زنسکار میں بودھ، مسلم تنازعہ : نفرتوں کی خلیج پاٹنا نگزیر

محمد ہارون

p-2جموں کشمیر میں ہمالیائی سلسلہ کے مغربی خطے میں سطح سمندر سے 5700 میٹر کی بلندی پر واقع زنسکار کی 700 افراد پر مشتمل مسلم آبادی ان دنوں خوف و ہراس کی زندگی جی رہی ہے۔ یہاں مسلمان عدم تحفظ کے احساس کا شکار ہیں۔ انہیں لگ رہا ہے کہ ان کے مال و جان کو خطرہ لاحق ہے اور یہ خطرہ انہیں دنیا کے قدیم اور امن و آشتی کا سبق سکھانے والے دھرم، یعنی بودھ مذہب کے پیرو کاروں سے لاحق ہے۔
زنسکار کے اقلیتی مسلمانوں پر خطرات کے بادل پچھلے ایک سال سے منڈلارہے ہیں۔ وادیٔ کشمیر کے مسلمان اس صورتحال میں اگرچہ زنسکار کے مسلمانوں کی کوئی عملی مدد کرنے سے قاصر ہیں، تاہم وہ مسلسل ایک سال سے میڈیا کی وساطت سے زنسکار کے مسلمانوں کی مدد کرنے کی بھر پور کوشش کررہے ہیں۔ سرینگر کے کثیر الاشاعت اردو روزنامہ ’کشمیر عظمیٰ‘ کے 9 جولائی، 2013 کے شمارہ میں شائع یہاں کی ایک بڑی مذہبی جماعت جمعیت اہل حدیث کے بیان کا اقتباس کچھ یوں ہے: ’’پدم زنسکار میں مسلمانوں پر بودھ مذہب کے پیروکاروں کے مظالم اور ان کو مختلف قسم کی پریشانیوں اور مصائب میں مبتلا کرنے پر جمعیت اہل حدیث نے تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ یہ لوگ زنسکار میں مسلمانوں پر مظالم ڈھا کر ایک ایسی فضا قائم کررہے ہیں، جس سے پوری ریاست میں منفی نتائج برآمد ہوسکتے ہیں۔ اسلام کسی پر کسی بھی قسم کی زور زبردستی کے خلاف ہے اور واضح کرتا ہے کہ دین میں کوئی زبردستی نہیں ہے، لیکن زنسکار میں بودھ مذہب کے لوگوں نے جو راستہ اپنا یا ہے، وہ سراسر اخلاق کے منافی اور انسانی قدروں کو پائوں تلے روندنے کے مترادف ہے… اگر اس (صورتحال) کا فوری طور نوٹس نہیں لیا گیا، تو اس کے جو نتائج بر آمد ہوں گے، اس کی ذمہ داری حکام پر عائد ہوگی۔‘‘ اس سے قبل 7 جولائی کو ایک اور مسلم تنظیم، کاروان اسلامی نے زنسکار میں مسلمانوں پر ڈھائے جانے والے مظالم کے خلاف عدالت کا دروازہ کھٹکھٹانے کا اعلان بھی کیا تھا۔
لداخ کے کرگل خطے کے دور افتادہ خطے زنسکار، جہاں 15000 بودھوں کے مقابلے میں صرف 700 مسلمان آباد ہیں، میں مسلمانوں پر بودھوں کی جانب سے مظالم ڈھانے کا سلسلہ گزشتہ سال ستمبر میں اس وقت شروع ہوا، جب بودھوں کی نچلی ذات سے تعلق رکھنے والے چھ کنبوں پر مشتمل 22 افراد نے اسلام قبول کرلیا۔ اس پر چند مقامی بودھ برہم ہو گئے اور انہوں نے اقلیتی مسلمانوں پر حملے کرنا شروع کیا۔ میڈیا رپورٹوں کے مطابق حملہ آور بودھ کئی مسلمانوں کے گھروں میں داخل ہوئے اور آگ لگادی، لوٹ مار بھی کی گئی۔ درجنوں مسلمان جان لیوا حملوں میں زخمی بھی ہوئے۔ در اصل بودھوں کا الزام ہے کہ مقامی مسلمان بودھوں کو تبدیلی مذہب پر اکساتے ہیں، لیکن زنسکار کے مسلمانوں نے اس کی سختی سے تردید کی ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ چونکہ مسلمان بننے والے ان بودھوں کا تعلق بودھوں کی نچلی ذات سے تھا، اس لیے انہیں سماج میں مناسب رتبہ حاصل نہیں تھا، جس کی وجہ سے انہوں نے مذہب تبدیل کرکے اسلام میں شامل ہوجانے کا فیصلہ خود کیا۔
اس کا اظہار مسلم ایسوسی ایشن زنسکار نے 23 ستمبر، 2012 کو اس وقت کے ریاستی وزیر داخلہ ناصر اسلم وانی کے نام اپنے خط میں کیا ہے۔ ایسوسی ایشن نے اپنے خط میں کہا کہ’’ بودھوں کی نچلی ذات سے تعلق رکھنے والے چھ کنبوں نے جامع مسجد زنسکار میں داخل ہوکر وہاں مسلمانوں سے کہا کہ وہ اسلام قبول کرنا چاہتے ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ بودھ مذہب کی ایک نچلی ذات سے تعلق رکھنے کی وجہ سے انہیں سماج میں کمتر سمجھا جاتا ہے۔ ‘‘
تبدیلی مذہب کے اس واقعہ پر نہ صرف زنسکار کے چند بودھوں نے مسلمانوں پر حملے وغیر کیے، بلکہ اس واقعہ کو لے کر ریاست سے باہر بھی مسلمانوں کے خلاف بدگمانیاں پھیلانے کی کوششیں کی گئیں۔ 12 دسمبر، 2012 کو بی جے پی سے تعلق رکھنے والے رکن پارلیمنٹ ترون وجے نے راجیہ سبھا میں برملا الفاظ میں مسلمانوں پر الزام عائد کیا کہ وہ زنسکار میں بودھ مذہب سے تعلق رکھنے والے لوگوں کو جبر اً اسلام قبول کرنے پر مجبور کررہے ہیں، جس کی وجہ سے وہاں پر حالات بگڑ گئے ہیں۔ ترون وجے نے یہ غلط بیانی بھی کی کہ زنسکار میں پولس بودھوں کو تحفظ دینے میں ناکام ہوئی ہے۔ حالانکہ حقیقت یہ ہے کہ زنسکار میں مقامی انتظامیہ اور پولس نے کھلے عام بودھوں کا ساتھ دیا، جس کی وجہ سے مسلمانوں کے لیے صورتحال اس قدر ناموافق ہوگئی تھی کہ انہوں نے ہجرت کرنے کی کوشش بھی کی۔ ہجرت کرنے کی اس کوشش کو آخری وقت پر مقامی انتظامیہ کے ایک عہدیدار نے انہیں تحفظ فراہم کرنے کی یقین دہانی کرکے زنسکار چھوڑنے سے روکا۔بہر حال، تقریباً ایک سال گزرنے کے باوجود زنسکار میں مسلمانوں پر خطرات کے بادل منڈلارہے ہیں اور وہ ابھی عدم تحفظ کے احساس کا شکار ہیں۔فی الوقت صورتحال یہ ہے کہ زنسکار میں چند بودھوں نے اقلیتی مسلمانوں کا سوشل بائیکاٹ کر رکھا ہے، جس کی وجہ سے انہیں نفسیاتی طور پر خوف لاحق ہے۔کرگل میں سب سے بڑے دینی ادارے امام خمینی میموریل ٹرسٹ کے سر پرست آغا شیخ محمد حسین ذاکری نے ’’ چوتھی دنیا‘‘ کے ساتھ اس بارے میں گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ ’’اگرچہ زنسکار میں بودھوں کی جانب سے مسلمانوں پر حملے بند ہوگئے ہیں، لیکن مسلمانوں کے خلاف سوشل بائیکاٹ نے انہیں عدم تحفظ کے احساس میں مبتلا کردیا ہے۔ بودھوں کی جانب سے مسلمانوں کے ساتھ سماجی مقاطعہ کے ساتھ ساتھ انہوں نے اسپتالوں میں مسلمانوں کا علاج و معالجہ کرنے اور دکانوں پر انہیں سودا سلف فروخت کرنے پر بھی روک لگا دی ہے۔ اس صورتحال کی وجہ سے زنسکار کے مسلمان مسلسل خوف و ہراس کا شکار ہیں۔وادی میں بیشتر سیاسی، سماجی اور مذہبی جماعتیں میانمار میں مسلمانوں کے خلاف بودھوں کے جبر و تشدد اور قتل عام کے حالیہ واقعات کے بعد زنسکار معاملے کو لے کر تشویش میں مبتلا ہیں۔ دختران ملت کی سربراہ سیدہ آسیہ اندرابی، جنہوں نے زنسکار کی مسلم آبادی پر ڈھائے گئے مظالم کے خلاف شدت سے آواز اٹھائی ہے، نے ’’ چوتھی دنیا‘‘ کے ساتھ ایک گفتگو میں زنسکار کے مسلمانوں کے خلاف ہوئی زیادتیوں کو ایک انتہائی تشویش ناک معاملہ قرار دیتے ہوئے کہا کہ ’’دیکھئے یہ جموں و کشمیر ہے، یعنی ایک مسلم اکثریتی ریاست۔ یہ میانمار نہیں ہے، جہاں بودھوں نے مسلمانوں پر قہر نازل کیا۔ لیکن میرے خیال سے زنسکار کے مسلمان اس لیے نشانہ بنے ہیں، کیونکہ وہاں کے مقامی بودھ جانتے ہیں کہ اس علاقے تک رسائی مشکل ہی نہیں، بلکہ ناممکن ہے۔ میرے خیال سے میانمار کے واقعات کے بعد زنسکار کے مسلمانوں کو خطرہ بڑھ گیا ہے۔ مجھے ذاتی طور پر اس بارے میں زبردست پریشانی لاحق ہے۔‘‘
آسیہ اندرابی کا الزام ہے کہ زنسکار میں مسلمانوں کے ساتھ پچھلے ایک سال سے جو کچھ ہورہا ہے، اسے حکومت کا آشیر واد حاصل ہے۔ یہ پوچھنے پر کہ حکومت ایسا کیوں کرے گی؟ آسیہ اندرابی نے کہا کہ ’’سوال یہ ہے کہ زنسکار میں مسلمانوں پر قاتلانہ حملہ کرنے والوں اور ایک پوری بستی جلانے والوں کے خلاف ایک بھی کیس درج کیوں نہیں کیا گیا؟ کسی کی گرفتاری کیوں نہیں ہوئی؟ مقامی انتظامیہ اور پولس مسلمانوں کو بودھوں کی زیادتیوں سے بچانے میں ناکام کیوں ہوئی؟ سیدھی بات ہے کہ زنسکار ایک بودھ اکثریتی خطہ ہے اور حکومت کے مقامی نمائندگان بودھوں کو ناراض نہیں کرنا چاہتے، کیونکہ انہیں لگتا ہے کہ وہ اس طرح اپنا ووٹ بینک کھو دیں گے۔ میں یقین کے ساتھ کہہ سکتی ہوں کہ اگر حکومت چاہتی، تو زنسکار میں بودھ مسلمانوں کی طرف آنکھ اٹھا کر بھی نہیں دیکھ سکتے، لیکن حکومت نے انہیں کھلی چھوٹ دے رکھی ہے۔‘‘
مسلم تنظیم پیروان ولایت کے سربراہ سبط محمد شبیر قمی نے اس موضوع پر ’’چوتھی دنیا‘‘ کے ساتھ بات چیت کرتے ہوئے کہا کہ ’’میرے خیال سے میانمار میں مسلمانوں کے خلاف بودھوں کے مظالم اور پھر اس پر اقوام عالم اور امت مسلم کی خاموشی نے زنسکار کے بودھوں کے حوصلے بلند کردیے ہیں۔ لیکن مجھے اس بات پر دکھ ہے کہ جموں و کشمیر ایک ایسی ریاست ہے، جو فرقہ وارانہ بھائی چارے کے بارے میں اپنی مثال آپ تھی۔ یہاں اس طرح کے واقعات کا رونما ہونا ایک پریشان کن معاملہ ہے۔ اب جبکہ یہ صورتحال پیدا ہوگئی ہے، مسلمانوں کو حالات سدھارنے کے لیے سامنے آنا چاہیے، کیونکہ برعکس صورت میں حالات مزید بگڑنے کا اندیشہ ہے۔ بہار کے بودھ گیا میں حالیہ دھماکوں کے بعد اس کارروائی کو مسلمانوں کے ساتھ جوڑنے کی کوششیں بھی حالات مزید خراب کرنے کا باعث بن سکتی ہیں۔ ‘‘
بودھ گیا کے دھماکوں کی گونج کا کوئی اثر زنسکار میں دیکھنے کو ملا ہو یا نہیں، لیکن یہ بات تو طے ہے کہ اس واقعہ نے مسلمانوں اور بودھوں کے درمیان خلیج مزید گہری کردی ہے۔ اس صورتحال کو دیکھ کر ضروری ہے کہ زنسکار میں فرقہ وارانہ ہم آہنگی قائم کرنے کے لیے وسیع پیمانے پر کوششیں کرنے کی ضرورت ہے، کیونکہ بسا اوقات ایک چھوٹی سی چنگاری بھی آگ کے شعلوں میں بدل جاتی ہے۔ ضرورت اس بات کی ہے کہ زنسکار میں بودھ اور مسلمانوں کے درمیان پچھلے ایک سال سے بڑھ رہی نفرتوں کی خلیج کو پاٹنے کی کوشش کی جائے۔

Share Article

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *