بی جے پی کو سچ بولنا چاہئے

سنتوش بھارتیہ 
راشٹریہ سویم سیوک سنگھ کو بھارتیہ جنتا پارٹی کو یہ صلاح دینا چاہیے کہ وہ ملک کے لوگوں سے یہ کہے کہ اگر ملک کے لوگ ایودھیا میں رام مندر بنانا چاہتے ہیں، تو وہ بھارتیہ جنتا پارٹی کو ووٹ دیں۔ اسے یہ بھی صلاح دینی چاہیے کہ صرف ایودھیا میں ہی نہیں، اگر متھرا اور کاشی میں مسجدوں کو ہٹا کر ساری جگہ کرشن جنم بھومی اور وشو ناتھ مندر کو دینی ہے، تو لوگ بھارتیہ جنتا پارٹی کو ووٹ دیں۔ راشٹریہ سویم سیوک سنگھ کو یہ بھی بی جے پی کے ذریعے اعلان کروانا چاہیے کہ دفعہ 370 اور کامن سول کوڈ اگر ملک کے لوگ چاہتے ہیں، تو بھارتیہ جنتا پارٹی کو ووٹ دیں اور آخر میں راشٹریہ سویم سیوک سنگھ کو یہ فیصلہ لینا چاہیے کہ بھارتیہ جنتا پارٹی کے ذریعے وہ ملک کے لوگوں سے کہے کہ اگر دونوں کشمیر کا مسئلہ حل کرنا ہے اور انہیں ہندوستان میں ملانے کا واضح اعلان کرنا ہے، تو لوگ بھارتیہ جنتا پارٹی کو ووٹ دیں۔
مجھے لگتا ہے کہ راشٹریہ سویم سیوک سنگھ کو اس سے بڑھ کر فیصلہ لینا چاہیے اور وہ فیصلہ یہ ہوگا کہ وہ بھارتیہ جنتا پارٹی کے ذریعے ملک کے لوگوں سے کہے کہ اگر اس ملک کو ہندو راشٹر ہونے کا اعلان کرنا ہے، تو وہ بھارتیہ جنتا پارٹی کو ووٹ دیں اور اس کے لیے بھارتیہ جنتا پارٹی کو بغیر کسی سے سمجھوتہ کیے ہوئے آر ایس ایس کی پالیسیوں کے اوپر چل کر لوگوں سے ووٹ دینے کی اپیل کرنی چاہیے۔ یہ اس لیے ضروری ہے کہ ساٹھ سال گزر گئے سنگھ کے اور بھارتیہ جنتا پارٹی کے بہت سارے لیڈر نظر سے غائب ہو گئے اور نئے لیڈر آ رہے ہیں۔ جو نئے لوگ آ رہے ہیں، وہ لوگ سنگھ کی بنیادی آئڈیالوجی میں بھروسہ نہیں کرتے اور اب خود راشٹریہ سویم سنگھ کے لوگ اپنی بنیادی آئڈیالوجی میں بھروسہ نہیں کرتے۔ ان کی شاکھائیں کم ہو رہی ہیں۔ لوگ شاکھاؤں میں اس جوش کے ساتھ جاتے نہیں ہیں اور اب سنگھ کے وفادار سویم سیوکوں کے لڑکے بھی مال کلچر اور ڈسکو کلچر کو پسند کرنے لگے ہیں۔ اسی لیے اگر اِس بار واضح اعلان نہیں ہوتا، تو سنگھ کے باقی ماندہ، بھارتیہ جنتا پارٹی کے زندہ، لیکن وفادار لوگوں پر بے اثر نیتا اسی طرح دنیا سے رخصت ہو جائیں گے۔ اگر بی جے پی ان پالیسیوں پر اعلان کرکے الیکشن لڑتی ہے، تو ان کا یہ ملک کے اوپر ایک طرح سے احسان ہوگا۔
یہ ملک آزادی کے بعد سے فرقہ واریت کی آگ میں جل رہا ہے۔ ہمیشہ لگتا ہے کہ نہ جانے کب فساد ہو جائے۔ ہمیشہ لگتا ہے کہ نہ جانے کب عدم تحفظ کا ماحول بن جائے اور اسی ماحول میں غیر ملکی طاقتیں اپنا کھیل دکھا جاتی ہیں اور ہمارے پڑوسی ملک سے آئے پیسے اور ہتھیار ہمارے ملک کو پریشان کر جاتے ہیں۔ ہتھیار اور پیسے صرف پڑوسی ملک سے نہیں آتے، ہتھیار اور پیسے اُن ملکوں سے بھی آتے ہیں، جو ہمارے پڑوسی نہیں ہیں، لیکن جن کا مفاد ہمارے ملک کے عدم استحکام میں ہے۔
اس بات کا فیصلہ ہونا ضروری ہے کہ ملک کے لوگ ہندو توا کے نام پر فرقہ وارانہ پالیسیوں میں بھروسہ کرتے ہیں یا نہیں کرتے ہیں۔ اگر ملک ان اعلانات کی حمایت میں کھڑا ہوتا ہے اور تین سو کے آس پاس لوک سبھا میں بھارتیہ جنتا پارٹی کے اراکین منتخب ہو کر پہنچتے ہیں، تو مان لینا چاہیے کہ ملک کے لوگ مسلمانوں سمیت تمام اقلیتوں کو دوسرے درجے کا شہری بنانا چاہتے ہیں اور ملک کو ہندو راشٹر بنانے کے حق میں ہیں۔ لیکن اگر ایسا نہیں ہوتا ہے اور اِن اعلانات کے باوجود بھارتیہ جنتا پارٹی کی سیٹیں 80 سے 140 کے بیچ میں آتی ہیں، تو پھر بھارتیہ جنتا پارٹی اور راشٹریہ سویم سیوک سنگھ کو یہ وعدہ کرنا چاہیے کہ وہ اپنی اُن پالیسیوں کو چھوڑ دیں گے، جن پر ملک سے انہوں نے رائے مانگی تھی اور ملک نے ان کی حمایت نہیں کی۔

مسلمان آج کانگریس کے ساتھ ہیں۔ بی جے پی کے کچھ لیڈر ہیں، جو مسلمانوں کو اپنے ساتھ لینے کی کوشش کر رہے ہیں، لیکن بڑے پیمانے پر یہ ممکن دکھائی نہیں دیتا۔ تب سوال یہ ہے کہ کیا کانگریس کے ساتھ جانا مسلمانوں کے لیے فائدہ مند ہے۔ ضرور فائدہ مند ثابت ہو سکتا ہے، اگر انہیں لگتا ہے کہ 60 سال میں ان کی زندگی میں بہت بڑی تبدیلی آئی ہے، اگر انہیں لگتا ہے کہ 60 سال میں انہیں انصاف ملا ہے، اگر انہیں لگتا ہے کہ 60 سال میں ان کے بچوں کو تعلیم حاصل ہوئی ہے اور وہ سرکاری نوکریوں میں گئے ہیں اور وہ ملک کے فیصلوں میں شرکت کر رہے ہیں۔ انہیں کانگریس کو ضرور ووٹ دینا چاہیے، اگر ان کے نام پر جیتے کانگریس کے نمائندوں نے کوئی حق کی لڑائی لڑی ہو تو۔

دراصل، اس ملک کو اگر بربادی سے بچانا ہے، ملک کو اگر مذہب اور ذات و برادری کے بھول بھلیے سے نکال کر مجموعی ترقی کی سیدھی راہ پر چلانا ہے، تو ایک بار اس کا فیصلہ ہونا ضروری ہے۔ آزادی کے بعد سے ہی ہم خوف کے ماحول میں رہ رہے ہیں۔ مسلمان ایک خوف کی زندگی جی رہے ہیں۔ مسلمانوں کا کہنا ہے کہ انہیں نہ تو روزگار میں حصہ مل رہا ہے اور نہ تعلیم میں، نہ تجارت میں حصہ مل رہا ہے اور نہ ہی ملک کی سیاست میں اور جب اتنی چیزوں میں حصہ نہیں مل رہا ہے، تو ملک کی اقتصادی پالیسی میں تو حصہ ملنے کا سوال ہی نہیں اٹھتا۔ سچر کمیٹی کی رپورٹ کہتی ہے کہ آزادی کے بعد سے مسلمانوں کی حالت دلتوں سے بدتر ہو گئی ہے۔ سچر کمیٹی کی سفارش یا ان کی رپورٹ ہندوستان کی ساری سرکاروں کے منھ پر طمانچہ ہے، جو آزادی کے بعد سے ملک کو چلا رہی ہیں۔ اسی لیے اگر ایک بار ملک یہ فیصلہ کر لے کہ اسے دکشن پنتھی پالیسیوں پر جانا ہے یا نہیں یا فرقہ واریت کے راستے پر جانا ہے یا نہیں، تبھی ترقی کا راستہ کھل پائے گا۔
مسلمان آج کانگریس کے ساتھ ہیں۔ بی جے پی کے کچھ لیڈر ہیں، جو مسلمانوں کو اپنے ساتھ لینے کی کوشش کر رہے ہیں، لیکن بڑے پیمانے پر یہ ممکن دکھائی نہیں دیتا۔ تب سوال یہ ہے کہ کیا کانگریس کے ساتھ جانا مسلمانوں کے لیے فائدہ مند ہے۔ ضرور فائدہ مند ثابت ہو سکتا ہے، اگر انہیں لگتا ہے کہ 60 سال میں ان کی زندگی میں بہت بڑی تبدیلی آئی ہے، اگر انہیں لگتا ہے کہ 60 سال میں انہیں انصاف ملا ہے، اگر انہیں لگتا ہے کہ 60 سال میں ان کے بچوں کو تعلیم حاصل ہوئی ہے اور وہ سرکاری نوکریوں میں گئے ہیں اور وہ ملک کے فیصلوں میں شرکت کر رہے ہیں۔ انہیں کانگریس کو ضرور ووٹ دینا چاہیے، اگر ان کے نام پر جیتے کانگریس کے نمائندوں نے کوئی حق کی لڑائی لڑی ہو تو۔
تب پھر آخر مسلمان کریں تو کیا کریں؟ میں نے کئی مسلمانوں سے یہ سوال پوچھا، تو انہوں نے کہا کہ ہم تو اپنے اوپر ہوئے مظالم کی بات بھی ڈر ڈر کر کہتے ہیں، کیوں کہ ایسا نہ ہو کہ ظلم کرنے والا اگلی بار ہمیں ہی نشانہ بنا لے۔ سرکار ہماری حفاظت نہیں کر سکتی، سرکار ہمیں سیکورٹی نہیں دے سکتی اور جو چھوٹی سیاسی پارٹیاں ہیں، وہ صرف زبانی جمع خرچ کر سکتی ہیں۔ لیکن ہمیں (مسلمانوںکو) کچھ دے نہیں سکتی ہیں، کیوں کہ 60 سال میں ہمیں کچھ نہیں دیا، ہمیں صرف بیوقوف بنایا ہے۔
اگر یہ سچ ہے، تو پھر جہاں ایک طرف راشٹریہ سویم سیوک سنگھ اور بھارتیہ جنتا پارٹی کو اپنی واضح باتیں رکھنی چاہئیں، وہیں دوسری طرف مسلمانوں کو اپنی انڈیپنڈنٹ طاقت کا احساس کرکے انہیں اس کے لیے اکٹھا ہونا چاہیے اور اکٹھا ہو کر انہیں کہنا چاہیے کہ ہم بغیر کسی سیاسی پارٹی کی حمایت لیے یا بغیر کسی سیاسی پارٹی کو حمایت دیے آزادانہ طور پر اپنا امیدوار کھڑا کریں گے اور وہ امیدوار اس علاقہ کے غیر مسلموں کی حمایت سے لوک سبھا الیکشن جیت جائے گا۔ الیکشن میں کچھ بھی اعداد و شمار ہوں، لیکن الیکشن میں لوگوں کے ووٹ سب سے اہم ہوتے ہیں۔ 2014 تک انتخابات میں بہتری نہیں ہونے جا رہی ہے، اس لیے یہ ضروری ہے کہ لوک سبھا کے الیکشن میں مسلمان اپنی متحدہ طاقت دکھائیں، ملک کی ان طاقتوں کو بھروسہ دلائیں، جو ان کے حقوق کے لیے لڑتی ہیں اور جو آئندہ بھی ہمیشہ لڑتی رہیں گی۔

سنتوش بھارتیہ

سنتوش بھارتیہ

Editor-in-cheif at Chauthi Duniya
سنتوش بھارتی’چوتھی دنیا‘ کے مدیر اعلی ہیں۔ہندی صحافت میں ان کا نام کسی تعارف کا محتاج نہیں ان کا شمار ہندوستان کے 10معروف صحافیوں میں کیا جاتا ہے۔ وہ ایسے مدبر اور مفکر ہیں جوتبدیلی میں یقین رکھتے ہیں۔1986میں جب انھوں نے چوتھی دنیا کا آغاز کیا تھا، تب انھوں نے صحافت کو مکمل طور پر نئے معنی دیئے تھے۔
سنتوش بھارتیہ
Share Article

سنتوش بھارتیہ

سنتوش بھارتی’چوتھی دنیا‘ کے مدیر اعلی ہیں۔ہندی صحافت میں ان کا نام کسی تعارف کا محتاج نہیں ان کا شمار ہندوستان کے 10معروف صحافیوں میں کیا جاتا ہے۔ وہ ایسے مدبر اور مفکر ہیں جوتبدیلی میں یقین رکھتے ہیں۔1986میں جب انھوں نے چوتھی دنیا کا آغاز کیا تھا، تب انھوں نے صحافت کو مکمل طور پر نئے معنی دیئے تھے۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *