سائبر کھڑکی کے پیچھے کھڑا ووٹر

نیرج سنگھ 

اس بات کی چرچا گرم ہے کہ 2014 کا لوک سبھا الیکشن سوشل میڈیا کے ذریعے لڑا جائے گا۔ ایک بڑا سوال یہ ہے کہ کیا واقعی سوشل میڈیا اور اس پر سرگرم ورچوئل مڈل کلاس ہندوستانی سیاست کی سمت طے کرے گا؟ یہ تبھی ممکن ہے، جب ایک دوست کی طرح ایک ووٹ کی بھی اہمیت سمجھی جائے، ورنہ سائبر کھڑکی کے پیچھے کا ووٹر کھڑا ہی رہ جائے گا اور سوشل میڈیا ایک پروپیگنڈہ بن کر رہ جائے گا۔

p-4

ہندوستانی سیاست کے کچھ پہلوؤں پر غور کرنے پر صاف پتہ چلتا ہے کہ ملک کی سیاست اچانک بعض تبدیلیوں کے ساتھ نئے روپ میں سامنے آ رہی ہے۔ اس کے اس نئے پن پر سب سے زیادہ اثر سوشل میڈیا کا ہے۔ سیاسی حلقوں میں یہ جملہ ایک لمبے عرصے سے ہوا میں ہے کہ 2014 کا لوک سبھا الیکشن سوشل میڈیا کے توسط سے لڑا جائے گا، لیکن اس سوچ کو لے کر جس طرح سے پارٹیاں سنجیدہ ہوتی دکھائی دے رہی ہیں، تب اس بات کو سمجھنا موزوں ہو جاتا ہے کہ کیا سوشل میڈیا ’ہر ایک فرینڈ ضروری ہوتا ہے‘ کے دائرے سے نکل کر ملک کی سیاسی عبارت لکھنے کا دم خم رکھتا ہے۔
حال ہی میں کانگریس نے پارٹی آئیڈیالوجی میں دلچسپی رکھنے والے عام لوگوں سے سوشل نیٹ ورک کے ذریعے جڑنے کے لیے ایک نئے پلیٹ فارم کی شروعات کی ہے۔ پارٹی میں اسے نام دیا گیا ہے ’کھڑکی‘۔ یو پی اے سرکار کی حصولیابیوں کو گنانے کے لیے سرکار ملک بھر میں ڈجیٹل والنٹیئر بنانے کی شروعات پہلے ہی کر چکی ہے۔ بھارتیہ جنتا پارٹی تو اس سمت میں بے حد سرگرم ہے۔ ایسے ہی کوششیں تقریباً تمام سیاسی پارٹیوں کے ذریعے اس سوچ کے ساتھ جاری ہیں کہ آنے والا سماج ڈجیٹل ہوگا اور ایسے سماج پر پکڑ بنانے کے لیے ابھی سے کوشش ضروری ہے۔
حال ہی میں ’دی نیویارک ٹائمز‘ میں کالم نگار تھامس ایل فریڈ مین نے لکھا ہے کہ انہوں نے ہندوستان کے اپنے تازہ دورے کے دوران جو دیکھا، وہ ان کے لیے ایک انوکھا تجربہ تھا – ایک نئی سیاسی برادری، ہندوستان کا ورچوئل مڈل کلاس، لیکن سوال یہ ہے کہ کیا وشنو گپت کے اَرتھ شاستر یا اس سے پہلے ہی وجود میں آ چکے سیاسی داؤ پینچ اور ان کی الجھنیں اتنی سلجھ گئی ہیں کہ گزشتہ 10 سال سے وجود میں آیا سوشل میڈیا اور اس پر سرگرم ورچوئل مڈل کلاس ہندوستانی سیاست کی سمت طے کرے گا؟
کچھ دنوں پہلے آئی آر آئی ایس نالج فاؤنڈیشن، انٹرنیٹ اور موبائل ایسو سی ایشن آف انڈیا کے ذریعے کی گئی ایک مشترکہ تحقیق میں کہا گیا ہے کہ 2014 کے لوک سبھا الیکشن میں 543 لوک سبھا سیٹوں میں سے 160 سیٹوں کے نتائج کو سوشل میڈیا متاثر کر سکتا ہے۔ سوشل میڈیا کے اثر میں آنے والے یہ ایسے انتخابی حلقے ہیں، جہاں کل ووٹروں کی تعداد کے دس فیصدی فیس بک یوزرس (استعمال کرنے والے) ہیں، ساتھ ہی جہاں فیس بک یوزرس کی تعداد پچھلے لوک سبھا الیکشن میں فاتح امیدوار کی جیت کے فرق سے زیادہ ہے۔ اس اندازہ کی بنیاد پر یہ بھی کہا جا سکتا ہے کہ مہاراشٹر میں سب سے زیادہ 21، گجرات میں 17، اتر پردیش کی 14، کرناٹک کی 12، مدھیہ پردیش میں 9 اور دہلی کی سبھی 7 سیٹیں سوشل میڈیا کے سب سے زیادہ اثر میں ہیں۔ ہریانہ، پنجاب اور راجستھان کی پانچ پانچ سیٹیں، جب کہ بہار، چھتیس گڑھ، جموں و کشمیر، جھارکھنڈ اور مغربی بنگال کی چار سیٹوں کے نتائج سوشل میڈیا کے ذریعے متاثر ہو سکتے ہیں۔ ریسرچ میں 67 انتخابی حلقوں کو متوسط اثر، 60 انتخابی حلقوں کو کم اثر اور 256 انتخابی حلقوں کو بے اثر کہا گیا ہے۔ جس بنیاد پر یہ اعداد و شمار طے کیے گئے ہیں، اس پر کوئی سوالیہ نشان نہیں ہے، لیکن اس کا نتیجہ کیا ہوگا، اس کے لیے سیاست اور سوشل میڈیا کی سماجیات کو سمجھنا ہوگا۔
ڈجیٹل دنیا کا بڑا حصہ ایک حساس سماج ہے۔ سوشل میڈیا بھی اسی حساس سماج کا ایک بڑا حصہ ہے۔ اگر ٹھیک سے اس کا ساتھ ملا، تو کوئی کچھ بھی بن سکتا ہے۔ فیس بک پر راہل گاندھی کے کئی پروفائل اور پیج ہیں۔ کئی پروفائل تو ایسے ہیں، جنہیں پڑھ کر لگے گا کہ راہل گاندھی ابھی بھی بچپن میں جی رہے ہیں۔ ایسے میں جو لوگ اِن پروفائلس کو فالو کر رہے ہیں، ان کے بارے میں کیا مانا جائے کہ وہ راہل گاندھی کے حامی ہیں۔ اس کا جواب ہوگا، نہیں، کیوں کہ جیسے فیک پروفائل، ویسے فیک حامی۔ حال ہی میں ایک مثال سامنے آئی۔ راجستھان کے وزیر اعلیٰ اشوک گہلوت کے فیس بک پیج پر اچانک لائک کرنے والوں کی تعداد بڑھ گئی اور پتہ چلا کہ ان کے ایک لاکھ سے زیادہ حامی ترکی سے ہیں، جنہیں خریدا گیا ہے۔ انٹرنیٹ پر ایسی کئی ایجنسیاں سرگرم ہیں، جو پیسے لے کر لائکس فروخت کر رہی ہیں۔ ایسے خریدے ہوئے لائک کو وہ بھی، جو ترکی یا دوسرے ملکوں سے مل رہے ہیں۔ ایسے میں انہیں ووٹر یا حامی سمجھنا بے معنی ہوگا۔تو کیا سائبر ورلڈ اور خاص کر سوشل میڈیا کی حقیقت کو یکسر خارج کر دیا جائے۔ بالکل نہیں، کیوں کہ سوشل میڈیا نظام میں تبدیلی کی لڑائی کے لیے نہ صرف ایک متبادل ہے، بلکہ ایک کارگر ہتھیار بن کر ابھرا ہے۔ مثلاً، اکبر الدین اویسی کی نفرت پھیلانے والی تقریر کو یو ٹیوب پر تیزی سے پھیلنے کے بعد 8 جنوری کو اویسی کی گرفتاری، انا ہزارے کی قیادت میں بدعنوانی مخالف تحریک، جو 2011 میں کئی دنوں تک دنیا میں سب سے اوپر رہنے والا ٹوئیٹر ٹرینڈ تھا۔ دسمبر 2012 میں دہلی گینگ ریپ کے خلاف تحریک، جس نے سوشل میڈیا کے پلیٹ فارموں پر لوگوں کے تبصروں سے ہوا ملنے کے سبب وسیع شکل اختیار کر لی تھی۔ دہلی گینگ ریپ کے بعد سوشل میڈیا پر عوام کا غصہ جس طرح سے دیکھنے کو ملا، اس نے سرکار کی بھی چولیں ہلا کر رکھ دی تھیں۔
ملک کی سرحدوں سے باہر نکل کر سوشل میڈیا کی طاقت تلاشیں، تو اوبامہ کے صدر بننے میں سوشل میڈیا پر چلائی گئی ان کی انتخابی مہم کو بڑا کریڈٹ دیا گیا۔ پہلی بار کوئی انتخابی مہم پوری طرح سوشل میڈیا سے چلائی گئی تھی۔ اسی طرح مصر کی تحریک کو سوشل میڈیا سے پیدا ہوئے غصے کا نتیجہ مانا جاتا ہے، لیکن سوشل میڈیا کے توسط سے تبدیلی کی ان تمام مثالوں میں صرف اوبامہ کے الیکشن کو چھوڑ کر غور کیجئے، تو ان میں تشدد زیادہ اور تنظیمی سطح پر رول کم دکھائی دے گا۔ یہ وہ بھیڑ ہے، جس کے لیے تبدیلی کا مطالبہ فیشن ہے۔ یہ بھیڑ اپنے ساتھیوں کے ساتھ نکل پڑتی ہے، یہ نوجوان ذہنیت کا غصہ ہے، جن میں سے زیادہ تر لوگ سیاست کو ساری مشکلوں کی جڑ مانتے ہیں، لیکن اس سے نمٹا کیسے جائے، اس کا ایک ہی جواب ہے انقلاب۔ ایک تجزیہ کار کی نظر سے دیکھئے، تو ملک کی سیاسی حالت کو بدلنے کے لیے انقلاب کی نہیں، صحیح انتخاب کرنے کی ضرورت ہے، جسے صرف فیس بک کے توسط سے نہیں سمجھا جا سکتا۔ اگر سمجھا جا سکتا تھا، تو سوشل میڈیا پر بے حد سرگرم نریندر مودی گجرات میں اس وسیلہ کا بہتر استعمال کرکے اور الیکشن جیت کر جب کرناٹک پرچار کرنے جاتے ہیں، تو ناکام رہتے ہیں، جب کہ کرناٹک میں انٹرنیٹ اور سوشل میڈیا کا استعمال کرنے والوں کی تعداد گجرات سے زیادہ ہے۔
پاکستان کے سابق صدر پرویز مشرف اس اعتماد کے ساتھ پاکستان لوٹے تھے کہ پاکستان میں اُن کے 2 لاکھ سے زیادہ فالووَر ٹوئیٹر پر موجود ہیں۔ انہیں بھروسہ تھا کہ ان سے محبت کرنے والے یہ لوگ ان کے لیے جد و جہد کریں، لیکن ان کے وطن پہنچنے پر یہ ساری حمایت بس ایک قیاس آرائی ہی رہ گئی۔ کانگریسی لیڈر ششی تھرور خود یہ بات مانتے ہیں کہ ٹوئیٹر پر اُن کے فالووَرس (ماننے والوں) میں ایسے نوجوانوں کی تعداد زیادہ ہے، جن کی عمر ابھی ووٹ دینے کی نہیں ہے۔ دراصل، ہمیں یہ بات قبول کرنی ہوگی کہ ہندوستانی ووٹر مذہب، ذات، پیسہ، پاور، علاقے جیسے مدعوں پر مرکوز سیاست سے ابھی اتنا اوپر نہیں اٹھ پایا ہے کہ اس کی سوچ میں قیاس پر مبنی کسی مہم کے توسط سے تبدیلی کی جا سکے۔ جس شہری اور نوجوان ووٹر کے بھروسے ہم سوشل میڈیا کو سیاسی ہتھیار مان رہے ہیں، اسے اس مثال سے سمجھئے۔
گجرات اسمبلی الیکشن میں مودی سرکار کی ترقی کے دعووں کا مذاق اڑاتی ایک ماڈل کی تصویر آپ کو یاد ہوگی۔ ماڈل تولیکا پٹیل کو کانگریس سرکار نے گجرات میں مودی کے خلاف اپنا ’برانڈ امبیسڈر‘ بنایا تھا۔ اس سوچ کے ساتھ کہ تولیکا ریاست کے نوجوان ووٹروں کو متاثر کریں گی، لیکن تولیکا ذاتی طور پر کس کی حمایت میں ہیں؟ ’چتر لیکھا‘ میگزین کے ذریعے پوچھے گئے اس سوال کے جواب میں تولیکا نے کہا تھا کہ مجھے کانگریس پارٹی سے پیسے مل رہے ہیں، اس لیے میں ان کے حق میں پرچار کر رہی ہوں، لیکن میرا پورا خاندان بی جے پی کی حمایت میں ہے۔ دوسرے، سوشل میڈیا پر جو اوپینین میکنگ ہو رہی ہے، وہ بلائنڈ فالو ئنگ کی بنیاد پر زیاد ہے۔ پچھلے سال جب آسٹریلیا ریڈیو اسٹیشن ٹوڈے سے کی گئی پرینک کال کی وجہ سے برطانیہ کے ایک اسپتال میں ہند نژاد ایک نرس جے سنتھا سل دانہا نے خود کشی کر لی تھی، تب ہندوستانی میڈیا نے فیس بک سے اس کا نام سرچ کیا اور جو تصویر حاصل ہوئی، وہ بنگلورو کی ایک گھریلو خاتون جے سنتھا سل دانہا کی ملی۔ تین دن تک پورا ہندوستانی میڈیا بنگلورو کی خاتون کو برطانیہ کی مہلوکہ آر جے مانتا رہا۔ ایسی بلائنڈ فالوئنگس کی بنیاد پر کیا سیاسی پیچیدگیوں کو سمجھا جا سکتا ہے۔
حالانکہ جس بنیاد پر سیاسی پارٹیاں سوشل میڈیا کی طرف امیدوں سے دیکھ رہی ہیں، انہیں یکسر خارج بھی نہیں کیا جا سکتا ہے۔ اعداد و شمار پر غور کریں، تو گزشتہ 10 برسوں میں شہری آبادی کل آبادی کا تقریباً 32 فیصد ہے۔ ان میں 52 فیصد مڈل کلاس ہے اور پوری دنیا میں سب سے تیزی سے بڑھنے والے مڈل کلاس کی آبادی چین کے بعد ہندوستان میں ہی ہے۔ نوجوان آبادی سوشل میڈیا پر زیادہ سرگرم ہے اور ملک میں 35 فیصد آبادی 25 سال سے کم عمر کے نوجوانوں کی ہے۔ مردم شماری 2011 سے ملی اعدادو شمار پر غور کریں، تو 2001 سے 2011 کے درمیان ملک میں 2875 نئے شہر بنے۔ شہری آبادی بڑھی۔ ماڈرن ٹکنالوجی اور کمیونی کیشن کی سہولیات بڑھیں۔ گاؤں کی سیٹیں شہری سیٹوں میں تبدیل ہو گئیں۔ آج ملک میں تقریباً 25 کروڑ لوگ سوشل میڈیا پر سرگرم ہیں۔ کسی بھی سیاسی پارٹی کے لیے یہ اعداد و شمار نہایت حوصلہ افزا ہیں، لیکن اپنے ملک میں پولیٹیکل اوپینین میکنگ میں سیاسی لیڈروں کی حصہ داری کتنی ہے، یہ ان اعداد و شمار سے صاف ہو جاتا ہے۔ اعداد و شمار کے مطابق پارلیمنٹ سے سب سے زیادہ غیر حاضر رہنے والے ممبران وہ ہیں، جن کی عمر 45 سال سے کم ہے۔ساتھ ہی سیاسی پارٹیوں کو یہ بھی سمجھنا ہوگا کہ سائبر میڈیا پر سرگرم نوجوان ان کی لڑائی میں حصہ لینے والے سبھی ڈجیٹل فوجی ہی نہیں ہیں۔ اس میں ایک بڑا طبقہ وہ بھی شامل ہے، جسے سوشل میڈیا پر ابھار لے رہی سیاسی بحثوں سے کوئی مطلب نہیں ہے۔
ابھی یہ سمجھنا باقی ہے کہ سوشل میڈیا کے پلیٹ فارموں پر جنم لے رہا ورچوئل مڈل کلاس، کیا صرف اپنے حقوق کی لڑائی کو لے کر ہی آواز اٹھانے میں یقین رکھتا ہے یا ان کی سیاسی بیداری بھی اتنی ہی ترقی یافتہ ہے؟ ہاں، یہ تصویر خوش کن ضرور ہوگی، اگر ہر ایک فرینڈ ضروری ہوتا ہے، کو اہمیت دینے والا اِس بات کو بھی اتنی ہی اہمیت دے کہ ہر ایک ووٹ بھی ضروری ہوتا ہے۔

Share Article

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *