہ ان کے ساتھ معاشرے میں ہر سطح پر تعصب بھرا رویہ اپنایا جاتا ہے، جیسے روزگار، ہاؤسنگ، سرکاری اور پرائیویٹ بینکوں سے لون یا قرض لینے اور اچھی اسکولنگ وغیرہ میں ان کے ساتھ جانبداری برتی جاتی ہے، لہٰذا قانونی سطح پر کوئی ایسا میکانزم تیار کیا جانا چاہیے، جس سے مسلمانوں کی ان شکایات کو دور کیا جا سکے، تاکہ ان کے اندر بھی یہ اعتماد بحال ہو کہ آئین نے انہیں جو حقوق عطا کیے ہیں، وہ انہیں بغیر کسی مذہبی، لسانی اور ثقافتی جانبداری کے حاصل ہو رہے ہیں۔ قانون بھی یہی کہتا ہے کہ ہر سطح پر نہ صرف انصاف ہونا چاہیے، بلکہ عملی طور پر بھی یہ ظاہر ہونا چاہیے کہ واقعی انصاف ہو رہا ہے۔لہٰذا سچر کمیٹی نے سفارش کی کہ پس ماندہ گروپس کی شکایات و مسائل کو حل کرنے کے لیے سرکار ’یکساں مواقع کمیشن‘ یا ای او سی (Equal Opportunity Commission) قائم کرے۔
یو پی اے سرکار کا دعویٰ : وزارت کے ذریعے قائم کردہ ایکسپرٹ گروپ نے اپنی رپورٹ جمع کر دی تھی، جس کی بنیاد پر ’ای او سی بل‘ کے لیے ایک ڈرافٹ کیبنٹ نوٹ جاری کیا گیا تھا۔ای او سی سے متعلق امور پر غور کرنے کے لیے وزراء کا ایک گروپ (جی او ایم) بھی بنایا گیا تھا۔ جی او ایم کے مشورہ سے جون 2011 میں ترمیم شدہ کیبنٹ نوٹ تقسیم کیا گیا تھا۔ اس پر ممبرانِ پارلیمنٹ کی طرف سے مختلف قسم کی آراء موصول ہوئیں، جن کو ملحوظ نظر رکھنے کے بعد، ایک نیا اور ترمیم شدہ ڈرافٹ ای او سی بل تیار کر نے کے بعد اسے ویٹنگ کے لیے وزارتِ قانون کے سپرد کر دیا گیا ہے۔
ای او سی سے متعلق تازہ صورتِ حال یہ ہے کہ پارلیمنٹ نے اپنے مانسون اجلاس میں اس بل کو خارج کر دیا ہے۔
چوتھی دنیا کا موقف : سچر کمیٹی کی یہ چوتھی سفارش بھی نافذ نہیں ہو سکی۔ سرکار کی طرف سے ہندوستانی مسلمانوں کے ساتھ یہ سراسر دھوکہ کیا گیا ہے۔ سچر کمیٹی نے ’یکساں مواقع کمیشن‘ قائم کرنے کی سفارش اسی لیے کی تھی، تاکہ مسلمانوں کے ساتھ مذہب، زبان اور ثقافت کے تعلق سے ہر سطح پر جو تعصب بھرا رویہ اپنایا جاتا ہے، اسے دور کیا جا سکے اور آئین نے انہیں ملک کے دیگر شہریوں کے ساتھ برابری کا جو حق عطا کیا تھا ، ملک کی عدالتیں اسے دلانے میں ان کی پوری مدد کر سکیں۔ لیکن یو پی اے سرکار کی کوتاہیوں اور گمراہ کن رویے کی وجہ سے پارلیمنٹ نے اس کمیشن کو قائم کرنے سے ہی منع کر دیا ہے۔ مسلمانوں کے تعلق سے جب کانگریس کی نیت ہی صاف نہیں ہے، تو پھر اس سے بھلائی یا ہمدردی کی امید کیسے کی جا سکتی ہے؟ اور 2014 میں اگر بی جے پی کی قیادت میں این ڈی اے کی حکومت ملک میں بنتی ہے، تو نریندر مودی جیسے مسلمانوں کے قاتل سے تو اس بات کی قطعی امید نہیں کی جاسکتی کہ وہ سچر کمیٹی کی سفارشوں پر آگے کوئی کارروائی کریں گے اور مسلمانوں کی پس ماندگی اور بدحالی کو دور کرنے کی سمت میں سنجیدگی سے کوئی کوشش کریں گے۔

Share Article

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *