اقتدار کے متوازی چلتا ہے مافیا راج

اجے کمار 
p-8اتر پردیش میں مائننگ مافیا کا طلسم کبھی کوئی سرکار نہیں توڑ پائی یایہ کہا جائے کہ سیاسی جماعتوں کے آقاؤں نے جان بوجھ کر اس طرف سے اپنی آنکھیں بند کر کے رکھیں تو غلط نہیں ہوگا۔ بھلے ہی ناجائز کانکنی کے معاملے میںیو پی کئی دیگر ریاستوں سے تھوڑا پیچھے ہو، لیکن یہاں بھی وقت کے ساتھ یہ دھندہ بڑھتا جارہا ہے۔ ندی کنارے اور پہاڑی علاقوں کا کوئی بھی ضلع ایسا نہیں بچا ہے، جو مافیا سیاست دانوں سے بچا ہو۔ بات یہیں تک محدود نہیں ہے، اس سے آگے جاکر دیکھا جائے، تو کانکنی مافیا، سیاست دانوں کی ہی سرپرستی میں پھل پھول رہے ہیں۔ وائن کنگ کے نام سے دولت اور شہرت بٹورنے والے پونٹی چڈھا نے ملائم اور مایا کی مہربانی سے ناجائز کانکنی میں خوب نام کمایا تھا۔ آج بھی اس کے ہی کارندوں کی یہاں طوطی بولتی ہے۔ کئی ارکان پارلیمنٹ اور ارکان اسمبلی تو سیدھے طور پر اس دھندے میں جڑے ہوئے ہیں۔ بی ایس پی کے سابق لیڈر اور وزیر رہ چکے بابو سنگھ کشواہا کا تو سیدھے طور پر ناجائز کانکنی میں نام آچکا ہے۔
ریاست میں ہر سال اربوں کی ناجائز کانکنی کا کاروبار ہوتا ہے۔ اس دھندے سے افسروں سے لے کر سیاست دانوں تک کو اور چندے کی شکل میں سیاسی جماعتوں کو اقتصادی فائدہ ملتا ہے۔ ایسا نہیں ہے کہ مائننگ مافیاؤں پر نکیل کسنے کے لیے قانون کی کمی ہو، لیکن ہرے ہرے نوٹوں کے سبب سب قانون طاق پر رکھ دیے جاتے ہیں۔ وقت وقت پر ناجائز اور غیر قانونی کانکنی کا دھندہ خونیں بھی ہو جاتا ہے۔ گینگ وار ہوتی ہے، تو خون خرابہ ہوتا ہے۔ غیر قانونی کانکنی کے خلاف کوئی آواز اٹھاتا ہے، تو اسے موت کی نیند سلادیا جاتا ہے۔ نوئیڈا میں غیر قانونی کانکنی کی مخالفت کرنے والے کسان پالے رام کا قتل اس بات کا تازہ ثبوت ہے۔ قدرتی وسائل کی غیر قانونی کانکنی روکنے کے لیے عدالتیں ہمیشہ سخت رہی ہیں، اس کے باوجود کبھی بھی کانکنی مافیاؤں کے حوصلے پست نہیں ہوئے۔ اگر کبھی غیر قانونی کانکنی کے خلاف کارروائی ہوتی بھی ہے، تو وہ محض خانہ پری سے زیادہ نہیں ہوتی۔
کہنے کو تو یو پی کے نوجوان وزیر اعلیٰ مائننگ مافیاؤں کے خلاف کافی سختی دکھانے کی کوشش کر رہے ہیں، لیکن ان کا ضلع اٹاوہ ہی جب مائننگ مافیاؤں کا گڑھ بنا ہو، تو حالات سمجھے جاسکتے ہیں۔ ان مافیاؤں کے سبب چنبل اور یمنا سمیت کئی ندیوں کی شکل بدل رہی ہے۔ لاکھوں روپے روزانہ مائننگ مافیا آپس میں بانٹ لیتے ہیں۔ اٹاوہ کے آس پاس ماحولیات میں کام کرنے والے ’فار کنزرویشن آف نیچر‘ کے سکریٹری ڈاکٹر راجیو چوہان کہتے ہیں کہ برسر اقتدار جماعت کے لوگ بندوقوں کی نوک پر کانکنی کا کام کرتے ہیں۔ اٹاوہ میں کئی ترقیاتی کام چل رہے ہیں، جس کے لیے بالو کا انتظام انہی مافیاؤں سے ہی ہو جاتا ہے۔
سی اے جی رپورٹ بتاتی ہے کہ جھار کھنڈ، چھتیس گڑھ، مدھیہ پردیش، راجستھان اور اتر پردیش کو گزشتہ پانچ سالوں میں 3200 کروڑ روپے کا نقصان اٹھانا پڑا۔ سی اے جی رپورٹ اس بارے میں یہاں کہتی ہے کہ ریاست میں بڑے بڑے ہائی وے بن گئے اور اس کے لیے بڑے بڑے پہاڑوں کو ختم کردیا گیا۔ اس کے بعد بھی کانکنی محکمہ سوتا ہی رہا۔ سی اے جی رپورٹ کہتی ہے کہ اتر پردیش میں قریب ساڑھے چار سو معاملوں میں ضلع افسروں نے این او سی جاری کی تھی، لیکن کانکنی کا ریونیو نہیں دیا، اس سے بھی حکومت کو 238 کروڑ روپے کے قریب نقصان ہوا۔
آئی اے ایس درگا شکتی کا معاملہ سرخیوں میں آنے کے بعد اکھلیش سرکار اور ان کے قریبی نوکرشاہوں نے مائننگ مافیاؤں کے خلاف کچھ سخت قدم اٹھائے ہیں۔ کئی جگہ مہم بھی چلائی جارہی ہے۔ غیر قانونی کانکنی کو روکنے کے لیے لکھنؤ میں ٹاسک فورس کی بھی تشکیل کی گئی ہے، مگر یہ سب اقدام ناکافی ثابت ہو رہے ہیں۔ اتر پردیش میں قریب ایک درجن قسم کے مافیاؤں کی وقت وقت پر بی ایس پی اور ایس پی سرکار میں طوطی بولتی رہی ہے۔ دوا، زمین، جنگل، پتھر، تیندو، لوہا، کوئلہ، لال بالو، اناج، شراب، مٹی وغیرہ تمام طرح کے مافیا وقت وقت پر چرچا میں رہتے ہیں۔ امتحان کا وقت ہوتا ہے، تو تعلیمی مافیاؤں کی چاندی ہو جاتی ہے۔ سرکاری ٹھیکے حاصل کرنے کے لیے تو مافیاؤں کے بیچ جنگ کی تاریخ کافی پرانی ہے۔ پوروانچل کے عتیق احمد، مختار انصاری، اکھنڈ سنگھ، برجیش سنگھ، منا بجرنگی، دھننجے سنگھ وغیرہ کا یہاں نام ہمیشہ سرخیوں میں رہا ہے۔ مشرقی اتر پردیش کے بھدوہی ضلع کے ایم ایل اے اور بی ایس پی لیڈر نند گوپال نندی پرحملے کے ملزم وجے مشرا، غازی پور کے مختار انصاری، اعظم گڑھ کے اکھنڈاور کنٹو سنگھ، بنارس کے ونیت سنگھ اور سشیل سنگھ کا پورا گروپ ایک جٹ ہو کر غیر قانونی کانکنی سے لے کر دیگر تمام جائز و ناجائز دھندوں میںراج کر رہا ہے۔ اس گروپ کے آقا کا نام ایم ایل اے وجے سنگھ بتایا جاتا ہے۔ ان لوگوں کے نام پر ہی اربوں روپے کا کاروبار ہوتا ہے۔ باغپت سے لے کر سون بھدر تک اس گروپ کا دبدبہ ہے۔ بات پرانی ہے، لیکن اندیکھی نہیں کی جاسکتی ہے۔ مافیاؤں نے کبھی مرزاپور سون بھدر میں ایک لال پتھر کے پہاڑ کو اس بیدردی سے تراش ڈالا کہ پورے کا پورا پہاڑ ہی تباہ ہوگیا۔ گورکھپور میں ان دنوں ریلوے مافیا کے نام سے مشہور سبھاش دوبے کا دبدبہ ہے۔ اس کے اوپر 45 معاملے درج ہیں۔ دوبے ریلوے میں ملازم ہیں اور بہار کے ریل مافیا راجن تیواری کا دایاں ہاتھ بتائے جاتے ہیں۔
مغربی اتر پردیش میں مائننگ مافیا کے ساتھ ساتھ سرکاری زمینوں پرناجائز قبضے، رنگداری، چینی مل مالکان سے جبراً وصولی کا دھندہ ان دنوں زوروں پر ہے۔ مشہور مافیا گروپوں میں مظفر نگر کے سشیل مونچھ، میرٹھ کے بدن سنگھ بدو اور باغپت کے دھرمیندر کرٹھل کی شہ زوری اس وقت کافی تیزی پر ہے۔ بلند شہر کے سماجوادی پارٹی کے ایم ایل اے، گڈو پنڈت کانام بھی مافیا کی فہرست میں ٹاپ پر ہے۔ نوئیڈا میںغیر قانونی کانکنی کے دھندے میں ملوث نریندر بھاٹی اور ان کے ساتھیوں کا چرچہ تو ہو ہی رہا ہے۔ کانپور میں گنگا کے کنارے سے غیر قانونی کانکنی، چمڑا تاجروں سے وصولی، سپاری لے کر قتل کے معاملے میں عتیق پہلوان جیل سے ہی اپنا گینگ چلاتا ہے۔ اس گینگ کو پولس ریکارڈ میں ڈی ٹو کا کوڈ ملا ہوا ہے۔ الہ آباد میں بی ایس پی ایم ایل اے کپل منی کروریا، ان کے بھائی بی جے پی کے ایم ایل اے اودے کروریا کا بالو کی ناجائز کانکنی میںکوئی ثانی نہیں ہے۔
بندیل کھنڈ میں بابو سنگھ کشواہا کا دبدبہ گھٹنے کے بعدیہاں پر جھانسی کے ایس پی لیڈر چندر پال یادو اور ایس پی کے ہی گھنشیام انوراگی کے گرگوں نے پوری بیتوا ندی پر ہی قبضہ کر رہا ہے۔ یہاں سے نکلی مہین اور موٹی مورنگ کی مانگ پورے ملک میں ہے۔ یہ جا ن کر حیرت ہوگی کہ بازار میں چالیس ہزار روپے فی ٹرک بکنے والی مورنگ کا 60 فیصد سے زیادہ حصہ کانکنی کے وقت ہی ان گرگوں کے ذریعے وصول کر لیا جاتا ہے۔ بیتوا سے مورنگ کی ناجائز کانکنی کے بعد ٹرکوں کو مافیا کے لوگ 50 کلو میٹر سے سو کلو میٹر تک کی دوری پر پہنچانے کی ذمہ داری بھی لیتے ہیں۔ سلطان پور میں سونو اور مونو سنگھ کا اپنا طاقتور گروہ ہے۔ سونو حال ہی میںبی جے پی میں شامل ہوئے ہیں۔ الہ آباد میں سنت گیانیشور قتل کیس میں بھی دونوں جیل میں بند رہے تھے۔ سلطانپور، فیض آباد، امبیڈکر نگر میں اس گینگ کی کانکنی سے لے کر دیگر جرائم میں طوطی بولتی ہے۔ سیاسی شہ زوری کے بل پر گونڈا میں برج بھوشن شرن، رائے بریلی کے اکھلیش کمار سنگھ، بلرام پور کے ظہیر، لکھنؤ کے ارون کمار شکلا عرف انا مہاراج، رام چندر پردھان، اناؤ کے برجیش پاٹھک بھی ناجائز دھندوں کا سامراج قائم کیے ہوئے تھے۔
بات خونی کھیل کی کی جائے، تو مشرقی اتر پردیش میں اس کی دستک پہلی بار سنائی دی۔ گورکھپور میں 70-80 کی دہائی میں اسکریپ اور ریلوے کے دیگر ٹھیکوں کو لے کر ہری شنکر تیواری ا ور ویرندر پرتاپ شاہی گروپ کے بیچ جنگ شروع ہوئی تھی۔ اسی جنگ کے بعد نسلی بنیاد پر یہ دونوں مافیا لیڈر بن کر بھی سامنے آئے۔ اس کے بعد شروع ہوا ڈان کہلوانے اور ایم پی اور ایم ایل اے بننے کا سلسلہ۔ یہ لوگ کتنے طاقتور تھے، اس بات کا احساس ایک واقعہ سے ہو جاتا ہے، جب کوئلہ مافیا کے سرتاج کہلوانے والے سوریہ دیو سنگھ کے اوپر غاز گری تو وزیر اعظم رہتے ہوئے چندر شیکھر ان کے حق میں کھڑے دکھائی دیے۔
اتر پردیش کے اس وقت کے وزیر اعلیٰ کلیان سنگھ نے 1998 میں ریاست میں سرگرم مافیاؤں کی باقاعدہ فہرست تیار کرائی تھی، جس کے مطابق اس دور میں اتر پردیش میں 744 مافیا گروپ تھے اور تب ان کا سالانہ ٹرن اوور دس ہزار کروڑ روپے تھا۔ تب پہلی بار پتہ چلا تھا کہ یو پی میں ایسا کوئی علاقہ نہیں بچا تھا، جس میں مافیا سرگرم نہ ہوں۔ کلیان کے اشارے پر ان مافیاؤں کا صفایا کرنے کے لیے اسپیشل ٹاسک فورس تشکیل دی گئی تھی۔ کئی مافیا سرغنہ مارے گئے، اس کے باوجود مافیاؤں کے حوصلے پست نہیں ہوئے۔ 2006 میں الہ آباد ہائی کورٹ نے جب سرکار سے مافیا کے بارے میں رپورٹ مانگی، تب پتہ چلا کہ تمام اقتصادی شعبوں میں مافیاؤں کا دخل ہے۔
غیر قانونی کانکنی کا اثر ہر جگہ دکھائی دینے لگا ہے۔ فیض آباد کے گپتار گھاٹ کے نزدیک بنے باندھ کو خطرہ پیدا ہوگیا ہے۔ یہی حال فیض آباد کے عمر پور گاؤں کا ہے، جہاں دھڑلے کے ساتھ کانکنی کی جارہی ہے۔ امبیڈکر نگر میں گھاگھرا کے کنارے ہورہی ناجائز کانکنی سے ریونیو کا کافی نقصان ہو رہا ہے۔ یہ واقعہ امبیڈکر نگر کے جہانگیر گنج تھانہ علاقے کے مانجھا ایسوری نصیر پور کا ہے۔ گزشتہ 26 مارچ کو یہاں غیر قانونی کانکنی کی اطلاع پر اعلیٰ پور تحصیل کے اس وقت کے تحصیلدار رام جیت موریہ عملے کے ساتھ موقع پر جا پہنچے۔ انھوں نے ناجائز کانکنی کو روکنے کے لیے کارروائی کی ہدایت دی، تو کچھ ہی پل میں مافیا اوران کے گرگے آدھمکے۔ ان لوگوں نے اسلحہ کے بل پر تحصیلدار کو یرغمال بنالیا۔ مائننگ مافیا کے چنگل سے چھوٹنے کے بعد تحصیلدار نے جہانگیر گنج تھانے میں پڈرونہ کے رہنے والے نریندر سنگھ ، برجیش سنگھ اور دو نا معلوم لوگوں کے خلاف ایف آئی آر درج کرادی۔
ضلع بلرامپور میں کانکنی کی وجہ سے پہاڑی نالے رفتہ رفتہ ندی میں تبدیل ہورہے ہیں، کئی گاؤں تباہی کے دہانے پر ہیں۔ انتظامیہ کا دعویٰ ہے کہ کانکنی پوری طرح ممنوع ہے، لیکن ریت کا کالا کاروبار یہاں دھڑلے سے چل رہا ہے۔ جیسے جیسے رات کا اندھیرا پھیلتا ہے، غیر قانونی کانکنی سے جڑے لوگ سرگرم ہو جاتے ہیں۔ یہاں ہر ماہ غیر قانونی کانکنی سے تقریباً ایک کروڑ روپے کمایا جارہا ہے۔

Share Article

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *