کولمبو بدھسٹ۔ مسلم فساد : مسئلہ زمین کی ملکیت کا نہ کہ مذہبی اختلاف کا

وسیم احمد

پہلے میانمار اور زنسکار(لداخ ،جموں و کشمیر )اور اب کولمبو(سری لنکا)میں ہوئے تنازعات سے یہ تأثر ملتا ہے کہ بدھسٹوں اور مسلمانوں میں سخت ٹکرا ئو پایا جاتا ہے جبکہ یہ سراسر غلط اور بے بنیاد ہے۔ ان مقامات میں بد ھ ازم اور اسلام کے حاملین کے درمیان جو بھی کشیدگی پائی جاتی ہے وہ فکری و نظریاتی بنیادوں پر نہیں بلکہ خالص مقامی وجوہ پر ہیں۔ ان تمام مقامات بالخصوص سری لنکا کے حالیہ تنازعہ پر روشنی ڈالتی ہوئی مندرجہ ذیل رپورٹ پیش خدمت ہے۔

p-8بدھ ازم کی تاریخ بہت پرانی ہے۔6 صدی قبل مسیح مگدھ کے دور میں اس مذہب کا تعارف ہوا۔ بہار کا علاقہ’ گیا‘ اس کا خاص مرکز رہا۔240 ق م میں شہنشاہ اشوکا نے اپنے ایک بیٹے ماہندا اور بیٹی سنگامیٹا کو سیلون ( سری لنکا) بھیجا ۔ وہاں کے راجا دیونم پیاتیسا نے ان دونوں کا پُر جوش استقبال کیا اور بدھ ازم کو فروغ دینے کے لئے ’آلوکا گوفہ ‘ میں ایک کونسل تشکیل دی۔تب سے سری لنکا میں بدھ مذہب فروغ پارہا ہے ۔ بدھسٹوں کی بڑھتی ہوئی یہ آبادی موجودہ وقت میں سری لنکا کیکل آبادی کا 70 فیصد ہوچکی ہے۔وقت کے ساتھ ساتھ بدھ ازم کو دنیا کے کئی ملکوں میں پھیلنے کا موقع ملا۔ چنانچہ سری لنکا کے علاوہ 6 ایسے ملک ہیں جہاں بدھسٹ اکثریت میں ہیں۔
دوسری طرف سری لنکا میں مسلمانوں کی آبادی2012 کی سروے کے مطابق 9.72 فیصد ہے۔بعثت رسولؐ کے بعد آٹھویں صدی عیسوی میں تاجروں کی شکل میں عرب اس ملک میں آئے اور ان میں سے بہت سے تاجروں نے یہیں شادی وغیرہ کرکے مستقل سکونت اختیار کرلی۔دیگر مذاہب کیپیروکاروں میں 12.5 فیصد ہندو اور 6.1 فیصد عیسائی ہیں۔
چونکہ سری لنکا میں مسلمان دوسری سب سے بڑی اقلیت ہے اور ان کی تعداد لگ بھگ دو کروڑ تک پہنچ گئی ہے لہٰذا قومی سیاست کے خط و خال کو طے کرنے میں ان کا اہم رول ہوتا ہے۔ ان کی سب سے بڑی سیاسی پارٹی ’سری لنکن مسلم کانگریس ‘صدر مہندا راجاپاکسے کی مخلوط حکومت میں شامل ہے ۔ مسلمانوں نے ملک کی سالمیت کو برقرار رکھنے میں ہمیشہ مثبت رویہ اختیار کیا ہے ۔یہی وجہ ہے کہ 26 برسوں سے حکومت اور تامل ٹائیگر کی خونریز جنگ میں مسلمان ہر طرح سے حکومت کے ساتھ تھے۔
تامل ٹائیگرز کی تنظیم 1976 میں سری لنکا میں علیحدہ ریاست کے حصول کے لیے قائم کی گئی تھی۔ دہشت گردی کے ذریعہ اس تنظیم نے سری لنکا کے کچھ حصوں میں اپنا اثر رسوخ قائم کر لیا تھا لیکن 2009 میں اس تنظیم کا خاتمہ کردیا گیا۔یہ تنظیم ملک کے لئے ایک ناسور تھی،جس کی وجہ سے ملک کو شدید ترین معیشتی بحران کا سامنا کرنا پڑا ۔چار سال پہلے جب اس کا خاتمہ کردیا گیا تو امید پیدا ہوئی کہ اب ملک میں امن قائم ہوگا اور گرتی ہوئی معیشت کوسہارا ملے گا۔مگر ادھر کچھ برسوں سے ملک کے اندرجس طرح سے مذہبی منافرت اور بدھسٹ اور مسلمانوں کے درمیان جو تنازع پیدا ہوا ہے، اس کی وجہ سے قومی معیشت کو زبردست دھچکا لگنے کے آثار پیدا ہوگئے ہیں۔چنانچہ چین اور جاپان جو وہاں بڑے پیمانے پر سرمایاکاری کرتا رہا ہے ،انہیں سرمایاکاری میں خسارے کا ڈر پیدا ہوگیا ہے۔ سیرو سیاحت سری لنکا کے لئے ایک بہترین آمدنی کا ذریعہہے ۔چنانچہ تامل ٹائیگر کے خاتمے کے بعد 2009-11 کے دوران 855,975 غیر ملکی سیاح سری لنکا آئے جس سے ملک کو زبردست اقتصادی منافع ہوا لیکن جب سے مذہبی منافرت کی لہر چلی ہے سیاحوں کی آمد میں تیزی سے کمی ہونے لگی ہے۔
حالانکہ سری لنکا میں دونوں مذہب کے لوگ صدیوں سے اتحاد باہمی اور بھائی چارگی کے ساتھ مل جل کر رہتے آرہے تھے۔ ان کے درمیان کسی بھی طرح کی کوئی مذہبی منافرت یا نظریاتی تنازع پیدا نہیں ہوا تھا مگر 2011 کے بعد یہاں کی کچھ شدت پسند بدھسٹ جماعتوں نے مسلمانوں کے خلاف مورچہ کھول دیا جس کی وجہ سے ملک کا امن دائو پر لگا ہوا ہے۔ ان میں خاص طور پر ایک بنیاد پرست تنظیم ’بودو بالا سینا‘ہے جو مسلمانوں کو ہدف بنا کر ماحول کو خراب کر رہی ہے۔بنیاد پرستوں کے اسی تنظیم نے چند ماہ پیشتر مقامی سطح پر فروختکیے جانے والے حلال گوشت کا سرٹیفکیٹ جاری کرنے پریہ کہہ کر اعتراض کیا تھا کہ اس سے اکثریتی غیر مسلم آبادی کے جذبات مجروح ہوتے ہیں۔ان شدت پسند جماعتوں کے مسلمانوں کو پریشان کرنے کا اندازہ اس بات سے لگایا جاسکتا ہے کہ صرف ایک سال کے اندر سری لنکا کی 20 سے زیادہ مسجدوں پرحملے ہوچکے ہیں اور کئی مسلم دکانوں کو نقصان پہنایا جاچکا ہے ۔اس تنظیم کی قیادت کچھ شدت پسند بودھ راہب کر رہے ہیں۔ یہ لوگ خود کو ’محب وطن طاقتیں‘ کہتے ہیں اور ان کا دعویٰ ہے کہ وہ بودھ اکثریت کی ترجمانی کر رہے ہیں۔اس تنظیم کا نظریہ ابتدا سے ہی شدت پسندانہ رہاہے اور ایسے قومی رہنما جن کے نظریات ان سے میل نہیں کھاتے ہیں کو ہلاک کردینا اس گروپ کی تاریخ کا حصہ رہا ہے۔چنانچہ اسی گروپ کے پیشرو بدھ انتہا پسند تالدووے سومارما تھیرو نے 25 ستمبر 1959 کو سری لنکا کی جدید حکومت کے بانی سولومن بندرانائیکے کو قتل کر دیا تھا ۔ اسی تنظیم نے رواں سال کے ماہِ جون میں 200 شدت پسند رضاکاوں کو جمع کرکے ’’ دہی والا‘‘ کے مضافاتی علاقے میں ایک اسلامی سینٹر پر حملہ کیا تھا۔اسی نے اپریل میں ’’ دھمبولا‘‘ میں مسلمانوں کو ایک مسجد میں نماز پڑھنے سے روکنے کی کوشش کی تھی، لیکن اس ہنگامے میں کسی کا جانی نقصان نہیں ہوا۔تنظیم کا کہنا تھا کہ اس مسجد کی بنیاد 1962 میں غیر قانونی طریقے پر رکھی گئی ہے۔ ابھی ایک ماہ پہلے کی بات ہے کہ کورونیگالا (Kurunegala ) کی ایک مسجد میں نماز ادا کرنے پر اعتراض کیا گیا تھااور اب یہ لوگ کولمبو کے ’’ گرانڈ پاس‘‘ ضلع کی ایک مسجد کو لے کر ہنگامہ کررہے ہیں۔ دراصل سری لنکا کا یہ حالیہ واقعہ کولمبو کے گرانڈ پاس ضلع (Grandpass district) میں مسجد دین الاسلام کا ہے، جہاں پر مسلمانوں نے خالی جگہ پر ایک مسجد تعمیر کرنے کی اجازت حکومت سے لی تھی۔ مسلمانوں کی ضرورت کو دیکھتے ہوئے حکومت نے انہیں مسجد تعمیر کرنے کی اجازت بھی دے دی۔اس جگہ پر علاقے کے مسلمانوں نے رمضان کے مہینے میں پنج وقتہ نماز اور تراویح پڑھنی شروع کردی۔ اس پر سنہالا بدھسٹ نے اعتراض کیا،لیکن اس وقت معاملے کو یہ کہہ کر رفع دفع کردیا گیا کہ رمضان کی وجہ سے یہاں پر نماز ادا کی جارہی ہے۔
رمضان مبارک ختم ہونے کے بعد بدھسٹوں نے نمازیوں کو عبادت سے روکنے کی کوشش کی لیکن مسلمانوں کو چونکہ یہاںپر مسجد بنانے کی اجازت مل چکی تھی لہٰذا انہوں نے اپنی نماز کا سلسلہ جاری رکھاجس کی وجہ سے بدھسٹوں کی ایک تنظیم’’ راون بلایا گروپ‘‘اور کچھ دیگر شدت پسند جماعتوں نے نمازیوں پر اچانک حملہ کردیا۔ اس حملے میں انہوں نے پتھر اور لوہے کے سریے کا استعمال کیا۔ بلکہ کچھ مشاہدین کا کہنا ہے کہ حملہ آوروں کے ہاتھ میں تلوار اور نوکیلے ہتھیار بھی تھے جس سے نمازیوںپر حملہ کیا گیا ۔ نتیجتاً کئی لوگوں کی جانیں گئیں اور بہت سے لوگ زخمی ہوئے ۔اس کے علاوہ مسلمانوں کی املاک کو بھی بڑے پیمانے پر نقصان پہنچایا گیا۔
افسوسناک بات یہ ہے کہ دنیا کے کئی ملکوں میں بدھسٹ اور مسلمان کثیر تعداد میں آباد ہیں اور سینکڑوں سال سے دونوں مذاہب کے لوگ ایک دوسرے کے ساتھ اتحاد باہمی کے اصولوں پر چلتے ہوئے پیارو محبت کے ساتھ رہ رہے ہیں۔ ان کے درمیان کبھی بھی نظریاتی یا مذہبی تنازع پیدا نہیں ہوا ۔البتہ کچھ ملکوں میں شدت پسند عناصر کی وجہ سے ان کے درمیان علاقائی سطح کے کچھ اختلافات پیدا ہوئے۔اب تک کی تاریخ میں ان کے درمیان جو بھی اختلاف ہوئے ،اگر اس کی گہرائی میں اتر کر دیکھا جائے تو ان میں سے کوئی بھی اختلاف یا تنازع مذہبی نوعیت کے نہیں ہیں۔ مثلاً میانمار میں بدھسٹوں کے ذریعہ مسلمانوں کا قتل عام ہوا اور ہورہا ہے ۔اسی طرح خطۂ لداخ کے زنسکار میں بدھسٹوں نے مسلمانوں پر حملے کیے اور اب سری لنکا میں مسجد اورمسلمانوں کے املاک کو نقصان پہنچایا جارہا ہے۔ ان واقعات نے کچھ سطحی فکر رکھنے والوں کو یہ کہنے کا موقع فراہم کردیا ہے کہ مسلمان دوسرے مذاہب کے ساتھ مل جل کر رہنا پسندنہیں کرتے ہیں، لہٰذان کی لڑائی کبھی عیسائیوں کے ساتھ ہوتی ہے تو کبھی یہودیوں کے ساتھ اور کبھی ہندوئوں کے ساتھ اور اب ان کی لڑائی بدھسٹوں کے ساتھ ہونیلگی ہے۔حالانکہ اس طرح کی سوچ کج فہمی کی علامت ہے۔ ورنہ معاملے کی تہہ میں دیکھا جائے تو جہاں بھی اس طرح کے واقعات ہورہے ہیں وہ ان کا باہمی سماجی یا علاقائی مسئلہ ہوتا ہے۔ مثلاً میانمار میں ان کا قتل عام ہورہا ہے مگر اس لئے نہیں کہ وہ مسلمان ہیں۔بلکہ لڑائی کی اصل وجہ یہ ہے کہ ان مسلمانوں کو وہاں کی حکومت مہاجر مانتی ہے اور سینکڑوں سال سے میانمار میں رہنے کے باوجود انہیں شہریت نہیں دی گئی ہے۔چونکہ یہ ملک بدھسٹوں کی اکثریت والا ہے اور ان کے خیال میں معاشی تنگدستی اور قومی امن کا فقدان ان مہاجروں کی وجہ سے ہی ہے ۔اگر یہ لوگ ان کا ملک چھوڑ کر چلے جائیں تو معاشی تنگدستی دور ہوسکتی ہے ۔ اس لئے وہاں کے بدھسٹ ان مہاجروں کو ملک بدر کرنے کے لئے طاقت کا استعمال کر رہے ہیں ۔ اتفاق سے مہاجروں کی یہ آبادی مسلمانوں پر مشتمل ہے لہٰذا پوری دنیا میں یہ بات پھیلا دی گئی ہے کہ یہ لڑائی مسلمانوں او بدھسٹوں کے درمیان ہے جبکہ لڑائی کا اصل محور ہے شہری اور غیر شہری ہونا۔یہ اور بات ہے کہ ان مہاجروں کو جو سینکڑوں سال سے میانمار میں آباد ہیں کو شہریت نہ دے کر ان کے ساتھ زیادتی ہورہی ہے جس کا تذکرہ اقوام متحدہ اور امریکہ کے صدر باراک حسین اوبامہ بھی کرچکے ہیں۔
جہاں تک لداخ میں زنسکار کا معاملہ ہے تو یہاں بھی معاملہ علاقائیت سے جڑا ہوا ہے اور رہی بات سری لنکا کی ،جہاں پر کولمبو کے مضافات میں مسلمانوں کی عبادت گاہوں کو تباہ کیا گیا ہے تو صورت حال کا جائزہ لینے کے بعد اندازہ ہوتا ہے کہ یہاں بھی اصل مسئلہ یہ ہے کہ جس زمین پر مسجد کی تعمیر کے بارے میں سوچا جارہا ہے وہ زمین مسلمانوں کی ہے یا نہیں؟
دراصل کولمبو کے گرانڈ پاس ضلع (Grandpass district) میں سوارناچیٹا روڈ پرمسلمانوں نے سرکار سے ایک مسجد تعمیر کرنے کی اجازت لی۔ اجازت ملنے کے بعد رمضان کے مہینہ میں انہوں نے اس جگہ پر نماز پڑھنی شروع کردی۔لیکن بدھسٹوں کا ماننا تھا کہ یہ جگہ مسلمانوں کی نہیں ہے۔جبکہ مسلمانوں کا کہنا تھا کہ حکومت نے انہیں یہ زمین مسجد کے لئے دے دی ہے ۔اب اگر صورت حال کا جائزہ لیا جائے تو یہاں بھی مسئلہ زمین کی ملکیت کا ہے،نہ کہ مذہبی اختلاف کا ۔سوچنے والی بات یہ ہے کہ اگر بدھسٹوں اور مسلمانوں میں کسی طرح کا کوئی فکری اختلاف ہوتا تو دیگر ممالک جہاں پر بدھسٹ اکثریت میں ہیں وہاں بھی دونوں کے درمیان تنازع ہوتا ،لیکن ان ملکوں میں ایسا نہیں ہورہا ہے۔اس وقت تھائی لینڈ میں 95 فیصد،کمبوڈیا میں 90 فیصد، میانمار میں 88 فیصد،بھوٹان میں 75 فیصد، سری لنکا میں 70 فیصد،تبت میں 65 فیصد، لائوز میں 60 فیصد اور ویتنام میں 55 فیصد بدھسٹ ہیں ۔ اس کے علاوہ جاپان میں تقریباً 50 فیصد آبادی بدھسٹوں پر مبنی ہے۔
کچھ ممالک ایسے ہیں جہاں ان کی اکثریت تو نہیں ہے لیکن اکثریت کے قریب تر ہے ،جیسے مکائو میں 45 فیصد اور تائیوان میں 43 فیصد بدھسٹ ہیں۔اگر ان کا مسلمانوں سے کسی طرح کا مذہبی تنازع ہوتا تو بقیہ دیگر ملکوں میں بھی ہوتا مگر چونکہ یہ ایک علاقائی لڑائی ہے لہٰذا اس کو مذہبی نام دے کر واقعہ کو غلط رخ دینے کی کوشش کی جارہی ہے حالانکہ اس لڑائی کو کمزور (اقلیت) اور مضبوط (اکثریت) کے بیچ کی لڑائی سمجھ کر پوری دنیا کو کمزور کا ساتھ دینا چاہئے اور جہاں بھی چاہے وہ میانمار ہو یا سری لنکا، مظلوم کا ساتھ دینا چاہئے مگر ایسا ہو نہیں رہا ہے بلکہ یہاںپر بھی مسلمانوں کو ہی بد نام کرکے تعصب کا مظاہرہ کیا جارہا ہے۔

مسلمانوں اور بدھسٹوں کے درمیان اصولی اختلاف نہیں: پروفیسر سنگھا سین سنگھ
ماہر بدھ ازم اور دہلی یونیورسٹی میں شعبۂ بدھسٹ و پالی اسٹڈیز کے سابق چیئرمین پروفیسر سنگھاسین سنگھ کا خیال ہے کہ مسلمان اور بدھسٹ صدیوں سے ایک ساتھ رہے ہی۔ آپس میں مل جل کر رہے ہیں اور ان دونوں میںٹکرائو کی کوئی اصولی وجہ نہیں ہے۔کیونکہ دونوں کے مذاہب سینکڑوں برس سنت پرمپرا کے حصے ہیں۔ دونوں ہی برابری کی بات کرتے ہیں، انصاف میں یقین رکھتے ہیں اور پوری انسانیت کو ایک برادری مانتے ہیں۔ لہٰذا ان دونوں میں لڑائی کی کوئی بنیادی وجہ نہیں معلوم پڑتی ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ یہی وجہ ہے کہ متعدد ممالک میں جہاں بدھسٹ اکثریتمیں ہیں، وہاں فکری و نظریاتی بنیادوں پر کسی دوسری کمیونٹی سے تنازع نہیں ہوتا ہیاور جہاں تک میانمار اور زنسکار (لداخ، جموں کشمیر) اور کولمبو (سری لنکا) کا سوال ہے، وہاں مسلم وبدھسٹ فسادات کے اسباب خالص مقامی ہیں۔
پروفیسر سنگھاسین سنگھ جو کہ بدھ ازم کے مختلف پہلوئوں پر متعدد کتابوں کے مصنف ہیں اور امور بدھ ازم پر گہری نگاہ رکھتے ہیں کے مطابق فسادات جہاں بھی ہوتے ہیں ،وہ مقامی وجوہات کی ہی بنا پر ہوتے ہیں۔ وہ کہتے ہیں کہ متعلقہ مقامات پر حکومت ، انتظامیہ و دیگر افراد کو فسادات سے متعلق معاملات کو عین وقت پر حل کر لینا چاہئے اور اسے ٹالنا نہیں چاہئے نیز کسی بھی قیمت پر بڑھنے نہیں دینا چاہئے۔ فسادات سے سبھی بالخصوص آنے والی نسلوں کا بہت نقصان ہوتا ہے جس کی بھرپائی نہیں ہوسکتی ہے۔ ان کا کہکہناہے کہ متعلقہ حکومت و انتظامیہ اسے روکیں اور بڑھنے نہ دیں۔

Share Article

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *