بہار فرقہ پرستوں کی زد میں

اشرف استھانوی

ایک ایسے وقت جب عام انتخابات کی آہٹ سنائی پڑرہی ہے۔ ریاست بہار میں فرقہ وارانہ فسادات کا عید کے فوراً بعد مختلف مقامات میں پھوٹ پڑنا باعث تشویش ہے۔ ان فسادات کے دوران ’’مودی زندہ باد‘‘اور ’’نتیش مردہ باد‘‘ کے نعروں سے یہ بات واضح ہوجاتی ہے کہ ان فسادات میں سیاسی فیکٹر کتنا ملوث ہے۔ بحرحال وجہ جو بھی ہو جان ومال کا نقصان ناقابل برداشت ہے۔ اس تعلق سے تفصیلی رپورٹ پیش خدمت ہے:

p-9صوفی و سنتوںکی سر زمین بہار فرقہ پرستوں کی زدمیں ہے ۔ فرقہ پرست طاقتیں منظم اور متحد ہوکر ریاست کی ہم آہنگی اور خیر سگالی کی فضا کو مکدر کر نے کی پے در پے کوششیں کر رہی ہیں ۔بہار میں موجودہ خلفشار اور پورے بہار کو فرقہ پرستی کے شعلوںمیں جلا دینے کی کوشش کیا نریندر مودی کی اس دھمکی کا اثر ہے جس میں انہوں نے بی جے پی کے گنے چنے 500 ؍افراد کو نتیش کمار سے بدلہ لینے کے لئے للکارا تھا ؟۔ نوادہ فساد کے دوران مسلمانوں کی دکانوں کو جلا تے وقت فسادیوں نے نریندر مودی زندہ باد کا نعرہ لگایا ۔ اس سے صاف ظاہر ہوا کہ بہار میں جو کچھ بھی ہو رہا ہے اس کے پیچھے آر ایس ایس اور نریندر مودی کا ہاتھ موجود ہے اور ان کے گرگے موجودہ حکومت سے بدلہ لینے کے لئے پوری ریاست کے امن و امان کو خطرے میں ڈال دیا ہے ۔
بتیا میں ناگ پنچمی کے موقع سے مہا ویر اکھاڑا نکالے جانے کے بعد فرقہ وارانہ فساد پھوٹ پڑا تھا جس میں سنگ باری اور فائرنگ میں کئی لوگ زخمی ہو گئے تھے۔ جس میں 24 سالہ شارق نامی نو جوان بھی زخمی ہوا ۔ جسے شر پسندوں نے اپنی گولیوں کا نشانہ بنایا تھا ۔ وہ تشویشناک حالت میں پی ایم سی ایچ میں زیر علاج ہے۔ ابھی بتیا پر سکون بھی نہیں ہوا تھا کہ نوادہ شہر میں دو فرقوں کے درمیان تصادم کے بعد گرم ہوا ماحول ٹھنڈا ہو نے کا نام نہیں لے رہا ہے ۔ سوموار کو بھی مار پیٹ ، آتشزدگی ، سنگ باری ، فائرنگ اور بم دھماکے کے واقعات رو نما ہوئے ۔ فسادیوں پر قابو پانے کے لئے پولس کو فائرنگ اور آنسوں گیس کے گولے چھوڑنے پڑے۔
فسادیوں کی گولی سے 20 سالہ نو جوان محمد اقبال پسر محمد شمس الحق کی جائے حادثہ پر ہی موت ہو گئی ۔ جب کہ دو درجن لوگ شدید طور پر زخمی ہو گئے ۔ حکومت نے نازک صورت حال کے پیش نظر نوادہ میں کرفیو لگا دیا ہے اور ضلع پولس کپتان نالندہ ایس پی نشات تیواری اور محکمہ زراعت کے سکریٹری بی راجندر کو ضلع کلکٹرکی کمان سونپی گئی ہے۔ ریپڈ ایکشن فورس اور سی آر پی ایف کے جوان کثیر تعداد میں تعینات کئے گئے ہیں۔ 12اگست کو دن کے دو بجے سے شام کے 7 بجے تک فسادیوں کے ایک طرفہ کارروائی میں اقلیتی فرقے کی تقریباً 80 دکانیں نذر آتش کر دی گئیں اور سامان لوٹ لئے گئے۔ریلوے اسٹیشن پر مسافروں کے ساتھ بھی مار پیٹ کی جاتی رہی اور گیا -کیول جانے والی ٹرینوں کو فسادیوں نے روک کر اقلیتی فرقہ کے لوگوں کو زدو کوب کیا ۔پر تشدد ہجوم نے وجے بازار ، پرانی کچہری روڈ اور اسپتال روڈ میں واقع کئی دکانوں کو نذر آتش کر دیا ۔ فسادیوں نے پولس کی گاڑی کو بھی نشانہ بنایا ۔

کھگڑیا میں میت دفنانے کے سوال پر بھاجپائیوں نے ہنگامہ کیا ۔ قبرستان پر قبضہ جمانے کی مذموم کوشش کی جس کی وجہ سے فرقہ وارانہ تشدد بھڑک اٹھا ۔جموئی میں ایک مسجد میں شر پسندوں نے قرآن کریم کے نسخے نذر آتش کر دئیے جس کی وجہ کر ماحول کشیدہ ہو گئے، لیکن ضلع انتظامیہ کی مستعدی کی وجہ کر کوئی نا خوش گوار واقعہ رو نما نہیں ہوا، لیکن شر پسندوں کی گرفتاری نہ ہو نے سے اقلیتی فرقے میں سخت غم و غصہ پایا جا رہا ہے۔ پہلی بار نوادہ میں مسجد پر حملہ اور مسلمانوں کے دکانوں کو جلاتے ہوئے بجرنگ بلی کا نعرہ نہ لگا کرفرقہ پرستوں نے نریندر مودی زندہ باد اور نتیش کمار مردہ باد کے نعرے لگائے ۔ یہ تینوں واقعہ اس بات کی طرف اشارہ کر رہے ہیں کہ بی جے پی کے عزائم کو اگر نہیں کچلا گیا تو پورے بہار میں فرقہ وارانہ منافرت پھیلانے کی کوشش کامیاب ہو تی جائے گی اور آر ایس ایس فرقہ وارانہ پولرائزیشن کا فائدہ آئندہ انتخاب میں اٹھائے گی ۔

نوادہ ضلع کے ٹائون پولس اسٹیشن کے تحت اسلام پور ، گوندا پور میں گذشتہ سنیچر کو ایک ہوٹل مالک گاہکوں کے درمیان ہوئی معمولی نوعیت کی جھڑپ کو باقاعدہ طور پر فرقہ وارانہ فساد کی شکل دینے کی کوشش در حقیقت نتیش کمار کی موجودہ جے ڈی یو حکومت کو متزلزل کر نا ہے ۔اس جھڑپ کے سلسلے میں دو طرح کی خبریں سامنے آئی ہیں ۔ ایک خبر میں بتایا گیا ہے کہ گوندا پور بائی پاس چوک پر ایک ہوٹل کے اندر گاہکوں اور مالک کے درمیان پیسے کی ادائیگی کو لے کر جھگڑا ہوا جس کے دوران اقلیتی فرقے سے تعلق رکھنے والے گاہکوں نے ہوٹل مالک کے ساتھ نازیبا حرکت کی ، جب کہ دوسری خبر کے مطابق اقلیتی فرقہ کے یہ جوان ہوٹل مالک سے جبراً چندہ وصولنے کی کوشش کر رہے تھے اور ہوٹل مالک کے انکار کر نے پر ان کے ساتھ مار پیٹ کی گئی ۔ اس خبر کے پھیلتے ہی قرب و جواب کے اکثریتی فرقہ کے لوگ سینکڑوں کی تعداد میں ہوٹل پہنچ گئے اور گاہکوں کو نہ صرف زد و کوب کیا بلکہ ان میں سے کئی کو یر غمال بنا کر ہوٹل کے اندر بند کر دیا ۔ نو جوانوں کو یر غمال بنانے کی خبر جب اقلیتی علاقے میں پہنچی تو وہاں سے بھی کچھ لوگ جائے وقوع پر پہنچے جس کے بعد پھر دونوں ہی طرف سے سنگ باری ، لوٹ مار اور آتش زنی کی کارروائی شروع ہو گئی ۔
اس دوران جن دکانوں اور ٹھکانوں کو نقصان پہنچایا گیا ان میں سے زیادہ تر کا تعلق اقلیتی فرقہ سے تھا ۔ بعض حلقے کی خبر ہے کہ دونوں فرقوں کی جانب سے آتشی ہتھیاروں کابھی استعمال کیا گیا ہے ۔ ویسے کچھ لوگوں کا کہنا ہے کہ پولس نے پر تشدد ہجوم کو منتشر کر نے کے لئے فائرنگ کی تھی جس میں کئی لوگ زخمی ہو گئے ۔ جنہیں علاج کے لئے پی ایم سی ایچ بھیجا گیا جہاں علاج کے دوران دو شخص کی موت ہو گئی ۔مہلوکین میں سریندر رجک اور کندن کمار قابل ذکر ہیں۔ موت کی خبر کے بعد پورا شہر غم وغصہ میں ڈوب گیا ۔ دوسرے دن بھی بازار میں غیر اعلانیہ کرفیو سا نظارہ رہا ۔ لوگ دہشت میں رہے اور بازار کی تمام دکانیں بند رہیں ۔ سڑکوں پر ضلع و پولس انتظامیہ کا قافلہ دورہ کر تا رہا۔ رائٹ کنٹرول گاڑی کی سائرن کی آواز گونجتی رہی۔11اگست کو تیسرے شخص کی موت کے بعد شہر میں عوامی غم وغصہ دوبارہ پھوٹ پڑا ۔ مہلوک کے اہل خانہ اور مقامی لوگوں نے روڈ جام کر دیا ، اسی درمیان شر پسند عناصر نے وجے مار کیٹ اور گڑھ پر محلے کی اقلیتی فرقے کی دکانوں کو نذر آتش کر دیا اور سامان لوٹ لئے۔ فسادیوں نے شٹر کو نذر آتش کر تے وقت نریندر مودی زندہ باد ، نتیش کمار مردہ باد اور ضلع انتظامیہ کے خلاف جم کر نعرے بازی کی۔ پورا شہر پولس چھائونی میں تبدیل ہو گیا ہے ۔
چپے چپے پر پولس فورس تعینات کر دیا گیا ہے لیکن شر پسند عناصر نے کیول سے گیا جا رہی کئی ٹرینوں کو نوادہ برونی سگنل کے پاس اور نوادہ ریلوے کراسنگ کے قریب روک کر جم کر سنگ باری کی ۔ سنگ باری میں کئی ٹرینوں کو نقصان پہنچا۔ شر پسند عناصر نے نٹراج سنیما ہال میں گھس کر اور کئی ٹرینوں میں داخل ہو کر اقلیتی طبقہ کے لوگوں کو تلاش کر کے پیٹا ۔ نوادہ کے شریف کالونی کے 65 سالہ حاجی اسحق کی داڑھی نوچ لی گئی اور انہیں بری طرح زد و کوب کیا گیا۔ فسادیوں نے سبزی بازار مسجد میں بھی آگ لگا دی اور مسجد کے کٹرہ میں واقع کئی دکانیں نذر آتش کر دی۔
ادھر بہار قانون ساز کونسل کے رکن پرو فیسر غلام غوث نے وزیر اعلیٰ نتیش کمار سے نوادہ شہر کی صورت حال پر تفصیلی بات چیت کی اور وزیر اعلیٰ سے مطالبہ کیا کہ وہاں کی صورت حال انتہائی سنگین ہے اس لئے شہر کو فوج کے حوالے کیا جائے۔ پرو فیسر غوث نے کہا کہ مقامی پولس کا فسادیو ںپرکوئی اثر نہیں ہے اور کرفیو کے با وجود اقلیتی فرقے کی املاک اور اقلیتی فرقے کو نشانہ بنا رہے ہیں۔ حکمراں جنتا دل یو کے نوادہ ضلع صدر اور بہار قانون ساز کونسل کے رکن سلمان راغب نے نوادہ کے لوگوں سے ہر قیمت پر امن و امان بحال رکھنے ، صبر و ضبط و تحمل سے کام لینے اورافواہوں پر دھیان نہ دینے کی اپیل کی ہے ۔ انہوں نے کہا ہے کہ جب سے نتیش حکومت نے بی جے پی سے علیحدگی اختیار کی ہے تب سے فرقہ پرست عناصر منظم ہو کر ضلع میں ہم آہنگی اور خیر سگالی کے فضا کو مسموم کر نے پر آمادہ ہیں ، لیکن ان کی ناپاک کوشش کامیاب نہیں ہو گی۔ فرقہ پرستوں کے خلاف سخت کارروائی کی جائے گی اور کسی بھی حال میں ہندو مسلم اتحاد کو توڑنے کی اجازت نہیں دی جائے گی۔
دوسری طرف امیر شریعت امارت شریعہ بہار حضرت مولانا سید نظام الدین نے نوادہ کی صورت حال کو انتہائی سنگین قرار دیا ہے اور شہر میں فرقہ وارانہ فساد کے دوران بڑے پیمانے پر اقلیتوں کی جانی و مالی نقصانات پر گہری تشویش کا اظہار کیا ہے اور کہا ہے کہ مقامی پولس اور دیگر فورس فساد پر قابو پانے میں پوری طرح ناکام ہے ۔ فسادی پوری طرح آزاد ہیں اور ان پر پولس کی کارروائی کا کوئی اثر نہیںہو رہا ہے ۔ ضلع انتظامیہ امن و امان کے قیام میں پوری طرح ناکام ہے۔ اس لئے بلا تاخیر نوادہ ضلع کو فوج کے حوالے کیا جائے۔ انہوں نے اس بات پر بھی تشویش کا اظہار کیا کہ اتنے بڑے پیمانے پر فساد ہو نے کے با وجود ریاست کا کوئی وزیر جائے وقوع پر نہیں پہنچ سکا۔ انہوں نے مطالبہ کیا کہ وزیر اعلیٰ نتیش کمار خود نوادہ کا دورہ کریں اور ان کے وزراء بھی وہاں کیمپ کریں تا کہ حالات پر پوری طرح قابو پایا جا سکے ۔ انہوں نے کہا کہ اگر حکومت نے فوراً اقدامات نہیں کئے تو اندیشہ ہے کہ فساد دیہی علاقوں میں پھیل جائے گا اور یہ زیادہ تباہی کی شکل اختیار کر لے گا۔
امیر شریعت نے مزید کہا کہ نوادہ سے مسلسل اطلاعات موصول ہو رہی ہیں کہ بڑے پیمانے پر اقلیتی فرقے کے املاک کو نقصان پہنچایا جا رہا ہے ۔ فساد کے تیسرے دن بھی فسادیوں نے سب سے زیادہ تباہی مچائی ۔ عورتوں اور بچوں پر حملے کئے گئے ، کرفیوں کے با وجود اقلیتوں کی دکانوں کو نذر آتش کیا گیا اور سامان لوٹ لئے گئے۔ اب تک تقریباً ڈیڑھ کروڑ کی املاک کا نقصان ہواہے۔ پولس والے گھروں میں گھس کر لوگوں کو گرفتار کر ہے ہیں۔ سوال یہ نہیں ہے کہ ہندو مارا جا رہا ہے یا مسلمان۔ سوال یہ ہے کہ کسی کا بھی جانی ومالی نقصان ہو رہا ہے تو کیوں ہو رہا ہے ، انتظامیہ کیا کر رہی ہے۔ صرف پٹنہ میں حکومت کی طرف سے بیان دیا جا رہا ہے کہ شر پسندوں سے سختی سے نپٹنے کی ہدایت دی گئی ہے ۔ لیکن اس ہدایت کا کوئی اثر دکھائی دیتا نظر نہیں آ رہا ہے ۔ فسادی پورے ضلع میں دندناتے پھر رہے ہیں ، ان کے حوصلے بلند ہیں اور پولس خاموش تماشائی بنی بیٹھی ہے۔
کھگڑیا میں میت دفنانے کے سوال پر بھاجپائیوں نے ہنگامہ کیا ۔ قبرستان پر قبضہ جمانے کی مذموم کوشش کی جس کی وجہ سے فرقہ وارانہ تشدد بھڑک اٹھا ۔جموئی میں ایک مسجد میں شر پسندوں نے قرآن کریم کے نسخے نذر آتش کر دئیے جس کی وجہ کر ماحول کشیدہ ہو گئے، لیکن ضلع انتظامیہ کی مستعدی کی وجہ کر کوئی نا خوش گوار واقعہ رو نما نہیں ہوا، لیکن شر پسندوں کی گرفتاری نہ ہو نے سے اقلیتی فرقے میں سخت غم و غصہ پایا جا رہا ہے۔ پہلی بار نوادہ میں مسجد پر حملہ اور مسلمانوں کے دکانوں کو جلاتے ہوئے بجرنگ بلی کا نعرہ نہ لگا کرفرقہ پرستوں نے نریندر مودی زندہ باد اور نتیش کمار مردہ باد کے نعرے لگائے ۔ یہ تینوں واقعہ اس بات کی طرف اشارہ کر رہے ہیں کہ بی جے پی کے عزائم کو اگر نہیں کچلا گیا تو پورے بہار میں فرقہ وارانہ منافرت پھیلانے کی کوشش کامیاب ہو تی جائے گی اور آر ایس ایس فرقہ وارانہ پولرائزیشن کا فائدہ آئندہ انتخاب میں اٹھائے گی ۔
نتیش کمار کو فساد زدہ علاقوں کا دورہ کر نا چاہئے اور مسلمانوں کے اندر سے عدم تحفظ کے خدشات کو دور کر نا چاہئے ۔ بہار کے موجود ہ افسران زیادہ تر بھاجپائی وزراء کے زیر اثر رہے ہیں۔ کیوں کہ آر ایس ایس کی پرانی تکنیک ہے کہ اقتدار میں جائو تو پہلے افسران کا برین واش کرو اور ان کے دماغ میں ہندوتو کا زہر گھولو تا کہ وہ جس چیز کو دیکھے آر ایس ایس کے نظر سے دیکھے اور ان کا جو بھی قدم بھی اٹھے وہ اقلیتوں اور مسلمانوں کے خلاف اٹھے۔ صرف فسادکو ہی دیکھنے کی ضرورت نہیں ہے بلکہ بہار میں جو چہار طرفہ یلغار ہو رہی ہے اس کے پس منظر کو بھی جانچ کے دائرے میں لانے کی ضرورت ہے۔ کل تک جو تمام ریشہ دوانیوں کے لئے ذمہ دار تھے آج وہ حکومت کے خلاف گلا پھاڑ رہے ہیں ۔ فار بس گنج فائرنگ کو ہی لیں۔ نائب وزیر اعلیٰ سشیل مودی جو محکمہ مالیات کے انچارج تھے انہوںنے فار بس گنج کے مظلوموں کو کسی طرح کا معاوضہ نہیں دینے دیا اور بھاجپائی ایم ایل سی کو بچانے کے لئے عدالتی تحقیقات کے نام پر سارے معاملات کو رفع دفع کر نے کی کوشش کی۔
حالانکہ وزیر اعلیٰ نتیش کمار نے افسران کو سختی کے ساتھ فسادیوں سے نپٹنے کی ہدایت دی ہے اور عوام سے امن و امان بنائے رکھنے اور فرقہ وارانہ ہم آہنگی کو بچائے رکھنے کی اپیل کی ۔ انہوں نے تمام سیاسی جماعتوں سے بھی پر امن ماحول بنانے کی گذارش ی ہے ۔ دوسری طرف نتیش کمار کے وزراء بھی اپنی حماقتوں اور جہالتوں کی وجہ سے حزب مخالف کو زبان کھولنے کا موقع دے دیا ہے ۔ پٹنہ کی عدالت نے نتیش کمار کے وزیر بھیم سنگھ اور نریندر سنگھ پر ملک سے غداری کر نے کا مقدمہ دائر کر دیا ہے ۔ ایسا لگتا ہے کہ وزراء اپنا آپا کھو چکے ہیں۔ انہیں سرحد پر لڑنے والوں فوجیوں کی توہین کر نے کا حق کس نے دے دیا ہے ؟۔ بھیم سنگھ نے اپنی پست ذہنیت کا ثبوت دیتے ہوئے یہ کہہ دیا کہ فوجی اور پولس والے تو مرنے کے لئے ہی پیدا ہو تے ہیں ۔ دوسری طرف وزیر زراعت نریندر سنگھ نے سرحد پر ہوئی پاکستانی ریشہ دوانیوں کے لئے پاکستان کو کلین چٹ دینے کی حماقت کی ۔ اس کے بعد ایک تیسرے وزیر گوتم سنگھ نے اپنی گندی ذہنیت کا مظاہرہ کر دیا اور ایک طرح سے بھیم سنگھ کی الفاظ کو اپنی زبان دیتے ہوئے یہ کہہ دیا کہ شہید فوجیوں کی میت کو ایئر پورٹ پر ریسیو کرنے کے لئے کسی وزیر کو جانے کی ضرورت نہیں ہے ۔ جب کہ خود وزیر اعلیٰ اپنی مصروفیت کے باعث اس بات پر شرمندگی کا اظہار کر تے ہوئے کہا کہ وہ ایئر پورٹ نہیں پہنچ سکے ۔ ایسا لگتا ہے کہ یہ وزراء نتیش حکومت میں شامل ہو تے ہوئے بی جے پی کے لئے راستہ ہموار کر رہے ہیں ۔ آر جے ڈی اور دیگر سیاسی جماعتوں نے ان وزراء سے استعفیٰ کا مطالبہ کیا ہے۔
سیاسی مبصرین کا خیال ہے کہ اگرنتیش کمار نے فرقہ پرستوں اور شر پسندوں کے خلاف سخت کارروائی نہیں کی اور افسر شاہی پر لگام نہیں لگایا تو آئندہ انتخاب میں جے ڈی یو کو دو طرفہ فضیحت اٹھانی پڑے گی اور نتیش کمار مسلمانوں کو مطمئن کر نے میں پوری طرح ناکام رہیں گے ۔ اس وقت ان کے حاشیہ بر دار بغلیں جھانک رہے ہوں گے۔ یا دوسری جماعت کا بیڑا غرق کر نے کے لئے پارٹی بدلنے کی کوشش کر رہے ہوں گے اور دوسری طرف آر ایس ایس ان کو تباہ و برباد کر نے کے لئے پوری طرح سر گرم رہے گی۔

Share Article

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *