مہنگی پیاز کا ذمہ دار کون؟ خراب موسم، قحط ، بچولئے یا سرکار

اے یو آصف

پیاز ایک ایسا مؤثر ہتھیاڑ ہے جو کہ کسی بھی حکومت کو متزلزل کرنے، گرانے اور اقتدار میں لانے کی صلاحیت رکھتا ہے۔ 1981,1980اور1998میں اس نے مرکز، پارلیمنٹ اور دہلی و راجستھان ریاستوں میں اپنی اسی صلاحیت کا مظاہرہ کیا تھا۔ اس بار بھی 2013میں اس نے دہلی و دیگر ریاستوں کی سرکاروں کی نیند حرام کر رکھی ہے۔ آئیے اس تفصیلی مضمون میں دیکھتے ہیں کہ پیاز کے مہنگے ہونے کا اصل ذمہ دار کون ہے؟

p-11کون نہیں جانتا کہ 1980میں ہندوستان کی اولین غیر کانگریسی حکومت کو ہی پیاز لے ڈوبی تھی اور تب اندرا گاندھی اور ان کی کانگریس ،جنہیں1977میں ایمر جنسی کے ختم ہونے کے بعد منعقد عام انتخابات میں مسترد کر دیا تھا، ایک بار پھر مرکز میں اقتدار میں آ گئی تھیں۔ تب یہ انتخابات ’پیاز والے انتخابات ‘ سیمنسوب کئے گئے تھے۔پیاز مہنگی ہونے کے بعد بھی سیاسی زلزلے آئے۔ 1998میں پیاز کی قیمت 60روپے فی کلو گرام تک بڑھ جانے سے اس وقت کی دہلی کی سشما سوراج کی سربراہی والی بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی) حکومت اسمبلی انتخابات میں اکھاڑ پھینکی گئی تھی اور تب شیلا دکشت برسراقتدار ہوئی تھیں اور ہنوز دہلی کی گدی پر براجمان ہیں ۔ لہٰذا سوال یہ ہے کہ کیا اس وقت پیاز کی قیمت دہلی میں 100روپے فی کلو گرام تک بڑھ کر پہنچ جانے والی قیمت انہیں بھی لے ڈوبے گی ؟ اتنا ہی نہیںبہار میں بھی یہ 50روپے فی کلو گرام سے اوپر فروخت ہو رہی ہے اور وہاں قیمت بڑھنے کا یہ رجحان دن بدن بڑھتا ہی جا رہا ہے اور نتیش کمار حکومت کی نیند خراب کر رہا ہے۔ مغربی بنگال میں بھی پیاز 70روپے فی کلوگرام بک رہی ہے اور وہاں دیگر سبزیوں کی قیمت میں60فیصد اضافہ ہونے سے عوام سخت پریشان ہیں، جس سے ممتا بنرجی دقت میں ہیں۔ پنجاب میں پیاز کی قیمت60روپے فی کلو گرام کی حد کو پار کر لینے سے وزیر اعلیٰ پرکاش سنگھ بادل سخت الجھن میں ہیں کہ اس سے کیسے نمٹیں۔ سب سے زیادہ مسئلہ تو راجستھان میں ہو رہا ہے، جہاں پیاز و دیگر سبزیاں مہنگی ہو کر 90روپے فی کلو گرام تک پہنچ گئی ہیں۔ اس صورتحال سے نمٹنا اشوک گہلوت کی کانگریس حکومت کے لئے آسان نہیں ہے۔

1980سے لے کر اب تک تاریخ سے یہی بات سامنے آتی ہے کہ پیاز ایک ایسا مؤثر ذریعہ ہے جو کہ سیاسی پارٹیوں کی نیند حرام کر سکتا ہے، ان کو اقتدار سے اتار سکتا ہے اور انہیں اقتدار میں لا بھی سکتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ جب پیاز کی قیمت بڑھتی ہیتو سیاسی پارٹیاں پریشان ہو جاتی ہیں، مگر عجیب بات تویہ ہے کہ اس کے باوجود یہ پیاز اس بار پارلیمنٹ میں اب تک موضوع بحث نہیں بنی اور یہ اراکین پارلیمنٹ کی کھانے کی پلیٹ سے غائب نہیں ہوئی۔ویسے یہ بات بھی سبھی کو یاد ہوگی کہ ماضی میں پیاز نے اراکین پارلیمنٹ کو خوب الجھایا ہے۔ مثال کے طور پر جب نومبر 1981میں پیاز کی قیمت 16روپے فی کلو گرام تک پہنچ گئی، تب لوک دل کے رامیشور سنگھ راجیہ سبھا میں پیاز کی مالا پہنے اور پوسٹر سے لپٹے راجیہ سبھا میں داخل ہوئے ۔ تب چیئر پرسن محمد ہدایت اللہ نے ان سے دریافت کیا کہ وہ اپنے گلے میں کیا پہنے ہوئے ہیں؟ اس پر رامیشور سنگھ نے جواب دیتے ہوئے پیاز کی بڑھی ہوئی قیمت کا رونا رویا۔

1980سے لے کر اب تک تاریخ سے یہی بات سامنے آتی ہے کہ پیاز ایک ایسا مؤثر ذریعہ ہے جو کہ سیاسی پارٹیوں کی نیند حرام کر سکتا ہے، ان کو اقتدار سے اتار سکتا ہے اور انہیں اقتدار میں لا بھی سکتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ جب پیاز کی قیمت بڑھتی ہیتو سیاسی پارٹیاں پریشان ہو جاتی ہیں، مگر عجیب بات تویہ ہے کہ اس کے باوجود یہ پیاز اس بار پارلیمنٹ میں اب تک موضوع بحث نہیں بنی اور یہ اراکین پارلیمنٹ کی کھانے کی پلیٹ سے غائب نہیں ہوئی۔ویسے یہ بات بھی سبھی کو یاد ہوگی کہ ماضی میں پیاز نے اراکین پارلیمنٹ کو خوب الجھایا ہے۔ مثال کے طور پر جب نومبر 1981میں پیاز کی قیمت 16روپے فی کلو گرام تک پہنچ گئی، تب لوک دل کے رامیشور سنگھ راجیہ سبھا میں پیاز کی مالا پہنے اور پوسٹر سے لپٹے راجیہ سبھا میں داخل ہوئے ۔ تب چیئر پرسن محمد ہدایت اللہ نے ان سے دریافت کیا کہ وہ اپنے گلے میں کیا پہنے ہوئے ہیں؟ اس پر رامیشور سنگھ نے جواب دیتے ہوئے پیاز کی بڑھی ہوئی قیمت کا رونا رویا۔ تب اپنی حاضر جوابی کے لئے مشہور نائب صدر جمہوریہ ہند ہدایت اللہ نے برجستہ کہا کہ’’ پھر ہم دیکھیں گے کہ جب ٹائر اور جوتوں کی قیمتیں بڑھیں گی تب آپ کیا پہنیں گے۔‘‘ یہ وہ لمحہ تھا جب چند کانگریس (ایس)اراکین پارلیمنٹ نے اپنے ہاتھوں میں پیاز کو لیتے ہوئے احتجاج کیا اور اسے راجیہ سبھا کے چیئر پرسن کی میز پر رکھ دیا۔ پھر جیسے ہی چیئر پرسن نے اپنی میز سے اسے ہٹانے کا حکم صادر فرمایا تو اُس زمانے کے معروف رکن پارلیمنٹ آنجہانی پیلو مودی نے مذاق کرتے ہوئے کہا کہ ’’یہ تو بدقسمتی ہے کہ چیئر پرسن اپنے ساتھ سبھی پیاز کو لے کرجا رہے ہیں ۔‘‘ اس وقت لال کرشن اڈوانی نے کانگریس کو یاد دلایا کہ کس طرح اس نے 1980میں اسے انتخابی ایشو بنا لیا تھا اور بازی بھی مار لی تھی۔ دوسرے دن پیلو مودی نے ایک دوسرے رکن راجیہ سبھا رائو بریندر سنگھ کو ایک سو روپے دیتے ہوئے کہا کہ اگر پیاز کی قیمت کانگریس کے دعوے کے مطابق واقعی 6روپے سے 2روپے فی کلو گرام نیچے تک آ گئی ہے تو وہ اس رقم سے 50کلوپیاز ابھی منگا کربتائیں ۔اس پر رامیشور سنگھ نے ایک قدم اور آگے بڑھتے ہوئے 1300روپے چیئر پرسن ہدایت اللہ کی میز پر رکھتے ہوئے عرض کیا کہ سستی پیاز کا نظم کیا جائے۔ا س دوران کانگریس کے ہری سنگھ نالوا نے رقم سنبھالی اور پیاز سپلائی کرنے کا وعدہ کیا۔ علاوہ ازیں2000میں اسی پیاز کو پھینک کر ناسک کے کسانوں نے آنجہانی بی جے پی لیڈر پرمود مہاجن پر حملہ کیا تھا اور اس سے قبل 1998میں اسی پیاز نے دہلی اور راجستھان میں بی جے پی سے حکومت چھین لی تھی۔ پلاننگ کمیشن کے ایک رکن نے صحیح کہا ہے کہ پیاز ہی واحد ذریعہ ہے، جس سے افراط زر کسی شخصکے ذریعہ صحیح طور پرسمجھا جاتا ہے۔
جہاں تک پیاز کا معاملہ ہے، اس کی دنیا میں سب سے زیادہ کوریا میں (66.2ٹن ؍ہیکٹیئر) اور اس کے بعد امریکہ میں(56.1ٹن؍ہیکٹیئر) ، چین میں (24.4ٹن ؍ہیکٹیئر)، ہندوستان میں (14.4ٹن ؍ہیکٹیئر) اور پاکستان میں (13.1ٹن؍ہیکٹیئر) پیداوار ہوتی ہے۔ اسی طرح پیاز کی ہندوستان کے کرناٹک میں سب سے زیادہ پیداوار ہوتی ہے جو کہ ملک کی مکمل پیداوار کا 15فیصد ہے۔ اس کے بعد مدھیہ پردیش کا 13فیصد، گجرات کا 9فیصد اور بہار کا 8فیصد شیئرہے۔
عام تاثر یہ پھیلانے کی کوشش کی گئی ہے کہ گزشتہ برس قحط اور اس برس موسلا دھار بارش کے سبب پیاز کی قیمت بڑھی ہے، جبکہ تاجروں کا کہنا ہے کہ ڈیمانڈ اور سپلائی کے بیچ گیپ یا دوری موجودہ بحران کا ذمہ دار ہے۔ان کا کہنا ہے کہ جہاں تک دہلی کا معاملہ ہے، یہاں پیاز کی سپلائی بہت کم ہو رہی ہے۔ ان میں سے زیادہ تر کے مطابق ، دہلی میں روزانہ 130-140ٹرک پیاز آتی تھی ، جبکہ فی الوقت یہ 50ٹرک پرسمٹ گئی ہے۔آزاد پور پیاز مرچنٹ ٹریڈر س ایسو سی ایشن کے صدر سریندر بدھیر اجہ چوتھی دنیا سے کہتے ہیں کہ ر اجستھان ، مہاراشٹر اور مدھیہ پردیش سے گزشتہ ہفتہ سے پیاز آنے والے ٹرکوں میں بہت کمی واقع ہوئی ہے۔ وزیر اعلیٰ دہلی شیلا دکشت مہنگی پیاز کا ذمہ دار موسم کو قرار دیتی ہیں۔
ویسے ہندوستان کے ہول سیل پیاز سپلائی کے مرکز ناسک کا حال بھی اچھا نہیں ہے۔ وہاں لسل گائوں کے بازار میں ہول سیل قیمت میں بھی خاصہ اضافہ ہوا ہے۔اس وقت وہاںپیاز کی ہول سیل قیمت 46روپے فی کلو گرام پہنچی ہوئی ہے۔ بدھیراجہ کو توقع ہے کہ جب پیاز کی نئی فصل تمل ناڈو، آندھرا پردیش اور کرناٹک سے آئے گی، تب صورتحال میں وسط اکتوبر تک کچھ مثبت تبدیلی ہو سکتی ہے۔
ویسے یہ بھی چونکا نے والی بات ہے کہ حکومت کے فراہم کردہ ڈاٹا کے مطابق، ہندوستان نے اپریل ۔جولائی 2013کے عرصہ میں گزشتہ برس کے 6.94لاکھ ٹن کے بالمقابل 6.39لاکھ ٹن پیاز برآمد کی ہے، یعنی ملک سے باہر بھیجی ہے۔سوال یہ ہے کہ کیا حکومت مستقبل قریب میں پیاز کے تعلق سے صحیح صورتحال سے واقف نہیں تھی؟ اور اس نے ایک ایسے وقت میں جب چند دنوں بعد پیاز کا زبردست بحران پیدا ہونے والا تھا ، تب اس نے پیاز کو برآمد کیوں کیا؟ واضح رہے کہ 2012-13میں پیاز 1.8ملین ٹن اور 2013-14میں اب تک 5.11لاکھ ٹن برآمد کی گئی۔
یہ حقیقت بھی کسی سے ڈھکی چھپی ہوئی نہیں ہے کہ 2011-12میں پیاز کا ٹوٹل آئوٹ پُٹ 17.5ملین ٹن اور 2012-13میں 16.6ملین ٹن ہے، جبکہ مکمل اوسط ڈیمانڈ 15.5ملین ٹن ہے۔
اسی طرح اگر غور کریں تو معلوم پڑتا ہے کہ اس سال جنوری میں پیاز کی قیمت میں125فیصد، فروری میں182.3فیصد، مارچ میں110.7فیصد، اپریل میں90.8فیصد، مئی میں97.4فیصد اور جون میں114فیصد اضافہ ہوا ہے۔دوسری طرف وزارت کامرس کا کہنا ہے کہ پیاز کی ہول سیل قیمت میں جون 2012سے اب تک 114فیصد اضافہ ہوا ہے۔
سچ تو یہ ہے کہ پیاز کی قیمت کے بڑھنے کو ہم اتنی آسانی سے موسم کی خرابی پر محمول کر کے بحث کو ختم نہیں کر سکتے ہیں۔اس کی قیمت کے بڑھنے کے متعدد اسباب ہیں۔ افراط زر کا تعلق صحیح معنوں میں پیاز کے بازاروں سے ہے، جہاں بدعنوانی اور دھاندلیاں بے پناہ ہوتی ہیں ، جس سے فائدہ اٹھا کر تجّار قیمت بڑھا دیتے ہیں۔ ہندوستان کی قانونی مونوپولی مخالف ایجنسی کمپٹیشن کمیشن آف انڈیا (سی سی آئی) نے ایشیا میں پیاز کی سب سے بڑی منڈی جو کہ ناسک (مہاراشٹر) کے نزدیک لسل گائوں میں واقع ہے، میں ہو رہے کالے دھندے کے تعلق سے دسمبر 2010میں پیاز کی قیمت بڑھنے پر انکشاف کرتے ہوئے کہا کہ اس ماہ مکمل تجارت کا تقریباً1/5حصہ صرف ایک فرم کے پاس پایا گیا۔ اسی طرح نیشنل کونسل آف اپلائیڈ اکانومک ریسرچ کی 2012کی رپورٹ نے “Collusion”کو صاف ستھری تجارت میں بڑی رکاوٹ پایا اور یہ بھی بتایا کہ متعدد تجار بیشتر بڑے بازاروں پر قبضہ کئے ہوئے ہیں۔ جیسا کہ معلوم ہے کہ ہندوستان میں پیاز کی تجارت کمیشن پر مبنی ہے۔ تمام بچولیوں بشمول کمیشن ایجنٹ، ہول سیلر، ٹرانسپورٹر، اسٹوریج چین مالک اور حتیٰ کہ ریلوے ایجنٹ کو جولائسینس دئے جاتے ہیں وہ سب کے سب انہی تاجر خاندانوں تک ہی محدود رہتے ہیں۔
قابل ذکر ہے کہ سی سی آئی نے اپنے مذکورہ انکشاف کے بعد بنگلور میں واقع انسٹی ٹیوٹ فار سوشل اینڈ اکانومک چینج(آئی ایس ای سی) کو اس تعلق سے جائزہ لینے کی ہدایت کی۔ تب اسے بھی اس پورے معاملہ میں Malpracticesدیکھنے کو ملی۔آئی ایس ای سی نے اپنے کل گیارہ بازاروں کے سروے میں بتایا کہ منتخب بازاروں میں پیاز کی تجارت میں کمیشن ایجنٹ اور ہول سیلر کا اوسط تجربہ تقریباً20برس کا ہے، جس سے مخصوص بازار چند افراد کے قبضہ میں آ جاتا ہے۔
مذکورہ بالا تحقیق و تجزیے سے یہ بات اظہر من شمس ہو جاتی ہے کہ پیاز کی قیمت موسم کی خرابی یا کسی اور سبب سے نہیں، بلکہ پیاز کی منڈی مخصوص افراد کے قبضہ میں آجانے اور Malpracticesسے بڑھتی ہے اور پھر وہ جہاں افراط زر کو بڑھانے میں مدد کرتی ہے، وہیں عام آدمی کی زندگی کو بری طرح متاثر کرتی ہے۔ ظاہر سی بات ہے کہ پرنالہ تو حکومت پر ہی گرتا ہے کہ وہ ان سب Malpracticesکو ہونے کیوں دے رہی ہے اور انہیں روکنے میں ناکام کیوں ہے؟

Share Article

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *