جن لوک پال کے لئے وزیر اعظم کو انا کا تازہ خط

بخدمت جناب
محترم منموہن سنگھ جی
وزیر اعظم، حکومت ہند
p-3آپ کے دفتر سے محترم وی نارائن سامی کے ذریعہ 24 جولائی، 2013 کو تحریر کردہ خط موصول ہوا۔ مانسون اجلاس میں پارلیمنٹ میں لوک پال بل لانے کی یقینی دہانی آپ نے کرائی ہے۔ ٹھیک ہے۔ مانسون اجلاس میں اگر بل پاس نہیں ہو پایا، تو مجبوراً سرمائی اجلاس کے پہلے دن سے رام لیلا میدان میں میرا اَنشن شروع ہوگا۔ خط میں آپ لکھتے ہیں کہ آپ کو معلوم ہوگا کہ لوک پال اور لوک آیکت بل لوک سبھا میں 27 دسمبر، 2011 کو پاس ہو چکا ہے۔ یہی بل بحث کے لیے 29 دسمبر، 2011 کو راجیہ سبھا میں پیش کیا گیا، لیکن اس پر راجیہ سبھا میں کوئی حتمی فیصلہ نہیں ہو سکا۔ لہٰذا، 25 مئی، 2011 کو راجیہ سبھا نے یہ بل جائزے اور مطالعہ کے لیے ایک کمیٹی کے سپرد کیا۔ مذکورہ کمیٹی نے اپنی رپورٹ 23 نومبر، 2012 کو پیش کی۔
خط میں آپ نے اس بات کا ذکر بھی کیا ہے کہ آپ کو مطلع کرنا چاہتا ہوں کہ اس رپورٹ کے موصول ہونے پر مرکزی حکومت نے راجیہ سبھا کے سکریٹری کو لوک پال اور لوک آیکت بل 2011 میں مذکورہ رپورٹ میں دیے گئے مشوروں و سفارشات کے مطابق اختیاری ترمیم کرنے کے لیے اور راجیہ سبھا کے بجٹ اجلاس میں بل پاس کرانے کے لیے ضروری ہدایات بھی دیں، لیکن بجٹ اجلاس میں یہ بل پیش نہ ہو سکا۔
میرے دل میں کچھ سوال اٹھ رہے ہیں۔ رام لیلا میدان میں جب میرا اَنشن چل رہا تھا، تو جن لوک پال کی حمایت میں ملک بھر سے کروڑوں لوگ سڑکوں پر اتر آئے تھے۔ اَنشن کے 12 دن گزر جانے پر 27 اگست، 2011 کو پارلیمنٹ میں عام اتفاق رائے سے قراداد پاس ہوئی۔ وزیر اعظم صاحب، آپ نے خود مجھے اپنا دستخط شدہ خط بھیج کر اَنشن چھوڑنے کی اپیل کی تھی اور ساتھ ہی جلد از جلد جن لوک پال بل لانے کی یقین دہانی بھی کرائی تھی۔ آپ کی یقین دہانی اور لوک سبھا کی قرارداد پر پورا بھروسہ کر کے میں نے اپنا انشن ختم بھی کیا۔ لیکن مجھے افسوس ہے کہ اس بات کو دو سال پورے ہو رہے ہیں، لیکن ابھی تک جن لوک پال بل کا کوئی ذکر نہیں ہے۔ آپ خط میں لکھتے ہیں کہ لوک سبھامیں عام اتفاق رائے سے بل پاس ہوا۔ اس کے بعد راجیہ سبھا میں 29 دسمبر، 2011 کو بھیجا گیا، لیکن اس پر کوئی حتمی فیصلہ نہیں ہو پایا۔ افسوس ہوتا ہے کہ جس مطالبہ کو لے کر ملک کے عوام کروڑوں کی تعداد میں سڑکوں پر اترے، اس پر راجیہ سبھا میں بل آنے کے بعد بھی کچھ بھی نہیں ہو پا رہا ہے؟ اسے لے کر حکومت نے کوئی سنجیدہ کوشش نہیں کی ہے، یہ بات واضح ہے۔ اس لیے بل آنے میں تاخیر ہو چکی ہے۔
خط میں آپ نے یہ بھی لکھا ہے کہ راجیہ سبھا کے ذریعہ مقرر کردہ کمیٹی نے بے حد تاخیر کے بعد 23 نومبر، 2012 کو اپنی رپورٹ سونپی۔ رپورٹ ملنے پر مرکزی حکومت نے راجیہ سبھا کے سکریٹری کو لوک پال اور لوک آیکت بل 2011 میں مذکورہ رپورٹ کے مطابق، اختیاری ترمیم کر کے راجیہ سبھا کے بجٹ اجلاس میں بل کو پاس کرانے کے لیے ضروری ہدایات بھی دیں، لیکن بجٹ اجلاس میں یہ بل نہیں آ پایا۔ مرکزی حکومت کے ذریعہ راجیہ سبھا کے سکریٹری کو بجٹ اجلاس میں بل پاس کرانے کے لیے ضروری ہدایات دیے جانے کے باوجود، راجیہ سبھا سکریٹری کے ذریعہ بل راجیہ سبھا کے بجٹ اجلاس میں پیش نہیں کیا جا تا ہے، کیونکہ ہو سکتا ہے کہ سنجیدہ کوشش کرنے سے حکومت یا تو بغلیں جھانکتی رہی ہو، یا یہ بھی ممکن ہے کہ خود حکومت کی ہی اس بل کے پاس کرانے میں دلچسپی نہیں رہی ہوگی۔
پھر ایک بار آپ نے اس خط میں یقین دہانی کرائی ہے کہ سرمائی اجلاس میں اس بل کو لانے کی کوشش جاری ہے۔ دو سال کی طویل مدت کے بعد بھی پھر سے آپ محض یقین دہانی ہی کرانا چاہتے ہیں کہ سرمائی اجلاس میں بل پیش کریں گے۔ بار بار یقین دہانی کرائی جاتی رہی، لیکن اس پر عمل نہیں ہوا۔ اب تو ان یقین دہانیوں سے بھی میرا بھروسہ اٹھتا جا رہا ہے۔ اس لیے میں نے فیصلہ کر لیا ہے کہ اگر یقین دہانی کے مطابق، اب سرمائی اجلاس میں بل پیش نہیں ہوا، تو مجبوراً سرمائی اجلاس کے پہلے ہی دن سے میں دہلی کے رام لیلا میدان میں اپنا اَنشن شروع کر دوں گا۔
شکریہ
(کشن بابو رائو عرف انا ہزارے )
5اگست، 2013

Share Article

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *