اب لڑکیوں کو ہی فیصلہ لینا پڑے گا

وسیم راشد 
p-3bشادی کتنا خوشگوار تصور ہے۔ اس لفظ کے ساتھ ہی دو دلوں کے خوبصورت احساس سے ہی دل خوش ہو جاتا ہے۔ ہم ایشیاوالے شادی کو ایک اہم فریضہ مانتے ہیں۔ سماجی اعتبار سے بھی اور مذہبی اعتبار سے بھی اس شادی کے لئے اور بہتر رشتوں کے لئے ماں باپ رات دن ایک کر دیتے ہیں اور دعا کرتے ہیں کہ ان کے بچوں کا لائف پارٹنر ایسا ہو جو ان کے بچوں کی زندگی خوشگوار بنا سکے۔ لیکن یہی شادی اگر لالچ ، فریب اور دھوکہ میں بدل جائے تو زندگی عذاب بن جاتی ہے۔
ماں باپ کتنی آرزوئوں اور محبت کے ساتھ اپنی بیٹیوں کو پالتے ہیں، انہیں پڑھاتے لکھاتے ہیں اور پھر ایک اچھا لڑکا دیکھ کر ان کی شادی کر دیتے ہیں۔ اس وقت انہیں پتہ نہیں ہوتا کہ وہ اپنی لڑکی کے لئے موت کا پھندا تلاش کر رہے ہیں اور یہ سب جہیز کی وجہ سے ہے۔ ہمارے ملک ہندوستان کی بات کریں تو جہیز کی بھینٹ چڑھنے والی لڑکیوں کا گراف گائوں سے زیادہ شہروں میں ہیں اور حیرت کی بات یہ ہے کہ پڑھے لکھے خاندان ، پڑھے لکھے گھراسکی زد میں زیادہ ہیں۔ کوئی دن ایسا نہیں جاتا جب اخباروں میں جہیز کی بھینٹ چڑھنے والی کوئی معصوم لڑکی کی خبر نہ ہو۔ بلکہ تازہ سروے تو یہ بتاتا ہے کہ ہندوستان میں ہر ایک گھنٹے میں ایک عورت جہیز کا شکار ہو جاتی ہے۔ عامر خان کا پروگرام ستیہ میو جیتے ، نے جہیز کی شکار نئی لڑکیوں کی زندگی سے پردہ اٹھایا تھا۔ اس کے ساتھ ہی ایک خوابوں کی دنیا میں رہنے والے لڑکی سے شادی کے بارے میں جب پوچھا گیا تھا تو اس نے کہا تھا کہ شادی راجستھان کے بڑے سے محل اور رسیپشن سمندر کے کنارے خوبصورت سا گائون پہن کر ہی ہونا چاہئے۔ ایسا خواب ہر لڑکی دیکھتی ہے۔ ہم یوروپ، انگلینڈ کی بات تو کرتے نہیں مگر ہندوستان وپاکستان میں ہر لڑکی بچپن سے ہی اپنے خوابوں کے شہزادے کا انتظار کرتی ہے اور خود کو بے حد حسین دلکش لباس میں دلہن بنے ہوئے دیکھتی ہے۔ سوچئے جب آپ کی معصوم بچی کو جہیز کے لالچی درندے آگ کے حوالہ کر دیتے ہیں تو آپ کیسے زندہ درگورہو جاتے ہیں۔
اصل میں سوسائٹی کو بدلنے سے پہلے ہمیں خود بدلنا ضروری ہے ۔ اگر لڑکے کو والدین یہی سوچ کر تعلیم دلا ئیں گے کہ وہ کچھ بن جائے گا تو پورا پیسہ لڑکی والوں سے وصول کر لیں گے تو یہ ایک طرح سے لڑکے کو بیچنا ہو گیا۔

ہندوستان میں جہیز کی یہ لعنت اتنی جڑ پکڑ چکی ہے کہ متوسط طبقہ سے نچلے طبقہ کے والدین اپنی لڑکیوں کی شادی میں اتنا لون لیتے ہیں کہ پوری زندگی وہ بینک کا قرض چکاتے چکاتے ہی گزار دیتے ہیں۔ یہاں ایک پیغام لڑکیوں کے لئے بھی جاتا ہے۔ مجھے یاد ہے کہ میں نے کئی ایسی خبریں پڑھیں کہ خود لڑکیوں نے شادی سے انکار کر دیا ہے۔ یقینا ایسے ہی لڑکیوں کو ہی آگے آنا ہوگا۔ اگر انہیں خود پر اعتبارہے اور خود اپنی شناخت قائم رکھنی ہے تو یقینا لڑکیوں کو اس رسم کے خلاف آواز اٹھانی ہوگی۔ ہم تو سالوں سے یہ سنتے آ رہے ہیں کہ جس نے لڑکی دے دی اس نے سب کچھ دے دیا مگر اب اس کا الٹ دیکھ رہے ہیں۔ اب لڑکی بعد میں دیکھتے ہیں پیسہ، جہیز کا سامان پہلے دیکھتے ہیں۔

گزشتہ 12سال کا جائزہ لیں تو جہیز سے ہونے والی اموات میں بے پناہ اضافہ ہوا ہے۔ اعداد و شمار بتاتے ہیں کہ 2001سے 2012کے درمیان تقریباً91,202اموات صرف اور صرف جہیز کی وجہ سے ہی ہوئی ہیں۔ جس میں سے تقریباً 84,013کیس درج ہوئے ہیں، جس میں سے باقی یاتو حکومت کے ذریعہ تفتیش سے پہلے یا بعد میں واپسی لے لئے گئے ہیں۔ تقریباً 5,o81کیس جھوٹے ثابت ہوئے ہیں۔
یہاں ایک بات ضرور ذہن میں رکھنی چاہئے کہ یہ وہ کیس ہیں جو سامنے آ گئے ہیں یا جن پر ایف آئی آر لکھوائی گئی ہے۔ نہ جانے گائوں دیہاتوں اور شہروں کی بھی گلی کوچوں میں کتنے ایسے کیس ہوئے ہوں گے جو پولس تک نہیں آنے دئے گئے ہوں گے۔کتنی لڑکیاں ایسی بھی جل کر یا دوسرے طریقوں سے مری ہوں گی جن کو محض حادثاتی موت کا نام دیا گیا ہوگا۔
2001میں جہاں6,851اموات درج کی گئی ہیں وہیں 2006تک یہ اعداد و شمار 7,618تک پہنچ جاتے ہیں اور 2012میں یہ تقریباً8,233ہیں۔ جبکہ 2001میں6,539کیس درج لئے گئے اور 6,060کیس ٹرائل پر بھیجے گئے اور 2012میں یہ اعداد و شمار 8,022اور 7537ہیں۔
2001میں جن کیسوں پر سماعت ہوئی ، وہ تقریباً27,969ہیں مگر سال کے آخر تک یہ کیس 22,697ہی رہ گئے۔
یہاں یہ سب اعداد و شمار دینے کا مقصد صرف یہی ہے کہ یہ بتایا جا سکے کہ جب بھی کوئی کیس رجسٹرہوتا ہے ۔ اس کی سماعت ہوتی ہے لیکن کچھ کیسوں میں خود عورتیں ہی پیچھے ہٹ جاتی ہیں۔ اس کی وجہ شوہر اور والدین کی بدنامی یا سسرال والوں کا دبائو ہوتا ہے مگر یہاں ہمیں یہی کہنا ہے کہ آزمائے لوگوں کو کیا آزمانا ۔ جی ہاں جب ایک بار آپ کے ساتھ جہیز کے نام پر اتنی زیادتی ہو گئی کہ آپ کی جان کے لالے پڑ گئے تو پھر ان لوگوں کو بچانے کا کیا مطلب بنتا ہے۔ ایسے لوگوں کو اگر خواتین بچا لیتی ہیں تو وہ اپنی بھی اور اپنے بچوں کی زندگیاں بھی خطرے میں ڈال دیتی ہیں۔ ہمارا سماج ایسا ہے کہ یہاں لڑکی کی شادی کرتے وقت یہ تصور کر لیا جاتا ہے کہ بس اب لڑکی ڈولی میں گئی تو اب اس کا جنازہ ہی اس گھر سے نکلے گا۔ ایسی جہالت بھری سوچ بدلنے کی بہت سخت ضرورت ہے۔ والدین کو چاہئے کہ وہ اب یہ سوچ بدل لیں کیونکہ ان کی لڑکی ان کا خون ہے، ان کی زندگی ہے اگر وہ اس کو بار بار ایسے درندوں کے حوالہ کریں گے تو اس میں وہ خود ذمہ دار ہیں۔ لڑکیوں کو پڑھایٔے ان کو اپنے پیروں پر کھڑا کیجیٔے تاکہ وہ خود اپنے فیصلے اپنی مرضی سے کر سکیں اور ان کو اپنا شوہر چننے کا پورا پورا اختیار ملے ۔
1961میں جہیز مخالف قانون پاس ہوا تھا ۔ جس میں1984اور1986میں ترمیم کی گئی اور جہیز کو ایسا جرم مانا گیا ، جس میں مجرم کی ضمانت بھی نہیں ہو سکے، لیکن غیر قانونی ہونے کے باوجود بھی ہندوستان میں جہیز سے اموات کی شرح بڑھتی ہی جا رہی ہے۔ اگر پورے ہندوستان کے اعداد و شمار پر نظر ڈالیں تو سب سے زیادہ جہیز سے اموات اتر پردیش میں ہوئی ہیں۔ ان 12سالوں میں یو پی میں تقریباً 23,824کیس رجسٹر ہوئے ، جس میں سے 19,702پر سماعت ہوئی ۔ اسی طرح بہار میں13,548کیس درج ہوئے جس میں9,984پر سماعت ہویٔ ّ، جتنی بھی ایف آئی آر ہوتی ہیں ان میں یو پی اور بہار میں پچاس فیصد ہی پر جرم ثابت ہو جاتے ہیں۔ حیرت انگیز بات یہ ہے کہ تمام ریاستوں میں جن پر جرم ثابت نہیں ہو سکا ، ان کی تعداد زیادہ ہے۔ مہاراشٹر میں جن پر جرم ثابت نہیں ہو سکا ، ان کی تعداد زیادہ ہے۔ مہاراشٹر میں 3,066میں سے 3,485کیسوں میں جرم ثابت ہی نہیں ہو سکا۔
بڑے تعجب کی بات ہے کہ اتنی بڑی تعداد میں کیس رجسٹر ہوتے ہیں۔ ایف آئی آر ہوتی ہیں ، لیکن مجرم صاف بچ کر نکل جاتے ہیں۔ اس کی وجہ وہی ہندوستانی ذہنیت ہے۔ جس میں لڑکی خود بھی بہت حد تک ذمہ دار ہے۔ اگر وہ ہمیشہ سچا بیان دے تو یہ درندے کبھی نہ بچ پائیں۔لیکن نہ جانے
کیوں یہ لڑکیاں اور ان کے والدین بار بار گھر بچانے کے چکر میں خود اپنی زندگیوں سے کھیل جاتے ہیں۔
یو پی میں ہر سال 2000سے بھی زیادہ لڑکیاں جہیز کی بھینٹ چڑھ جاتی ہیں۔ بہار میں1000اسے زیادہ مدھیہ پردیش میں تقریباً 600سے 800 اور دہلی میں ہر سال تقریباً 1582کے قریب اموات ہر سال ہوتی ہیں۔
جہیز سے ہونے والی موتیں ہی نہیں جہیز کے لئے رات دن پریشان کرنے اور مارپیٹ کر پیسے منگانے والے کیس بھی کچھ کم نہیں ہیں۔ ہر دن جہاں 23لڑکیاں جہیز کی بھینٹ چڑھ جاتی ہیں اور موت کی آغوش میں چلی جاتی ہیں، وہیں270عورتیں روزانہ جہیز کی وجہ سے پریشان کی جاتی ہیں۔ کتنی مثالیں لیجئے، ہر دن کوئی آشا، کوئی اوشا کوئی لتا کوئی کسم اسی طرح جہیز کی لالچی بھٹی میں جل جاتی ہے۔ 2013میں ہی ہر دن کی کہانی الگ ہے۔ جنوری سے اس ماہ اگست تک کولیں تو صرف ناموں سے ہی یہ آرٹیکل بھر جائے گا۔ 10مئی 2013کو جام نگر میں ایک عورت کو جلا کر مار دیا گیا، وہ بے چاری اپنے والدین کے گھر سے جہیز نہیں لا پائی تھی۔ اسی دوران ایک معاملہ حاملہ عورت کو اس کے شوہر نے گلا گھونٹ کر مار ڈالا ۔ شوہر بے روزگار تھا اور وہ اپنی بیوی سے جہیز نہ لانے پر ناراض تھا۔ مئی میں ہی شملہ میں ایک شوہر نے اپنی بیوی کو اتنا مارا کہ اس کی موت ہو گئی اوراس کے بعد سسرال والوں نے اپنے ہی باغ میں اس کی لاش کو دفنا دیا۔ وجہ صرف اور صرف جہیز ہی تھی۔میٔ سے اب تک دل دہلادینے والے واقعات بہت ہیں ۔
دہلی جیسا کہ ہم نے پہلے بھی کہا کہ ہندوستان کا ایسا شہر ہے ، جہاں گھریلو تشدد اور جہیز سے ہونے والی اموات سب سے زیادہ ہے۔صرف فروری سے اپریل 2013کی بات کریں تو ان تین مہینوں میں Women in Dstressہیلپ لائن میں2,477شکایتیں گھریلو تشدد کی درج ہوئی ہیں اور ان تین مہینوں میں26عورتیں جہیز کی وجہ سے مار دی گئیں اور 200عورتوں کو جہیز کی وجہ سے ہی تشدد کا شکار بنایا گیا۔
جو اعداد و شمار ہم نے گزشتہ بارہ سالوں کے دئے ہیں ، یہ یقینا وہ ہیں جن کی رپورٹ پولس اسٹیشن پر درج ہوئی ہے۔ صحیح اعداد و شمار یقینا اس سے 10گناہ زیادہ ہو سکتے ہیں کیونکہ ہندوستان ، پاکستان اور دوسرے ایشیائی ممالک میں خواتین جب تک اپنے شوہر اور سسرال والوں کے خلاف نہیں جاتیں جب تک معاملہ حد سے زیادہ نہ بڑھ جائے۔ ہندوستان کی روایت تو ایسی رہی ہے کہ یہاں عورتیں 70فیصد جلنے کے بعد بھی شوہر کو بچا جاتی ہیں۔
اس ضمن میں ایک بات بہت اہم ہے اور وہ ہے پولس کا رویہ ۔ جس طرح پولس عصمت دری کے کیس رجسٹرکرتے وقت آنا کانی کرتی ہے اور اتنا پریشان کرتی ہے کہ بے چاری عصمت دری کی شکار لڑکی ان پولس والوں کے سامنے بھی بار بار تصور ہی میں خود کو برہنہ محسوس کرتی ہے ۔ اسی طرح جہیز کی شکایتوں پر پولس ہمیشہ ہی یہ کوشش کرتی ہے کہ دونوں فریقین میں مفاہمت ہو جائے بجائے اس کہ وہ جہیز کا مطالبہ کرنے والوں کو گرفتار کرے۔
ہندوستان میں جہیز کی یہ لعنت اتنی جڑ پکڑ چکی ہے کہ متوسط طبقہ سے نچلے طبقہ کے والدین اپنی لڑکیوں کی شادی میں اتنا لون لیتے ہیں کہ پوری زندگی وہ بینک کا قرض چکاتے چکاتے ہی گزار دیتے ہیں۔ یہاں ایک پیغام لڑکیوں کے لئے بھی جاتا ہے۔ مجھے یاد ہے کہ میں نے کئی ایسی خبریں پڑھیں کہ خود لڑکیوں نے شادی سے انکار کر دیا ہے۔ یقینا ایسے ہی لڑکیوں کو ہی آگے آنا ہوگا۔ اگر انہیں خود پر اعتبارہے اور خود اپنی شناخت قائم رکھنی ہے تو یقینا لڑکیوں کو اس رسم کے خلاف آواز اٹھانی ہوگی۔ ہم تو سالوں سے یہ سنتے آ رہے ہیں کہ جس نے لڑکی دے دی اس نے سب کچھ دے دیا مگر اب اس کا الٹ دیکھ رہے ہیں۔ اب لڑکی بعد میں دیکھتے ہیں پیسہ، جہیز کا سامان پہلے دیکھتے ہیں۔ لڑکے والوں کا تو یہ حال ہے کہ لڑکے کی پوری پڑھائی لکھائی کا خرچ لڑکی والوں سے ہی لیا جاتا ہے۔ افسوس ہوتا ہے کہ لڑکوں پر بھی انہیں اپنی زندگی بہتر بنانے کے لئے دلہن چاہئے یا پھر سامان سے لدا ہوا ٹرک یا سامان اور پیسے کی گٹھری نہ کہ بہتر شریک حیات ۔ حیرت کی بات یہ ہے کہ جہیز کا شکار ہونے والی زیادہ تر لڑکیاں بڑے بڑے شہروں جیسے ممبئی، بنگلور، دہلی، کلکتہ ، پونہ ، چنڈی گڑھ کی ہیں۔ یعنی یہ لعنت پر ھے لکھے متوسط اور اعلیٰ خاندانوں میں زیادہ ہے۔ اسی لئے ضرورت اس بات کی ہے کہ خود لڑکیاں اس کے خلاف آواز اٹھائیں اور ایسے افراد کو پولس کے حوالہ کر دیں۔ سماج کو بدلنے کے لئے خود مظلوم کو ہی آگے آنا ہوگا اور جہیز کے درندوں کو سماج میں بے عزت کر کے سامنے لانا ہوگا۔ یاد رکھئے سماج کو بدلنا ہے تو خود اپنی ہوس اور لالچ کو چھوڑ نا ضروری ہے۔ اپنی لڑکی کی مثال پیش کیجئے اور پھر بہو لایئے تاکہ دوسرے بھی آپ کے اس قدم پر اپنا قدم رکھیں ۔ سماج کو بدلنے میں سبھی کی کوششیں ضروری ہیں۔

A.U. Asif

تقریباً40برسوں سے لسانی صحافت سے جڑے 63سالہ اے یو آصف ’چوتھی دنیا‘ کی اردو ٹیم کے ذمہ دار ہیں۔ چوتھی دنیا اردو میں ادارتی صفحات پر ان کا ’لمحہ فکریہ‘ پابندی سے شائع ہوتا ہے۔ انہوں نے متعدد انگریزی، ہندی اور اردو اخبارات و رسائل سے وابستگی کے دوران کئی ہزار زائد انٹرویوز،انویسٹی گیٹیو اور کوراسٹوریز، کتابوں کے تبصرے اور شخصیات کے پروفائل کیے ہیں۔ عمومی ایشوز کو کور کرنے کےساتھ ان کی حاشیہ پر رہ رہے افراد اورطبقات بشمول مسلمانوں پر مہارت ہے خواہ وہ کسی بھی ملک ہوں۔یہ 2003میں امریکی حکومت کی دعوت پر امریکہ کا دورہ کرکے 9/11کے بعد کی صورتحال کا جائزہ لینے والے5سائوتھ ایشیا کے سینئر صحافیوں کے وفد میں شامل تھے۔ 1986میںمیانمار (برما) سے ہندوستان آنے والے اولین مہاجر خاندان سے کٹیہار جیل میں انٹرویو لینے کا نہیں کریڈیٹ حاصل ہے۔ 1987میں بھی ہاشم پورا سانحہ کی جائے وقوع مراد نگر جاکر رپورٹنگ کرنے والے یہ پہلے صحافی ہیں۔ علاوہ ازیں متعدد صدور، وزیراعظم و دیگر اہم شخصیات سے انہوں نے انٹرویو لیے ہیں۔ انہوںنے کئی کتابیں تصنیف کی ہیں جن میں انگریزی میں میڈیاسے متعلق دوکتابیں شامل ہیں جو کہ جرمن زبان میں ترجمہ ہوکر جرمنی کی متعدد یونیورسٹیوں کے نصاب میں پڑھائی جاتی ہیں۔ یہ نئی دہلی میں پریس کلب آف انڈیا کے رکن بھی ہیں۔
Share Article

A.U. Asif

تقریباً40برسوں سے لسانی صحافت سے جڑے 63سالہ اے یو آصف ’چوتھی دنیا‘ کی اردو ٹیم کے ذمہ دار ہیں۔ چوتھی دنیا اردو میں ادارتی صفحات پر ان کا ’لمحہ فکریہ‘ پابندی سے شائع ہوتا ہے۔ انہوں نے متعدد انگریزی، ہندی اور اردو اخبارات و رسائل سے وابستگی کے دوران کئی ہزار زائد انٹرویوز،انویسٹی گیٹیو اور کوراسٹوریز، کتابوں کے تبصرے اور شخصیات کے پروفائل کیے ہیں۔ عمومی ایشوز کو کور کرنے کےساتھ ان کی حاشیہ پر رہ رہے افراد اورطبقات بشمول مسلمانوں پر مہارت ہے خواہ وہ کسی بھی ملک ہوں۔یہ 2003میں امریکی حکومت کی دعوت پر امریکہ کا دورہ کرکے 9/11کے بعد کی صورتحال کا جائزہ لینے والے5سائوتھ ایشیا کے سینئر صحافیوں کے وفد میں شامل تھے۔ 1986میںمیانمار (برما) سے ہندوستان آنے والے اولین مہاجر خاندان سے کٹیہار جیل میں انٹرویو لینے کا نہیں کریڈیٹ حاصل ہے۔ 1987میں بھی ہاشم پورا سانحہ کی جائے وقوع مراد نگر جاکر رپورٹنگ کرنے والے یہ پہلے صحافی ہیں۔ علاوہ ازیں متعدد صدور، وزیراعظم و دیگر اہم شخصیات سے انہوں نے انٹرویو لیے ہیں۔ انہوںنے کئی کتابیں تصنیف کی ہیں جن میں انگریزی میں میڈیاسے متعلق دوکتابیں شامل ہیں جو کہ جرمن زبان میں ترجمہ ہوکر جرمنی کی متعدد یونیورسٹیوں کے نصاب میں پڑھائی جاتی ہیں۔ یہ نئی دہلی میں پریس کلب آف انڈیا کے رکن بھی ہیں۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *