غریب کی دماغی حالت

میگھناد دیسائی 
بسمارک نے کہا تھا کہ جب تک کسی بات کا سرکاری طور پر انکار نہ کردیا جائے، تب تک اسے سچ نہیں مانا جاسکتا۔جب بھی کوئی لیڈر کہے کہ اس کے بیان کو توڑ مروڑ کر پیش کیا گیا ہے، تبھی یہ مانا جائے کہ اس کے بارے میں صحیح خبر دی گئی ہے۔ اس لیے ہم اس رپورٹ کی حقیقت پریقین کر سکتے ہیں، جس میں راہل گاندھی نے مہینوں کی چپّی کو توڑتے ہوئے کہا ہے کہ غریبی دماغی حالت ہے۔ اور ان کے اس بیان پر غور کیا جائے، جسے کہ مبینہ طور پر توڑ مروڑ کر پیش کیا گیا کہ غریبی صرف دماغی حالت ہے، اس لیے اس کا اشیائے خوردنی، پیسے یا دوسری چیزوں سے کوئی لینا دینا نہیں ہے۔
غریبی حقیقت میں ہے کیا، اس کی تعریف کو لیکر خاص طور پر ہندوستان میں بڑا ہی بھرم ہے۔ راہل گاندھی کے بیان کے حوالے سے بات کریں، تو غریبی کو لے کر انھوں نے سب سے صحیح بات کہی ہے۔ لیڈران بے وقوف بن گئے، جب ان کے سامنے حالیہ غریبی سے متعلق عدد آیا کہ ہندوستان میں غریبوں کی تعداد، جو کہ 2004-05میں کل آبادی کا 37.2فیصد تھی، 2011-12میں گھٹ کر محض 21.9فیصد رہ گئی ہے۔ یعنی قریب چالیس کروڑ سے گھٹ کر 26کروڑ رہ گئی ہے۔ یہ ایک بہترین خبر ہو سکتی تھی، لیکن کانگریس کے ایک گروپ نے اس کی جڑ ہی کاٹ دی۔ اس نے دعویٰکیا کہ یہ چونکانے والاعدد نہیں ہے۔خطِ افلاس کا پیمانہ ہر خاندان کے لیے ہر مہینے5000روپے ہونا چاہیے۔ کچھ اور لوگوں نے کہا کہ دیہی علاقوں میں 27.2روپے فی کس آمدنی اور شہری علاقوں میں 33.3روپے فی کس آمدنی کا پیمانہمناسب ہے۔ڈھابے پر کوئی بھی شخص 12روپے میں کھانا کھا سکتا ہے۔ ظاہر ہے کہ یہ کچھ لیڈروں کے خیالات ہیں، جو صرف پاؤ بھاجی پر زندگی بسر کرتے ہوں گے۔ ایک صدی سے زیادہ مد ت سے خطِ افلاس کی تشریح، جینے کے لیے ضروری کیلوری2200-فی کس کی بنیاد پر کی جاتی رہی ہے۔ آپ حساب لگا سکتے ہیں کہ اتنی کیلوری ضروری کھانا کتنے پیسے میں آئے گا اور وہ آمدنی خطِ افلاس کا پیمانہ تھی۔ اگر آپ کے پاس اتنا بھی نہیں ہے تو آپ غریب تھے۔ ہندوستان میں پچھلے 30سالوں سے کھانے کے علاوہ ہم نے اس میں کچھ اور چیزیں جوڑی ہیں، جیسے صحت، تعلیم، توانائی، نقل و حمل (تیندولکر کمیٹی کے مطابق) اور اس کے بعد موجودہ پیمانہ طے پایا ہے۔
عالمی بینک کا مانناہے کہ جو 1.25ڈالر (قریب76روپے) سے کم کماتا ہو، وہ غریب ہے۔ اس کے مطابق 33فیصد یعنی 40کروڑ لوگ خطِ افلاس سے نیچے ہیں۔ خطِ افلاس کا پیمانہ تھوڑا بڑھائیے اور آپ پائیں گے کہ اور زیادہ لوگ غریب ہیں۔ فوڈ سیکورٹی بل کے تحت 67فیصد یعنی 80کروڑ سے زیادہ لوگوں کو سبسڈی والی قیمت پر اناج دینے کا منصوبہ ہے۔ اس لیے یہ بتائیے کہ آپ کی سیاست کیا ہے اورخطِ افلاس کا موزوں پیمانہ پاجائیں گے۔ غریبی آپ کے دماغ کا ایک ردعمل ہے، جو کہ آپ کا سیاسی اعتماد ہے، یہاں تک کہ یہ سب کچھ ایک نوالہ زیادہ کھانے تک ہی محدود ہے۔ہمارے سارے پیمانے یہ سوال نہیں اٹھاتے کہ کتنے لوگ غریب ہیں اور کیوں ہیں، اور غریبی سے باہر سے لانے کے لیے ہم ان کی کیسے مدد کرسکتے ہیں۔یہ ان خواہشات کی بات ہے جو غریبوں کے پاس ہیں۔ ان کے لیے تعلیم پانے اور اچھے روزگار کے لیے مہارت حاصل کرنے کے مواقع کے دروازے کھولے جائیں۔ غریبوں پر کھانا لٹانے اور سستے داموں میں اناج دینے سے غریبی کم نہیں ہونے والی ہے، یہ صرف لیڈروں کے لیے اطمینان کی بات کہی جاسکتی ہے۔
فوڈ سیکورٹی بل کے اعداد و شمار پر غور کیجئے، جس کا بجٹ 1.25لاکھ کروڑ کا ہے۔ 80 کروڑ لوگوں میں ہر شخص کو 1500روپے سبسڈی دی جانی ہے۔ یعنی ہر خاندان پر 7500روپے کی سبسڈی۔ اگر عالمی بینک کے پیمانے کی بنیاد پر بات کریں تو فی کس اس کادوگنا 3000ہوتا ہے۔ اگر تیندولکر کمیٹی کے پیمانے پر بات کریں تو فی کس تقسیم 4800روپے ہونی چاہیے۔ غریبی کو ہٹانے کے لیے ہم کتنا کچھ کر سکتے تھے۔ اگر ہم پبلک ڈسٹری بیوشن سسٹم کی جگہ خاندانوں کی بنیاد کے ذریعے سیدھے پیسہ پہنچاتے، پبلک ڈسٹری بیوشن سسٹم میں 40فیصد زیادہ یعنی قریب 50,000کروڑ روپے زیادہ برباد ہوں گے۔ اس لیے راہل گاندھی ٹھیک کہہ رہے ہیںکہ غریبی ایک دماغی حالت ہے،لیکن غریبوں کی نہیں، بلکہ سیاستدانوں کی۔ وہ صرف غریبی ناپنے کے لیے پیمانہ تلاش کرتے ہیں کہ غریبوں کو کھلانے کے لیے کتنے روپے خرچ کیے جاسکتے ہیں، لیکن انھیں کوئی امید نہیں دیتے۔ ایسا اس لیے ہے کیونکہ اس کے پسِ پردہ انتخابی حلقے تک محدودرکھنے، انھیں احسان مند رکھنے اور مائی باپ کانگریس کو ووٹ دینے کے تیار رکھنے کا خیال کام کرتا ہے۔ راہل گاندھی اپنی پارٹی کو اس بات کے لیے آمادہ کر سکتے تھے کہ فوڈ سیکورٹی بل کو ردی کی ٹوکری میں ڈالا جائے اور 1.25لاکھ کروڑ روپے روزگار پیدا کرنے کے لیے خرچ کیے جائیں، لیکن کیا ان کی دماغی حالت ایسی ہے؟

Share Article

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *