امریکی لابنگ فرم بنائے گا مودی کو وزیر اعظم

روبی ارون 

ہندوستانی سیاست کی ایک بساط اِن دنوں امریکہ میں بھی بچھ رہی ہے۔ ہندوستان کا وزیر اعظم کون بنے گا اور کس طرح بنے گا، یہ بات اِن دنوں وہیں طے ہو رہی ہے۔ جب راہل گاندھی امریکی صدر براک اوباما کی صلاح کار اسٹیفنی کٹر سے وزیر اعظم بننے کا ہنر سیکھ رہے ہوں، تو بھلا نریندر مودی کیسے پیچھے رہ سکتے تھے۔ لہٰذا، نریندر مودی نے بھی خود کو ہندوستان کا وزیر اعظم بنانے کا ٹھیکہ اسرائیل سے گہرے تعلقات رکھنے والی امریکہ کی ہی ایک لابنگ اور پی آر ایجنسی ’’ایپکو ورلڈ وائڈ‘‘ کو دے دیا ہے۔ ایپکو کی حکمت عملی ہے ’’کسی بھی حل کے طور پر جارحیت‘‘ کو بیچنا۔ یہ کمپنی مودی کو وزیر اعظم بنانے کے لیے کس قسم کی حکمت عملی بنا رہی ہے اور مودی اس پر کیسے عمل کر رہے ہیں، آئیے دیکھتے ہیں اس تفصیلی اور چونکانے والی رپورٹ میں …

p-3سابق نائجیریائی تانا شاہ ثانی اباچا اور تا حیات قزا قستان کے صدر بنے رہنے والے تانا شاہ نور سلطان ایبی شولی نظر بائیف کی برانڈنگ کرنے والی کمپنی ’’ایپکو ورلڈ وائڈ‘‘ کی بانی صدر مارگیری کراؤس نے مودی کو یہ بھروسہ دلایا ہے کہ ان کی لابنگ کمپنی ’ایپکو‘ مودی کو ہندوستان کی کرسی پر شرطیہ بٹھائے گی۔ لابنگ اور پی آر میں ماہر ایپکو کمپنی کے ساتھ امریکی رپبلکن اور ڈیموکریٹک پارٹی کے سابق سنیٹروں، دوسرے ملکوں کے سابق سربراہانِ مملکت سمیت ہندوستان کے سابق خارجہ سکریٹری اور امریکہ اور انگلینڈ میں ہندوستان کے سفیر رہ چکے للت مان سنگھ بھی کام کرتے ہیں۔
مارگیری کراؤس نے نریندر مودی کے سر پر وزیر اعظم کا تاج سجانے کا ذمہ ایپکو کے انڈیا آفس کے منیجنگ ڈائرکٹر سوکانتی گھوش کو سونپا ہے۔ سوکانتی اور ان کی ٹیم مودی کو ایک برانڈ کے طور پر قائم کرنے کے لیے دن رات کام کر رہی ہے۔ مودی کو وزیر اعظم بنانے کی سوکانتی گھوش کی مہم میں بارہ امریکی کمیونی کیشنز ایکسپرٹ کا ایک قافلہ شامل ہے، جو کہ سوکانتی گھوش کے ممبئی آفس میں بیٹھ کر کام کرتا ہے۔ سوکانتی گھوش ہر دن نریندر مودی کو ایک میڈیا ڈاکیٹ تیار کر کے دیتے ہیں، جس میں ان کی میڈیا اسٹریٹجی سے لے کر ہر وہ بات شامل ہوتی ہے، جو مودی کو پی ایم کی کرسی پر قابض کرا سکے۔ نریندر مودی ہر رات سوکانتی گھوش سے فون پر گھنٹوں بات کرتے ہیں۔ سوکانتی سے وہ نئے نئے سیاسی جملوں اور محاوروں پر چرچا کرتے ہیں اور یہ طے کرتے ہیں کہ انہیں عوام کے سامنے کب اور کیا بولنا ہے۔ پھر اپنی بات کا اثر جاننے کے لیے مودی سوکانتی سے فیڈ بیک بھی لیتے ہیں۔ مودی نے سوکانتی اور ان کی ٹیم کو اپنے طریقے سے کام کرنے کی پوری چھوٹ دی ہوئی ہے، کیوں کہ سوکانتی نے ان سے پہلے ہی کہہ رکھا ہے کہ اگر نریندر مودی انہیں آزاد ہوکر اپنے طریقے سے کام کرنے دیں، تو ایپکو کی ٹیم انہیں ہندوستان کے وزیر اعظم کی کرسی تک پہنچا سکتی ہے۔ مودی کو ہندوستان کا وزیر اعظم بنانے سے جڑا سارا کاروبار ایپکو کے ممبئی آفس سے کنٹرول ہوتا ہے، جب کہ امریکہ کی ٹیم ’برانڈ مودی‘ کے ریئل ٹائم کو مینج کرتی ہے۔ یہ پی آر اور لابنگ کمپنی غیر ملکی اخبارات و رسائل اور قلم کاروں و صحافیوں کو مودی کے پاس لانے کا کام کرتی ہے اور بیرونی ممالک میں نریندر مودی کی امیج بلڈنگ کرتی ہے، تاکہ غیر ملکی سرمایہ کاروں کا گجرات کے تئیں رجحان بڑھے اور وہ گجرات میں سرمایہ لگائیں۔ ایپکو کمپنی ’پبلک افیئر‘ اور ’پبلک پالیسی‘ کے ساتھ ساتھ بزنس اسٹریٹجی بنانے میں ماہر سمجھی جاتی ہے۔ ایپکو نہ صرف مودی کو ہندوستان کے وزیر اعظم کے عہدہ کے سب سے مضبوط امیدوار کے طور پر قائم کر رہی ہے، بلکہ وہ 2014 کے انتخابات کی خاطر مودی کے لیے بین الاقوامی برادری اور بازار سے پیسہ بھی جمع کر رہی ہے۔ اسی کے سہارے مودی نے پارٹی فنڈ میں بھی 700 کروڑ روپے دینے کا وعدہ پارٹی صدر راجناتھ سنگھ سے کر لیا ہے۔ دراصل، ایپکو ہی وہ پی آر کمپنی ہے، جو ہندوستان میں سوشل سائٹ فیس بک کی مارکیٹنگ اور پرچار کا سارا کام کاج دیکھتی ہے۔ ظاہر ہے کہ فیس بک پر نریندر مودی کے نام سے بنے فین پیجز، مودی کے تئیں زبردست لگاؤ دکھاتی ان کے مداحوں کی تعداد، ہندوستان کے وزیر اعظم کے روپ میں انہیں پیش کرنا، مودی سے متعلق پوسٹ اور ان کی اندھی حمایت کرتے ہوئے مداحوں کے سینکڑوں کی تعداد میں کمینٹس، یہ سب کچھ سوکانتی گھوش اور ان کی ٹیم کی زبردست برانڈ بلڈنگ کا نتیجہ ہے۔ یہ ایپکو اور سوکانتی گھوش کی اسٹریٹجی ہی ہے کہ سوشل میڈیا پر مودی کے مداحوں کے ذریعے انہیں وزیر اعظم ہونے کا اعلان کیا جا چکا ہے۔ نریندر مودی کے نام کو مختصر کرکے اسے ’’نمو‘‘ کرنا اور اسے ہندو تہذیب اور مذہب سے جوڑنا اور ہندوتوا کے نام پر حامیوں کے جذبات میں اُبال لانا، یہ سب کچھ پی آر کا ہی کمال ہے۔
مودی کی شبیہ کو چمکیلا بنانے کے لیے یہ کمپنی بیچ بیچ میں موقع اور دستور کے مطابق شگوفے بھی چھوڑتی ہے۔ مثلاً اتراکھنڈ میں آئی آفاتِ سماوی کے وقت اس طرح کی خبریں آنا کہ نریندر مودی نے سیلاب اور زمین کھسکنے میں پھنسے 1500 لوگوں کی جان بچائی ہے۔ اس خبر کے سوشل سائٹس پر آنے کے بعد سیاسی دنیا میں کھلبلی مچ گئی۔ اتراکھنڈ کے حالات اور مخالف ماحول کے درمیان ایسا کر جانا اور وہ بھی متاثرہ لوگوں کی راحت رسانی کے کام میں لگی فوج تک کو بھنک لگے بغیر، ممکن نہیں تھا۔ جب بعض سماجی کارکنوں نے مودی کے دعوے کی صداقت کی جانچ کی، تب اس کارنامہ کے پیچھے ایپکو کا نام سامنے آیا۔ بعد میں بھلے ہی مودی سے جڑی یہ بات ہوائی ثابت ہوئی، لیکن یکبارگی عام عوام کے ذہن میں نریندر مودی کی مسیحا والی شبیہ تو بیٹھ ہی گئی۔
پانچ روپے کا ٹکٹ خرید کر مودی کی تقریر سننے کی پیش کش کا منصوبہ بھی سوکانتی گھوش کا ہی آئڈیا تھا، جس کا مقصد تھا سیاسی پارٹیوں کے درمیان نریندر مودی کی زبردست مقبولیت اور عوام میں ان کی بڑی پیمانے پر قبولیت ثابت کرنا۔
ظاہر ہے، نریندر مودی اپنی برانڈ بلڈنگ سے بے حد پرجوش اور امید افزا ہیں۔ مودی نے بی جے پی کی پارلیمانی کمیٹی کی میٹنگ میں یہ صلاح دے ڈالی کہ بی جے پی بھی اسی کمپنی کو اپنی تشہیر اور پرچار کا ذمہ دے دے۔ بی جے پی نے یہ مشورہ مان لیا ہے اور اس نے اس بابت ایپکو سے بات بھی کر لی ہے۔ اب بی جے پی دس رکنی میڈیا اور کمپین کمیٹی بنائے گی، جو سوکانتی گھوش کی نگرانی میں 2014 کے انتخابات میں سوشل میڈیا کو اپنا خاص ہتھیار بنا کر بی جے پی کے حق میں استعمال کرے گی۔
حالانکہ ایپکو کی بانی صدر مارگیری کراؤس اِس بات سے انکار کرتی ہیں کہ ان کی کمپنی نریندر مودی کو ہندوستان کا وزیر اعظم بنانے کے لیے کوئی بھی مہم چلا رہی ہے۔ ان کی کمپنی صرف ’’وائبرینٹ گجرات‘‘ مشن پر کام کر رہی ہے اور بین الاقوامی بازار اور برادری میں اسے پروموٹ کر رہی ہے، تاکہ غیر ملکی سرمایہ کاروں کو گجرات میں سرمایہ لگانے کے لیے مائل کر سکے۔ لیکن سمجھنے والی بات یہ ہے کہ یہ پروگرام بھی نریندر مودی کی ہی امیج بلڈنگ کر رہا ہے، تو بھلا مارگیری کراؤس اس حقیقت سے کیسے انکار کر سکتی ہیں کہ وہ اور ان کی کمپنی مودی کے لیے مہم نہیں چلا رہے ہیں۔
بہرحال، ایپکو نے مودی کے لیے کی جا رہی اپنی لابنگ پر اٹھ رہے سوالوں سے دہلی کی ایک پی آر کمپنی ’آکرتی‘ سے اتحاد کر لیا ہے۔ ’آکرتی‘ نے اپنے ماتحت ایسی درجنوں پی آر کمپنیوں کو جوڑا ہے، جو چوبیسوں گھنٹے مودی کی تشہیر اور پرچار کے لیے مسائل اور ایشوز کی تلاش کرتی ہیں اور حکمت عملیاں بناتی ہیں، تاکہ ان کی بناپر مودی کا نام ہر وقت سرخیوں میں چھایا رہے۔ پی آر کمپنیوں کو یہ ہدایت دی گئی ہے کہ نریندر مودی اور ان کی سرکار کے ذریعے فراہم کی گئی اطلاعات کی بنیاد پر ہر دن کم از کم آدھا درجن علاقائی اور قومی اخبارات، مقامی زبانوں میں نکلنے والے اخبارات، ٹیلی ویژن چینلوں پر مودی کا نام اور ان سے جڑی خبر ہونی چاہیے۔ اس کے علاوہ ہندوستان میں مودی کے نام پر چل رہے تنازع سے جڑی خبروں کی مذمت تفتیشی اور مودی کی تعریف والی رپورٹ کی شکل میں غیر ملکی میڈیا میں بھی نظر آنی چاہیے۔ اس کام میں تقریباً ڈیڑھ سو پی آر ملازمین لگے ہوئے ہیں، جو گجرات اور دہلی کے علاوہ چھتیس گڑھ، بہار، کرناٹک، مغربی بنگال وغیرہ ریاستوں میں بھی، جہاں اسمبلی الیکشن ہونے ہیں، وہاں مودی کی شبیہ کو چمکانے کا کام کر رہے ہیں۔
نریندر مودی ہی پی ایم عہدہ کے صحیح دعویدار کیوں ہیں، اسے بتانے کے لیے اب ’’مودی فلائنگ انڈیا‘‘ نام سے مہم شروع کی جا رہی ہے، جس کے تحت مودی کی کامکس اور ویڈیو گیمس کو بھی لانچ کیا جا رہا ہے۔ ان کامکس اور ویڈیو گیمس میں مودی کو سپر ہیرو کے طور پر دکھایا جائے گا۔ مودی نام کا یہ سپر ہیرو ویڈیو گیمس اور کامکس میں کرپشن سے لڑتا ہوا دکھائی دے گا اور اسے جیتتے ہوئے بھی دکھایا جائے گا۔
ویسے تو مودی نے ایپکو سے سال 2007 کے اگست ماہ میں ہی اس بات کا قرار کیا تھا کہ یہ کمپنی مودی کی ’’وائبرینٹ گجرات‘‘ مہم کا بین الاقوامی سرمایہ کاروں کے درمیان گجرات کو لے کر بیداری پیدا کرے گی۔ اس وقت گجرات میں اسمبلی کے انتخابات بھی ہونے تھے۔ مودی اپنے اوپر لگے 2002 کے داغ کو دھونا چاہتے تھے۔ مودی نے اپنی شبیہ بدلنے اور خود کو پروگریسو اور آئڈیولوجولسٹ لیڈر کے روپ میں نہ صرف ہندوستان، بلکہ عالمی برادری کے سامنے بھی پیش کرنے کی ذمہ داری ایپکو پر ڈال دی۔ اس کے بدلے مودی نے ایپکو کو اس کے ذریعے کیے جا رہے کاموں کے بدلے ہر مہینے 25 ہزار امریکی ڈالر دینے کا معاہدہ کیا۔ آج اگر گجرات ہندوستانی ریاستوں میں غیر ملکی سرمایہ کاری کے معاملے میں ٹاپ کر رہا ہے، تو وہ اسی کمپنی کی لابنگ کا نتیجہ ہے۔
آپ کو یاد ہوگا ٹیلی کام سیکٹر کا ٹو جی گھوٹالہ، جس میں ہندوستان کی ایک پی آر کمپنی ’ویشنوی‘ اور اس کی مالکن نیرا راڈیہ کا نام ملزم کے طور پر خوب اچھلا تھا اور یہ بھی یاد ہوگا کہ کس طرح نیرا راڈیہ نے ہندوستان کے کئی بڑے سیاست دانوں، مرکزی وزیروں، سرکردہ صنعت کاروں، مشہور و معروف صحافیوں اور بڑے نوکرشاہوں کا اتحاد بناکر مرکزی کابینہ میں پھیر بدل کرنے کی کوشش کی تھی۔ اپنی سہولت اور اپنے کلائنٹس کے مطابق مرکزی وزراء کے ذریعے بڑے ہیر پھیر کراکر فیصلے کرائے تھے، جس کی وجہ سے ہزاروں کروڑ روپے کا گھوٹالہ ہوا تھا۔ نیرا راڈیہ اپنے نیکسس کے دَم پر اپنی پسند کے ممبرانِ پارلیمنٹ کو ان کی مرضی کی کابینہ دلانے کی کوشش کی تھی اور اپنے پی آر کے دَم پر کامیاب بھی ہوئی تھیں۔
یہ مثال اس لیے پیش کی گئی، تاکہ آپ سمجھ سکیں کہ کس طرح ایک پی آر کمپنی عوام، سرکار، میڈیا، فیصلہ سازوں اور پالیسی سازوں کو توڑنے اور جوڑنے کا کام کرتی ہے اور اپنے فائدے کے لیے سیاسی فیصلے کراتی ہے۔ ایپکو کے بھی اس میں اپنے بڑے فائدے ہیں۔ ایپکو ایک ایسی کمپنی ہے، جو امریکی ہے اور جس کے اسرائیل سے بے حد گہرے رشتے ہیں۔ ایپکو، ارنالڈ اینڈ پورٹر نام کی دنیا کے سب سے بڑے لا فرمس میں سے ایک کی معاون کمپنی ہے۔ ارنالڈ اینڈ پورٹر، ایبے فورٹاس کی کمپنی تھی۔ فورٹاس کا تعلق اسرائیل سے تھا اور وہ امریکہ کے 36 ویں صدر لینڈان بی جانسن کے قانونی صلاح کار بھی تھے۔ امریکی تاریخ میں لینڈان بی جانسن کو اسرائیل حامی صدر کے روپ میں جانا جاتا ہے۔ لینڈان نے ایبے فورٹاس کو امریکی سپریم کورٹ میں جج مقرر کر دیا تھا۔ اس کے بعد ارنالڈ اینڈ پورٹر اسرائیلی حکومت کی سرکاری ایجنٹ کمپنی بن گئی۔ اس کے بعد بھی ایبے فورٹاس کا نام کمپنی میں بطور پارٹنر بنا رہا۔ آج بھی یہ قانونی فرم امریکی عدالتوں میں کئی اسرائیلی عہدیداروں اور جنگی ملزمین کی پیروی کرتا ہے اور ان میں سے کئی لوگ ایپکو کے کلائنٹ ہیں۔
دراصل ایپکو کی نظر ہندوستان کی تیزی سے بڑھتی جی ڈی پی اور ڈالر کے مقابلہ پیسہ کی گرتی ہوئی قدر سے متعلق بازار پر ہے۔ ہندوستان نہ صرف دنیا کی سب سے بڑی جمہوریت کے طور پر، بلکہ ایک اقتصادی سپر پاور کے روپ میں بھی عالمی سیاست میں اہم رول ادا کر رہا ہے۔ ہندوستان میں جو شعبے ابھی سب سے زیادہ ترقی کر رہے ہیں، ان میں آئی ٹی اور انفارمیشن انڈسٹری، تفریح، ہیلتھ کیئر، فوڈ، پروڈکشن اور رٹیل، بینکنگ، ریونیو سروِس اور بیمہ، توانائی اور قابل تجدید توانائی شامل ہیں۔ ایپکو کا ہندوستان میں فوکس بھی انہی شعبوں پر ہے۔ امریکہ اور دوسرے ممالک بھی ہندوستان میں ان شعبوں میں دخل چاہتے ہیں۔ ایسے میں اگر نریندر مودی وزیر اعظم بن جاتے ہیں، تو ایپکو کو اپنے آپ ہی بالا دستی حاصل ہو جائے گی۔ اور جب ایپکو کی بالا دستی ہوگی، تب اقتصادی اور خارجہ پالیسیوں کا تعین بھی اس کی سہولت اور طریق کار کے حساب سے ہوگا۔ تب اس کے رابطہ والے دوسرے ملکوں کے لیے ہندوستان میں آنے اور مختلف شعبوں میں قبضہ جمانے کا راستہ آسان ہو جائے گا۔
اس طرح دیکھا جائے، تو نہ صرف نریندر مودی نے ایپکو کی معرفت وزیر اعظم بننے کے خواب سجا رکھے ہیں، بلکہ ایپکو نے بھی مودی پر اپنا داؤ لگا رکھا ہے۔ اس لیے وہ نوین پٹنائک جیسے لیڈروں کا آفر ٹھکرا رہی ہے، تاکہ وہ اپنی ساری توجہ جیتنے کا قوی امکان رکھنے والے شخص پر لگا سکے۔ ایسی لابنگ اور پی آر کمپنی کی کوششوں اور محنتوں سے جب کوئی شخص ہندوستان کا وزیر اعظم بنے گا، تب اس کمپنی کے کتنے مفادات پورے کیے جائیں گے اور اسرائیلی اور امریکی سیاست دانوں کا ہندوستان کی سرکار پر کتنا کنٹرول ہوگا، اس کا اندازہ بخوبی لگایا جاسکتا ہے۔

روبی ارون

روبی ارون سیاسی ، جرائم اور سماجی سروکاروں کی خبروں کو اپنی قلم کے ذریعہ گزشتہ 18سال سے اٹھاتی آ رہی ہیں۔ عام عوام کے مفاد اور صحافت کے لئے ہمیشہ جدو جہد کرنے والی روبی ارون ”چوتھی دنیا“ میں ایڈیٹر( انویسٹی گیشن)کا عہدہ سنبھال رہی ہیں۔
Share Article

روبی ارون

روبی ارون سیاسی ، جرائم اور سماجی سروکاروں کی خبروں کو اپنی قلم کے ذریعہ گزشتہ 18سال سے اٹھاتی آ رہی ہیں۔ عام عوام کے مفاد اور صحافت کے لئے ہمیشہ جدو جہد کرنے والی روبی ارون ”چوتھی دنیا“ میں ایڈیٹر( انویسٹی گیشن)کا عہدہ سنبھال رہی ہیں۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *